أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ
Have you not seen that Allah sends down water from the sky, then He conducts it through the ground as springs. Then He brings forth with it crops of diverse hues. Then they wither and you see them turn yellow. Then He turns them into chaff. There is indeed a lesson in that for those who possess intellect.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:21
[Pooya/Ali Commentary 39:21] Refer to the commentary of Hajj: 5.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:21-22
شرح صدر اور قساوت قلب کے عوامل
شرح صدر اور قساوت قلب کے عوامل قبولیت حق، ادراک مطالب اور خودجوشی کے اعتبار سے سب انسان یکساں نہیں ہیں۔ بعض ایک لطیف اشارے یا ایک مختصرسی گفتگو سے حقیقت کو اچھی طرح سے سمجھ لیتے ہیں. ایک تذکر انھیں بیدار کر دیتا ہے اور ایک ہی نصیحیت ان کی روح میں ایک طوفان برپاکر دیتی ہے۔ جبکہ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ شدید ترین خطاب اور واضح ترین دلائل اور قوی ترین پند و نصانح بھی ان پر معمولی سا اثر نہیں ڈالتے اور یہ مسئلہ سادہ سا نہیں ہے۔ قران اس سلسلے میں کیسی عمدہ تعبیر بیان کرتا کہ بعض کو شرح صدر اور وسعت روح کا حامل اور بعض کوتنگ سینے والا قرار دیا ہے۔ جیساکہ سوره انعام کی آیه 125 میں ہے: فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدرہ الاسلام و من یردان يضله يجعل صد رہ ضیقًاحرجًا کانما يصعد في السماء جس شخص کوخدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ کرناچاہتا ہے اس کے سینے کو اس طرح سے تنگ کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان کی طرف چڑھ جائے گا ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ افراد کے حالات کے مطالعے سے کامل طور واضح ہوجاتا ہے ۔ بعض کی روح تواس طرح سے وسیع اور کشادہ ہوتی ہے کہ جس قدرحقائق اس میں داخل ہوں وہ آسانی کے ساتھ انھیں قبول کرلیتی ہے لیکن بعض کی روح اور فکر اس طرح سے محدود ہوتی ہے گویا کوئی جگہ کسی حقیقت کے لیے اس میں نہیں ہے ، جیسے ان کا دماغ ایک محفوظ جگہ میں آہنی دیواروں کے اندر بند ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5691 (تفسیر سورہ زمر، زیر بحث آیات کے ذیل میں)یہ حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ شیخ مفید کی روضۃ الواعظین میں بھی نقل ہوئی ہے : کو ؎2 تفسیرصافی ، زیربحث آیات کے ذیل ہیں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- البتہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے کچھ عوامل و اسباب ہیں ۔ ارباب دانش اور صالح علماء کے ساتھ دائمی ربط تعلق ،مسلسل و پے در پے مطالعات، خودسازی اور تہذیب نفس گناہ سے پرہیز خصوصًا حرام غذا سے اور خدا کو یاد کرنا شرح صدر کے عوامل و اسباب میں سے ہے۔ اس کے برعکس جہالت ، گناه، بٹ دھری، جنگ وجدال، برے لوگوں یعنی فاسقوں، فاجروں اور مجرموں کی صحنت، دنیاپرستی و بوس پرستی ، تنگی روح اور قساوت قلب کا باعث بنتی ہے۔ یہ جو قرآن کہتا ہے کہ خدا جس شخص کو ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا شرح صدر کر دیتا ہے یا جسے خدا چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سبنے کو تنگ کر دیتا ہے۔ یہ "چاہنا" اور "نہ چاہنا" ، بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اس کا سر چشمہ خود ہماری ہی ذات ہوتی ہے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے : اوحی الله عزوجل الى موسٰی یا موسٰی لا تفرح بكثرة المال، ولا تدع ذكرى علٰى كل حال ، فان كثرة المال تنسي الذنوب، وان ترك ذكرى يقسي القلوب خدانے موسٰی کی طرف وحی بھیجی کہ اے موسٰی ! مال کی کثرت پر خوش نہ ہونا اور میری یاد کوکسی حالت میں ترک کرنا کیونکہ مال کی زیادتی اکثر گناہوں کی فراموشی کا سبب بن جاتی ہے اور میری یل کو ترک کردینا دل کوسخت کر دیتا ہے۔ ؎1 ایک دوسری حدیث میں امیرالمومنینؑ سے منقول ہے : ماجفت الدموع الالقسوة القلوب ، وما قست القلوب الاكثرة الذنوب آنسو خشک نہیں ہوتے مگردلوں کے سخت ہوجانے سے اور دل سخت نہیں ہوتے مگر گناہوں کی زیادتی سے۔ ؎2 ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت موسٰیؑ کو پروردگار کا ایک پیغام یہ تھا : یاموسٰی لا تطول في الدنيا املك ، فيقسو قلبك، والقاسي القلب منی بعید اے موسٰی دنیامیں اپنی آرزوؤں کو لمبانہ کر، کیونکہ اس سے تیرا دل سخت اور انعطاف نا پذیر ہو جائے گا اورسنگدل مجھ سے دور ہوتے ہیں۔ ؎3 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ؎2 بحارالانوار ، جلد 70 ص 55 (حدیث 23-24) ؎3 کافی جلد دوم، باب "القسوة" حدیث 1 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ایک اورحدیث میں امیرالمومنینؑ سے اس طرح منقول ہے : المتان لمة من الشيطان ولمة من الملك ، فلمة الملك الرقة و القهم، ولمة الشيطان السهو والقسوة القاء دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک القائے شیطانی اور دوسرا القائے ملک (فرشتہ) فرشتے کا القاء دل کی نرمی اور فہم و ذکاء میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور شیطانی القاء یہود ونسیان اور قساوت قلب کاباعث ہوتا ہے۔ ؎1 بہرحال شرح صدر حاصل کرنے اور قساوت قلبی سے رہائی پانے کے لیے بارگاہ خداوندی کی طرف رخ کرنا چاہیے تاکہ وہ نورالٰہی جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے انسان کے دل میں روشن ہو۔ دل کے آئنے کو گناہ کے زنگ سے صاف و صقیل کرنا چاہیے اور دل کے گھر کو ہواوہوس کی غلاظت سے پاک رکھنا چاہیے تاکہ وہ محبوب کی پزیرائی کے لیے آمادہ ہو۔ خوف خداسے آنسو بہانا اوراس بے مثال محبوب کے عشق میں گریہ وبکا کرنا، رقت قلبی ، نرم دلی اور روح کی وسعت کے لیے عجیب وغریب اثر رکھتا ہے اور آنکھ کا جمود اور خشک ہونا سنگدلی کی نشانی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافي جلد دوم "باب القسوه" حدیث 3 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:21-22
سورة زمر / آیه 21 - 22
(21) اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٝ يَنَابِيْعَ فِى الْاَرْضِ ثُـمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٝ ثُـمَّ يَهِيْجُ فَتَـرَاهُ مُصْفَرًّا ثُـمَّ يَجْعَلُـهٝ حُطَامًا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِى الْاَلْبَابِ (22) اَفَمَنْ شَرَحَ اللّـٰهُ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُـوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوْبُـهُـمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ اُولٰٓئِكَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ ترجمہ (21) کیا تو نے نہیں دکھا کر خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسے چشموں کی صورت میں زمین میں داخل کیا پھراس سے زرعی پیدوار نکالتا ہے جو مختلف رنگ کی ہوتی ہے پھر یہ خشک ہوجاتی ہے اس طرح سے کہ تم دیکتے ہوکہ وہ زرد اور بے روح ہے وہ اسے درہم بھرہم کردیتاہےاورریزہ ریزہ بنادیتا ہے۔اسےماجرےمیں صاحبان عقل کےلیےایک نصیحت ہے۔ (22) کیاوہ شخص جس کاسینہ خدا نے اسلام کے لیے کشادہ کر دیا ہے اور وہ نورالٰہی کے مرکب پر سوار ہے (ان دل کے اندھوں کی طرح ہے جن کے دل میں نور ہدایت داخل نہیں ہوا) وائے ہے ان کے لیے جو ذکر خدا کے مقابلے میں سخت دل رکھتے ہیں وہ واضح گمراہی میں ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:21-22
وہ لوگ جونور کے مرکب پرسوارہیں
تفسیر وہ لوگ جونور کے مرکب پرسوارہیں قران ان آیات میں دوبارہ توحید و معاد کے دلائل پیش کرتا ہے اور ان مباحت کی تکمیل کرتا ہے جو گزشتہ آیات ہیں کفروایمان سلسلے میں بیان ہوئے۔ نظام جہان ہستی میں پروردگار کی عظمت وربوبیت کے آثار میں سے ، آسمان سے نزول بارش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھراس بے رنگ پانی سے ہزاروں رنگ کے نباتات کی پرورش اور حیات کے مراحل کو طے کرنے اور آخری مرحلے تک پہنچنے کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف کرتے ہوئے تمام مومنین کے لیے ایک نمونے کے طور پر فرماتا ہے : کیا تونے دیکھا نہیں کہ خدانے آسمان سے پانی نازل کیا اسے چشموں کی صورت میں زمین میں داخل کیا۔ (الم تران الله انزل من السماء ماء فلکه ينابيع في الارض )۔ ؎1 بارش کے حیات بخش قطرے آسمان سے برستے ہیں۔ زمین کی نفوذ پذیر تہہ انھیں زمین کے اندر قبول کرلیتی ہے اور جب وہ نفوذ نا پذیرتہہ تک پہنچ جاتے ہیں تو وہاں رک جاتے ہیں اور زمین انھیں ذخیرہ کرلیتی ہے اور اس کے بعد چشموں ، نالوں اور کنوؤں کی صورت باہر بھیجتی ہے۔ "سلکه" (بارش کے پانی کو زمین کے اندر داخل کیا) اسی امر کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے۔ "ينابيع" "ينبوع" کی جمع ہے اور "نبع" کے مادہ سے ہے کہ جو زمین سے پانی کے جوش مارنے کے معنی نہیں ہے۔ اگر زمین میں ایک ہی نفوذ ناپذیر نہ ہوتی تو بارش کے پانی کے ایک بھی قطرے کو اپنی اندرذخیرہ نہ کر سکتی اور آسمان سے بارش برسنے کے بعد سارا پانی دریاؤں میں جا پڑتا اور اس صورت میں نہ تو کوئی چشمہ ہوتا نہ نہریں اورتر نالے ہوتے اورنہ ہی کنویں ہوتے اوراگراس میں ایک نفوزپذیر تہہ ہی ہوتی تو سارا پانی زمین کی گہرائیوں میں چلاجاتا اس طرح سے اس تک دسترس ممکن نہ ہوتی ۔ زمین کی ان دوتہوں نفوذ پذیر اور نفوذ ناپذیرـــــــــ کئی طبقات اوپرتلے ہوتے ہیں جن سے اونچی سطح پر، نیم گہرے اور گہرے کنویں کھودنے میں استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : پھر خدا اس کے ذریع نباتات کو نکالتا ہے جوخلقت رنگ کے ہوتے ہیں (ثم يخرج به زرعًا مختلفًا الوانه)۔ ان کی انواع کبھی مختلف ہیں۔ جیسے گندم ، جو، چاول اور مکی اور ان کی کیفیتیں بھی مختلف ہیں اور ان کا ظاہری رنگ بھی ۔ بعض کے گہرے سبز رنگ کے ، بعض کے ہلکے سبرنگ کے ، نیم کے پتے چوڑے اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض کے باریک اور پتلے وغیرہ وغیرہ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "ذرع" ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جس کا تناقوی نہ ہو اس کے مقابلے میں لفظ "شجر" ہے۔ جو زیادہ تر اس درخت کو کہا جا تا ہے جس کا ساتھ میں ہو۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "يناببع" ترکیب نحوی کے لحاظ سے "منصوب بنزع خافض " ہے اور اصل میں "في ينابيع" تھا۔ (تفسیر روح المعانی و روح البیان)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "زرع " ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو غیر غذائی نباتات کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ طرح طرح کے پھول، سجاوٹ کی گھاس اوردوائیوں کی جڑی بوٹیاں وغیرہ جو بہت متنوع اور گوناگوں رنگوں اور صورتوں والی ہوتی ہیں بعض اوقات تو ایک ہی شاخ پر بلکہ ایک بی پھول میں مختلف کا بہت ہی عمدہ اور خوبصورت پہلور بہ پہلو دکھائی دیتے ہیں اور زبان بے زبانی سے خدا کی توحیداور تسبیح کا نغمہ سنارہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ان نباتات کی حیات کے کچھ اورمراحل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس کے بعد یہ زراعت ختم ہوجاتی ہے اسی طرح سے کہ تو اسے زرد اور بے روح دیکھتا ہے۔ (ثم يهيج فتراه مصفرًا)۔ ؎1 تیز ہوا برطرف سے چلتی ہے اور اورجو پودا کمزور ہو چکا ہوتا ہے اسے اس کی جگہ سے اکھاڑ دیتی ہے۔۔پھرخدا سے درہم برہم کرکے ریزہ ریزہ کر دیتا ہے (ثم يجعله حطامًا )- "ہاں! اس واقعے میں صاحبان فکر ونظر کے نحصیت اور یادآوری ہے"، (ان في ذالك لذکرٰى الأولي الألباب)۔ اس عظیم منظرميں پروردگارکی ربوبیت اور عالم ہستی کے باعظمت اور جچھے تلے نظام کے سلسلے میں ایک امر توجہ طلب اور تذکر ہے اور زندگی کے ختم ہونے کے بارے میں بھی ایک تذکر ہے اور اس کے بعد قیامت اور مردوں کے نئے سرے سے زندہ ہونے کے سلسلہ بھی یادآوری ہے۔ یہاں اگرچہ نباتات کا منظر پیش کیا گیا ہے ، لیکن یہ انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ اسی طرح سے تمھاری حیات میں بھی تکرار ہوگا، ممکن ہے کہ اس کی مدت مختلف ہو لیکن اس کا اصول ایک ہی ہے توهے۔ تولد و پیدائش، نشاط و جوانی اور پھر پژمردگی اور بڑھاپا اور آخر موت۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ توحید و معاد کے اس درس کے بعد مومن و کافر کے درمیان ایک موازنہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ اس حقیقت کو واضح کیا جائے ک قران اور وحی آسمانی بھی بارش کے قطروں کی طرح ہے جو دلوں کی سرزمین پر نازل ہوتی ہے جس طرح صرف آماده اوراہل زمین بی بارش کے حیات بخش قطرات سے فائدہ اٹھاتی ہے اسی طرح سے آیات الہی سے بھی صرف وہی دل بہرہ مند ہوتے ہیں جو اس کے سایہ لطف میں خود سازی کے لیے آمادہ وتیار ہوتے ہیں ، فرمایاگیا ہے: کیا وہ شخص جس کے سینے کو خدا نے اسلام قبول کرنے کے لیے کشادہ کر دیا ہے اور وہ نور الٰہی کے مرکب پر سوار ہے، ان بے نور سنگدلوں کی طرح ہے جن کے دلوں میں خدا کی ہدایت نہیں پہنچی ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "یھیج" "ھیجان" کے مادہ سے ہے۔ لغت میں یہ لفظ دو معنی میں آیاہے۔ ایک پودے کا خشک اور زرد ہونا اور دوسرا حرکت میں آنا اورجوش و خروش دیکھاتا۔ ممکن ہے کہ یہ دوتوں معانی ایک ہی بنیاد کی طرف لوئیں ، کیونکہ جس وقت پودا خشک ہوجائے تو گویا پھر بکھرجانے اور حرکت وہیجان کے لیےآماده و تیارہوجاتاہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- (افمن شرح الله صدرہ الاسلام فهوعلی نورمن ربه)۔ اس کے بعد مزید فرمایاگیا ہے ، وائے ہے ان پرجو سخت اور نفوذناپذیر دل رکھتے ہیں اور ان میں ذکر خدا کچھ بھی اثر نہیں کرتا۔ (فویل القاسية قلوبهم من ذكرالله)۔ نہ سودمند نصیحتیں ان پراثر کرتی ہیں ، نہ انانزار وبشارت ، نہ قران کی ہالا دینے والی آیات انھیں حرکت میں لاتی ہیں اور نہ وحی کی حیات بخش بارش ان میں تقوٰی و فضیلت کے پھول اگاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ : نہ طراوتی نہ برگی نہ گلی نے سایہ دارند نہ ان میں کچھ طراوت ہے، نہ ان پر کوئی پتہ ہے نہ ہی پھول اور نہ سایہ ہے۔ ہاں! یہ لوگ ضلال مبین اور واضح گمراہی میں ہیں (اولئك في ضلال مبين)۔ "قاسية" "قسوة" کے مادہ سے خشونت ،سختی اور نفوذناپزیری کے معنی میں ہے ۔ اسی لیے سخت پتھروں کو "قاسی" کہتے ہیں ، ان دلوں کو "قلوب قاسیہ" (سخت دل) کہا جاتا ہے کہ جونورحق و ہدایت کے لیے کوئی رغبت اور جھکاؤ نہیں رکھتے، نرم اور رام نہیں بوتے اور نور ہدایت ان میں نفوذ نہیں کرتا، فارسی میں اسے سنگدل سے تعبیر کرتے ہیں۔ بہرحال یہ تعبیر شرح صدر، سینے کی کشادگی اور وسعت روح کے مقابلے میں آئی ہے، کیونکہ کشادگی قبولیت کے لیے آمادگی کے لیے کنایه ہے۔ ایک بیابان اور وسیع گھر بہت سے انسانوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور فراخ سینہ اور کشادہ روح زیادہ سے زیادہ حقائق کو قبول کرنے کے اہل ہوتی ہے۔ ایک روایت پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے ، ابن مسعود کہتے ہیں میں نے بھی پیغمبر اسلامؐ سے اس آیہ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا "افمن شرح الله صدرہ للاسلام فهو على نورمن ربہ" انسان کا شرح صدر کیسے ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اذا دخل النور في القلب انشرح و الفتح جس وقت نور انسان کے دل میں داخل ہوجاتا ہے اور وہ وسیع وکشادہ ہوجاتا ہے۔ میں نے عرض کیا : اے خدا کے رسولؐ! اس کی نشانی کیا ہے؟ فرمایا:- الانابةالى دار الخلود ، والتجافي عن دارالغرور، والاستعدادللموت قبل نزوله اس کی نشانی ہمیشہ کے گھر کی طرف توجہ، غرور کے گھر سے علیحدگی اور موت کے استقبال کے لیے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس آیت میں ایک محذوف ہے جو بعد والے جملے کے قرینے سے واضح ہوجاتا ہے اور تقدیرمیں اس طرح ہے :- افمن شرح الله صدره الاسلام فهو على نور من ربه کمن هو قاسي القلب لا يهتدی ہنور ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس کے نزول سے پہلے آمادہ ہونا ہے۔ ۔؎1 تفسیرعلی بن ابراہیم میں بیان ہوا ہے کہ "افمن شرح صدرہ للسلام " کا جملہ امیرالمومنین علیؑ کے بارے میں نازل ہوا ہے اور ععض تفاسیر میں آیا ہے کہ "فويل للقاسية قلوبهم" کا جملہ ابولہب اوراس کے بیٹوں کے متعلق ہے ۔ ؎2 یہ بات واضح ہے کہ یہ شان نزول حقیقت میں مفہوم کلی کے واضح مصادق کے مانند ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ" فهو على نور من ربه " میں نور اور روشنی کا ذکر کی سواری کے طور پر ہے کہ جس پر مومنین سوار ہوں گے ۔ اس کی سرعت رفتار عجیب اس کا راستہ واضح اوراس کے دوڑنے کی طاقت تمام جہان پرمحیط ہوگئی ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ