وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
If a woman fears from her husband misconduct or desertion, there is no sin upon the couple if they reach a reconciliation between themselves; and reconcilement is better. The souls are prone to greed; but if you are virtuous and Godwary, Allah is indeed well aware of what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:128
[Pooya/Ali Commentary 4:128] Avarice is a part of man's nature, but if one gives more as a present to the other as a favour (ihsan) and both safeguard themselves with full awareness of Allah's laws (taqwa) there can be reconciliation between the dissatisfied pair of husband and wife, because peace is an excellent thing. It is reported that Khuwaylad, the ageing wife of Salma bin Nafi, who wanted to marry another woman after divorcing her, came to the Holy Prophet and said that she was prepared to forego her conjugal right if her husband did not divorce her. This verse was revealed on that occasion.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:128
صلح بہتر ہے
جیسا کہ اس سورت می چونتیسویں اور پینتیسویں آیات کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں (تفسیر نمونہ جلد ۳)کہ ” نشوز“ اصل میں ”نشرز“ کے مادہ سے ہے اور اس کا مطلب ہے ” بلند زمین “ یہ لفظ جب عورت اور مرد کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو کسی سرکشیاور طغیان کا مفہوم دیتا ہے ۔ گذشتہ آیات میں عورت کے ” نشوز“ سے مربوط احکام بیان ہوئے تھے او رزیر نظر آیت میں مرد کے ” نشوز“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب عورت یہ محسوس کرے کہ اس کا شوہر سر کشی اور اعراض کا ارتکاب کررہا ہے توکوئی حرج نہں کہ حریم زوجیت کی حفاظت کے لئے اپنے کچھ حقوق سے صرف نظر کرتے ہوئے صلح کرلے (وَ إِنِ امْرَاٴَةٌ خافَتْ مِنْ بَعْلِہا نُشُوزاً اٴَوْ إِعْراضاً فَلا جُناحَ عَلَیْہِما اٴَنْ یُصْلِحا بَیْنَہُما صُلْحا) ۔ عورت نے چونکہ اپنے حقوق سے اپنی رضا و رغبت سے اعراض کرلیا ہے او جبر و اکراہ والی کوئی بات نہیں ۔ لہٰذا اس کا کوئی گناہ نہیں ۔ اس کے لئے ” لاجناح “ ( کوئی حرج اور گناہ نہیں ) کا استعمال بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ اس آیت کی شان نزول کی طرف توجہ کرنے سے ضمنی طور پر دو فقہی مسئلے معلوم ہوتے ہیں : ۱۔ دو بیویوں کے لئے ہفتہ بھر کے اوقات کی تقسیم جیسے احکام ، حقوق کے پہلو ہیں نہ کہ حکم کے حوالے سے ۔ اسی لئے عورت یہ حق رکھتی ہے کہ اپنے اراددہ و اختیار سے اپنے اس حق سے جزوی یاکلی طور پر صرفِ نظر کرلے ۔ ۲۔ ضروری نہیں کہ صلح کا معاوضہ مال ہی ہو بلکہ صلح کا معاوضہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنا حق چھوڑ دیا جائے ۔ بعد ازاں صلح پر تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : بہر حال صلح بہتر ہے ( و الصلح خیر) یہ ایک چھوٹا سا پر معنی اور مغز جملہ ہے ۔ اس آیت میں جملہ اگر چہ خانگی اختلافاتسے متعلق آیاہے لیکن واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی قانون ہے ۔ جو ہر ایک کے لئے ہر مقام پر ہے صلح و صفائی ، دوستی اور محبت کوہر مقام پر پیش نظر رکھنا چاہئیے ۔ نزاع و کشمکش اور ایک دوسرے سے دوری انسان کی طبع سلیم اور پر سکون زندگی کے برخلاف ہے اس لئے استثنائی صورت میں جہاں ناگزیر ہو اس کے سوا نزوع اور دوری کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئیے ۔ اسلام کے حکم کے بر عکس بعض مادہ پرستوں کاخیال ہے کہ انسانی زندگی کی پہلی بنیاد دیگر جانوروںکی طرح بقا کی کشمکش اور تنازع ہے اور اسی طرح سے تکامل اور ارتقاء صورت پذیر ہوتا ہے ۔ شاید یہی طرز فکر گذشتہ صدیوں کی بہت سی جنگوں اور خوں ریزوں کا سر چشمہ ہے ۔ حالانکہ انسان اپنی عقل وہوش کے سبب دیگر جانوروں سے مختلف ہے اور اس کی ارتقاء او رتکمیل کاذریعہ تنازع نہیں تعاون ہے ۔ ۱ اصولی طور پر تنازع بقاء کا نظریہ تو جانوروں کے تکامل کے لئے بھی کوئی قابل قبول بنیاد نہیں رکھتا ۔ اس کے بعد بہت سے لڑائی جھگڑو ں اور در گذر نہ کرنے کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : لوگ ذاتی طور پر او رحب ذات کی فطرت کے باعث بخل کی موجوں میں پھنس کررہ جاتے ہیں اور ہر شخص کو شش کرتا ہے کہ اپنے حقوق بت کم و کاست وصول کرے اور یہی تمام لڑائی جھگڑوں کی بنیاد ہے (و احضرت الانفس الشح) ۔ لہٰذا اگر عورت او رمرد اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ بہت سے اختلافات کا سر چشمہ بخل ہے اور بخل ایک مذموم صفت ہے پھر وہ اپنی اصلاح کی کو شش کریں او ر درگذر کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف یہ کہ خانگی اختلافات ختم ہو جائیں گے ۔ بلکہ بہت سے اجتماعی جھگڑے بھی جاتے رہیں گے ۔ اس کے باوجود ، اس بناء پر کہ مرد کہیں اس حکم سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں آیت کے آخر میں روئے سخص ان کی طرف کرتے ہوئے انھیں نیکی اور پر ہیز گاری کی وصیت کی گئی ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اعمال و کردار پر نگاہ رکھیں اور راہ حق و عدالت سے منحرف نہ ہوں ، کیونکہ خدا ان کے تمام اعمال سے آگاہ ہے ۔ ( وَ إِنْ تُحْسِنُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔ ۱۲۹۔وَ لَنْ تَسْتَطیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّساء ِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلا تَمیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوہا کَالْمُعَلَّقَةِ وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ۔ ۱۳۰۔وَ إِنْ یَتَفَرَّقا یُغْنِ اللَّہُ کُلاًّ مِنْ سَعَتِہِ وَ کانَ اللَّہُ واسِعاً حَکیماً ۔ ترجمہ ۱۲۹۔ اور تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ ( دلی محبت کے اعتبار سے ) عورتوں کے درمیان عدالت کرسکو چاہے جتنی بھی کوشش کرو لیکن اپنا ایمان میلان بالکل ایک طرف نہ رکھو اور دوسری کو معلق نہ چھوڑو اور اگر اصلام اور پرہیز گاری کی راہ اختیار کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔ ۱۳۰۔ اور اگر ( صلح صفائی کی کوئی صورت نہ ہو اور ) دوسرے سے جدائی ہو جائیں تو خدا جائیں تو خدا وندعالم ان میں سے ہرایک کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کردے گا اور خدا صاحب ِ فضل و کرم اور حکیم ہے ۔ ۱-اس سلسلے میں تفسیر نمونہ دوم میں تنازع کے بقاء کے زیر عنوان تفصیلی گفتگوکی جاچکی ہے ( دیکھئے ص۱۴۴ اردو ترجمہ )