قُلْ يَاعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ
Say, ‘[Allah declares:] “O My servants who have faith! Be wary of your Lord. For those who do good in this world there will be a good [reward], and Allah’s earth is vast. Indeed the patient will be paid in full their reward without any reckoning.” ’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:10
[Pooya/Ali Commentary 39:10] For taqwa (fear to displease Allah which is akin to love) see commentary of Baqarah: 2, 177, and 189. Sabiruna refers to those who remain steadfast in the face of relentless torture and persecution. Verse 177 of Baqarah also throws light on sabiruna. In all authentic books of history it has been clearly narrated that the Ahl ul Bayt, particularly Imam Husayn bin Ali, his relatives and friends, in Karbala and after Karbala, were subjected to torture and persecution, unparalleled in the history of mankind. "Allah's earth is spacious" refers to the political circumstances which may become unfavourable to the practice of the faith, and the true believer, who cannot safely exercise his religion in his native land, has to emigrate to a place of liberty and security. It is said that on the day of judgement prayers, fasting, pilgrimage and alms-giving etcetera will be weighed and recompensed proportionately, but the recompense of patience, fortitude and forbearance shall exceed the reward of all good deeds, even martyrdom. It will be said to those who patiently suffered hardships in the cause of Allah: "The martyrs suffered death only once, but you suffered persecution worse than death throughout your lives."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 39:10-21
The main view is maintenance of Theocracy by following Divine Lights without any external physical force but throughout reasonable approach – against political powers of divergent conflicting ideologies justifying claims of their government, on their own principles to maintain peace and welfare of the public (not all) – but a major part in itself is fundamentally untenable – some sticking to Panch Shilla, desirous of maintaining their holdings without tolerating foreign interference whereas God claims the entire Heaven and Earth as being His property. Validity of this claim fails to appeal to religious reason. Others offer money, men and materials to draw to themselves, for their personal protection out of present self-sufficiency. But their guarantee extends to this world only whereas this is simply a journey and ultimate destination shall be settled after death. Of what avail is this bait? The ultimate result of all this is emergence of One Great Power (of Divine Lights) under Divine Nomination to dominate the rest (whom some faiths claim “The Supreme God sometimes takes human form). This is association leading to Hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:10-16
مخلص بندوں کا طرزِحیات
تفسیر مخلص بندوں کا طرزِحیات گزشتہ آیات میں مغرورمشرکین اور فرمان خدا کے مطیع مومنین کا فرق نیز علماء وجہلاء کے درمیان موازنہ کیا گیا تھا۔ اب زیربحث آیات میں سچے اور مخلص بندوں کے طرز حیات میں سے سات دستوروں کا ذکر چند آیات میں سمودیا گیا ہے اور ان میں سے برایہ "قل" سے شروع ہوتی ہے۔ پہلے تقوی کا ذکر ہے ۔ پیغمبر اکرمؐ کوحکم دیا گیا ہے : کہہ دے: اے میرے مومن بندو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو۔ (قل ياعبادالذين آمنوااتقواربکم)۔ ؎1 ہاں تقوٰی یعنی خود کو گناہ سے بچانا اور حق تعالی کی بارگاہ میں مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس ہے۔ یہ خدا کے مومن بندوں کا پہلا کام ہے۔ تقوٰی جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے ایک ڈھال ہے اورانحراف سے باز رکھنے کا ایک عامل ہے۔ تقوی بازارِ قیامت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور پروردگار کی بارگاہ میں انسان کے مرتبہ ومقام کا معیار ہے۔ دوسرے حکم میں اس دنیامیں احسان اورنیکو کاری کا ذکر ہے، کیونکہ یہ دنیا دارِعمل ہے۔ اس کے بیلے احسان کا نتیجہ بیان کر لوگوں کو ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ بات واضع ہے کہ "ياعباد" کا خطاب خدا کی طرف سے ہے اور اگر اللہ پیغمبراکرمؐ سے کہتا ہے کہ یہ بات کرو اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف سے انھیں خطاب کرو۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس کی تشویق دلائی گئی ہے فرمایا گیا ہے: ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں کوئی نیکی کی ہے، بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔ (للذين احسنوا في هذه الدنيا حسنة)۔ ؎1 ہاں اس دنیا میں دوستوں اور بیگانوں کے ساتھ گفتارمیں، عمل میں ، طرز فکر نظرمیں نیکو کاری کا نتیجہ دونوں جہان میں مطلق طور پراجر کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ، کیونکہ نیکی کا نتیجہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حقیقت میں تقوٰی تو کی باز رکھنے والا عامل ہے اور احسان و نیکی حرکت پیداکرنے والا عامل ہے جو مجموعی طور سے ترک گناہ اور فرائض ومستحبات کی انجام دہی دونوں پر مشتمل ہے۔ تیسراحکم شرک و کفر اور گناہ سے آلودہ مراکزو مقامات سے "ہجرت" کرنے کی تشویق ہے فرمایا گیا ہے: خدا کی زمین وسیع ہے۔ (وارض الله واسعة)۔ درحقیقت یہ ان کمزور ارادے والے بہانہ جو افراد کے لیے جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم مشرکین کی حکومت کے تسلط کی وجہ سے اپنے خدا کی طرف سے عائد کردہ فرائض کی انجام دہی پرقادرنہیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے : خدا کی سرزمین مکہ میں ہی محدود نہیں ہے ، مکہ نہ ہوا تو مدینہ سہی، دنیاوسیع ہے، اپنے آپ کو حرکت دو اور شرک و کفر وخفقان والے مراکز سے نقل مکانی کر جاؤ کہ جو تمہیں آزادی اور انجام فرائض سے مانع ہیں۔ نقل مکانی کرجاؤ۔ مسئلہ ہجرت اہم ترین مسائل میں سے ہے، اس نے آغاز اسلام میں حکومت اسلامی کی کا میابی کی تکمیل کی ۔ اسی بنا پر تاریخ اسلام کی بنیاد اور سرآغاز بنا۔ دوسرے زمانوں میں بھی یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ یہ طریقہ ایک طرف تومومنین کو دباؤ اوگھٹن کے سامنے جھکنے اور گٹھنے ٹیکنے سے باز رکھتا ہے اور دوسری طرف سے عالم کے مختلف حصوں میں اسلام کے صدور کامل بھی ہے۔ قران مجید کہتا ہے؛ ات الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم قالوا فيم كنتم قالواكنا مستضعفين في الارض قالوا لم تكن أرض الله واسعة فتها جروا فيها فاولئك مأواهم جهنم وساءت مصيرًا (نساء ــــــ 97) ظالموں اور مشرکوں کی روح قبض کرتے وقت قبض روح کرنے والے فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کسی حالت میں تھے ؟ وہ جواب میں کہتے ہیں: مستضعف تھے اور اپنی سرزمین میں دباؤ اورسختی میں تھے لیکن فرشتے انھیں جواب دیتے ہیں: کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی ، تم نے ہجرت کیوں نہ اختیار کی ، ان کی جگہ جہنم ہے اور کتنی بری جگہ ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اکثرمفسرين نے " في هذه الدنيا " کو "احسنوا" سے متعلق قرار دیا ہے ۔ اس بنا پر "حسنة" مطلق ہوگئی اور ہرقسم کے اجر پرمشتمل ہوگی ۔ خواہ وہ اس جہان میں ہو یا دوسرے جہان میں ۔ نیز اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایسے مقام پر تنوین عظمت کی دلیل ہے ، اس اجر کی عظمت کی واضح ہو جاتی ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ چیز اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ ماحول کا دباؤ اور گھٹن ، ایسے مقام پر جہاں سے ہجرت کرناممکن ہو۔ بارگاه خداوندی میں عذر نہیں بن سکتا۔ (اسلام میں ہجرت کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد 4 سورة نساء کی آیہ 100 کے ذیل میں اور جلد 7 سوره انفال کی آیہ 72 کے ذیل میں بحث کی جا چکی ہے)۔ چونکہ ہجرت سے عام طور پر زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے چوتھا حکم صبر و استقامت کا اس صورت میں بیان کیا گیا ہے : صبرکرنے والے اور استقامت دکھانے والے اپنا اجر وثواب بے حساب حاصل کریں گے۔ (انمايو في الصابرون أجرهم بغير حساب)۔ ؎1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "يوفي" کی تعبيرجو"و فی" سے اور اعطاء کامل کے معنی میں ہے اور "بغیر حساب" کی تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ استقامت دکھانے والے صابر لوگ بارگاہ خداوندی سے برترین اور افضل ترین اجر پائیں گے اورکسی بھی عمل کی صبرواستقامت کے برابر اہمیت نہیں ہے۔ اس بات کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق نے رسول اللہؐ سے بیان فرمائی ہے۔ اذا نشرت الدواوين ونصبت الموازين ،لم ينصب لاهل البلاء ميزان ، ولم ينشر لهم ديوان ثم تلا هذه الآية : انما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب جس وقت اعمال نامے کھولے جائیں گے اور پروردگار کی عدالت کے ترازونصب ہوں گے تو ایسے اشخاص کے لیے جو مصائب اورسخت حوادث میں گرفتار رہے ہیں اور انھوں نے استقامت سے کام لیا ہے، نہ تو وزن کے لیے میزان نصب ہوگی اور نہ ہی ان کا اعمال نامہ کھولا جائے گا۔ اس کے بعد ہیغمبراکرمؐ نے اپنی گفتگو کے شاہد کے عنوان سے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی کہ خدا صابروں کو بے حساب اجر دے گا۔ ؎2 بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کی پہلی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں جعفر بن ابی طالب کی سرکردگی میں ایک بڑے گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ہم نےیہ بارہا بیان کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ شان نزول آیات کے مفایہم کو واضح کرتی ہیں لیکن انھیں محدود نہیں کرتیںصصص ۔ پانچویں حکم میں اخلاص کے بارے میں شرک کے ہرشائبہ سے پاک اور خالص توحید کے متعلق گفتگو ہے ،لیکن یہاں گفتگو کا لب و لہجہ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "بغيرحساب" ممکن ہے"يوفی" سے متعلق ہو یا "اجرهم "سے حال ہولیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔ ؎2 "تفسیرمجمع البیان" زیربحث آیات کے ذیل میں اوریہی معنی مختصر سے فرق کے ساتھ تفسیر قرطبی میں حسین بن علیؑ سے ان کے جز رسول اللہ سے نقل ہوا ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بدل جاتا ہے اور پیغمبرخداؐ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: میں تو اس بات پر مامور ہوں کہ خدا ہی کی عبادت کروں ، اس حال میں کہ میں اپنے دین کو ا س کے لیے خالص رکھوں (قل اني امرت ان اعبد الله مخلصًا له الدين )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے ، اور میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں ہہلامسلمان بنوں ( وامرت لأن اكون اول المسلمين)۔ یہاں پر چھٹا حکم یعنی اسلام اور فرمان خدا کے سامنے پوری طرح سرتسلیم خم کرنے میں سبقت کرنے کے بارے میں ہے۔ ساتواں اور آخری حکم قیامت کے دن خدا کی سزا سے متعلق ہے۔ یہ بھی اسی لب ولجہ میں بیان ہواہے ۔ فرمایا گیا ہے ، کہہ دے : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو قیامت کے عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ( قل اني اخاف ان عصيت ربی عذاب يوم عظيم )۔ یہ اس لیے ہے تاکہ حقیقت واضح ہو جائے کہ پیغمبر بھی بندگان خدا میں سے ہیں ، وہ بھی خالص طور سے عبادت کرنے پر مامور ہیں، وہ بھی خدا کے عذاب وسزا سے ڈرتے ہیں اور وہ فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مامورہیں ، بلکہ وہ دوسروں کی نسبت سنگین تر ذمہ داری رکھتے ہیں کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر رہیں ۔ وہ کبھی بھی مقام الوہیت کے مدعی اور عبادت کے راستے سے باہرقدم رکھنے کے دعویدار نہیں تھے بلکہ وہ تو اپنے مقام عبودیت پر فخرومباہات کرتے تھے اوراسی بنا پر وہ ہر چیز میں نمونہ اوراسوہ ہیں۔ وہ ان جہات میں اپنے لیے دوسروں سے امتیاز کے قائل نہیں ہیں اور یہ بات خود ان کی عظمت اور حقانیت کی ایک واضح و روشن نشانی ہے۔ جھوٹے مدعیوں کی طرح نہیں جو دوسروں کو تو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو مافوق البشر اور والاتر گوہر کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے۔ ایسے لوگ بعض اوقات اپنے پیروکاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انھیں ہرسال ان کے و وزن کے برابر سونا اور جواہرات دی۔ رسول تو درحقیقت یہ فرماتے ہیں: ۔ "میں ایسے سلاطین جابر کی طرح نہیں ہوں جو لوگوں کو تو کچھ ذمہ داریوں کی انجام دہی کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ لیکن خود اپنے آپ کو ذمہ داری سے مافوق سمجھتے ہیں"۔ اور یہ حقیقت میں ایک اہم تربیتی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مربی ورہبر کو اپنے مکتب کے احکام کی انجام دہی میں سب سےآگے قدم بڑھانا چاہیے ۔ وہ اپنے آئین کا سب سے پہلا مومن ، سب سے زیادہ کوشش کرنے والا اور سب سے زیادہ فداکاری کرنے والا ہوناچآہیے تاکہ لوگ اس کی صداقت پرایمان اس لائیں اوراس کو ہر چیز میں اپنے لیے راہنما اور اسوہ سمجھیں۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا مسلمان ہونا نہ صرف زمانے کے لحاظ سے ہے۔ بلکہ تمام جہات میں آپ پہلے مسلمان تھے کہ ایمان کے لحاظ سے، اخلاص وعمل اور فداکاری کے اعتبارسے اور جہاد واستقامت کی جہت سے ۔ پیغمبراکرم کی ساری زندگی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیر بحث آیات میں سات احکام (تقوی، احسان، ہجرت ، صبر، اخلاص، تسلیم اورخوف) کے ذکر کے بعد مسئلہ اخلاص چونکہ خصوصیت کے ساتھ شرک کے مختلف اسباب وعوامل کے مقابلے میں ایک خصوصیت رکھتا ہے ، لہذا تاکید کے لیے اسے دوبارہ بیان کیاگیا ہے اور اسی لب ولہجہ میں فرمایا گیا ہے کہہ دے: میں تو خدا ہی کی عبادت کرتا ہوں اس حال میں کہ اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھتا ہوں۔ (وقل الله اعبد مخلصًاله دینی) ۔ ؎1 لیکن تم اس کے علاوہ جس کی چاہوپرستش کرتے رہو (فاعبدوا ما شئتم من دونه) - اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کہہ دے ! نقصان اٹھانے والوں کا راستہ ہے۔ کیونکہ حقیقی زیاں کار وہی تو ہیں جو اپنی عمر اور وجود کا سرمایہ یہان تک کہ اپنے وابستگان کو بھی قیامت کے دن ہاتھ سے گنوابیٹھیں کے۔ ( قل أن الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة)۔ نہ تو انھوں نے اپنے وجود سے ہی کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور نہ ہی سرمایہ عمر سے کچھ حاصل کیا ہے ، نہ ان کا خاندان اور اولاد ان کی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ہی بارگاہ حق میں ان کی آبرو اور شفاعت کا سبب ہوۓ ہیں ۔ آگاہ رہو کہ واضح خسارہ یہی ہے (الا ذالك هو الخسران المبـــین )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں ان کے ایک اور واضح خسارے اور نقصان کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے : ان کے لیے ان سروں کے اوپر آگ کے سائبان ہیں اور ان کے پاؤں کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہیں ۔ (لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل)۔ اس طرح سے وہ ہر طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں ۔ اس سے بالاتراورکون ساخسران ہوگا اور اس سے بڑھ کر دردناک عذاب اور کیا ہوگا؟ " ظلل" جمع "ظله" (بروزن "قله") اس پردے کے معنی میں ہے جو اوپر کی طرف سے نصب ہو، اس بناپر اس کا فرش پر اطلاق جو ان کے پاؤں کے نیچے بچھا ہواہے ، ایک قسم کا مجازی اطلاق ہے اور اس لفظ کے مفہوم میں توسیع کے حوالے سے ہے ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ دوزخی جہنم کے کئی طبقات میں گرفتار ہوں گے اس لیے آگ کے پردے ان کے سروں کے اوپر بھی ہوں گے اور ان کے پاؤں کے نیچے بھی۔ اس لیے لفظ "ظلل" کا اطلاق نچلے پردوں پر بھی مجاز نہیں ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 " الله " کو مقدم ہونا جوکہ "اعبد" کا مفعول ہے یہاں "حصر" کے لیے ہے یعنی میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اس بناپر "مخلصًالہ دینی" جوکہ حال ہے ، اس معنی ایک نئی تاکید ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- سوره عنکبوت کی آیہ 55 اسی آیت کے مانند ہے۔ يوم يغشٰهم العذاب من فوقهم ومن تحت ارجلهم ويقول ذوقواما کنتم تعملون اس دن خدا کا عذاب انہیں سر کے اوپر سے بھی اور پاؤں کے نیچے سے بھی (ہرطرف) سے ڈھانپ لے گا اور ان سے کہے گا اس کا مزہ چکھو کہ جو تم کیا کرتے تھے۔ یہ درحقیقت ان کے دنیا کے حالات کا تجسم ہے کہ جہالت وکفر وظلم نے ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا تھا، اور ہر طرف سے انھیں ڈھانپ لیا تھا۔ اس کے بعد تاکید اورعبرت کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: یہی تو وہ چیز ہے جس سے خدا اپنے بندوں کوڈراتا ہے۔ جب ایسا ہے تو اے میرے بندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ (ذالك يخوف الله به عباده یا عباد فاتقون)۔ اس آیت میں "عباد" (بندے) کی تعبیر اوراس کی خدا کی طرف اضافت اور وہ بھی تکرار کے ساتھ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا عذاب کی کوئی تہدید کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لطف ورحمت کی بنا پر ہے تاکہ بندگان حق اس قسم کے برے انجام میں گرفتار ہوں۔ یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس آیت میں ہم "عباد" سے مراد خصومیت کے ساتھ مومنین لیں بلکہ یہ سب کے لیے ہے ، کیونکہ کسی شخص کو بھی اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے مامون نہیں سمجھنا چاہیے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:10-16
سورة زمر / آیه 10 - 16
(10) قُلْ يَا عِبَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَاَرْضُ اللّـٰهِ وَاسِعَةٌ ۗ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (11) قُلْ اِنِّـىٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّـٰهَ مُخْلِصًا لَّـهُ الدِّيْنَ (12) وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُـوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ (13) قُلْ اِنِّـىٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّىْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِـيْمٍ (14) قُلِ اللّـٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّـهٝ دِيْنِيْ (15) فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُـمْ مِّنْ دُوْنِهٖ ۗ قُلْ اِنَّ الْخَاسِرِيْنَ الَّـذِيْنَ خَسِرُوٓا اَنْفُسَهُـمْ وَاَهْلِيْهِـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ (16) لَـهُـمْ مِّنْ فَوْقِـهِـمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِـهِـمْ ظُلَلٌ ۚ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّـٰهُ بِهٖ عِبَادَهٝ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُوْنِ ترجمہ (10) کہہ دے ! اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے پروردگار (کی مخالفت) سے پر ہیرو ، جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کے لیے اچھا اجر ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے (جس وقت کفر کے سرغنوں کا دباؤ تم پر بڑھ جائے تو دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ) یقینًا صبرکرنے والے اپنا اجر بےحساب حاصل کریں گے۔ (11) کہہ دے : مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خداہی کی عبادت کروں ، اس حال میں کہ اپنے دین کو اسی کے لیے خالص رکھوں۔ (12) اور مجھے کچھ بھی حکم دیاگیا ہے کہ میں ہی سب سے پہلا (تسلیم کرنے والا) مسلمان نبوں۔ (13) کہہ دے: اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں قیامت کے عظیم دن کے عذاب ڈرتا ہوں۔ (14) کہہ دے: میں توصرف خدا کی عبادت کرتا ہوں . اس حال میں کہ میں اپنے دین کو اس کیلیے خالص رکھتا ہوں۔ (15) تم اس کے بجائے جس کی چاہو پرتش کرو۔ کہہ دے: قیامت کے دن واقعی خسارے میں وہی لوگ ہوں کے جنہوں نے خود اپنا اور اپنے وابستگان کا سرمایۂ تو گنوادیا ہے۔ آگاہ رہو کہ یہی واضح خسارہ ہے۔ (16) ان کے لیے ان کے سر کے اوپر کی طرف بھی آگ کا سائبان ہوگا اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی آگ کاسائبان ہوگا ۔ یہ وہ چیز ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:10-16
3- اهل سے مراد کون لوگ ہیں ؟
3- اهل سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ زیاں کارنہ صرف اپنی ہستی اور وجود کا سرمایا ہاتھ کھو بیٹھے ہیں بلکہ یہ تو اپنے "اہل" کے وجود کا سرمایہ بھی گنوا دیتے ہیں۔ ا بعض مفسرین نے تویہ کہا ہے کہ یہاں "اہل" سے مردانسان کے پیروکار اور وہ لوگ ہیں جو اس کے مکتب اور پروگراموں پرچلتے ہیں۔ بعض نے اس کی بہشتی بیویوں کے مفہوم میں تفسیر کی ہے یعنی مشرکین اور مجرمین انھیں کھوبیٹھیں گے۔ بعض اس سے دنیامیں گھروالے اور نزدیکی مراد لیتے ہیں اوریہی آخری معنی اس لفظ کے اصلی مفهوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے سب زیادہ مناسب نظرآتا ہے۔ کیونکہ بےایمان افراد آخرت میں انھیں کھو بیٹھیں گے اگر وہ مومن ہوئے تو ان سے جدا ہو جائیں گے اور خودانھیں کی طرح سے کافر ہوئے تو پھرنہ صرف یہ کہ ان سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ زیادہ دردناک عذاب کا بھی سبب بنیں گے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:10-16
2- " فاعبدواماشئتم " کا مفہوم
2- " فاعبدواماشئتم " کا مفہوم : اس کا معنی ہے جس کی چاہوتم عبادت کرو۔ اصطلاح کے مطابق یہ ایک ایسا امر ہے جو تہدید کے لیے ہے اور یہ ایسے مقام پر کہا جاتا ہے جہاں مجرم اور گنہ گارشخص پر پند نصحیت اثرنہ کرتی ہو تو آخری بات جو اس سے کہی جاتی ہے یہ ہے کہ جو چاہو کرو لیکن سزا اور عذاب کے منتظر رہو۔ یعنی تم اسی منزل پر پہنچ گئے ہے کہ اب ذمہ داری سوپنے جانے اور پندونصیت کے لائق نہیں رہے ہو اور دردناک عذاب کے سوا تمھارے لیے کوئی دوسرا انجام اور علاج نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:10-16
1- خُسران وزیاں کی حقیقت
چند اہم نکات 1- خُسران وزیاں کی حقیقت: خسران ــــــ جیسا کہ "راغب" " مفردات" میں کہتا ہے: اصل میں سرمایہ ہاتھ سے دے بیٹھنا اور اس کا کم ہوجانا ہے۔ کبھی تو اس کی انسان کی طرف نسبت دی جاتی ہے اورکہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے زیاں کیا اور ا س نے نقصان اٹھایا اورکبھی عمل کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور کہتے ہیں : اس کی تجارت میں نقصان ہوا ہے۔ دوسری طرف "خسران" بھی تو ظاہری سرمایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جیسے مال اور دنیاوی مقام ، اور معنوی سرمایوں کے بارے میں جیسے صحت وسلامتی ،عقل وایمان اور ثواب اور یہی وہ چیز ہے جس کا خدانے "خسران مبین" نام رکھا ہے اور جس جس خسران کو خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے وہ دوسرے ہی معنی کی طرف اشارہ ہے نہ کہ وہ جو دنیاوی سرمایوں اورعام تجارتوں سے مربوط ہے ۔ ؎1 قرآن نے حقیقت میں انسانوں کو ان تجارت پیشہ افراد تشبیہ دی ہے جو بہت زیادہ سرمایے کے ساتھ اس جہان کے تجارت خانہ میں قدم رکھتے ہیں، بعض کو تو بہت زیادہ نفع ہوتا ہے اور بعض کو سخت نقصان ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفردات ، مادہ "خسر" ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں تعبیرتشبیہ بیان ہوئی ہے اور درحقیقت اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ قیامت میں نجات حاصل کرنے کے لیے اس کی اور اس کی کسی کی انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس کا واحد راستہ موجود سرمایوں اور وسائل سے فائدہ اٹھانا ہے اور اس عظیم تجارت میں سعی و کوشش کرنا ہے کیونکہ وہاں تو "همه چیز رابه بهامی دهند، به بهانه نمی دهنده یعنی ہر چیز قیمت کے ساتھ دیتے ہیں بہانے سے نہیں دیتے۔ لیکن اس نے مشرکین اور گنہگاروں نے زیاں و نقصان کو "خسران مبین" کے ساتھ توصیف کیوں کی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً انھوں نے افضل ترین سرمایہ یعنی عمر ،عقل وخردواحسانات اور زندگانی کا سرمایہ ہاتھ سے گنوادیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں کوئی چیزحاصل نہیں کی۔ ثانیًا اگر انہوں نے صرف سرمایہ کی کھویا ہوتا اور کوئی عذاب وسزانہ خریدی ہوتی تو پھر بھی کوئی بات تھی - بدبختی کی بات تویہ کہ انھوں نے یہ عظیم سرمائے گنوا کر سخت ترین اور دردناک ترین عذاب اپنے لیے فراہم کرلیا ہے۔ ثالثًا یہ ایسا نقصان ہے جو قابل تلافی نہیں ہے اور یہ بات سب سے زیادہ بڑھ کر درد ناک ہے۔ ہاں! یہ ہے "خسران مبین"۔