وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
If you ask them, ‘Who created the heavens and the earth?’ they will surely say, ‘Allah.’ Say, ‘Have you considered what you invoke besides Allah? Should Allah desire some distress for me, can they remove the distress visited by Him? Or should He desire some mercy for me, can they withhold His mercy?’ Say, ‘Allah is sufficient for me. In Him let all the trusting put their trust.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:38
[Pooya/Ali Commentary 39:38] See commentary of Muminun: 84 to 89 and Ankabut : 61 according to which even the disbelievers, if asked, would admit that Allah is the creator of the heavens and the earth. The believers put their trust in Allah-see Yusuf: 67 and Ibrahim: 11.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:38-40
سورة زمر / آیه 38 - 40
(38) وَلَئِنْ سَاَلْتَـهُـمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّـٰهُ ۚ قُلْ اَفَرَاَيْتُـمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اِنْ اَرَادَنِىَ اللّـٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهٓ ٖ اَوْ اَرَادَنِىْ بِرَحْـمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْـمَتِهٖ ۚ قُلْ حَسْبِىَ اللّـٰهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ (39) قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (40) مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِـيْمٌ ترجمہ (38) اور اگر توان سے پر ہے کہ آسمانوں اور زمین کوکس نے پیداکیا ہے تو یقینًا وہ کہیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دے: کیاتم نے کبھی ان معبودوں کے بارے میں سوچا ہے جنھیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو کہ اگر خدا کوئی ضرر میرے لیے چاہے تو کیا وہ اس کے ضرر کو برطرف کر سکتے ہیں یا وہ میرے لئے کسی رحمت کا ارادہ کرے تو کیا ان میں اس کی رحمت کو روک لینے کی طاقت ہے ؟ کہہ دے خدا میرے لیے کافی ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چا ہیے۔ (39) کہہ دے: اے میری قوم! جو کچھ تمھارے بس میں ہے اسے کرگزرو، میں تواپنی ذمہ داری پوری کروں گا لیکن بہت جلد تمھیں معلوم ہوجائے گا ............... کہ (40) دنیا کاذلیل و خوار کرنے والا عذاب کس کے لیے آتا ہے ، اور اس کے بعد (آخرت کا) جاودانی عذاب اس پر وارد ہوتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:38-40
تمھارے معبود کوئی مشکل حل کر سکتے ہیں؟
تفسیر تمھارے معبود کوئی مشکل حل کر سکتے ہیں؟ گذشتہ آیات میں مشرکین کے انحرافی عقائد اور ان کے بڑے نتائج کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اب زیربحث آیات میں توحید کے دلائل سے تعلق گفتگو کی گئی ہے تار گزشتہ بحث کو دلیل سے مکمل کیا جائے، نیز گزشتہ آیات میں اس سلسلے میں گفتگوتھی کہ خدا کی حمایت ہی کافی ہے ، اس مسئلے کو بھی زیر بحث آیات میں دلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اگر توان سے سوال کرے کہ آسمانوں اور زمین کوکس نے پیدا کیا ہے تو یقینا وہ یہی کہیں گےکہ خدا نے (ولین سألتهم من خلق السماوات والارض ليقولن الله). کیونکہ کوئی وجدان اور عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ یہ وسیع و عریض جہان ، اتنی عظمت و بزرگی کے ساتھ کسی زمینی موجودکی مخلوق ہو، چہ جائیکہ بے روح اور بے عقل وشعور بتوں کی مخلوق ہو۔ اس طرح سے قرآن انھیں عقل کے فیصلے اور وجدان وفطرت کے حکم کی طرف لے جاتا ہے تاکہ توحید کی پہلی بنیاد کو کہ جواسمان وزمین کی خالقیت ہے ، ان کے دلوں میں کم کرے ۔ بعد والے مرحلے میں انسان کے سودوزیان اور اس کے نفع ونقصان میں تاثیر کو بیان کرتا ہے تاکہ یہ ثابت کرے کہ بت اس سلسلے میں کچھ اثر نہیں رکھتے، مزید کہتا ہے: ان سے کہہ دے ، خدا کے علاوہ ان معبودوں کو تم پکارتے ہو کیا تم نے کبھی ان کے متعلق سوچا ہے کہ اگر خدا میرے لیے کسی نقصان کا ارادہ کرے ، تو کیا وہ اسے برطرف کر سکتے ہیں یا اگر میرے لیے کسی رحمت کا ارادہ کرے تو کیا ان میں اس کی رحمت کو روک لینے کی طاقت ہے (قل أفرأيتم ما تدعون من دون الله ان ارادني الله بضرهل هن کاشفات ضره او اراد ني برحمة هل هن ممسكات رحمته)۔ ؎1 اب جبکہ ان کے لئے خالقیت ثابت ہے اور نہ ہی وہ سود و زیان کی کوئی قدرت رکھتے ہیں ، تو ان کی پرستش کیا معنی رکھتی ہے ؟ مبدء جہان آفرینش اور ہر سودوزیان کے مالک کو چھوڑ کر ان بے خاصیت اور بے شعور موجودات کا دامن کیوں تھاما جائے؟ اور اگران کے معبود باشعور ہوتے جیسے جنات اور فرشتے کہ جن کی بعض بت پرست پرستش کیا کرتے تھے ۔ تو پھر بھی نہ وہ خالق ہیں اورنہ سودوزیان نے ان کے بس میں ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ایک کلی اور آخری نتیجے کے طور پر قرآن کہتا ہے: کہہ دے خدا میرے لیے کافی ہے اور سب توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چا ہے ( قل حسبي الله علیہ یتوكل المتوكلون)۔ یہ بات کہ مشرکین آسمان و زمین کی خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے بارہا قرآن کی آیات میں بیان ہوئی ہے ۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 عام طور مفسرین اور ارباب لغت "افرأيتم" کے جملے کی "خبرونی"(مجھے بتاؤ) کے معنی میں تفسیر کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہان"رؤیت" کی اس کے اصل معنی یعنی آنکھ یا دل سے دیکھنے کے معنی میں تفسیرکی جائے اس بنا پر" کیا تم نے مشاہد کیا" یا "کیا تمھیں معلوم ہوا" کا معنی کیا جا سکتا ہے۔ ؎2 عنکبوت 61 ، 63 ، لقمان 31 ، زخرف 9- 87 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اوراس کے بعد آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب اس پر وارد ہوگا (من یأتیه عذاب يخزيه و يحل عليه عذاب مقیم)۔ اس طرح سے ان کے ساتھ آخری بات کی گئی ہے کہ یاتو عقل وخرد کی منطق کے سامنے سرتسلیم خم کرلو اور وجدان کی آواز پر کان دهرو اور یاد و درد ناک عذابوں کے انتظار میں رہو ، ایک دنیا کا عذاب جوخواری و رسوائی کا باعث ہے اور دوسرا آخرت کا عذاب جادوانی اور دائمی ہے اور یہ وہی عذاب ہیں جنھیں تم نے خود اپنے ہاتھ سے فراہم کیا ہے اور یہ ایسی آگ ہے جس کا ایندھن تم نے خود جمع کیا ہے اور اسے خود تم بھڑکایا ہے۔ ح