وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ
As for those who stay clear of the worship of fake deities and turn penitently to Allah, there is good news for them. So give good news to My servants
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:17
[Pooya/Ali Commentary 39:17] Refer to the commentary of Baqarah: 256 and Nahl: 36.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
3- حریت فکر اور اسلامی روایات
3- حریت فکر اور اسلامی روایات :- احادیث اسلامی میں جوزیر بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں یامستقل طورپر منقول ہوئی ہیں اس امر پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک حدیث امام موسٰی بن جعفرعلیهما السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اپنے ایک دانش مند صحابی ہشام بن حکم سے فرمایا:- ياهشام أن الله تبارك وتعالى بشراهل العقل والفهم في كتابه، فقال فبشر عبادالذین یستمعون القول فيتبعون أحسنه اے ہشام خداوند تعالی نےاہل عقل و فہم کو اپنی کتاب میں بشارت دی ہے اور فرمایا ہے: میرے ان بندوں کو بشارت دے دو جو باتوں کو (غور سے) سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدانے ہدایت کی ہے اور وہ صاحبان عقل وفکرہیں۔ ؎1 ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نےزیربحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا : هوالرجل يسمع الحديث فيحدث به کماسمعه، لايزيد فيه ولاینقص یہ آیت ایسے لوگوں کے بارے میں جوحدیث سنتے ہیں اور بے کم و کاست اوربغیر کمی و بیشی کے دوسروں کے لیے نقل کرتے ہیں۔ ؎2 البتہ اس حدیث سے مراد" فيتبعون أحسنه" کی تفسیر ہے کیونکہ بہترین باتوں کی پیروی کرنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ انسان اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہ کرے اور بعنیہ دوسروں تک پہنچادے۔ نہج البلاغہ میں امیرومنین حضرت علیؑ کے کلمات فضار میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا : الحكمة ضالة المؤمن فخذالحكمة ولو من اهل النفاق حکمت آمیز باتیں مومن کی گم شدہ چیز ہے، پس وہ حکمت کولے لے چاہے وہ منافق کے پاس سے ملے۔ ؎3 ،---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافي ، جلد1 ، کتاب العقل ، حدیث 12 ؎2 نورالثقلين، جلد 4 ، ص 482 ، حدیث 34 ؎3 نہج البلاغہ ، کلمات قصاء، کالمہ 80 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
خدا کے حقیقی بندے
تفسیر خدا کے حقیقی بندے قران نے پھر ان آیات میں موازنے کی روش سے فائدہ اٹھایا ہے اوران متعصب اور ہٹ دھرم مشرکین کے مقابلے میں جن کی سرنوشت جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پروردگار کے خاص اور حقیقت کے متلاشی بندوں کے معتلق گفتگو شروع کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : ان لوگوں کے لیے جنھوں نے "طاغوت" کی عبادت سے اجتناب کیا ہے اور خدا کی طرف بازگشت کی بشارت اور خوشخبری ہے ( والذين اجتنبوالطاغوت ان يعبدوها وانا بوا الى الله لهم البشرٰی)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "بشری" یہاں مطلق ہے لہذا ہر قسم کی خدائی نمتوں پر مشتمل ہے چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی، لیکن یہ عظیم بشارت ایسے لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں۔ سارا یمان و عمل اسی جملے میں جمع ہے ہے۔ کیونکہ " طاغوت" اصل میں "طغیان " کے مادہ سے حد سے تجاوز کرنے والے معنی میں ہے۔ اس لیے یہ لفظ ہر تجاوز کرنے والے اور خدا کے سوا ہر معبود ، جیسے شیطان اور ظالم حکمران پربولا جاتا ہے (یہ لفط واحد وجمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے)۔ ؎1 اس بنا پر "طاغوت" سے اجتناب" اس وسیع وعریض معنی کا حامل ہے یعنی ہر قسم کے شرک، بت پرستی، ہوس پرستی اور شيطان پرستی سے دوری نیز حکام جوراورظلم کے ذریعے اقتدار پرقبضہ کرنے والوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور "آنابوا الى الله" تقوی پرہیزگاری اور ایمان کا جامع ہے۔ یقینًا اس کے افراد ہی بشارت کے اہل ہیں ۔ یہ نکته بھی قابل توجہ ہے کہ طاغوت کی عبادت صرف رکوع و سجود کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ ہر قسم کی اطاعت کے مفہوم ہے جیساکہ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے سے منقول ہے من اطاع جبارا فقد عبده جس شخص نے کسی ستم گر حکمران کی اطاعت کی اس نے اس کی عبادت کی۔ ؎2 پھران خاص بندوں کے تعارف کے لیے قرآن کہتا ہے : میرے خاص بندوں کو بشارت دے دے (فبشر عباد)۔ ؎3۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بعض مفسرین مثلاً زمحشری کا کشاف میں یہ نظریہ ہے کہ "طاغوت" اصل میں طغووت (بروزن "فعلوت") مثل "ملکوت تھا پرروہ مقلوب ہوگیا اور لام الفعل عین الفعل سے مقدم ہو گئی اور "طوغوت" ہوگیا اور واؤ کے الف سے مل جانے کے بدل جانے کے بعد طاغوت ہوگیا اور کئی لحاظ سے تاکید کے معنی دنیا ہے۔ صیغہ مبالغہ معنی منصداری اور قلب کی وجہ سے (تفسیر کشاف جلد 4 ص 120) ؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں جلد 7 ص 493 ؎3 "عباد" اصل میں "عبادی" تھا۔ یا حزف ہوگئی اور زیر اس کا قائم مقام ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وہ لوگ جو بات (غور سے) سنتے ہیں اور اس میں سے جوبات زیادہ اچھی ہوتی ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں (الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه). وہ ایسے لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور وہ عقل و خرد رکھنے والے ہیں (اولئك الذين هداهم الله وأولئک هواولوا الألباب)۔ یہ دو آیات جو اسلامی شعار کی صورت میں سامنے آئی ہیں مسلمانوں کی حریت فکر اور مختلف مسائل میں (اچھی سے اچھی بات کو) انتخاب کرنے کی خوب نشاندہی کرتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے میرے بندوں کو بشارت دے دے اوراس کے بعد ان خاص بندوں کا اس صورت میں تعارف کروایا گیا ہے : وہ ہری کسی بات کو غور سے سنتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ کہنے والا کون ہے اور کیا نظریہ رکھتا ہے اورعقل وخرد کی قوت کے ساتھ ان میں سے بہترین کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔ وہ کسی قسم کا تعصب اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے اور کسی قسم کی تنگ نظری ان کی فکرونظرمیں نہیں ہے۔ وہ حق کے متلاشی اور حقیقت کے پیاسے ہیں وہ جہاں کہیں بھی انھیں ملے ، لپک کراس کا استقبال کرتے ہیں اوراس کے صاف چشمے سے بغیرروک ٹوک کے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں وہ نہ صرف حق کے طالب اور اچھی گفتگو کے پیاسے ہیں بلکہ "خوب" اور "خوب تر" میں سے اور " نیک" اور "نیک تر" میں سے دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ بہترین اور برترین کے خواہاں ہیں۔ ہاں! یہی ہے نشانی ایک سچے مسلمان اور حق طلب مومن کی۔ "يستمعون القول" (بات کو سنتے ہیں) میں " قول" سے کیا مراد ہے۔ اس ضمن میں مفسرین نے گوناگوں تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اس سے قرآن مراد لیا ہے اور جو کچھ اس میں احکام اور مباحات کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ ان میں سے احکام کی پیروی کو احسن کی پیروی سمجھتے ہیں۔ بعض دوسروں نے اس کی مطلق اوامرالٰہی سے تفسیر کی ہے، چاہے وہ قرآن میں ہوں یا غیرقران میں ۔ لیکن ان محدود تفسیروں کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ آیت کا ظاہری مفهوم ہر قسم کے قول اور ہربات پرمحیط ہے۔ خدا کے باایمان بندے تمام باتوں میں سے اس بات کو انتخاب کر لیتے ہیں جو "احسن" ہے اور ا س کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے عمل میں اسی پر کاربندہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے مذکورہ بالا آیت میں صاحبان ہدایت الہی کو اسی گروہ میں منحصر کر دیا ہے، جیسا کہ عقل مندوں کو بھی انہیں منحصر قرار دیا ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ ظاہری و باطنی ہدایت کا حامل ہے۔ ظاہری ہدایت عقل وخرد کے طریق سے اور باطنی ہدایت نورالٰہی اور امدادی غیبی کے راستے سے، اور یہ دونوں افتخار اس قسم کے حقیقت کے متلاشی حریت فکر کے حامل لوگوں کے لیے ہیں ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چونکہ پیغمبر خداؐ گمراہوں اور مشرکین کو ہدایت کرنے سے بہت لگاؤ رکھے تھے اوران لوگوں کے احراف سے انھیں بہت تکليف اور زیادہ دلپذیر ہوتا ہے۔ "غرف" جمع ہے "غرفہ" کی "غرف" (بروزن "حرف") کے مادہ سے۔ ایسی چیز کو اوپر اٹھانے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے اس پانی کو جو چلو کے ساتھ چشمے سے اٹھا کر پیتے ہیں "غرفه" کہتے ہیں ۔ یہ لفظ بعدازاں کسی عمارت کے اوپر والے حصے اور منازل کے بالائی طبقات کے معنی میں بولا جانے لگا۔ بہشت کے یہ حیسن خوبصورت بالاخانے، ان نہروں کے ساتھ ، جو ان کے نیچے بہہ رہی ہیں، سجائے گئے ہیں، اسی لیے آیت کے آخر میں ہے ان کے نیچے دوامی نہریں جاری ہیں (امبنية تجري من تحتها الأنهار)۔ ہاں یہ خدائی وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا (وعد الله لا يخلف الله الميعاد)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
سورة زمر / آیه 17 - 20
(17) وَالَّـذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ لَـهُـمُ الْبُشْرٰى ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ (18) اَلَّـذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٝ ۚ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ هَدَاهُـمُ اللّـٰهُ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمْ اُولُو الْاَلْبَابِ (19) اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِى النَّارِ (20) لٰكِنِ الَّـذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّـهُـمْ لَـهُـمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ ۙ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللّـٰهُ الْمِيْعَادَ ترجمہ (17) جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اورخدا کی طرف لوٹے۔ بشارت اور خوشخبری انھی لوگوں کے لیے ہے، اس بنا پرمیرے ان بندوں کو بشارت دے دو۔ (18) وہ لوگ جو باتوں کو (غور سے) سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی قل مند ہیں۔ (19) کیا تو اس شخص کو جس کے لیے عذاب حکم قطعی ہو چکا ہے رہائی بخش سکتا ہے ؟ کیا تواس شخص کو جوآگ کے اندر ہے پکڑ کر باہر لے آسکے گا؟ (20) لیکن وہ لوگ جنہوں نے خدا کا تقوی اختیار کیا ہے ان کے لیے تو بہشت میں بالا خانے ہیں، جن کے اوپر پھر بالا خانے سے ہیں اوران کے نیچے نہر جاری ہیں۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
1- اسلام اورحریت فکر
چند اہم نکات 1- اسلام اورحریت فکر: بہت سے مذاہب اپنے پیروکاروں کو دوسروں کی باتوں کے مطالعے اوتحقیق سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی منطق کی کمزوری کی وجہ سے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں پڑھنے والا دوسروں کی منطلق قبول نہ کرلے اور اس طرح ان پیر کار ان کے ہاتھ سے نکل جائیں ۔ لیکن جیسا کہ زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے، اسلام نے اس بارے میں "کھلے دروازوں" کی تدبیر اپنائی ہے اوراننی لوگوں کو خدا کے سچے بندے قرار دیتا ہے جواہل تحقیق ہیں، ایسے کہ جونہ تو دوسروں کی باتوں کو سننے سے گھبراتے ہیں اورنہ ہی کسی قید و شرط کے بغیسر تسیلم خم کرتے ہیں اورنہ ہی کسی وسوسے کو قبول کرتے ہیں ۔ اسلام ایسے ہی لوگوں کو بشارت دیتا ہے جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے جو بہت اچھی ہیں انھیں انتخاب کر لیتے ہیں ،نہ صرف یہ کہ اچھی باتوں کو بری باتوں پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ پھولوں میں سے بھی جو پھول بہتر ہوتاہےاسے انتخاب کرتے ہیں۔ قرآن ان بے خبرجاہلوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو پیام حق سنتے وقت کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور سر پرکپڑا ڈال لیتے ہیں جیسا حضرت نوحؑ کے ارشادات میں ایسے لوگوں کی بارگاہ پروردگار میں شکایت ان الفاظ میں کی گئی ہے: واني كلما دعوتهم لتغفرلهم جعلوا اصابعهم في أذانهم و استغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استکبارًا خداوندا! جب بھی میں نے انھیں بلایا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھوسن لیں اور اپنےاوپر کپڑا ڈال لیا، اپنی گمراہی پراصرار کیا اور بہت تکبر کیا۔ (نوح ـــــــــــــ 7) ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 زمخشری کشاف میں کہتے ہیں: "وعد الله" مفعول مطلق کے طور پرمنصوب تاکید ہے کیونکہ" لهم غرف " وعد هم الله غرفا" کے معنی میں ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اصولی طور پر وہ مکتب جو قوی منطق رکھتا ہے ، اس کے لیے دوسروں کی باتوں سے گبھرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے مسائل کے پیش ہونے پراسے خوف کھانے کی ضرورت ہے۔ ڈرنا توانھیں چاہیے جو کمزوراور بے منطق ہیں۔ آیت ایسے لوگوں کو جو ہربات کو بغیرکسی قید شرط کے قبول کر لیتے ہیں" اولواالالباب" اور "ہدایت یافتہ افراد" شمار نہیں کرتی، ان کی مثال ان بھیڑوں کی سی ہے جوکسی سبزہ زارمیں چرتے وقت کوئی تحقیق نہیں کرتیں ۔ آیت ان دو اوصاف ان کو ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتی ہے جو تو بے قید و شرط تسلیم کے افراط میں گرفتار ہیں اور نہ ہی خشک اور جاہلانہ تعصبات کی تفریط میں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
4- تطبیق با شان نزول
4- تطبیق با شان نزول : مفسرین نے کئی ایک شان نزول بیان کی ہیں۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ والذین اجتنبوا الطاغوت..... کی آیت اوراس کے بعد والی آیت تین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں (اس آلود ماحول میں مشرکین کے شو روغوغا کے سامنے نہیں جھکے اور) وہ کہتے تھے لا اله الا الله ـــــــ وہ سلمان فارسی . اورابوذرغفاری اور زید بن عمرتھے ۔ ؎1 بعض روایات میں زید بن عمرو کی جگہ سعید بن زید آیا بے ۔ ؎2 بعض نے بھی کیا ہے کہ آیہ افمن حق عليه كلمة العذاب ... . . ابوجہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؎3 لیکن بعید نہیں ہے کہ یہ اصطلاحی شان نزول میں سے نہ ہو بلک آیت کے واضح مصادیق پر تطبیق کی گئی ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسیر "قرطبی" و "مجمع البیان" زیر بحث آیات کے ذیل میں۔ ؎2 "درالمنشور" طبق نقل تفسیر المیزان جلد 17 صفحہ 267 ؎3 اس قول کو "روح المعانی" نے بعض سے نقل کیا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:17-20
2- چند سوالوں کا جواب
2- چند سوالوں کا جواب:- 1- ممکن ہے یہاں یہ سوال پیش کیا جائے کہ اسلام میں کتب ضلال کی خریدوفروش کیوں منع ہے؟ ۔ 2- قرآن کو کفار کے ہاتھوں میں دنیا کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ 3- جو شخص کسی مطلب کوجانتا ہی نہیں وہ اس میں سے انتخاب کیسے کرے گا اور اچھے کو برے سے کسی طرح ادا کرے گا؟ کیا اس بات سے دور لازم نہیں آتا؟ پہلے سوال کا جواب واضح ہے، کیونکہ زیر بحث آیات میں ایسی باتوں کے متعلق بحث ہے جن میں ہدایت کی امید ہو، جب غورو فکر اور تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہو کہ اور فلاں کتاب گمراہ کرنے والی ہے تو پھر وہ اس حکم کے موضوع سے خارج ہو جائے گی ۔ اسلام کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیا کہ لوگ ایسے راستے میں قدم رکھیں جس کا نا درست اور غلط ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ جب تک یہ امرکسی پر ثابت نہ ہوا ہو اور وہ صحیح دین قبول کرنے لیے، مختلف مذاہب کے بارے میں تحقیق کررہاہو اس وقت تک ان تمام کتابوں کا مطالعہ اور تحقیق کرسکتا ہے لیکن مطلب ثابت ہوجانے کےبعد اس کو ایک زہریلے مادہ کی طرح ہرکسی کی دسترس سے باہر رکھنا چاہیے۔ باقی رہا دوسرے سوال کے بارے میں تو اس صورت میں قران غیر مسلم کے ہاتھ میں دینا جائز نہیں ہے جب کہ یہ اس کی ہتک اور بے حرمتی کا باعث ہو ورنہ اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ غیر مسلم واقعًا اسلام کے بارے میں تحقیق کی فکر میں ہے اور وہ یہ جاہتا ہے کہ قرآن کا اس مقصد کے لیے مطالعہ کرتے تو نہ صرف یہ کہ قران اسے دینے میں کوئی حرج اور رکاوٹ نہیں ہے بلکہ شاید اسے دینا واجب ہوا اور جنھوں نے اسے حرام قرار دیا ہے ان کی مراد اس صورت کے علاوہ دوسری صورت ہے۔ اسی لیے عظیم اسلامی معاشرے اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ قران کا دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے اور دعوت اسلامی کی نشرواشاعت کےلیے اسے حق طلبی اور حقائق کے پیاسوں تک پہنچانا چاہیے۔ تیرے سوال کے سلسلے میں اس نکتے پر توجہ کرنا چاہیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ذاتی طور پر کسی کام سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا. البتہ جب کوئی دوسرا اسے انجام دے لیتا ہے تو پھروہ بھی اچھے اور برے میں تشخیص کرسکتا ہے اورعقل وخرد کی قوت اور وجدان کے سرماۓ سے ان میں سے بہترین کا انتخاب کرسکتا ہے۔ مثلًا ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جوفن معماری اور تعمیر کے کام سے آگاہ نہ ہوں ، یہاں تک کہ وہ انیٹیں بھی صحیح طریقے پرایک دوسرے پرنہ رکھ سکیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک اچھی عمارت کی اعلٰی کیفیت میں اور ایک قبیح بے ڈھنگی اور ناموزوں عمارت میں تمیز کرسکیں۔ بہت سے افراد کو ہم جانتے ہیں جو خود تو شاعرنہیں ہیں لیکن بزرگ شعراء کے اشعار کے وزن میں تمیزکر سکتے ہیں اور انھیں بے وقعت تکلفًا کہنے والے شعراء کے اشعار سے جدا سکتے ہیں، کچھ لوگ خود توکشتی نہیں لڑتے لیکن کشتی لڑنے والوں کے درمیان فیصلہ اور ان میں سےاچھے کا انتخاب کر سکے ۔