وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا
But those who have faith and do righteous deeds, We will admit them into gardens with streams running in them, to remain in them forever—a true promise of Allah, and who is truer in speech than Allah?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:122
[Pooya/Ali Commentary 4:122] Refer to the commentary of al-Baqarah: 25 and 266; and Ali Imran: 198.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:122
سوره نساء/ آیه 122
(122) وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّـٰهِ قِيْلًا ترجمہ (122) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک کام سرانجام دیئے کہ انھیں عنقریب ان باغات بہشت میں داخل کر یں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ کے لیے ان میں رہیں گے اللہ تم سے اپنا وعدہ کرتا ہے اورکون ہے جو قول اور اپنے وعدوں میں اللہ سے زیادہ سچاہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:122
تفسیر
تفسیر گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو لوگ شیطان کو اپنا ولی بناتے ہیں وہ واضح طور پر خسارے اور نقصان میں ہیں ۔ شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے انھیں آرزوؤں میں محو رکھتاہے اوراس کا وعدہ مکروفریب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں اس آیت میں اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ وہ : لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے ہیں وہ بہت جلد فردوس بریں کے باغات میں جائیں گے ، یہ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ( والذین امنوا و عملوا لصلحت سند خلھم جبت تجري من تحتها الأنهر) یہ نعمت دنیاوی نعمتوں کی طرح ناپائیدار نہیں ہے بلکہ ہمیشہ مومنین کو میسر رہے گی (خالدين فيها أبدا)۔ یہ وعدہ شیطان کے چھوٹے وعدوں کی طرح نہیں ہے بلکہ سچا ہے اور خدا کا وعده ہے (وعد الله حقًا) اور یہ واضح ہے کہ خدا سے بڑھ کر اپنے قول و قرار کا سچا کوئی نہیں ہوسکتا (ومن اصدق من الله قيلا) کیونکہ وعدہ خلافی یا تو عجزو ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یا جہالت و احتیاج کی بنا پر جوکہ اللہ کی ساحت قدس سے بعید ہے۔