وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ
And the Trumpet will be blown, and whoever is in the heavens will swoon and whoever is on the earth, except whomever Allah wishes. Then it will be blown a second time, behold, they will rise up, looking on!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:68
[Pooya/Ali Commentary 39:68] Sa-iqa implies "a swoon", loss of all consciousness of being, and cessation of the normal functioning of the powers of feeling. With the first trumpet the living on the earth will die, and the souls of the dead will become unconscious. The exception, according to Ahl ul Bayt, refers to martyrs. There will be a new heaven and a new earth as stated in Ibrahim: 48. The new earth will be illuminated by the divine light, not by the sun or the moon. With the second trumpet they will stand in the new world before Allah, then the judgement will begin. See commentary of Bani Israil: 13, 14 and 71; Ya Sin: 65. Kitab means the record of deeds.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
صُورپھونکا جانا اور سب کی موت وحیات
تفسیر صُورپھونکا جانا اور سب کی موت وحیات گزشتہ آیتوں میں قیامت کے بارے میں گفتگوتھی - زیربحث آیت میں اس مسئلے کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے۔ پہلے دنیا کے اختتام کی بات کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اورصورپھونکا جائے گا تو وہ سب کے سب مر جائیں گے۔ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے ان کے جنھیں خدا چاہے گا (ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن فی والارض الا من شاء اللہ )۔ پھر صورپھونکا جائے گا تو اچانک سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ اپنے حساب و جزا اور نام کے انتظار میں ہوں گے۔ (ثم نفخ فیه اخرٰی فاذاهم قیام ينظرون)۔ اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی انتہا اور قیامت کے آغاز میں دوحادثے ناگہانی اور اچانک رونما ہوں گے۔ پہلے حادثے میں سب زنده موجودات فورا مرجائیں گے اور دوسرے حادثے میں جو کچھ وقفے کے بعد صورت پذیرہوگا، تمام انسان اچانک زندہ ہوکر کھڑے ہوجائیں گے اورحساب و کتاب کا انتظار کریں گے۔ قرآن مجید ان دونوں حادثوں کو "نفخ صور" سے تعبیر کرتا ہے جو ناگہانی اور اچانک حوادث کے بارے میں ایک خوبصورت اور زیبا کنایہ ہے ۔ کیونکہ "نفخ" کا معنی ہے "پھونکنا " اور "صور" کا معنی ہے "بگل"یا اندر سے خالی سینگ جو عام طور پر قافلے یا لشکر کو چلانے یا ٹھہرا نے کے لیے بجاتے ہیں۔ البتہ ان دونوں کی آوازوں میں آپسں میں فرق ہوتا ہے۔ ٹھہرنے کا بگل قافلے کو ایک جگہ ٹھہرا دیتا ہے اور چلنے کابگل قافلے کے چلنے کی ابتداء کا اعلان کرتا ہے۔ یہ تعبیر ضمنی طور پرحکم کی سہولت کوبھی بیان کررہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خداوند بزرگ وبرتر ایک ہی فرمان سے جو ایک بگل میں پھونکنے کی طرح آسان ہے ، اہل آسمان وزمین کو مار دے گا اور ایک ہی فرمان سے کہ وہ بھی کوچ کرنے اور چلنے کے بگل سے مشابہت رکھتا ہے ، سب کو زندہ کردے گا۔ ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ سارے الفاظ جو ہماری روزمرہ کی محدود زندگی کے لیے وضع ہوئے ہیں اس سے بہت زیادہ عاجز ہیں۔ کے ماورا طبعیت جہان یا اس جہان کے اختتام اور دوسرے جہان کے آغاز سے مربوط حقائق کوصحیح طور پر بیان کرسکیں ۔ اسی بنا پر ضروری ہے کہ معمولی اور عام الفاظ سے ہی ان وسیع وکشادہ معانی کے لیے استفادہ کیاجائے اور ان الفاظ کے معانی کےلیےان میں موجو د قرائن پرتوجہ رکھنی چاہیے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ قرآن مجید میں اس جہان کے خاتمے اور دوسرے جہان کے حادثاتی آغازکے متعلق مختلف تعبيريں آئی ہیں معتدد آیات میں(دس سے زیادہ مواقع پر) "نفخ صور" کا ذکر ہے۔ ؎1 ایک مقام پر "نقر في الناقور" کہا گیا ہے اور بھی بگل یا اسی قسم کی چیز میں پھونکنے کے معنی میں ہے ارشادالٰہی ہے؛ فاذا نقرفي الناقورفذالك يوميذیوم عسير (مدثر ــــــــــــــــ9،8 ) بعض مواقع پر "قارعة" ،کی تعبیر نظر آتی ہے جوسختی کے ساتھ کھٹکھٹانے کے معنی میں ہے۔ جن دوسرے مقامات پر صيحة کی تبیائی ہے جو ایک عظیم صدا کے معنی میں ہے ۔ جیسے سوروالیں کی ہے۔ ۴۹ میں ہے (قارعہ ـــــــــــ1،2،3،) ماينظرون الاصيحة واحدة تأخذهم وهم يخصمون یہ آیت دنیا کے اختتام کے صیحہ کی بات کرتی ہے جو لوگوں کو بے ہوش کر دے گی اور سورۂ یٰس کی آیہ 53 میں ہے :- ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون یہاں قیامت کے اس صیحہ کے بارے میں بات ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہوجائیں گئے اور پروردگار کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 وہ مواقع جہاں قرآن میں "نفخ صور" کا لفظ آیاہے ، حسب ذیل ہیں: کہف ------- 99، مؤمنون -------- 101 ، یٰس --------51 ، زمر ---------- 68 ، ق ------- 20 ، الحاقہ ------13 ، انعام ---------- 73 ، طٰہٰ --------- 102 ، نمل ----------- 87 ، بناء -------------18۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے ۔ دنیا کے آخر میں ایک عظیم صیحیہ آسمانوں اور زمین پر تمام رہنے دنوں والوں کو مار دے گی اور اس کو " موت کی چیخ" کہتے ہیں۔ قیامت کے آغاز میں ایک عظیم صیحہ اور چیخ کے ساتھ سب کے سب زندہ ہو جائیں گے اورقبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور یہ حیات کی صیحہ اور چیخ ہوگی۔ لیکن یہ دونوں آوازیں دقیقًا کس طرح کی ہوں گی ؟ پہلی چیخ کا کیا اثر ہوگا اور دوسری چیخ میں کیا تاثیر ہے ؟ یہ بات خدا کے سواکوئی نہیں جانتا لہذا بعض روایات میں صور کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے ک جو اسرافیل پھونکے گا ۔مثلًا وللصور رأس واحد وطرفان، و بین طرف رأس كل منهما إلى الأخر مثل ما بين السماء الى الارض اسرافیل کے بگل کا ایک سراور دو شاخیں ہوں گی اور ان دونوں شاخوں کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہوگا۔ پھر اسی روایت کے ذیل میں ہے: جس وقت وہ اس میں زمین کی طرف ہھونکے گا تو زمین میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا اور جس وقت وہ اس میں آسمان کی طرف والے حصے میں پھونکے گا تو سارے کے سارے آسمان والے مر جائیں گے پھر خدا اسرافیل کے لیے موت کا حکم دے گا اور کہے گا کہ مرجا تو وہ بھی مر جائے گا۔ ؎1 بہرحال اکثر مفسرین نے نے "نفخ صور" کے معنی " بگل میں پھونکنے" کے بی کیے ہیں ۔ جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے بارے میں لطیف کنایہ ہے لیکن کچھ مفسرین نے "صور" کو "صورت" کی جمع سمجھا ہے اور اس بنا پراس نفخ صور و صورت میں پھونکنے کے معنی میں جانا ہے، جیسے روح کو بدن میں پھونکتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ایک مرتبہ انسانی صوتوں میں پھونکا جائے گا تو سب کے سب مرجائیں گے اور ایک مرتبہ اور پھونکا جائے گا تو سب کے سب زندہ ہو جائیں گے ۔ ؎2 یہ تفسیرعلاوہ اس کے کہ متون روایات سے ہم آہنگ نہیں ہے خودآیت کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی ، کیونکہ "ثم نفخ فيه اخری" میں ضمیر مذکر اس کی طرف لوٹتی ہے ، حالانکہ اگرجمع کے معنی میں ہوتا تو پھر اس کی طرف مفرد مؤنٹ کی ضمیرلوٹتی اور "نفخ فيها" کہا جاتا۔ اس سے قطع نظر صورت میں پھونکنا مُردوں کو زندہ کرنے کے موقع پر تو مناسب ہے (جیساکہ حضرت عیسٰیؑ کے معجزات میں آیا ہے) لیکن یہ تعبیرقبض روح کے لیے استعمال نہیں ہوتی ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر علی بن ابراھیم ، تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 502 کے مطابق ؎2 توجہ کیجیے کہ "صور" بروزن" نور " و "صور" بروزن" زحل" دونوں "صورت"کی جمع ہیں ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
2- صوراسرافیل کیا ہے ؟
2- صوراسرافیل کیا ہے ؟ اس کی صوتی امواج ساری دنیا کو کس طرح گھیرلیں گی؟ حالانکہ ہم جانتے ہیں ۔ صوتی مواج سست رفتار ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ میں دو سو چالیسں میٹرسے آگے نہیں جاتیں، جبکہ روشنی کی رفتار اس سے 10 لاکھ گنا سے بھی زیادہ ہے اور ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ ہم اس موضوع کے بارے میں قیامت کے بہت سے دوسرے مسائل کی طرح صرف اجمالی علم رکھتے ہیں ، اور جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں اس کی جزئیات ہمارے لیے واضح نہیں ہیں۔ اسلامی کتب میں صور کے بارے میں آنے والی روایات میں غور کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بعض کے خیالات کے برخلاف" صور" ایک معمولی قسم کا بگل نہیں ہو گا ۔ ایک روایت میں امام علی بن حسین سے منقول ہے: ان الصورقرن عظيم له رأس واحد وطرفان ، و بين الطرف السفل الذي یلي الارض الى الطرف الاسلي الذي يلي السماء مثل تخوم الارضين الي فوق السماء السابعة ، فيه القاب بعدد ارواح الخلائق "صور" ایک بہت بڑا سینگ ہے جسں کا ایک سر اور دو اطراف ہیں، اور اس کی نچلی سمت جو زمين کی طرف ہے اور اوپر والی سمت جو آسمان کی طرف ہے کادرمیانی فاصلہ زمین کےنیچلےحصے سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپرتک ہے اوراس میں مخلوقات کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں ۔ ؎1 ایک او حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: الصورقرن من نور فيه اثقاب على عدد ارواح العباد صور ایک نورانی سینگ ہے جس میں بندوں کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں۔ ؎2 یہاں نور کا ذکر مذکورہ دوسرے سوال کا بھی جواب دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ عظیم صیحہ ہماری عام صوتی امواج کی طرح نہیں ہے۔ ایک ایسی چیخ ہے جو بہت بی برترو بالاتر ہے اور نور کی امواج سے بھی بہت زیادہ سریع ترا مواج رکھتی ہے جو زمین وآسمان کی وسعت کو تھوڑی سی دیر میں طےکرلے گی پہلی مرتبہ کی چیخ موت آفرین ہوگی اور دوسری زندہ کرنے والی اور حیات بخش۔ یہ مسئلہ کہ ایک آواز اس طرح سے موت آفریں کیسے ہوسکتی ہے اگر گذشتہ زمانے میں کسی کے لیے باعث تعجب تھی تواب ہمارے لیے اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ ہم نے اکثرسنا ہے کہ بموں کے پھٹنے کی آوازیں کانوں کو بہرہ ، جسم کو ریزہ زیرہ اور گھروں تک کو تباہ کر دیتی ہیں اور انسانوں کو ایک جگہ سے اٹھا کر دور دراز مقام پر پھینک دیتی ہیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہوائی جہاز کی تیزرفتاری ، دیوار صوتی کو توڑنے کے لیے ایسی وحشتناک آواز اور تباہ کن لہريں پیداکرتی ہے کہ عمارتوں کے شیشوں کو ایک وسیع شعاع سے ٹکڑ ٹکڑے کردیتی ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 لئالی الاخبار، ص 453 ؎2 علم الیقین ص 892 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جب امواج صوتی کے لیے چھوٹے چھوٹے نمونے جوانسانوں نے ایجاد کیے ہیں ، اپنا اثر دکھاتے ہیں تو عظیم صیحہ جوخداکی طرف سے ہوگی یعنی وہ عظیم عالمی دھماکہ کیا اثرات مرتب کرے گا؟ . لہذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کے مدمقابل کچھ موجیں ایسی بھی ہیں جو ہلادینے والی اور بیدار کرنے والی اور زندہ کرنے والی ہوں، اگرچہ اس کا تصور آج ہمارے لیے ممکن نہیں ہے لیکن سوئے ہوئے افراد کوبلند آواز کے ساتھ بیدار کرنا یا شدید جھٹکوں کے ساتھ بیہوش افراد ہوش میں لانا، کم ازکم ہم نے ضرور دیکھا ہے ہم دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ ہم اپنے محدود علم کی بنا پر صرف دور سے ان امور کا بہت ہلکا سا نقش ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
1- صورکتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ؟
چند نکات 1- صورکتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ؟ کیا نفخ صور دو مرتبہ ہوگا یا اس سے زیاده؟ علماءاسلام کے درمیان مشهور دو ہی مرتبہ ہے۔ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔ دوسری آیات قرآن بھی مجموعی طور پر دو" نفخوں" کی کہ خبردیتی ہیں لیکن بعض نے اس کی تعداد تین نفخہ یا چار نفخہ بھی سمجھی ہے۔ اس طرح سے نفخہ اولٰی کو نفخہ " فزع " بھی کہتے ہیں۔ یہ تعبیرسورہ نمل کی آیہ 87 سے لی گئی ہے۔ ويوم ينفخ في الصورففزع من في السماوات ومن في الارض جس وقت صور پھونکا جائے گا اس وقت انسانوں میں رہنے والے اور زمین میں بسنے والے سب وحشت زدہ ہو جائیں گئے۔ وہ دوسرے اور تیسرے نفخہ کو "موت و حیات" کانفخہ سمجھتے ہیں۔ جس کی طرف زیربحث آیات اور قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک کونفخہ" صعق" کہتے ھیں۔ ("صعق" بے ہوش ہونے کے معنی میں آیا ہے اور مرنے کے معنی میں بھی) اور دوسرے کو نفخہ " قیام" کہتے ہیں۔ جنھوں نے چوتھے نفخہ کا احتمال ذکر کیا ہے ، ظاہرًا انھوں نے سورہ یٰسں کی آیہ 53 سے یہ مفہوم اخذ کیا ہے، جہاں نفخۂ حیات کے بعد کے بارے میں ہے : ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون صرف ایک چیخ ہوگئی اوراس کے اور وہ سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے ۔ ان کے نزدیک یہ نفخہ "جمع وحضور" ہے۔ لیکن حق بات یہی ہے کہ دونفخوں سے زیادہ نہیں ہوں گے اور فرع اورعمومی وحشت کامسئلہ حقیقت میں سارے جہان والوں کے مرنے کے لیے ایک مقدمہ ہے جو پہلے نفخہ یا پہلے صیحہ سے حاصل ہوگا۔ جیساکہ نفخہ جمع اسی نفخہ حیات کا انجام ہے ۔ اس طرح سے دو سے زیادہ نے نہیں ہوں گے ۔ " نفخہ موت" اور "نفخہ حیات" اس گفتگو کا دوسرا شاہد سوره نازعات کی آیہ 6 ،7 ہیں جہاں قرآن کہتا ہے۔ یوم ترجف الراجفة تتبعها الرادفة جس دن ہولناک زلزلہ ہر جگہ کو لرزا کے رکھ دے گا تو اس کے بعد بھی وہ زلزلہ آجائے گا جو بندوں کو زنده اور اکٹھا کر کے رکھ د ے گا۔ ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
4- کیا دونوں نفخ ناگہانی ہوں گے ؟
4- کیا دونوں نفخ ناگہانی ہوں گے ؟ قرآن مجید کی آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نفخہ ناگٓہانی صورت میں ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- - ؎1 مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں ؎2 بحارالانوار، جلد 6 ص 329. ؎3 نورالثقلین جلد 4 ، ص 503 (حدیث 119) ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- -- وقوع پذیر ہوں گے لیکن پہلا نفخہ اسی غفلت کی حالت میں ہوگا کہ بہت سے لوگ کسب وکار اور اموال پر جھگڑے اورخرید و فروخت میں مشغول ہوں گے اور سب کے سب وہیں کے وہیں مرجائیں گے جیساکہ سورہ یٰس کی آیہ 29 میں ہے: ان كانت الاصيحة واحدة فاذاهم خامدون وہ بس ایک ہی چیخ ہوگی جس سے وہ وہیں کے وہیں بجھ کر رہ جائیں گے۔ دوسرے صیحہ کے بارے میں زیر بحث آیت میں بھی ہے. فاذا هم قیام ينظرون اچانک وہ کھڑےہوجائیں گے اورحساب وجزا کا انتظارکریں گے۔ ہی اور دیگر تعبیرات نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی ناگہانی طور پر ہی واقع ہوگی۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
3- کون سے افراد مستثنٰی ہیں؟
3- کون سے افراد مستثنٰی ہیں؟ جیساکہ ہم نے دیکھا ہے کہ زیربحث آیت میں قرآن کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ہونے رہنے والے سب کے سب مرجائیں گے، پھر ایک گروہ کا استثناء کرتے ہوئے فرمایاگیاہے: الامن شاء الله سوائے ان لوگوں کے جنھیں خدا چاہے گا۔ اس بارےمیں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے کچھ عظیم فرشتے مثلًا جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں ۔ ایک اور روایت میں بھی اسے مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ؎1 بعض نےحاملین عرش خدا کابھی اس پراضافہ کیا ہے (جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آیا ہے) ۔ ؎2 بعض دوسروں نے ارواح شہداء کو مستثنٰی جانا ہے جوآیات قرآنی کے حکم کے مطابق "احياء عند ربهم يرزقون " وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے رزق پاتے ہیں۔ ایک روایت میں اس مطلب کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ 3 البتہ یہ روایات آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتیں ، لیکن بہرحال ان ہی روایات میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقی رہ جانیوالا گروہ بھی آخرکارمرجائے گا۔ اس طرح سے خدائے "حی لایموت" کے سواسرتا سرعالم ہستی میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا۔ اس بارے میں فرشتوں یا ارواح شہداء ، انبیاء اور اولیاء کے لیے موت کیسے ہوگی؟ تواس کے یلی احتمالی یہی ہے کہ ان کے بارے میں موت سے مراد، روح کے رشتے قالب مثالی سے ٹوٹ جانا یا ارواح کا مسلسل فعالیت معطل ہو جانا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
5- یہ دونوں نفخوں کے درمیان فاصلہ
5- یہ دونوں نفخوں کے درمیان فاصلہ : قرآن مجید کی آیات سے اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا صرف "ثم" کی تعبیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاصلہ ہوگا، البتہ اسلامی روایات میں یہ فاصلہ چالیس سال ذکر ہوا ہے۔ ؎1 جن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان سالوں کا پیمانہ کیا ہوگا، کیا یہ عام سالوں کی طرح ہوں گے یا قیامت کے سالوں اور ایام جیسے؟ یہ امرواضح نہیں۔ بہرحال نفخ صور اوراس جہان کے اختتام ، اسی طرح نفخہ ثانی اور دوسرے جہان کے آغاز میں غورفکر، ان اشارات کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو قرآن مجید میں آئے ہیں اورمزید تفصیل جو روایات اسلامی میں دکھائی دیتی ہے، انسانوں کو گہرا تربیتی درس دیتی ہے۔ خاص طور پراس سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہوتی ہے کہ ہر لمحہ اور ہرحالت میں اس قسم کے عظیم اور ہولناک حادثے کے استقبال کے لیے تیار رہنا ہیے کیونکہ اس کے لیے کوئی معین تاریخ بیان نہیں ہوئی اوراس کے وقوع کا ہر زمآنے میں احتمال ہے ۔ علاوہ ازیں وہ بغیرکسی مقدمے کسی تمہید کے شروع ہوگا اسی لیے نفخ صور سے مربوط مذکورہ احادیث میں سے ایک کے ذیل میں۔ راوی کہتا ہے کہ جب گفتگو یہاں تک پہنچی کہ ــــــــــــــــــــــــــ رایت علی بن الحسین بیکی عندذالك بكاء شديدًا امام سجادعلیہ السلام کو میں نے دیکھا کہ آپؑ شدت کے ساتھ گریہ فرمارہے ہیں اوراس جہان کے خاتمے ، قیامت اور بارگاہ خداوندی میں لوگوں کے حساب و کتاب کے لیے حاضر ہونے کے بارے میں آپؑ سخت پریشان ہیں ۔ ؎2 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلين جلد 4 ص 503 حدیث 119 ؎2 تفسیرصافی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:68
سورة زمر / آیه 68
(68) وَنُفِـخَ فِى الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّـٰهُ ۖ ثُـمَّ نُفِـخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُـمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ ترجمہ (68) اورصور پھونکا جائے گا تو وہ سب کے سب مرجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ سوائے ان کے جنھیں خدا چاہے گا ، پھر دوبارہ پھونکا جا ئے گا تو وہ سب کے سب اچانک (زندہ ہوکر) اٹھ کھڑے ہوں گے اور (حساب وجزا کے) انتظار میں ہوں گے۔