إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ
Indeed We have adorned the lowest heaven with the finery of the stars,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:6
[Pooya/Ali Commentary 37:6] Sama-ad dunya means the lowest heaven, nearest to the earth. It is said to be the seat of the exalted assembly of angels, as pointed out in verse 8. The beauty of the starry heaven is proverbial. Their marvellous beauty, their coherent grouping and harmonious working manifest the unity. control and wisdom of the one true creator. The perfect, harmonious, undisturbed and continuous existence of creation in the heavens, under the precise laws made by Allah, cannot be disturbed or upset by any rebellious evil, so it is cast away on every side, repulsed, under a perpetual penalty, by a flaming fire. Goodness is always protected by the all good against evil. The men of God, mentioned in the commentary of verses 1 to 3 of this surah, are goodness personified or the true reflection or manifestation of the absolute goodness of the Lord, therefore every type of evil has been kept off from them. They have been thoroughly purified as per verse 33 of Ahzab. Also refer to Hijr: 40 and 42 and Bani Israil: 65 to know that Shaytan has no authority over the men of God mentioned above. Goodness is real and eternal. Evil is the consequence of the rebellious urge of the devil. It shall die its own death when the devil, along with his followers, goes to hell. So far as it lives in this world it cannot rise to the higher region of goodness, even if it tries to have a glimpse of the world of total righteousness. Its area of operation is the abyss. No evil spirit can ever penetrate even the lowest heaven. Refer to the commentary of Hijr: 16 to 18. After the advent of the Holy Prophet the doors of even the lowest regions were closed to the devils and evil spirits. Prior to the advent of the Holy Prophet, the jinn and devils had access to the outskirts of heaven, and by assiduous eavesdropping secured some of the secrets of the upper world, which they communicated to soothsayers upon the earth. After the advent of the Holy Prophet they were driven from the heavens, and whenever they dared to approach, flaming bolts were hurled at them, appearing to mankind like falling stars. Aqa Mahdi Puya says: Those who are immersed in the worldly pleasures are unable to have any communion with the exalted beings of the higher sphere, even if they try to steal a glimpse of that which is there.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:6-10
توضیح و تکمیل
ان الفاظ کے ظاہری کوپیشِ نظر رکھنا چاہیے یاایسے قرائن موجودہیں کہ جن کہ وجہ سے ظاہر کے خلاف تفسیر کرنی چاہیے اورانھیں تمثیل وتشبیہ و کنا یہ جاننا چاہیے ، اس بار ے میں مفسرین کے درمیان مختلف نظر یات پائے جاتے ہیں ۔ بعض نے ان آیات کے ظا ہر کو انھیں معانی پر جوپہلی نظر میں دکھائی دیتے ہیں، محمول کیاہے اور کیاہے کہ آسمانوں میںنزدیک اور دور دراز مقامات پرفرشتوں کے کچھ گروہ ساکن نہیں اوروہ اس جہان کے حوادث کی خبریں اس سے پہلے کہ و ہ زمین میں صورت پذیر ہوں وہاں منعکس ہوتی ہیں ۔ شیاطین کاایک گروہ چاہتاہے کہ آسمانوں پرچڑ ھ جائے اورچوری چھپے ان خبروں میں سے کوئی بات معلوم کرلے اور کا ہنوںیعنی انسانوں میں سے اپنے ساتھ مربوط لوگوں کومنتقل کردیں . اس موقع پر شہاب جوستاروں کی طرح متحرک ہیں ان کی طرف دوڑتے ہیں اور انھیں پیچھے کی طرف دھکیل دیتے ہیں یاانھیں نابود کردیتے ہیں ۔ یہ مفسرین کہتے ہیں کہ ہوسکتاہے ہم موجودہ زمانے میں ان تعبیرات کے مفاہیم کوصحیح طور پر معلوم نہ کرسکیں ، لیکن ہماری ذمّہ داری یہی ہے کہ ہم ان ظاہری مطالب کی حفاظت کرتے ہوئے مزید معلو مات کوآیندہ پرچھوڑ دیں ۔ اس تفسیر کو مرحوم طبرسی نے ” مجمع لبیان “ میں ، آلوسی نے ” روح المعانی “ سید قُطب نے ” فی ظلال ‘ ‘ میں اوربعض دوسر ے مفسر ین نے انتخاب کیاہے۔ جبکہ بعض دوسروں کانظر یہ یہ ہے کہ زیر بحث آیت ان آیات کے مشابہ ہیں جو” لوح “ ” قلم“ ” عرش“ اور ” کُرسی “ کے بار ے میں گفتگو کرتی ہیں اور تمثیل و کنایہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ان کاعقیدہ ہے کہ یہ آیات ” معقول “ کو ”محسوس“ سے تشبیہ دینے کے قبیل سے ہیں اور سُورہ ٴ عنکبوت کی آیہ ۴۳ کی مصداق ہیں جس میں قر آن فرماتاہے : وَ تِلْکَ الْاٴَمْثالُ نَضْرِبُہا لِلنَّاسِ وَ ما یَعْقِلُہا إِلاَّ الْعالِمُونَ یہ وہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے ان بیان کرتے ہیں اور اہل علم کے سوا انھیں کوئی نہیں سمجھتا ۔ ان مفسرین نے مزید کہا ہے کہ جن آسمانوں میں ملائکہ ساکن ہیں ان سے مراد عوالم ملکوت ہیں جن کاافق محسوس عالم سے برتر ہے اور شیاطین کے آسمانوں سے نزدیک ہونے اور ” چوری چھپے “ سننے اور ”شہب“ کے ذ ریعہ انھیں بھگا نے سے مرادیہ ہے کہ یہ شیاطین جب اسرار ِ خلقت اور آ ئندہ کے حوادث کی خبریں معلوم کرنے کے لیے فرشتوں کے عالم سے نزدیک ہوناچاہیں ، تو ملکوت کے نور کے ذریعے جسے برداشت کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے ،رُک جاتے ہیں اور دُور ہوجاتے ہیں اورحق کے ذریعے ان کے باطل کی نفی ہوجاتی ہے . یہ مفسرین اس سورہ کے آغاز میں فرشتوں کہ گر وہوں کی بحث کے بعد اس قِصّہ کے ذکر کو ، اس معنی کامئوید سمجھتے ہیں ( 1) ۔ یہ احتما ل بھی ہے کہ ” سماء “ یہاں آسمان ایمان اور معنویت و روحانیت کے لیے کنا یہ ہو . کیونکہ ہمیشہ شیاطین تک راہ پانے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اوروسوسوں کے ذریعے سچّے مومنین کے دلوں میں نفود پیداکرتے ہیں لیکن خدائی پیغمبراور آئمہ معصومین اور ان کے فکری و عملی راستے کے پیرو علم وتقوٰی کے شہابِ ثاقب کے ذریعے ان پر حملہ کرتے ہیں اورانھیں اس آسمان کے قریب ہونے سے روک دیتے ہیں ۔ ہم اس تفسیر کو صرفایک احتمال کے طور پر یہاں پیش کررہے ہیں اوراس کے قرائن وشواہد گیارہویں جلد سُورہ ٴ حجر کی آیہ ۱۸ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں .ا ن قرائن کی مزید وضاحت کے لیے گیارہویں جلد ہی کی طرف رجوع فر مائیں ۔ قرآن مجید کی ان آ یات اوران سے مشابہ آ یات کے معنی کے سلسلہ میں یہ تین مختلف تفاسیر تھیں ۔ 1۔ تفسیر ”المیزان“ (جلد ۱۷ ،صفحہ ۱۳۰ ) سے تلخیص ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:6-10
شیاطین کے نفوذ سے آسمان کی حفاظت
گزشتہ آ یات میں فرشتوں کی مختلف صفوں کے بار ے میں گفتگو تھی ،جن کی بہت بڑی بڑی ذمہ داریاں ہیں اور زیربحث آیات میں ان کے مد مقابل یعنی شیاطین کے مختلف گرو ہوں اوران کے انجام کے بار ے میں گفتگو ہے . ہوسکتاہے کہ یہ مشرکین کی اس جماعت کے اعتقاد کو باطل کرنے کے لیے ایک مقدمہ ہو، جوشیاطین اورجنوں کواپنا معبود قراردیتے ہیں ضمنی طور پر اس میں توحید کاایک درس بھی پوشیدہ ہے۔ ارشاد ہوتاہے : ہم نے نزدیکی آسمان ( نچلے آسمان ) کوستاروں سے مزّین کیاہے (إِنَّا زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِزینَةٍ الْکَواکِب) (۱) ۔ سچ مچ تاریک اور ستاروں بھری رات میں صفحہ ٴ آسمان پر ایک نگاہ سے اس قسم کاخوبصورت منظر انسان کے سامنے مجسّم ہوتاہے کہ وہ مسحور ہو کر رہ جاتاہے۔ گو یا تاروں بھری را ت زبانے زبانی سے ہم سے گفتگو کر رہی ہے اورخلقت کے راز ہم سے بیان کررہی ہے گو یاسب کے سب تارے شاعر ہیں جو وپے درپے عشق وعرفان میں ڈوبی ہوئی خوبصورت غزلیں گار ہے ہیں ۔ ان کا ٹمٹما نااورپلکیں جھپکنا ایسے رازوں کوبیان کرتاہے کہ جوسوائے عاشق ومعشوق کے اور کہیں نہیں ہوتے ۔ واقعاً آسمان کے ستاروں کامنظر اس قد ر خوبصُورت ہے کہ ہر گز آنکھ اس کے دیکھنے سے نہیں تھکتی،بلکہ انسانی وجود سے ساری خسگی دُور کردیتاہے ( اگرچہ یہ مسائل ہمارے زمانے میں شہروں کے رہنے والوں کے لیے کچھ مفہوم نہیں رکھتے کیونکہ وہ کار خانوں کے دھوئیں میں ڈوبے رہتے ہیں اوران پر ایک سیاہ تاریک آسمان ہوتاہے،لیکن دیہاتوں کے رہنے والے اب بھی قرآن کے اس ارشاد کی عملی صورت یعنی آسمان کادرخشاں ستاروں سے مز یّن ہونادیکھ سکتے ہیں ) ۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن کہتاہے کہ ” ہم نے نچلے آسمان کوستاروں سے مزیّن کیاہے “ حالانکہ جومفروضہ اس زمانے کے افکار اور دانش مندوں میں تسلیم کیاجاتاتھا وہ یہ تھاکہ صرف اوپر والاآسمان ثواب ستاروں کا آسمان ہے ( بطلمیوس کے مفروضہ کے مطابق آٹھواں آسمان ) ۔ لیکن جیساکہ کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مفروضہ کاباطل ہوناثابت ہوچکا ہے اورقرآن کااس زمانے کے غیر صحیح مفروضہ کی پیروی نہ کرنااس آسمانی کتاب کازندہ مُعجزہ ہے۔ دوسراقابلِ توجّہ نکتہ یہ ہے کہ موجودہ سائنس کی رُو سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ستاروں کاخوبصورتی کے ساتھ ٹمٹما نااور پلکیں جھپکنااس کُرّہ ہوائی کی بناپر ہے جس نے اطرافِ زمین کوگھیر رکھاہے اوراسی کی بنا پر یوں دکھائی دیتاہے اور یہ بات ” السماء الدنیا “ (نچلے آسمان ) کی تعبیر کے ساتھ بہت سی مناسب ہے.فضائے زمین سے باہر ستارے دھندلے دھندلے نظر آتے ہیں اوران میں یہ چمک دمک نہیں ہوتی ۔ بعد والی آیت میں آسمان کے منظر کے شیاطین کے نفوذ سے محفوظ رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر مایاگیاہے : ہم نے اسے ہر خبیث اورخبر ونیکی سے عاری شیطان سے محفوظ رکھاہے (وَ حِفْظاً مِنْ کُلِّ شَیْطانٍ مارِدٍ) ( ۲) بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیاہے کہ ” بزینة “ کے محل پر عطف ہوجو ” مفعول لہ “ ہے اور یہ تقد یر میں اس طرح ہوگا : انا خلقنا الکواکب زینة للسماء و حفظاً ” مارد “ ” مرد “ (بروزنِ ” سرد“ کے مادہ سے اصل میں اس بلند سرزمین کے معنی میں ہے جوکسی بھی قسم کے سبزے سے خالی ہو ، وہ درخت جس کے پتے جھڑ جائیں اسے” امرود “ کہتے ہیں اسی مناسبت سے اس نوجوان پر جس کے چہر ے پر بال نہ اُگے ہوں اس لفظ کا اطلاق ہوتاہے یہاں ” مارد“ سے مراد وہ شخص ہے جو ہر قسم کی خیروبرکت سے عا ری ہو . ہماری تعبیر کے مطابق” جس کے پاس کچھ نہ ہو “ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ شیطانوں کے اوپر چڑھنے سے آسمانوں کا محفوظ رکھنے کا ایک ذ ریعہ ستاروں کا ایک گروہ ہے اور انھیں ”شہب“ کہاجاتاہے .جس کی طرف بعد کی آیات میں اشارہ ہوگا۔ اس کے بعد مزید فر مایاگیاہے : وہ عالمِ بالا کے فرشتے کی باتوں کونہیں سُن سکتے اورغیب کے اسرار ان سے نہیں معلوم کرسکتے اور اگر ایساکرنا چاہتے ہیں توہر طرف سے شہاب کے تیروں کانشانہ بنتے ہیں (لا یَسَّمَّعُونَ إِلَی الْمَلَإِ الْاٴَعْلی وَ یُقْذَفُونَ مِنْ کُلِّ جانِبٍ ) ۔ ہاں انھیں شدّت کے ساتھ پیچھے کی طرف دھکیل دیاجاتاہے اورانھیں آسمان کے منظر سے نکال دیاجاتاہے اوران کے لیے دائمی عذاب ہے (دُحُوراً وَ لَہُمْ عَذابٌ واصِبٌ) ۔ ” لا یسمعون “ ( جو لایتسمعون کے معنی میں ہے ) اس کامفہوم یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں ” ملااعلیٰ “ کی خبریں سُن لیں لیکن انھیں اجازت نہیں دی جاتی۔ ” ملااعلیٰ “ عالم ِ بالا کے فرشتوں کے معنی میں ہے کیونکہ ” ملا“ اصل میں اس جماعت اور گروہ کوکہاجاتاہے جو ایک نظر یہ پراتفاق رکھنے والوں پر مستمل ہو اور دوسروں کی آنکھ کو اس ہم آہنگی ووحدت سے پُر کردیں اور مسند اقتدا ر کے گرد موجود افراد اور اشراف و اعیان کوبھی ” ملا “ کہتے ہیں کیونکہ ان کی ظاہری وضع قطع آنکھ کو پُر کرتی ہے لیکن جب اس کی ” اعلیٰ“ کے ساتھ توصیف ہو تو پھر حق تعالیٰ کے ملائکہ کرام اور فر شتگان و الامقام کی طرف اشارہ ہوتاہے۔ ” یقذ فون “ ” قذف“ کے مادہ سے پھینکنے اور دور کی جگہ پر تیر مارنے کے معنی میں ہے اوریہاں مراد ” شہب “ کے ذ ریعے ” شیاطین “ کو بھگانا اور دور دھکیلنا ہے ، جس کی تشریح ہم بعد میں بیان کریں گے اوریہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ انھیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتاکہ وہ ملااعلیٰ کی قلمر و کے قریب جاسکیں ۔ ” دحوراً “ ” دحر ‘ ‘ ( بروزن ِ ’ ’ دہر “ ) کے مادہ سے دھکیلنے اور دور کرنے کے معنی میں ہے اور” واصب“ اصل میں پرانی بیماریوں کے معنی میں ہے لیکن کلی طور پر دائم و مسلسل کے معنی میں ہے اور کبھی یہ لفظ خالص کے معنی میں بھی آیاہے ( ۳) ۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیاطین نہ صر ف آسمان تک پہنچنے سے روک دیئے جاتے اوربھگار ئے جاتے ہیں بلکہ آخر کار دائمی عذاب میں بھی گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ آ خر ی زیر بحث آیت میں سرکشی اور جسارت کرنے والے شیطانوں کے ایک گرو ہ کی طرف اشارہ کیاگیاہے جو آسمان کی بلندی کی طرف جانے کاارادہ کرتے ہیں، قرآن فرماتاہے: مگر وہ جو مختصر سے لمحے کے لیے چوری چُھپے اچٹتی سی بات سننے کے لیے آسمان کے نزدیک ہوجائیں تو شہاب ِ قاقب ان کا پیچھا کرتے ہیں اور انھیں جلادتے ہیں (إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاٴَتْبَعَہُ شِہابٌ ثاقِب) ۔ ”خطفة “ یعنی کسی چیز کوجلدی سے اچک لینا ۔ ” شھاب“ اصل میں اس شُعلہ کے معنی میں ہے جو جلتی ہوئی آگ سے بلند ہوتا ہے اوروہ آتشیں شعلے جوآسمان میں ایک لمبے خط کی صورت میں ابھر تے ہیں انھیں بھی ” شہاب“ کہتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ستارے نہیں ہیں بلکہ ستاروں کے مانند پتھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑ ے ہیں جوفضا میں پھیلے ہوئے ہیں . یہ زمین کی کشش کی حد ود میں میں آ جاتی ہیںتوپھر زمین کی طرف دوڑ تے ہیں اور زمین کے چا روں طرف پھیلی ہوئی ہوا کے ساتھ تیزی اور شدت سے ٹکرانے کی وجہ سے شعلہ ورہوجاتے ہیں ۔ ” ثاقب “ نفوذ کرنے والے اور سوراخ کرنے والے کے معنی میں ہے گو یا شدید نور کے زیر اثر آنکھوں میں سوراخ کرکے انسان کی آنکھ کے اندر نفوذ کرجاتاہے،اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جس چیز سے ٹکراتاہے اس میں سوراخ کرکے آگ لگادیتاہے۔ اس طرح شیاطین کے آسمانوں میں نفوذ کرنے میں دوطرح کی رکاوٹیں موجود ہیں ۔ پہلی رکاوٹ توہر طرف سے دھتکا ر اجانا اوربھکایاجاناہے . اور وہ بھی ظاہری طور پر شہب ہی کے ذریعے صورت پذ یرہوتاہے۔ دوسری رکاوٹ شہاب کی ایک خاص قسم ہ جس کانام ” شہاب ثاقب“ ہے اوروہ ان کے انتظار میں رہتے ہیں .وقت بے وقت جب کبھی وہ چوری چُھپے کوئی بات سننے کے لیے آسمان پر ملا اعلیٰ کے نزدیک ہوتے ہیں تووہ ان سے ٹکرا جاتے ہیں ۔ اسی طرح کی بات سورہ ٴ حجر کی آیہ ۱۷ اور ۱۸ میں کی گئی ہے ، ارشاد ہوتاہے : وَ حَفِظْناہا مِنْ کُلِّ شَیْطانٍ رَجیمٍ إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاٴَتْبَعَہُ شِہابٌ مُبینٌ ہم آسمانی بُر جوں کی ہرراندہ ٴ درگاہ شیطان سے حفاظت کرتے ہیں ، مگر جوچوری چھپے باتیں سننے لگے تو شہابِ مبین اس کے پیچھے لگ جاتاہے ( انھیں بھگادیتا ہے او ر جلادیتاہے ) ۔ اس تعبیر کی نظیر سورہ ٴ ملک کی آیہ ۵ میں بھی آئی ہے۔ وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِمَصابیحَ وَ جَعَلْناہا رُجُوماً لِلشَّیاطینِ ہم نے نچلے آسمان کوچراغوں کے ساتھ مزیّن کیاہے اوران ( میں سے ایک حصّہ ) کو شیطانوں کو دور کرنے اوربھگانے کے لیے قرار دیاہے۔ ۱۔ ترکیب کے لحاظ سے ” الکو اکب “ ’ ’ زینب “ کابدل ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ عطف بیان ہو اورزینب یہاں پر اسمِ مصدر ی کامعنی رکھتا ہو نہ کہ مصدری معنی کا . ادبی کُتب میں ہے کہ جس وقت نکر ہ معرفہ سے بدل جائے تو اس کے ساتھ ایک صفت ہونی چاہیے لیکن اس کے برعکس ضروری نہیں ہے۔ ( غور کیجیے گا ) ۲۔ ” حفظ “ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق فعلِ مقدّرکے لیے ” مفعول مطلق “ ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا : وحفظنا ھا حفظاً ۳ ۔ ” واصب “ کے معنی میں کے بار ے میں جلد ۱۱ میں سورہٴ نحل کی آیہ ۵۲ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:6-10
سوره صافات / آیه 6 - 10
۶۔إِنَّا زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِزینَةٍ الْکَواکِبِ ۔ ۷۔ وَ حِفْظاً مِنْ کُلِّ شَیْطانٍ مارِدٍ ۔ ۸۔ لا یَسَّمَّعُونَ إِلَی الْمَلَإِ الْاٴَعْلی وَ یُقْذَفُونَ مِنْ کُلِّ جانِبٍ ۔ ۹۔دُحُوراً وَ لَہُمْ عَذابٌ واصِبٌ ۔ ۱۰۔ إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاٴَتْبَعَہُ شِہابٌ ثاقِبٌ ۔ ترجمہ ۶۔ ہم نے نچلے آسمان کوستاروں کے ساتھ زینت بخشی ۔ ۷۔ اوراس کی ہرسرکش شیطانِ خبیث سے حفاظت کی ۔ ۸۔ وہ عالم ِ بالا کے فرشتوں کی ( باتوں کو) نہیں سُن سکتے ( اورجس وقت وہ سننا چاہتے ہیں ) تو ہرطرف سے تیروں کانشانہ بنتے ہیں۔ ۹۔وہ شدت کے ساتھ پیچھے کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اوران کے لیے دائمی عذاب ہے۔ ۱۰۔مگرجو مختصر سے لمحے کے لیے اچٹتی سی بات سننے کے لیے آسمان کے نزدیک ہوتے ہیں تو” شہابِ ثاقب“ ان کاتعاقب کرتے ہیں ۔