لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا
It will be neither after your hopes nor the hopes of the People of the Book: whoever commits evil shall be requited for it, and he will not find for himself any guardian or helper besides Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:123
[Pooya/Ali Commentary 4:123] Mere wish and desire, shorn of good deeds, will not avail anything. Neither the Jews, nor the Christians, nor the Muslims are the favourites of Allah. Whosoever does good will be rewarded, and whosoever does evil will be punished. This is the Islamic law of requital. The proviso "and a believer" is vital, for without right faith (Islam) good deeds are meaningless. So far as spiritual merits are concerned there is no difference between man and woman. Refer to Ali Imran: 195.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:123-124
شانِ نزول
گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو لوگ شیطان کو اپنا ولی بناتے ہیں وہ واضح طور پر خسارے اور نقصان میں ہیں ، شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے انھیں آرزووٴں میں محو رکھتا ہے اور ا س کا وعدہ مکر و فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں اس آیت میں اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ : وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دئیے ہیں وہ بہت جلد فردوسِ بریں کے باغات میں جائیں گے، یہ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں (۔وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ) ۔ یہ نعمت دنیاوی نعمتوں کی طرح ناپائیدار نہیں ہے بلکہ ہمیشہ مومنین کو میسر رہے گی( خالِدینَ فیہا اٴَبَداً) ۔ یہ وعدہ شیطان کے جھوٹے وعدوں کی طرح نہیں ہے بلکہ سچا ہے اور خد اکا وعدہ ہے ( وَعْدَ اللَّہِ حَقًّا ) اور یہ واضح ہے کہ خداسے بڑھ کر اپنے قول و قرار کا سچا کوئی نہیں ہوسکتا (وَ مَنْ اٴَصْدَقُ مِنَ اللَّہِ قیلاً ) ۔ کیونکہ وعدہ خلافییا تو عجز و ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یا جہالت و امتیاج کی بنا پر جو کہ اللہ کی ساحت قدس سے بعید ہے ۔ ۱۲۳۔ لَیْسَ بِاٴَمانِیِّکُمْ وَ لا اٴَمانِیِّ اٴَہْلِ الْکِتابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً یُجْزَ بِہِ وَ لا یَجِدْ لَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ۔ ۱۲۴۔وَ مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ لا یُظْلَمُونَ نَقیراً۔ ترجمہ ۱۲۳۔ تمہاری اور اہل کتاب کی آرزوٴںسے ( فضیلت و بر تری) نہیں ہوتی ، جو شخص بر اعمل کرے گا اسے سزادی جائے گی اور وہ خدا کے علاوہ کسی کو اپنا ولی و یاور نہیں پائے گا۔ ۱۲۴۔ اور جو شخص اعمالِ صالح میں سے کچھ انجام دے ، چاہے مرد یا عورت ، اگر وہ ایمان رکھتا ہے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہو ں گے اور ان پر تھوڑا سا ظلم بھی ہو گا ۔ شانِ نزول تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے کہ مسلمان او راہل کتاب ایک دوسرے پرفخر کرتے تھے اہل کتاب کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے آیا ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے او رمسلمان کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمام پیغمبروں کا خاتم ہے اور ا س کی کتاب آخری کتاب ہے اور دیگر آسمانیکتب سے زیادہ کامل و اکمل ہے لہٰذا ہم تم سے زیادہ افضل ہیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم برگزیدہ قوم ہیں اور جنہم کی آگ چند دنوں کے سواہم تک نہیں پہنچے گی (و قالوا لن تمسنا النار الا ایا ماً معدوداة) ۔( بقرہ ۔۸۰) اور مسلمان کہتے کہ بہترین ہم امت ہیں کیونکہ خدا نے ہمارے بارے میں فرمایاہے : (کنتم خیر امت اخرجت للناس) آل عمران ۔ ۱۱۰۔ اسی ضمن میں مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی او ران دعووں پر خط بطلان کھینچ دیا گیااو ریہ واضح کیا گیا کہ ہر انسان کی قدر و قیمت ان کے اعمال کے مطابق ہو گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:123-124
سچے اور جھوٹے امتیازات
ان دو آیت میں اسلام کی ایک بہت ہی اہم اساس کو بیان کیا گیا ہے او ر وہ یہ کہ افراد کی وجودی قدر و قیمت اور جزاو سزا ان کے دعووں اور آرزوٴں سے مربوط نہیں ہے بلکہ صرف ایمان اور عمل سے وابستہ ہے اسلام کی یہ بنیاد ثابت اور سنت ہے اور غیر متبدل ہے ۔ یہ وہ قانون ہے جس کی نظر میں تمام امتیں یکساں ہیں لہٰذا پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: فضیلت و برتری کا انحصار تمہاری اور اہل کتاب کی آرزووٴں پر نہیں ہے (لَیْسَ بِاٴَمانِیِّکُمْ وَ لا اٴَمانِیِّ اٴَہْلِ الْکِتابِ) ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : جو شخص کوئی عمل بجا لائے گا وہ اس کے بدلے اپنی سزا پائے گا اور خدا کے علاوہ کسی کو اپناولی و یا ور نہ پائے گا ( مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً یُجْزَ بِہِ وَ لا یَجِدْ لَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔اور اسی طرح کے لوگ نیک عمل بجالائیں گے اور صاحبِ ایمان ہوں گے وہ مرد ہوں یا عورت جنت میں داخل ہوں گے اور ان پرکوئی ظلم نہیں ہو گا (وَ مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ لا یُظْلَمُونَ نَقیراً) ۔۱ اس طرح قرآن نے نہایت سادگی سے بقولے سب کے ہاتھ پر پاک پانی ڈالا ہے او رکسی مذہب سے دعوے کی حد تک خیالی ، اجتماعی یا نسلی وابستگی کو بے فائدہ قرار دیا ہے اور نجات کی بنیاد اس مکتب کے اصولوں پر ایمان لانے اور اس کے پروگراموں پر عمل کرنے ٹھہرایاہے ۔ پہلی آیت کے ذیل میں بنیادی شیعہ کتب میں ایک حدیث منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بعض مسلمان ایسی وحشت و پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ وہ ڈر کے مارے رونے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انسان خطا ر ہے اور آخر اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہی ہے اور اگر کسی قسم کی کوئی معافی اور بخشش نہیں اور تمام برے اعمال کی سزا ملے گی پھر یہ تو بڑا مشکل مرحلہ ہے ۔ لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ اس آیت نے ہمارے لئے تو کوئی صورت نہیں چھوڑی، اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بات وہی ہے جو اس آیت میں نازل ہوئی ہے تاہم تمہیں ایسی بشارت دیتا ہوں جو تمہارے لئے قربِ خدا اورنیک اعمال بجا لانے کی تشویق کا سبب بنے گی اور وہ یہ کہ تمہیں جو مصیبتیں پہنچیں گی، تمہارے گناہوں کا کفارہ بنیں گی یہاں تک تمہارے پاوٴں میں چھبنے والاایک کانٹا بھی ۔ ۲ ایک سوال کاجواب ارشاد الہٰی ہے : وَ لا یَجِدْ لَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔یعنی وہ اپنے گناہوں کے مقابلہ میں کسی کو اپناسر پرست و یا ور نہیں پائے گا) ممکن ہے بعض لوگ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہیں کہ اس جملے سے مسئلہ شفاعت وغیرہ کی بالکل نفی ہو جاتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا جاچکا ہے کہ شفاعت کا معنی یہ نہیں ہے کہ شفاعت کرنے والے مثلاً انبیاء آئمہ اور صلحا خدا کے مقابلہ میں کوئی مستقل طاقت رکھتے ہیں بلکہ ان کی شفاعت بھی حکم خدا کے ماتحت ہے اور اس کی جازت او رجس کی شفاعت کی جانا ہے اس کی اہلیت کے بغیر کبھی شفاعت نہیں کریں گے ۔لہٰذا ایسی شفاعت کی بر گشت بالا ٓخر خد اکی طرف ہے اور خدا کی سر پرستی ، نصرت اور مدد کا ایک شعبہ شمار ہوتی ہے ۔ ۱۲۵۔وَ مَنْ اٴَحْسَنُ دیناً مِمَّنْ اٴَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلَّہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراہیمَ حَنیفاً وَ اتَّخَذَ اللَّہُ إِبْراہیمَ خَلیلاً ۔ ۱۲۶۔وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطاً ۔ ترجمہ ۱۲۵۔ جو اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردے اس سے بہتر کس کا دین ہے اور پھر جو نیکو کار بھی ہو اور ابراہیم کے خالص او رپاک دین کا پیرو ہو اور خدا نے ابراہیم کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کرلیا ہے ۔ ۱۲۶۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب خدا کا ہے او رخدا ہر چیز پر محیط ہے ۔ ۱-نقیر کے مفہوم پر اسی سورہ کی آیت ۵۳ میں بحث کی جاچکی ہے ۔ ۲- نو ر الثقلین جلد اول ۔ ص۵۵۳۔