إِنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ
Indeed We have sent down the Book to you with the truth for [the deliverance of] mankind. So whoever is guided is guided for his own sake, and whoever goes astray, goes astray to his own detriment, and it is not your duty to watch over them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:41
[Pooya/Ali Commentary 39:41] See An-am: 108.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:41-44
2- "نیند" روایات اسلامی کی روسے
2- "نیند" روایات اسلامی کی روسے:- جو روایات مفسرين نے زیربحث آیات کے ذیل میں ذکر کی ہیں ان سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام میں "نیند" روح کی عالم ارواح کی طرف حرکت کو کہا گیا ہے اور "بیداری" روح کی بدن کی طرف واپس اور ایک قسم کی حیات مجدد ہے۔ ایک حدیث میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ اپنے اصحاب کو اس طرح تعلیم دیتے تھے: لا ينام المسلم وهوجنب ، لا ينام الا على طهور ، فان لم يجد الماء فليتيم بالصعيد، فان روح المؤمن ترفع الی الله تعالى فيقبلها ویبارك عليها، فان كان اجلها قد حضر جعلها في كنوزرحمته وان لم یکن اجلها قدحضربعث بها مع أمنائه من ملائكته، فيردونها في جسده مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالت جنابت میں نہ سوئے، وضوکی طہارت کے بغیر بستر پر نہ جائے ، اور اگر پانی نہ ہو ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان زیربحث آیہ کے ذیل میں اور تفسیر صافی ؎2 اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اس روایت میں "روح" سے مراد روح حیوانی اور بدن کی اصلی مشینری کا کام کرنا ہے اور "نفس" انسانی کے معنی میں ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تو ترمیم کرلے کیونکہ مومن کی روح خداوند تعالٰی کی طرف اوپرکو جاتی ہے وہ اسے قبول کرتا اور برکت ہے ، اگر اس کی اجل آخرکو پہنچ گئی ہو تو اسے اپنی رحمت کے خزانوں میں قرار دیا ہے اور اگراجل آخر کو نہ پہنچی ہو تو اپنے امین فرشتوں کے ساتھ اس کے بدن کی طرف پلٹادیتاہے۔ ؎1 ایک اور حدیث میں امام باقرؑ سے اس طرح منقول ہے: اذا قمت بالليل من منامك فقل ، الحمد لله الذي رد على روحي الاحمده واعبده جس وقت رات کو نیند سے بیدار ہو تو اس طرح کہہ: الحمد لله الذي رد على روحي لاحمدی و اعبد ه. (یعنی حمد خاص اٹھا کے لیے ہے جس نے میری روح کو میری طرف لوٹایا تاکہ میں اس کی حمد و ثناء اس کی عبادت کروں)۔ ؎2 اس سلسلےمیں اور بھی بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 خصال صدوق (نوالثقلین جلد 4 ص 488 کے مطابق) ؎2 اصول کافي (والثقلین جلد 4 ص 488 کے مطابق )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:41-44
1- نبیند کا اسرار آمیز عالم
چند نکات 1- نبیند کا اسرار آمیز عالم :- نیند کی حقیقت کیا ہے اور کیا ہوجاتا ہے کہ انسان سوجاتا ہے ؟ اس سلسلہ میں ماہرین نے بہت بحث کی ہے : بعض اس کو خون کے اہم حصے کے دماغ سے نکل کر بدن کے دوسرے حصوں میں انتقال کا نتیجہ سمجھتے ہیں اوراسی طرح سے وہ اس کے لیے طبیعیاتی عامل کے قائل ہیں۔ بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہے کہ جسم کی زیادہ کارکردگی کی وجہ سے ایک خاص زہریلا مواد بدن میں جمع ہوجاتا ہے اور یہی چیز نظام اعصاب پر اثرانداز ہوتی ہے اور انسان پر نیند کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور جب تک وہ زہر تحلیل ہوکر بدن میں جذب نہیں ہوجاتا یہ حالت برقرار رہتی ہے ۔ اس طرح سے وہ اس کے لیے کیمیائی عامل کے قائل ہیں۔ ایک اور گروہ نیند کے لیے ایک قسم کے اعصابی عامل کا قائل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اعصاب کی خاص فعال مشین جو انسان کے دماغ کے اندار ہے اور جو اعضاء کی حرکات کا مبدء ہے، وہ زیادہ تھکان کے زیر اثر بے کار اور معطل ہوجاتا اور خاموش ہو جاتا ہے ۔ لیکن ان میں سے کوئی نظریہ بھی نیند کے مسئلے تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اگرچہ ان عوامل کی اجمالی طور پر تاثیر کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جو چیز اس بات کا سبب بنی ہے کہ موجودہ ماہرین نیند کی واضح تفسیر بیان کرنے عاجزرہ گئے ہیں وہ ان کا ویی مادی تفکرہے ، وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کی روح کے استقلال اوراصالت کو قبول کیے بغیر تفسیرکریں . حالانکه ننید اس سے پہلے کہ وہ ایک جسمانی پیدا ہونے والی چیز ہوا کی روحانی چیز ہے جس کی روح کی صحیح شناخت کے بغیر تفسیر کرنا ناممکن ہے۔ قرآن مجید نے مذکورہ بالا آیات میں نیند کے مسئلے کی ایک دقیق ترین تفسیر بیان کی ہے ، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ نیند ایک قسم کاقبض روح اورروح کی جسم سے جدائی ہے لیکن مکمل جدائی نہیں۔ اس طرح سے میں وقت حکم خدا سے انسان کے بدن سے روح کا پر تو ختم ہوجاتا ہے اور اس جسم کے اوپر اس میں سے ایک ہلکی سی شعاع کے سوا کچھ نہیں رہتا تو ادراک و شور کی مشینری معطل ہوجاتی ہے اور انسان کی حس وحرکت رک جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ عمل جو اس کی حیات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مثلاً دل کا دھڑکنا اور خون کی گردش اورعمل تنفس و تغدیر برقرار رہتا ہے۔ کی حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے قول ہے:- ما من احد ينام الاعرجت نفسه الى السماء و بقيت روحه في بدنه، و صار بينهما سبب کشعاع الشمس ، فان أذن الله في قبض الروح اجابت روح النفس ، وان اذن الله في رد الروج اجابت النفس الروح فهو قوله سبحانہ الله يتوفي الا نفس حین موتھا..... جو شخص سوجاتا ہے، اس کا نفس آسمان کی طرف صعود کرجاتا ہے اور روح اس کے بدن میں رہ جاتی ہے اور ان دونوں کے درمیان سورج کی شعاعوں کی طرح ربط قائم رہتا ہے ۔ جس وقت خدا انسان کی روح کے قبض کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے تو روح نفس کی دعوت قبول کرلیتی ہے اوراس کی طرف پرواز کے جاتی ہے لیکن جب خداروح کو واپسی کی اجازت دیتا ہے تو پھر نفس روح کی دعوت قبول کرلیتا ہے اور بدن کی طرف لوٹا آتا ہے اور یہی معنی ہے اور خداند سبحان کے ارشاد کا جوفرماتاہے: الله يتو فى الانفس حین موتها۔ ؎1 ۔؎2 یہاں ضمنی طور سے خواب کے بار ے میں ایک اور اہم مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے خواب میں جو بعینہ یاتھوڑے سے تغیرکے ساتھ خارج میں واقع ہو جاتے ہیں۔ بادی تفسیریں اس قسم کے خوابوں کی توجیہ کرنے سے عاجز ہیں، جبکہ روحانی تفسیریں اس مسئلے کو اچھی طرح سے راضح کرسکتی ہیں، کیونکہ انسان کی روح بدن سے جدا ہونے اور عالم ارواح سے ارتباط کے وقت بہت سے گزشتہ اور آئندہ سے مربوط حقائق جان لیتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو سچے خوابوں کی بنیاد ہے۔ (مزید وضاحت کےلیے تفسیر نومونہ کی جلد 9 سورة یوسف کی آیہ 4 کے ذیل میں رجوع فرمائیں جہاں اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے) ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:41-44
موت اور نیند کے وقت ارواح قبض ہو جاتی ہیں
تفسیر موت اور نیند کے وقت ارواح قبض ہو جاتی ہیں دلائل توحید کے ذکراورمشرکین و موحدین کا انجام بیان کرنے کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں اس طرح حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ حق کو قبول کرنے اور نہ کرنے کا سود و زیاں خود تمھارے ہی لئے ہے ، اگر اللہ کا نبی ا س سلسلے میں اصرار کرتا ہے تویہ اس بنا پر نہیں ہے کہ اسے اس سے کوئی فائدہ ہوگا بلکہ یہ توصرف فریضۂ الہی کی انجام دی ہے ۔ فرمایا گیا ہے: تم نے اس آسمانی کتاب کوحق کے ساتھ تم لوگوں کے لیے نازل کیا ہے (انا انزلنا عليك الكتاب للناس بالحق)۔ ؎1 جوشخص ہدایت قبول کرے گا خوداسی کے فائدے میں ہے اور جوشخص گمراہی اختیار کرے گا تو ا س کا نقصان بھی اسی کوہوگا۔ (فمن اهتدى فلنفسه ومن ضل فانمايضل علیها)۔ بہرحال "توحق کو ان کے دلوں میں جبرًا داخل کرنے پر مامور نہیں ہے"، تیری ذمہ داری توصرف ابلاغ و انذار ہے (وما كانت عليهم بوكيل)۔ جوشخص راہ حق اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جوشخص بے راہ روی اختیار کرے گا اس کا نقصان بھی خود اسی کو ہوگا ۔ یہ امر آیات قرآنی میں بارہابیان ہوا ہے اور یہ اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ خدا کو نہ تو بندوں کے ایمان کی احتیاج ہے اور نہ ہی ان کے کفرسے اسے کوئی وحشت ہے اور نہ ہی اس کے پیغمبر کو اس سے کوئی وحشت ہے اس نے یہ پروگرام اس لیے مرتب نہیں کیا ہے کہ اس سے اسے کوئی فائدہ ہو ، بلکہ اس لیے ہے تاکہ اپنے بندوں پر مہربانی اور کرم کرے۔ "وماانت عليهم بوكيل" کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وکیل یہاں اس شخص کے معنی میں ہے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تکرانات ؎1 "بالحق" ممکن ہے کہ "کتاب" کے لیے حال (انزلنا) میں فاعل کے لئے حال هو - اگرچہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اس بنا پر آیت کا مفهوم اسی طرح ہے کہ ہم نے قرآن کو اسی حالت میں تجھ پر نازل کیا ہے کہ وہ حق کے ہمراہ اور ہمگام ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جوگمراہوں کے ایمان لانے کی ذمرواری رکھتا ہو) قرآنی آیات میں اسی عبارت کے ساتھ یا اس کے مشابہ عبارت سے بارہا تکرار ہوئی ہے اور یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ لوگوں کے ایمان لانے کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ اصولاً ایمان جبر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں ۔ نبی تو صرف اس بات کا زمہ دار ہے کہ خدا کا فرمان لوگوں تک پہنچانے میں لمحہ بھر بھی کوتاہی اور سستی نہ کرے ، چاہے وہ اسے قبول کریں یا اس سےروگرداں ہوجائیں۔ اس کے بعد یہ واضح کرنے کے لیے کہ انسانوں کی ہر چیز، جن میں ان کی موت وحیات بھی ہے ، خدابی کے ہاتھ میں ہے فرمایاگیا ہے : خدا ارواح کو موت کے وقت قبض کرلیتا ہے۔ (اللہ يتو في الانفس حین موتها )۔ ؎1 اوران ارواح کو جن کی موت نہیں آئی ہوتی نیندیں میں کرلیتا ہے ( والتي لم تمت في منامها)۔ ؎2 اس طرح سے "نیند" "موت" کی بہن ہے اور اس کی ایک کمزورشکل ہے ، کیونکہ نیند کے وقت روح کا جسم سے رابطہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے اور ان دونوں کے بہت سے رشتے منقتلع ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کہ ان کی ارواح کوجن کی موت کا حکم صادر کرچکا ہے روک لیتا ہے (اس طرح سے کہ وہ ہرگز نیند سے بیدار نہیں ہوتے) اور جن کی حیات کے برقرار رہنے کا فرمان دے چکا ہے ان کی ارواح انھیں بدنوں کی طرف لوٹا دیتا ہے جوایک معین مدت تک رہیں گی (فيعسك التي قضٰى عليها الموت ويرسل الاخرٰي الٰى اجل مسمًی)۔ ہاں اس مسئلے میں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں واضح آیات اور نشانیاں ہیں (ان في ذالك لآيات القوم يتفكرون). ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس آیت سے درج ذیل امور کا بخوبی علم ہوجاتاہے۔ 1- انسان روح اور جسم سے مرکب ہے ، روح ایک غیر مادی جوہر ہے جس کا جسم کے ساتھ ارتباط اس کے لیے نور اور حیات کا سبب ہے۔ 2- موت کے وقت خدا اس رابط کو منقطع کر دیتا ہے اور روح کو عالم ارواح کی طرف لے جاتا ہے اور نیند کے وقت بھی اس روح کو قبض کر لیتا ہے۔ لیکن اس طرح سے نہیں کہ بالکل ہی رابطہ منقطع ہوجائے۔ اس بنا پر روح بدن کے لیے تین حالتیں رکھتی ہے۔ (ارتباط تام (حیات و بیداری کی حالت)، ارتباط ناقص (نیند کی حالت) اور کامل طور پر ارتباط کا منقطع ہونا (موت کی حالت) 3- نیند، موت کی کمزورحالت ہے اور موت نیند کامکمل نمونہ ہے۔ 4- نیند روح کے استقلال اور اصلت کی دلیل ہے، خصوصًاجب کو خواب اور وہ بھی سچے خواب کے ساتھ ہو تو پھریہ معنی زیادہ واضع ہوجاتاہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کے قریہ سے۔ ؎1 "توفي" کا معنی قبض کرنا اور پورے طور پر پکڑ لینا ہے اور "انفسی" یہاں اوراح کے معنی میں ہے۔ "يتوفی " کے قرینہ سے ؎2 "منام" مصدری معنی رکھتا ہے اور "نوم " نیند کے معنی میں ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 5- بعض ارواح کا جب نیند کی حالت میں ان کا جسم کے ساتھ رابطہ کمزور ہوجاتا ہے توکبھی تو یہ ارتباط ممکل انقطاع کی صورت اختیار کر لیتا ہے ، اس طرح سے کہ وہ سونے والے پھرکبھی بیدار نہیں ہوتے ، لیکن دوسری روحیں نیند اور بیداری کی حالت میں متحرک رہتی ہیں یہاں تک کہ حکم الٰہی نہ آپہنچے۔ 6- اس بات کی طرف توجہ کہ انسان ساری رات نیند کے وقت موت کے آستانہ پر ہوتا ہے ایک درس عبرت ہے کہ اگروه اس میں غوروفکر کرے تو اس کی بیداری کے لیے کافی ہے۔ 7- یہ تمام امور خدا کی قدرت کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں اور اگر دوسری آیات میں "ملک الموت" اور موت کے فرشتوں کے ہاتھوں قبض روح کی بات آئی ہے تو وہ ا س لحاظ سے ہے کہ وہ حق تعالٰی کے فرمان کی تعمیل کرنے والے اور اس کے اوامر کو جاری کرنے والے ہیں اور ان دونوں مفاہیم کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ بہرحال یہ جو آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ "اس میں ایسے لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں، واضح نشانیاں ہیں"۔ اس سےمراد خدا کی قدرت کی نشانیاں ، مبدء ومعاد کامسئلہ اور خدا کے ارادے کے سامنے انسان کی کمزوری و ناتوانی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گزشتہ آیت میں انسان کے وجود پراللہ کی حاکمیت اور موت و حیات اور خواب و بیداری کے نظام کے ذریعے اس کی تدبیر مسلم ہوچکی ہے ۔ لہذا بعدوالی آیت میں مسئلہ شفاعت میں مشرکین کے انحراف کا ذکر کیاگیا ہے تاکہ ان پر ثابت کیا جائے گا شفاعت کا مالک وہی ہے جو موت و حیات کا مالک ہے نہ کہ بے شعوربت - فرمایا گیا ہے: انھوں نے خدا کے علا وہ شفیع بنالیے ہیں (ام اتخذوا من دون الله شفیاء)۔ ؎1 ہم جانتے ہیں کہ بتوں کی عبادت کے بارے میں بت پرستوں کے مشہور بہانوں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ یہ کہتے تھے :- ہم توان کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہوں ۔ جیسا کہ اسی سورہ کے شروع میں بیان ہواہے :- مانعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفي (زمر ـــــــــــ 3) چاہے اس بنا پر کہ وہ بتوں کوفرشتوں اور ارواح مقدسہ کی تمثال اور مظاہر سمجتے تھے اور چاہے اس لیے کہ وہ ان بے جان پتھروں اور لکڑیوں کے لیے کسی پراسرار قدرت کے قائل تھے۔ بہرحال شفاعت اولاً فہم وشعور کے ادراک کی فرع ہے اور ثانیًا قدرت ، مالکیت اور حاکمیت کی فرع ہے لہذا آیت کے آخرمیں ان کے جواب میں فرمایا گیا: ان سے کہہ دے کہ کیا ان سے شفاعت طلب کرتے ہوا چاہے وہ کسی بھی چیز کے مالک نہ ہوں، یہانتک کہ کچھ ادراک و شعوربھی نہ رکھتے ہوں ( قل ولو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون)۔ 2 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ام" یہاں منقطعہ ہے اور "بل" کے معنی میں ہے اور اگر متصل ہوتواس کے مقابلے میں دوسرا "اما" مقدر ماننا پڑے گا جو خلاف ظاہر ہے۔ ؎2 "اولو كانوا لا يملكون شيئا" کا جملہ کچھ مقدار رکھتا ہے اورمعنی کے لحاظ سے اس طرح ہے :- ایشفعون لكم ولو كانوا لا يملكون شيئا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:41-44
سورة زمر / آیه 41 - 44
(41) اِنَّـآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَا ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْـهِـمْ بِوَكِيْلٍ (42) اَللَّـهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِـهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضٰى عَلَيْـهَا الْمَوْتَ وَيُـرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ (43) اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ شُفَعَآءَ ۚ قُلْ اَوَلَوْ كَانُـوْا لَا يَمْلِكُـوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَعْقِلُوْنَ (44) قُلْ لِّـلّـٰـهِ الشَّفَاعَةُ جَـمِيْعًا ۖ لَّـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ ثُـمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ترجمہ (41) ہم نے اس آسمانی کتاب کولوگوں کے لیے، حق کے ساتھ تم پر نازل کیا ہے۔ جوشخص ہدایت قبول کرے تو یہ خود اسی کے فائدے میں ہے، اور جو شخص گمراہی اختیار کرے تو وہ صرف اسی کے لیے نقصان دہ ہوگی اور تو انھیں ہدایت پرمجبور کرنے کے لیے مامور نہیں ہے۔ (42) خدا ارواح کو موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور جن کی موت نہیں آتی تھیں نیند کے وقت پکڑ لیتا ہے۔ پھران لوگوں کی اوراح کو جن کی موت کا حکم صادر ہو چکا ہے، انہیں تو رہنے دیتا ہے اور دوسری ارواح کو (جنھیں ابھی زندہ ربنا ہوتا ہے) واپس لوٹادیتا ہے جو ایک مدت معین تک رہیں گے ، اس چیزمیں جو غور وفکر کرنے والوں کے لیےواضح نشانیاں ہیں ۔ (43) کیا انھوں نے اللہ کے سوا اوروں کو شفیع بنالیا ہے کہہ دے کہ چاہے وہ کسی چیز پر اختیارہی نہ رکھے ہوں اور نہ ہی کوئی بات سمجھتے ہوں۔ (44) کہہ دے کہ تمام شفاعت اللہ ہی کے لیے ہے ، کیونکہ آسمانوں اور زمین کی حاکمیت اسی کے لیے ہے اور پھرتم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔