قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ عَٰلِمَ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Say, ‘O Allah! Originator of the heavens and the earth, Knower of the sensible and the Unseen, You will judge between Your servants concerning that about which they used to differ.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 39:42-52
On plea of search for truth to contribute to public happiness, when Divine Truth has already come to them saying there is no happiness in this world, except under contentment, out of vanity, scientists have refused to resign to religious discipline, to give up experimental technical researches, and have reached a stage in discovery of nuclear fissure, to destroy the very civilization, for maintenance of which they have forsaken “future state,” disregarding Divine Wisdom, which cannot go hand in hand with selfishness, proceeding out of vanity to surpass one another. Present suggestion of barring this weapon of mass destruction offers no solution, for any nation facing defeat, abandons all scruple, and will use every weapon which could decimate the enemy. Excuses can always be brought forward for use of any diabolical weapon on retaliation. Energy released by fission of one pound is equal to 1500 tons of good coal burnt and one pound deuterium undergoes fusion in a thermo-nuclear reaction equals 10,000 tons of coal. Hydrogen bombs capable of producing explosion equivalent to detonation of two million tons of high explosive are in possession of America and Russia. Almost every discovery can be used for evil as well as for good. Even medical sciences have produced the spectre of bacteriological warfare. Were not teachings of Haroot and Maroot, for setting aside evil defects of magic misguided by the then generation? On account of which it was illegal. (Vide footnote (103), page 19 of the first set of this translation). Has not Divine Text given geographical location of Sakar (hell – Vide page five under footnote – regarding which fifth Divine Light “Imam Mohammad Baqir”) said, “There is a mountain in “Sakar” known as “Sawood,” on the top of which is a plain known as “Sakar” in which there is a well, covered with a lid which, if removed, heat there will baffle the inmates of hell and who will raise hue and cry. This well is the residence of tyrants. Why falsify this truth presaged by Divine Lights – for our own benefit? And go on, in vain research of scientific truth against Divine Will? Solution of this entire struggle is in the following paragraph (six) commencing with Couplet No. 54. The object of creation is to pray to God as per His Will and not think of providing for future generations to come. This is the look out of Providence Himself. This interference is Association leading to Hell. His Will is declared unto Divine Lights. Hence, object of creation is to follow Divine Lights, if Divine Proximity is needed.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:45-48
وہ لوگ جو خدا کے نام سے گھبراتے ہیں
تفسیر وہ لوگ جو خدا کے نام سے گھبراتے ہیں ان آیات میں پھر توحید اور شرک کے متعلق گفتگو ہورہی ہے۔ پہلی زیر بحث آیت میں مشرکین اور معاد کے منکرین کا توحید کے مقابلے میں ایک انتهائی قبیح اور براچہرہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جس وقت خدائے یگانہ ویکتا کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جوآخرت پرایمان نہیں رکھتے متنقر بوجاتے ہیں لیکن جب دوسرے معبودوں کے بارے میں کوئی گفتگو ہوتی ہے تو مسردرمیں ڈوب جاتے ہیں (واذا ذكر الله وحده اشمازت قلوب الذين لا يؤمنون بالأخرة واذا ذكر الذين من دونه اذاهم يستبشرون)۔ ؎1 کبھی انسان برائیوں کا ا س طرح سے عادی ہوجاتا ہے اور پاکیزگیوں اور نیکیوں سے ایسا بیگانہ ہوجاتا ہے کہ حق کا نام سننے سے ناراحت اور متنفر ہوتا ہے اور باطل کے ذکر سے مسردر اور خوش ہوتا ہے جوخدا عالم ہستی کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سامنے سرتعظیم نہیں جھکاتا ، لیکن پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے کے سامنے جواس کا اپنا بنایا ہوا ہے یا انسانوں اور اپنے ہی جیسے دوسرے موجودات کے آگے زانوئے ادب جھکا دیتا ہے اوران کی تعظیم و تکریم کرتا ہے۔ اسی معنی کے مشابہ سورة بنی اسرائیل کی آیہ 46 میں بھی ہے : واذا ذكرت ربك في القرأن وحده ولواعلٰى اد بارهم نفورًا جس وقت تو اپنے پروردگارکا قرآن میں وحدانیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا کے عظیم پیغمبرنوح اس قسم کے کج فکروں کی بارگاہ خداوندی میں شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں :- وافي كلما دعوتهم لتغفرلهم جعلوا أصابعهم في آذانهم واستغشوا ثیابهم واصروا واستكبروا استكبارًا خداوندا! جب بھی میں نے انھیں دعوت دی کہ وہ تیری بارگاہ میں آئیں تاکہ تو انھیں بخش دے توانھوں نے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "اشمأزت" "اشمنزاز" کے مادہ سے گرفتگی اور کسی چیز ہے تنفرکے معنی میں ہے وحد منصوب منصوب یا مفعول مطلق کے عنوان سے ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے سر اور چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ میری آواز نہ سن سکیں اور انھوں نے گمراہی کی راہ میں اصرار کیا اور بہت شدت کے ساتھ تکبرواستکبارکیا۔ (نوح ــــــــــ 7) ہاں! ہٹ درهم تعصب کرنے والوں اور مغرورجاہلوں کا یہی حال ہے۔ ضمنی طور پر کی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اسی گروہ کی بدختی کا سرچشمہ دو چیزیں تھیں ، اصول توحید کا انکار اور آخرت پر ایمان نہ رکھنا - ان کے مدمقابل وہ مومن ہیں جو خداوند یگانہ کا نام سن کر اس کے مقدس نام کی طرف اس طرح کھنچتے اور جذب ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ہرچیز اس کی راہ میں نثار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ محبوب کا نام ان کے کام ودہن کو شیریں. ان کے مشام جاں کو معطراوران کے سارے دل کو روشن کر دیتا ہے ، نہ صرف اس کا نام بلکہ ہروہ چیز جواس سے ارتباط اور تعلق رکھتی ہے ان کے لیے سرور آفرین ہے۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ صفت زمانہ پیغمبرؐ کے مشرکین کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ ہر زمانے میں ایسے تاریک دل منحرفین ہوتے ہیں جو خدا کے دشمنوں کے نام اور الحادی مکاتب فکر اور ظالموں کی کامیابی کا ذکر سننے سے خوش ہوتے ہیں لیکن نیک اور پاک لوگوں، ان کے پروگراموں اور کامیابیوں کا نام ان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس لیے بعض روایات میں اس آیت سے ایسے لوگ مرادلیے گئے ہیں جو اہل بیت پیغمبر کے فضائل سننے سے یا ان کے مکتب کی پیروی سے ناراحت اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ ؎1 جب گفتگو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ یہ ہٹ دھرم گردہ اور مغرور جاہل خداوند یگانہ کا نام تک بھی سننے سے متنفر و بیزار ہیں تو اللہ اپنے پیغمبرؐکو حکم دیتا ہے کہ ان سے منہ پھیرے اور اپنے پوروردگار کی بارگاہ کی طرف رخ کرلے ، اس سے ایسے لب ولہجہ کے ساتھ گفتگوکرجو اس کے عشق سے سرشار اورگہرے ایمان کا ترجمان ہے اوراس کی بارگاہ میں اس گروہ کی شکایت کرتا کہ اپنے دل کو بھی جو غم زده ہے آرام وسکون دے سکے اور اس طریقہ سے سوئے ہوئے غافل انسانوں کی ارواح کوبھی بلاسکے۔ فرمایا گیا ہے ، کہہ دے : خداوندا ! اے وہ کہ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور پنہاں و آشکار بھیدوں سے آگاہ ہے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کے لیے جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کرے گا (قل اللهم فاطر السماوات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفنون)۔ ؎2 ہاں قیامت کا دن ، جو تمام اختلافات اٹھ جانے کا دن ہے اور پوشیدہ حقائق ظاہر ہو جانے کا دن ہے، اس دن حاکم مطلق اور فرمانرواتو ہی ہے، تو ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور ان کے اسرار سے بھی آگاہ ہے ، وہاں تیرے فیصلے سے اختلافات ختم ہوجائیں کے اور یہ ہٹ دھرم گمراہ اپنی غلطی کو سمجھ لیں گے اور وہاں فکر و نظر کی تلافی ہوجائے گی، لیکن انھیں کیا فائده ؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 اصول کافی اور روضہ کا في (نورالثقلين جلد ص 490 کے مطابق ) ؎2 (فاطر السماوات ) منصوب ہے مناوائی مضاف کے عنوان سے ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ حقیقت ان آیات میں مشرکین اور ظالموں سے مربوط چار باتیں بیان ہوئی ہیں؛ پہلی یہ کہ اس دن عذاب الٰہی کا ہول و وحشت اس قدر زیادہ ہوگا کہ اگر ان کے پاس روئے زمین کی ثروت واموال کا دگنا بھی ہو تو وه عذاب سے رہائی پانے کے لیے تمام کا تمام دینے پر تیار ہوجائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ بن پائے گا۔ دوسری یہ کہ خدا کی سزاؤں کی وہ اقسام جو کبھی بھی ان کے ذہن میں نہیں آئی تھیں ان کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی ۔ تیسری یہ کہ ان کے برے اعمال ان کے سامنے آحاضر ہوں گے اورمجسم ہوجائیں گے ۔ چوتھی یہ کہ جس بات کو معاد کے سلسلے میں مذاق سمجھتے تھے اسے حقیقت عینی کی صورت میں دیکھ لیں گے اور نجات کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہوجائیں گے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کہتا ہے کہ "ان کے برے اعمال آشکار ہوجائیں گے" یہ آیت تجسم اعمال کے مسئلہ پرایک دلیل ہوگی کیونکہ یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ لفظ مجازات اور کیفر کو مقدر مانا جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:45-48
سورة زمر / آیه 45 - 48
(45) وَاِذَا ذُكِـرَ اللّـٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۖ وَاِذَا ذُكِـرَ الَّـذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ (46) قُلِ اللّـٰـهُـمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِىْ مَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (47) وَلَوْ اَنَّ لِلَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا مَا فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًا وَّمِثْلَـهٝ مَعَهٝ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوٓءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مَا لَمْ يَكُـوْنُـوْا يَحْتَسِبُوْنَ (48) وَبَدَا لَـهُـمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوْا وَحَاقَ بِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا بِهٖ يَسْتَهْزِئُـوْنَ ترجمہ (45) جس وقت خدا کو وحدت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت پرایمان نہیں رکھتے منتفر ہوجاتے ہیں لیکن جب دوسرے معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ (46) کہہ دے! خداوندا! توہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور پنہاں و آشکار بھیدوں کا جاننے والا ہے، توہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کے لیے جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، فیصلہ کرے گا (47) اگرستم گران تمامچیزوں کےمالک ہوجائیں جوروئےزمین پرہیں اوراتناہی ان کےپاس اوربھی ہوتووہ روز قیامت کےعذاب سےرہائی حاصل کرنےکےلیےان سب کوقربان کرنےپرتیارہوجائیں گے۔ اورخدا کی طرف سے ان کے لیے ایسے امور ظاہر ہوں گے جن کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھے۔ (48) اس دن وہ برے اعمال جنھیں وہ انجام دیا کرتے تھے ان کے لیے ظاہرہوجائیں گے اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی انھیں آکر گھیر لے گی۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:46
[Pooya/Ali Commentary 39:46]