وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ
Has there not come to you the account of the contenders, when they scaled the wall into the sanctuary?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 38:21
[Pooya/Ali Commentary 38:21] Dawud's brother Uriya obtained permission from the guardians of a girl, whom he loved, to marry her, but at the last moment the guardians broke their word. Then Dawud sent his own proposal and her guardians, impressed by Dawud's position as king, gave her hand to him in marriage. Dawud already had 99 wives. She became his hundredth wife. Uriya was disappointed. He thought that Dawud should have used his influence to convince the girl's guardians in his favour. What Dawud did was not a sin, but in the opinion of Uriya, Dawud, as a brother and also as the king, could have given preference to him. Allah sent two angels in human form to Dawud. They were not allowed to enter his private chamber where he used to retire for his devotional prayers. They climbed over a wall, entered his private chamber and said that they had come to seek redress at his hands. One of them said: "This my brother has a flock of 99 sheep, and I had but one; yet he wants me to give up my one sheep to his keeping. He talks like one intending mischief." Without giving a chance to the other who also came to him as a contender Dawud decreed his demand unjust. The two angels disappeared as mysteriously as they had come. It was then realised by Dawud that it was a trial. In self-complacence he passed the judgement before listening to the defendant. As soon as it became evident to him, he turned to Allah in repentance. According to Imam Ali who so casts aspersion on Dawud on account of his marrying the girl betrothed to his brother must be condemned because every prophet of Allah is free from emotional weaknesses and sinful desires; particularly if the accuser is a Muslim the doubt amounts to blasphemy. The Biblical passages about Dawud are mere chroniques scandaleuses-narrative of scandalous crimes of the grossest character. The Quranic idea of Dawud is that of a just and upright prophet, endowed with all the virtues, in whom even the least thought of self-elation has to be washed off by repentance.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
اب هم سوال کرتے هیں
اب هم سوال کرتے هیں:۔ 1- وہ نبی کہ گزشتہ آیات میں اللہ نے جس کے دس عظیم اوصاف بیان کیے ہیں اور پیغمبر اسلام کو جس کی سرگزشت سے ہدایت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، کیاممکن ہے کہ ان نعمتوں کے ہزارویں حصے کی بھی اس کی طرف نسبت دی جا سکے؟ 2- قرآن مجید بعد کی آیات میں کہتا ہے : یاداؤد انا جعلناك خليفة في الارض اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں اپناخلیفہ اور نمائندہ بنایا کیایہ آیت مذکورہ خرافات سے ہم آہنگ ہے؟ 3- اگر کوئی عام شخص بو، خدا کا نبی نہ ہو اور وہ اس قسم کے جرم کا مرتکب ہو، اپنے وفادار پاک طینت باایمان افسر کی بیوی کو ایسے گھٹیاطریقے سے اس کے ہاتھوں سے کھسکالے تو لوگ اس کے بارے میں کیافیصلہ کریں گے اور اس کی سزا کیا ہو گی؟ یہاں تک کہ اگر یہ کام افسق الفاسقین سے سرزد ہو تب بھی جائے تعجب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تورات نے حضرت داؤد کو پیغمبر قرار نہیں دیا تاہم ان کا ذکر کی بلند مرتبه عادل حکمران کے طور پر کیا ہے ، کہ جو بنی اسرائیل کے عظیم عبادت خانے کا مؤسس تھا۔ 4- یہ بات قابل توجہ ہے کہ تورات کی مشہور کتب میں سے ایک "مزامیرداؤد" ہے جس میں حضرت داؤدکی مناجات میں ہیں۔ کیا ایسے شخص کی مناجات اور باتیں مکتب آسمانی کا حصہ قرار دی جاسکتی ہیں ؟ 5- جوشخص تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ موجودہ تحریف شده تورات کی داستانیں خرافات کا ایسا مجموعہ ہیں جو مکتب انبیاء کے دشمنوں یا بہت ہی سے شعور اور جاہل افراد کی ساختہ و پرداختہ ہیں - لہذا انھیں کس طرح بحث کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟ جی ہاں! قرآن کی یہ عظمت ہے کہ وہ ایسی خرافات سے بالکل پاک ہے۔ 3۔ اسلامی روایات اورقصۂ داؤدؑ : اسلامی روایات میں تورات کی بیان کردہ قبیح اور بے ہودہ داستان کی نہایت سختی سے تکذیب کی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک روایت امیرالمومنین علی عیلہ اسلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا :۔ الااوتی برجل يزعم داؤد تزوج امرئة اوريا الا جلدته حدين حدًا للنبوة وحدًا للإسلام اگرکسی ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے کہ جو یہ کہے کہ داؤد نے اوریاہ کی بیوی سے شادی کی ۔ تو میں اس پر دو حدیں جاری کروں گا ایک حد نبوت کے لیے اور دوسری اسلام کے لیے۔ ؎1 کیونکہ اس میں ایک طرف تو ایک مومن کی طرف ایک غیر شرعی امرکی نسبت ہے اور دوسری طرف مقام نبوت کی ہتک حرمت ہے ۔ لہذا ایسی بات کرنے والے پر دومرتبہ حدِ قزف جاری ہونی چاہیے اور اسے دو مرتبہ اسی کوڑے لگائے جانے چاہییں۔ امام بزرگوار حضرت علیؑ ہی سے یہی مفہوم ایک اور انداز سے منقول ہے ۔ آپؑ فرماتے ہیں۔ من حدثکم یحديث داود علی مایرویہ القصاص جلد تد مائة ستين جو شخص تم سے قصہ داؤد اس طرح بیان کرے کہ جیسے افسانہ گو کہتے ہیں تو میں اسے ایک سوساٹھ کوڑے لگاوں گا۔ ؎2 ایک اور حدیث شیخ صدوق نے امام جعفرصادق علیه السلام سے امالی میں درج کی ہے ، آپؑ فرماتے ہیں :۔ أن رضا الناس لا يملك، وألسنتهم لا تضبط ، الم ينسبوا داود إلى أنه تبع الطير حتى نظر الى امرئة اوريا فهواها، و ان قدم زوجها امام التابوت حتى قتل تزوج بها سب لوگوں کو راضی نہیں کیاجاسکتا اور سب کی زبانیں بند کی جاسکتی ہیں ۔ کیا انھوں نے یہ (انتہائی قبیح) تمت داؤدؑ پر نہیں باندھی کہ وہ ایک پرندے کے پیچھے اپنے مل کی چھت پر گئے تو ان کی نظر اوریاہ کی بیوی پڑی اور وہ اس پر فریفتہ ہو گئے ۔ پھر اس کے شوہر کو میدان جنگ میں تابوت کے آگے کے بیچ دیا (جس میں انبیاء بنی اسرائیل کی یادگاریں رکھی جاتی تھیں اور برکت کے طور پر اسے فوج کے آگے رکھا جاتا تھا) ۔ یہاں تک کہ وہ مارا گیا اور پھرانھوں نے اس کی بیوی سے شادی کرلی (جب اللہ کاعظیم نبی لوگوں کی زبان سے مامون رہا ہو تو دوسروں کو ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے)۔ ؎3 ایک حدیث عیون الاخبارمیں امام علی بن موسی الرضا علیهم السلام سے منقول ہے ۔ آپ مختلف مذاہب کے ارباب مذہب سے ا-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں ۔ ؎2 تفسير فخرالدین رازی ، زیربحث آیات کے ذیل ہیں ؎3 نورالثقلین جلد 4 ص 446- بجواله امام صدوق ۔ ز-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- عصمت انبیاء کے بارے میں بات کررہے تھے ۔ اس دوران میں آپ نے حاضرین میں سے علی بن جہم سے فرمایا: "تم داود کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: کہتے ہیں کہ داؤ دا پنی محراب میں مشغول عبادت ھتے کہ شیطان ایک خوبصورت پرندے کی صورت میں ان کے سامنے آیا۔ داؤد نے نماز توڑ دی اور اس پرندے کے پیچھے ہولیے .......... پھر انھوں نے اوریاہ کی بیوی کوغسل کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر عاشق ہو گئے ۔ پھر انھوں نے اس کے شوہر کو تابوت کے آگے آگے میدان جنگ میں بھجوا دیا، وہ مارا گیا تو داؤدؑ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس نے یہ افسانہ بیان کیا تو امام علی بن موسی الرضابہت ناراض ہوئے، آپ کو بہت دکھ ہوا ، آپ نے اپنا ہاتھپیشانی پر مارا اور فرمایا : انا لله وانا اليه راجعون لقد نسبتم نبيًا من انبياء الله الى التهاون بصلاته حتى خرج في اثر الطير، ثم بالفاحشة ثم بالقتل انا لله و انا الیه راجعون ، تم نے انبیاءالٰہی میں سے ایک نبی کی طرف اپنی نماز میں ستی کرنے اور اسے معمولی سمجھنے کی نسبت دی۔ یہاں تک کہ ( تمھاری نسبت کے مطابق وہ بچوں کی طرح )پرندے کے پیچھے گیا۔ پھرتم نے اس کی طرف فحشاء اور برائی کی نسبت دی اور اس کے بعد ایک بے گناہ انسان کے قتل سے متہم کیا۔ علی بن جہم نے پوچها ؛ پھر داؤد کی لغزش کیا تھی؟ کہ جس پرانھوں نے استغفار کی اور قران میں سب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ امام نے مسئلہ قضاوت میں حضرت داؤد کی جلد بازی کا ذکر کیا اور بعد والی آیت کو بطورشاہدپیش فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہے: یا داؤد اناجعلنا خليفة في الارض اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے امام فرماتے : حضرت داؤد کے زمانے میں جن عورتوں کے شوہر مرجاتے یاقتل ہوجاتے وہ پھر کبھی شادی نہ کرتی تھیں (اور یہ امربہت سی برائیوں اور قباحتوں کی بنیاد تھا) حضرت داودؑ وہ پہلے شخص تھے جن پراللہ نے اس کام کو مباح قرار دیا( تاکہ یہ رسم ختم ہوجائے اور بیوہ عورتیں اس مصیبت سے نجات پائیں) لہذاجب اوریاہ( اتفاق سے ایک جنگ میں مارے گئے تو داؤد نے ان کی بیوی سے شادی کر لی ، اور امرا س زمانے کے لوگوں پر بہت گراں گزرا (اور بعد ازاں اس پر انھوں نے افسانے گھڑ لیے) ۔ ؎1 ا------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلين ، جلد 4 ص 445 بحوالہ عیون الاخبار -------------------------------------------------------------------- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ اوریاہ کی ایک سادہ سی حقیقت پر بنیاد تھی۔ حضرت داؤد نے ایک کام الٰہی ذمہ داری کے طور پر انجام دیا تھا لیکن دانادشمنوں، نادان دوستوں اورافسانہ طرازوں نے کہ جنھیں عجیب و غریب باتیں بنانے اور جھوٹ گھڑنے کی عادت تھی اس واقعے پر خوب حاشیہ آرائی کی اور ایسی ایسی باتیں بنائیں کہ انسان کو وحشت ہوتی ہے۔ کسی نے کہا : اس شادی کی کچھ نہ کچھ بنیاد تو ضرور ہے۔ دوسرے نے کہا : ضروری بات ہے کہ اوریا کا گھر داؤد کی ہمسائیگی میں ہوگا۔ آخر کسی نے داؤد کی نظریں اوریا کی بیوی پر ڈلوائیں ، پرندے کا قصه گھڑا۔ آخر کار اس عظیم پیغمبر کو طرح طرح کے شرمناک گناہان کبیرہ سے متہم کیا گیا۔ پھر بے وقوف جاہلوں نے ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچایا اور اگر اس افسانے کا ذکر مشہور کتب میں نہ ہوتا تو بھی اسے نقل کرتاغلط سمجھتے۔ البتہ حضرت امام رضا علیه اسلام کی مذکورہ روایت امیرالمومنین علی علیہ اسلام کی روایت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ حضرت علیؑ سے منقول حدیث میں اس مشهور جھوٹی داستان کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں (نعوذ باللہ) اس عظیم نی کی طرف زنا وغیرہ کی نسبت دی گئی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
1- داؤد کو پیش آمده واقع کی حقیقت
چند اہم نکات 1- داؤد کو پیش آمده واقع کی حقیقت : قرآن مجید سے جو کچھ معلوم ہوتا وہ اس سے زیادہ نہیں کچھ افرا دادخواہی کے لیے حضرت داؤدؑ کی محراب کے اوپر چڑھ کر آپ کی خدمت میں پہنچے۔ پہلے تو آپ گھبرا گئے ۔ پھر شکایت کرنے والے کی بات سنی ۔ ان میں سے ایک کے پاس ننانوے بھیڑیں تھیں اور دوسرے کے پاس صرف ایک بھیڑ تھی ۔ ننانوے بھیڑوں والا اپنے بھائی پر زور دے رہا تھا کہ وہ ای کبھی بھی اسے دے دے ۔ آپ نے شکایت کرنے والے کو سچا قرار دیا اور دوسرے کے اصرار کوظلم قرار دیا ۔ پھر اپنے کام پرپیشمان ہوئے اوراللہ سے معانی کا تقاضا کیا خدانے آپ کو بخش دیا۔ بیاں دوتعبیر زیادہ غورطلب ہیں۔ ایک آزمائش اور دوسری استغفار اور توبہ ۔ اس سلسلے میں قرآن نے کسی واضح امر کی نشاندہی نہیں کی۔ لیکن زیر نظر آیات اور ان آیات کی تفسیر کے سلسلے میں منقول روایات میں موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤدؑ قضاوت میں بہت زیادہ علم و مہارت رکھتے تھے اور اللہ تعالی چاہتا تھا کہ آپ کو آزمائے لہذا آپ کو ایسے غیرمعمولی حالات پیش آئے (مثلاً أن آدمیوں کا عام راستے سے ہٹ کر محراب کے اوپر سے آپ کے پاس آپہنچنا) آپ نے جلد بازی کی اور اس سے پہلے کہ فریق ثانی سے وضاحت طلب کرتے اپنے فیصلہ سنا دیا اگر فیصلہ عادلا نہ تھا۔ اگر چہ آپ بہت جلد اپنی اس لغزش کی طرف متوجہ ہو گئے اور وقت گزرنے سے پہلے اس کی تلافی کی۔ لیکن بہرحال جو کام آپ سے سرزد ہوا تھا وہ نبوت کے مقام بلند کے شایان نہ تھا ۔ اس لیے آپ نے اس ترک اولٰی پراستغفارکی اوراللہ نے بھی انھیں عفودبخشش سے نوازا۔ مذکور تفسیر کی شاہد آیت ہے جو زیر بحٹ آیات کے فورًا بعد آئی ہے۔ اس میں حضرت داوڑ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے زمین پر اپناخلیفہ قرار دیاہے ، لہذا لوگوں کے درمیان حق و عدالت کے مطابق فیصلہ کر اور ہوا و ہوس کی پیروی نہ کر۔ اس سے واضح ہوتا ہے حضرت داؤد کی لغزش فیصلے کے طریقے میں تھی۔ لہذا مذکورہ بالا آیات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس عظیم نبی کی شان اور مقام کے خلاف ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
سوره ص / آیه 21 - 25
(21) وَهَلْ اَتَاكَ نَبَاُ الْخَصْمِۚ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ (22) اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوُوْدَ فَفَزِعَ مِنْـهُـمْ ۖ قَالُوْا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَـآ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ (23) اِنَّ هٰذَآ اَخِيْۚ لَـهٝ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّّلِـىَ نَعْجَةٌ وَّّاحِدَةٌ ۚ فَقَالَ اَكْفِلْنِيْـهَا وَعَزَّنِىْ فِى الْخِطَابِ (24) قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ ۖ وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ الْخُلَطَـآءِ لَيَبْغِىْ بَعْضُهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيْلٌ مَّا هُـمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُوْدُ اَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٝ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ (25) فَغَفَرْنَا لَـهٝ ذٰلِكَ ۖ وَاِنَّ لَـهٝ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ ترجمہ (21) کیا تجھ تک شکایت کرنے والوں کی داستان پہنچی ہے کہ جو(داؤد کے) محراب سے اوپر گئے تھے؟ (22) جس وقت (بغیرکسی اطلاع کے ) وہ اس کے پاس آپہنچے اوروہ انھیں دیکھ کر گھبرا گیا تو انھوں نے کہا: ڈر نہیں ہم دونوں شکایت لے کر آئے ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ اب تو ہمارے درمیان حق فیصلہ کر دے اور کوئی زیادتی نہ ہونے دے اورراہ راست کی طرف ہماری ہدایت کر۔ (23) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس ایک سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس کا اصرار ہے کہ وہ بھی مجھے دے ڈال اورگفتگو میں مجھے دباتاہے۔ (24) (داؤد نے) کہا : تیری ایک بھیڑکا تقاضا کرکےاپنی بھیڑوں میں اضافہ کرنے کےلیےاس نےمسلمًا تجھ پر ظلم کیا ہے اور بہت سے دوست ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں سوائے ان کے کہ جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں مگر ان کی تعداد وتھوڑی ہے۔ داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اسے(اس واقعے)سے آزمایا ہے۔ پس اس نے اپنے رب کے بخشش چاہی اور سجدے میں گر پڑا اور اس نے توبہ کی ۔ (25) ہم نے اس کا یہ کام بخش دیا اور وہ ہمارے ہاں مقام بلند اور نیک انجام کا حامل ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
مفسرین کی توجیہات
مفسرین کی توجیہات بعض مفسران نے قصہ داودسے متعلق کچھ اور توجیہات کی ہیں ۔ وہ توجیهات اگرچہ آیات کے ظاہری مفہوم سے ہم آنگ نہیں ہیں تا تکمیل بحث کے لیے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرنا ہم غیر مناسب نہیں سمجھتے۔ 1- ایک یہ ہے حضرت داؤد نے اپنے اوقات کو ایک پروگرام کے تحت منظم کیا ہوا تھا اورمخصوص اوقات کے علاوہ آنے والوں سے نہیں ملتے تھے۔ ایک روز دو افراد کہ جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے وہ خراب کی دیوار سے اوپر چڑھ آئے ۔ جبکہ آپ محراب میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے۔ جب انھوں نے آپ کے گرد محافظین کو دکھاتوڈر گئے لہذا انھوں نے فورا ایک جھوٹ گھڑا- کہنے لگے ہم دونوں ایک شکایت لے کر آپ کے پاس فیصلے کے لیے آئے ہیں اور پھروه ماجرا بیان کیا جو قرآن میں آیا ہے۔ حضرت داؤد نے ان کے درمیان فیصلہ تو کر دیا لیکن چونکہ جانتے تھے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آئے لہذاغصے ہوئے اور ان سے انتقام لینے کا ارادہ کیا لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ آپ اپنے اس ارادے پرپیشمان ہوئے اور استغفار کی۔/ ؎1 2- المیزان کے عظیم مفسر نے اس سلسلے میں جو بات کہی ہے وہ بنیادی طور پر اس سے ہم آہنگ ہے جو دیگر عظیم مفسرین اسلام نے داؤد کی تفسیر میں کہی ہے۔ ہم بھی سطور بالا میں اسے بیان کر آئے ہیں۔ لیکن صاحب المیزان کا بیان چند ایک جہات سے مختلف ہے ۔ لہذا ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ حضرت داؤد کے پاس شکایت کے لیے آنے والے دو فرشتے تھے۔ ا-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "فخررازی"اور "روح المعانی" کی تفسیر ہیں یہ بحث ایک ہی مضمون کے تحت ذکر کی گئی ہے ۔ اور " مراغی" نے بھی اپنی تفسیر میں ایسی بات کو قبول تسیلم کیا ہے۔ ا------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ جنھیں اللہ نے داؤد کی آزمائش کی غرض سے بھیجا تھا لیکن داستان کی خصوصیات مثلاًمحراب سے اوپر جانا اور خلاف معمول طریقے سے داؤد کے پاس جانا اور ان کا گھبرا جانا، نیز یہ کہ واقعہ ایک الٰہی آزمائش تھا یہ سب چیزیں نشاندہی کرتی ہیں کہ فرشتوں کے تمثل کی صورت میں دو آدمیوں کے لباس میں رونما ہوا تھا (تمثل سے مراد یہ ہے کہ خارجی وجودمیں کوئی بھی نہیں آیا تھا بلکہ حضرت داؤد کی قوت ادراک میں یوں ہوا کہ دوفرشتے تھے جو انسانوں کی صورت میں آ ئے تھے)۔ لہذا اس دعوی میں انھوں نے وہ حکم صادر کیا وہ ظرف تمثل میں تھا جیسے انھوں نے خواب دیکھا ہو تو جیسے عالم خواب میں رونما ہونے والے واقعات میں انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی، ظرف تمثل میں بھی اس پرکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ، ذمہ داری کا تعلق تو عالم شہود سے بے یعنی عالم ماد ہ سے۔ اور یہ کوئی خطاء حضرت داؤد سے سرزد ہوئی بھی ہے تو اس کا تعلق اسی ظرف تمثل سے ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو مقام عصمت کے منافی ہو، بہشت میں آدم کی خطاء کی طرح ،زمین پراترنے سے پہلے کہ جو تکلیف شرعی اور ذمہ داری کا مقام ہے، اس لحاظ سے حضرت داؤد نے جواستغفار کی وہ ایک حقیقی گناہ سے استغفارنہ تھی۔ ؎1 لیکن آیات کاظاہری مفهوم یقینًا یہ ہے کہ شکایت اور دعوی دائر کرنے والے افراد خارجی وجود رکھتے ہیں، تاہم مذکورہ فیصلہ گناہ نہ تھا کیونکہ کہ یہ فیصلہ شکایت کنندہ کی گفتگو سن کرعلم ویقین حاصل کرنے کے بعد تھا۔ اگرچہ قضاوت نے مستجب آداب کا تقاضا تھا کہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیا جاتا اور ان کی استغفار بھی اسی ترک اولٰی پرتھی۔ بہرحال اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس واقعے کو ہم ظرف تمثل سے متعلق سمجھیں یا اسے بعض کے بقول خدا تعالی کی طرف سے حضرت داود کو متنبہ کرنے کے لیے ایک آزمایش قرار دیں، ، بہتر یہی ہے کہ آیات کے ظاہری مفہوم کی حفاظت کی جائے اور جیسا کہ کہاگیا ہے ایسی تفسیر کی جائے کہ جس سے آیت کے الفاظ کا ظہوربھی بھی محفوظ رہتا ہو اور انبیاء کے مقام عصمت پر بھی کوئی حرف نظر آئے ۔ ا------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 المیزان، جلد 17 ص 203 ا-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
2- موجودہ تورات کی خرافاتی داستان
2- موجودہ تورات کی خرافاتی داستان : اب ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تاک دیکھیں کہ وہ اس سلسلے میں کیاکہتی ہے: نیز بعض ناآگاہ اور بے خبر افراد نے جوتفسیری کی ہیں ، ان کی اصل خبری تلاش کرتے ہیں ۔ تورات کی دوسری کتاب اشموئیل کی فصل 11 میں جملہ 2 تا 27 میں یوں بیان کیا گیاہے :۔ ہوا یہ کہ وقت غروب داؤو اپنے بستر سے اٹھا اور بادشاہ کے گھر کی چھت پر گردش کی ۔ پشت بام سے ایک عورت کو دیکھا کر جوغسل کر رہی ہے ۔ وہ عورت بہت ہی خوبصورت اور جاذب نظر تھی ۔ داؤد نے کسی کو بھیجا اور اس عورت کے بارے میں استفسار کیا۔ کسی نے کہا کہ کیا وہ اوریاہ ؎1 حتی کی بیوی ۔-------------------------------------------------------------------- ؎1 "اوریاہ" حضرت داود کی فوج کے اہم افسروں سے تھے۔اور"حتی" " حت بن کنعان" کی طرف نسبت ہے کہ جس کے قبیلے کو بنی حت کہتے ہیں۔ ۔-------------------------------------------------------------------- بت شبع نبت الیعام ؎1 تو نہیں۔ داؤد نے ایلچی بھیچ کر اسے منگوالیا ۔ وہ اس کے پاس آئی ۔ داؤ د اس کے ساتھ سویا۔ وہ اس کی نجاست سے پاک ہونے کے بعد اپنے گھر واپس چلی گئی ۔ وہ عورت حاملہ ہوگئی۔ اس نے کس کو بھیچ کر داؤد کو خبرکی کہ میں حاملہ ہوں ۔ داؤدنے یوآب ؎2 نکو کہلا بھیجا کہ اوریاہ حتی کو میرے پاس بھیج دے۔یوآب نے اوریاحتی کو اس کے پاس بھیجا ۔ اوریاہ حتی اس کے پاس آیا ۔ داؤد نے یوآب کی سلامتی اورجنگ میں اچھا وقت گزارنے کے بارے میں پوچھا ۔ پھر داؤدنے اور یاہ سے کہا : اپنے گھرجا اور اپنے پاؤں دھو ۔ اوریاہ بادشاہ کے گھر سے باہر آیا ۔ اس کے پیچھے بادشاہ کی طرف سے کچھ کھانا باہرگیالیکن اوریاہ بادشاہ کے گھر کے آگے اپنے آقا کے سارے بندوں کے ہمراہ سو گیا اور اپنے گھرمیں نہ گیا۔ جب واؤدؑ کو خبر دی گئی کہ اوریاہ اپنے گھر میں نہیں گیا تو داؤدنے اوریاہ سے کہا : کیا تو سفرسے نہیں لوٹا؟ اپنے گھرمیں کیوں نہیں گیا؟ اوریاہ نے داؤدؑ سے عرض کی : صندوق ، اسرائیل اور یہود سائبانوں میں قیام پزیر ہیں میرآقایوآب اور میرے آقا کے غلام صحرا میں خیمہ نشین ہیں ، کیا ہوسکتا ہے کہ میں کھانے پینے اور اپنی بیوی کے ساتھ سونے کے لیے اپنے گھر جاؤں؟ آپ کی جان کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا ........... ہوا یہ کہ داؤدؑ نے صبح ایک خط یوآب کو لکھا اور اوریاہ کے ہاتھ بھیجا ۔خط میں لکھاتھا کہ اوریاہ کوشدید جنگ میں دھکیل دو اور خود اس کے پیچھے سے ہٹ جاؤ تاکہ یہ مارا جائے اور مرجائے۔ اسی طرح ہوا۔ یوآب نے شہر کا جائزہ لینے کے بعد اوریاہ کو ایسی جگہ پر رکھا جہاں اسے علم تھا کہ بہادروں کی ضرورت ہے۔ شہر کے مردوں نے باہرآکر یوآب سے جنگ کی ۔ داؤد کے غلاموں کی قوم میں سے بعض گرے۔ اوریاہ حتی بھی مر گیاــــــ اوریاہ کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کا سنا توخصوصیت سے اپنے شوہر کا سوگ منایا ۔ جب یہ سوگ ختم ہوا تو داؤدنے اسے بلوا بھیجا اور اسے اپنے گھر لایا کہ وہ اس کی بیوی ہوگئی ...... لیکن یہ جو کام داؤد نے کیا تھا خدا کو پسند نہیں آیا۔ ؎ ------------------------------------------------------ل------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "بت شبع" اسی عورت کا نام ہے (تورات کے بقول) کہ حضرت داؤد نے چھت تے اسے برہنہ دیکھا اور اس کے عشق کی آگ آپ کے دل میں بھڑک اٹھی۔ یہ عورت ایک صاحب متصب عبرانی شخص "الیعام کی بیٹی تھی ۔ ؎2 " یوآب " حضرت داؤد کی فوج کا کمانڈر تھا۔ ؎3 کتاب اشموئیل ، فصل 11 جملہ 2 تا 27 ک--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس داستان کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک روز داؤد اپنے محل کی چھت پر جاتے ہیں۔ ساتھ والے گھر میں ان کی نظر پڑتی ہے تو انھیں ایک عورت غسل کرتے ہوئے برہنہ دکھائی دیتی ہے ۔ وہ اس کے عشق میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ پھر جیسے بن پڑتا ہے اسے اپنے گھر لے آتے ہیں اور وہ واؤد سے حاملہ ہوجاتی ہے۔ اس عورت کا شوہرلشکر داؤد کا ایک اہم افسر تھا۔ وہ ایک پاک طینت اور باصفا شخص تھا۔ داود (نعوذباللہ ایک بزدلانہ سازش کے ذریعے اسے ایک خطرناک جنگ میں بھجواکرقتل کروا دیتے ہیں اور پھر اس کی بیوی کو قانونی طور پر اپنے نکاح میں لے آتے ہیں ۔ اب آپ داستان کا باقی حصہ موجودہ تورات کی زبانی سنیں۔ اسی کتاب دوم اشموئیل کی 12 ویں فصل میں ہے۔ خداوند نے ناثان ؎1 کو داؤد کے پاس بھیجا اور کہا: ایک شهرمیں دو آدمی رہتے تھے۔ ایک امیر تھا دوسرا غریب۔ امیر آدمی کے پاس بہت کی بھیڑیں اور غائیں تھیں۔ غریب کے پاس بھیڑ کے ایک بچے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ا یک روز ایک مسافر امیر آدمی کے ہاں آیا۔ اس نے اپنی بھیڑوں میں سے مہمان کے لیے غذا تیار کرنے میں پس و پیش کیا۔ غریب کا بھیڑ کابچہ لے کر اسے زبح کر دیا ۔ اب کیا ہونا تھا، داؤد انتہائی غصے ہوئے ۔ ناثان سے کہنے لگے : بخدا جسں نے یہ کام کیا وہ قتل کامستحق ہے۔ اس ایک کی جگہ پر چار بھیڑیں دینی چا ہیں۔ لیکن ناثان نے داؤرسے کہا "وہ شخص تو ہے "۔ داؤد اپنے غلط کام کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کی لیکن اس کےباوجودان پر بھاری مصیبتیں آئیں۔ اس مقام پر تورات میں ایسی عبارت ہے جس کے ذکر سے قلم کو شرم آتی ہے لہذا ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں تورات کی داستان کے اس حصے میں بعض نکات خصوصیت کے ساتھ قابل غور ہیں ، مثلًا: 1- حضرت داؤد کے پاس کوئی شخص قضاوت کے لیے نہیں آیا، بلکہ ان کے ایک مشیرجو نبی تھے انھوں نے نصیحت کے طور پر ان سے ایک داستان بیان کی ۔ اس میں دو بھائیوں کا واقعہ اور ان میں سے ایک کا دوسرے سے تقاضا کرنامذکور نہیں ہے بلکہ ایک امیراورایک غریب آدمی کا ذکر ہے جن میں سے ایک کے پاس بہت سی بھڑیں اور گائیں تھیں جبکہ دوسرے کے پاس بھیڑ کا صرف ایک بچہ تھالیکن امیر آدمی نے اپنے مہمان کے لیے غریب آدمی کا بھیڑ کا بچہ ذبح کردیا۔ اس واقعے میں محراب کی دیوار سے اوپر جانے کا ذکر ہے نہ آپ کے وحشت زدہ ہو جانے کی بات ہے ، نہ دوبھائیوں کے دورے کے دعوے کا معاملہ ہے اور ہی توبہ و بخشش کی درخواست کا بیان ہے۔ 2- داؤد نے اس ظالم امیر شخص کو قتل کا مستحق سمجھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بھیڑ کے لیے آخرقتل کیوں؟ ل-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بنی اسرائیل کےایک نبی اور حضرت داؤد کے مشیر ت------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 3- ساتھ ہی انھوں نے اس حکم کے خلاف حکم صادر کیا اور کہا کہ ایک بھیڑ کے بد لے اسے چار بھیڑیں دینی چاہیں۔ آخری بناء پر؟ 4- داؤد نے اوریاہ کی بیوی کے بارے میں خیانت سے متعلق اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔ 5- خدانے انھیں معاف کر دیا (اتنی آسانی سے کس بناء پر؟ )۔ 6- اللہ نے داؤد کے بارے میں عجیب وغریب سزا کا فیصلہ کیا کہ جسے نقل نہ کرنا بہتر۔ 7- یہی عورت سے "روشن ماضی " کے باوجودسلیمان کی ماں بنی۔ ان داستانوں کا ذکر واقعًا تکلیف دہ ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کہ بعض جاہل افراد نے نادانی سے ان اسرائیلی روایات کے زیراثر قرآن مجید کی پاک و پاکیزہ آیات کا چہرہ سیاہ کر دیا ہے اور ایسی باتیں کہی ہیں کہ حق کو واضح کرنے کے لیے اس رسوا داستان کا حصہ ذکر کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 38:21-25
حضرت داؤد کی ایک آزمائش
تفسیر حضرت داؤد کی ایک آزمائش ان آیات میں حضرت داؤدؑ کے فیصلہ کرنے کے بارے میں سادہ اور واضح گفتگو کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جو تحریفات اور غلط تعبیرات کی گئی ہیں ان کے باعث لاشعوری طور مفسرین کے درمیان ایک بڑا نزاع پیدا ہوا ہے اس پر اس قدر شورو غونما ہوا ہے کہ بعض مسلمان مفسرین بھی اس کی زد میں آگئے ہیں اور انھوں نے اس عظیم نبی کے بارے میں غلط اور کہیں کہیں بہت ہی ناروا فیصلے کیے ہیں۔ ہم سب سے پہلے بغیر کسی تشریح کے آیات قرآنی کامتن پیش کرتے ہیں ۔ تاکہ قارئین خالی ذہن کے ساتھ آیات کا مفہوم سمجھ سکیں۔ گزشتہ آیات میں حضرت داؤد عیلہ سلام کی خاص صفات بیان کی گئی تھیں اور ان پر اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں کا ذکر تھا۔ اس کے بعد اب دادرسی اور قضاوت کے سلسلے میں حضرت داؤد کو پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ ہے۔ پہلے پیغمبراسلام صلی الله علیہ وسلم سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے؟ کیا داؤد کی دیوار محراب سے اوپر جانے والے شکایت کنندگان کا واقعہ تجھ تک پہنچا ہے (وهل اتاك نبوالخصم اذ تسور وا المحراب)- "خصم" کا دراصل مصدری معنی ہے اس کا معنی ہے نزاع اور جھگڑا کرتا لیکن ایسا بہت ہوتا ہے کہ جھگڑے کے طرفین کو "خصم" کہتے ہیں۔ یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں مفاہیم کے لیے بولا جاتا ہے اور کبھی اس کی جمع "خصوم" بھی آتی ہے ۔ " تسوروا" "سور" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے ایسی دیوار جوگھریا شہر کے اطراف پرمحیط ہو۔ لیکن توجہ رہے کہ یہ مادہ دراصل چھلانگ لگانے اور اوپر جانے کے معنی میں ہے۔ "محراب" صدرمجلس" (مجلس کے نمایاں ترین مقام) یا اوپر والی منزل کے کمروں کے معنی میں ہے اور چونکہ "مقام عبادت" سے اس میں بنایا جاتا تھا۔ لہذا آہستہ آہستہ یہ لفظ "معبد" (عبادت خانہ) کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ روزمرہ میں یہ لفظ خصوصیت سے اس مقام کے لیے استعمال ہونے لگا جہاں امام جماعت قیام نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ مفردات میں منقول ہے کہ "محراب مسجد" کو اس لیے "محراب" کہا جاتا ہے چونکہ یہ شیطان اور ہواۓ نفس سے جنگ کی جگہ ہے۔ بہرحال حضرت داؤد عیلہ سلام کے اردگرد اگرچہ بہت سے محافظین موجود تھے تاہم دو آدمی ایک جھگڑے کے سلسلے میں عام راستے سے ہٹ کر محراب اور دیوار قصر سے اوپرآئے اور اچانک آپؑ کے سامنے آدھمکے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے : وہ اچانک داؤد کے سامنےآنکلے (بغیر کسی اطلاع کے اوربغیرکسی اجازت کے) لہذا ان پر نظر پڑی تو داؤد وحشت زدہ ہوئے اور گھبراۓ کیونکہ انھیں خیال ہوا کہ ہوسکتا ہے ان لوگوں کا ان کے بارے میں غلط ارادہ ہو (اذدخلوا على داؤد ففزع منهم)۔ لیکن انھوں نے بہت جلد آپ کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا : ڈریں نہیں ، ہم دونوں ایک شکایت لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے اور ہم آپ کے پاس دادرسی کے لیے آئے ہیں ( قالوا لا تخف خصمان بغي بعضنا على بعض)۔ اب آپ ہمارے بارے میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اورظلم روا نہ رکھیں اور راہ راست کی طرف جاری ہدایت کريں (فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط واهدنا الى سواء الصراط)۔ "تشطط" "شطط" (بروزن "فقط") کے مادے سے دراصل زیادہ دوری کے معنی میں ہے، ظلم چونکہ انسان کو حق سے بہت دور کر دیا ہے ا س لیےلفظ"شطط" اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح جو بات حقیقت سے دور ہویہ لفظ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس مقام پر حضرت داؤد کی پریشانی اوروحشت کم ہوگئی لیکن شاید ایک سوال ان کے ذہن میں ابھی باقی تھا، بہت اچھا، تمھارا کوئی غلط ارادہ نہیں ہے ، تم صرف قاضی کے پاس شکایت لے کر آئے ہو لیکن اس خلاف معمول راستے سے آنے کا مقصد؟ لیکن انھوں نے حضرت داؤدؑ کوزیادہ موقع نہ دیا۔ ایک نے شکایت کرنے میں پہل کی ، کہنے لگا : میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس ایک سے زیادہ نہیں، لیکن یہ اصرار کرتا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے ، گفتگومیں ہے مجھ پر باری ہے اور مجھ سے زیادہ باتونی ہے (ان هذا اخی له تسع و تسعون نعجة ولي نعجة واحدة فقال اکفلنيها وعزني في الخطاب)۔ "تعجۃ" "بھیڑ" کے معنی میں ہے ۔ جنگلی گائے اور پہاڑی بھیڑ کو بھی "نعجۃ" کہتے ہیں۔ " اکفلنيها" "کفالت" کے مادے سے ہے۔ یہاں دے دینے کے مفہوم میں بے (معنی یہ ہے کہ اس کی کفالت میرے سپر کردے) "عزني" "عزت" کے مادہ سے "غلبہ" کے معنی میں ہے۔ یہاں اس لفظ کا معنی ہے "اس نے مجھ پر غلبہ کیا ہے"۔ آیات قرآنی سے ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے حضرت داؤد نے دوسرے فریق کی بات کے سنے بغیر شکایت کرنے والے سے کہا: اپنی بھیڑوں میں تیری بھیڑ کا اضافہ کرنے کے لیے اس نے تقاضاکرکے ظلم روارکھا ہے۔ (قال لقد ظلمك بسؤال نعجتک الى نعاجه)۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں "بہت سے دوست اور ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے پرظلم کرتے ہیں" ۔ (وان كثيرًا من الخلطاء ليبغى بعضهم علی بعض )۔ ؎1 سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک عمل کیے ہیں" ( الا الذين آمنوا وعملوا الصالحات)" لیکن وہ بہت تھوڑے ہیں" (وقليل ماهم)۔ ؎2 جی ہاں! معاشرت اور دوستی میں دوسروں کے حق کا لحاظ رکھنے والے اور اپنے دوستوں پر ذرہ بھر بھی زیادتی نہ کرنے والے افراد بہت کم ہیں ۔ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کا اس پورے عدل و انصاف سے ویی ادا کر سکتے ہیں جو ایمان اورعمل صالح خوب بہرہ مند ہیں۔ بہرحال یوں لگتا ہے کہ طرفین یہ بات سن کر مطمئن ہو گئے اور حضرت واؤدؑ کے ہاں سے چلے گئے ۔ لیکن داؤدؑ سوچ میں پڑ گئے۔ انھوں نے فیصلہ تو عدل کی بنیاد پر کیا تھا کیونکہ اگر فریق ثانی کو مدعی کا دعوی قبول نہ ہوتا تو یقینا وہ اعتراض کرتا۔ اس سکوت اس امر کے لیے بہترین دلیل تھا کہ معاملہ وہی ہے جو شکایت کرنے والے نے پیش کیا ہے لیکن ان سب امور کے باوجود عدالتی اقدار کا تقاضا تھا کہ داود اپنی بات میں جلدی نہ کرتے بلکہ فریق ثانی سے بھی شخصًا سوال کرتے اور پھر فیصلہ سناتے۔ لہذا اس کام پروہ خود پشیمان ہوئے اور داؤد نے گمان کیا کہ اس واقعے کے ذریعے ہم نے اس کا امتحان لیا ہے (وظن داؤد انما فتناه)۔ اس نے استغفار کی، اپنے رب سے طلب بخشش کی ، سجدے میں گر گیا اور توبہ کی (فاستغفر ربه وخر راکعًاواناب)۔ "خر" "خرير" کے مادے سے آواز کے ساتھ بلندی سے گرنے کے معنی میں ہے جیسے بشار کی آواز ہوتی ہے۔ سجده کرنے والے افراد چونکہ بلندی سے نیچھے آتے ہیں اور سجدہ کرتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں لہذایہ تعبیر سجدہ کرنے کے لیے کنائے کے طور آئی ہے۔ "راکعًا" اس آیت میں یاتو اس بنا پر ہے کہ "رکوع" بھی لغت میں سجدے کے معنی میں آیا ہے یا پھراس لیے کہ رکوع سجدے کے مقدمہ ہے۔ بہرحال اللہ نے ان پر اپنا لطف وکرم کیا اور اس ترک اولٰی میں ان کی لغزش کو معاف کر دیا۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں قران کہتا ہے: ہم نے اس کے عمل کو بخش دیا (فغفرنالہ ذالك). اور وہ ہمارے نزدیک عالی مقام اور نیک مستقبل کا حامل ہے (وان له عندنا لزلفي وحسن ماب) "زلفی" کامعنی ہے "مقام" (اور بارگاہ الٰہی میں قرب) اور "حسن ماب" بہشت کی اور اخروی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "خلطاء" "خليط" کی جمع ہے۔ اس کامعنی ہے ایسے اشخاص یا ایسے امور سےجو ایک دوسرے سے مخلوط ہیں۔ نیزدوست ، شریک اور ہمسائے پربھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ظلم وزیادتی اگرچہ صرف ان ہی سے نہیں ہوتی لیکن ان کا خصوصی ذکریا اس بنا پر ہے کہ ایک دوسرےسے میل جول رکھنے سے لین دین کے بہت سے معاملات ہیں آتے رہتے ہیں یا اس بنا پر ہے کہ اپنوں ، دوستوں، عزیزوں اور ہمسایوں سےظلم کی توقع نہیں ہوتی۔ ؎2 جملہ کی ترکیب یوں ہے "هم" مبتداء" قيل" اس کی خبر ہے اور "ما" زئدہ ہے کہ جو یہاں کمی اور قلت کے مبالغے کے لیے آیا ہے۔