فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
Some of them will turn to others, questioning each other.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:50
[Pooya/Ali Commentary 37:50] Verse 27 and verse 50 indicate that both the condemned and the approved in hell and paradise respectively will call to mind the life they lived in this world. So a believer will say that there was a man known to him who did not believe in Allah and His religion, nor was he sure of the day of judgement and the life of hereafter. The man of paradise will be asked to look at the disbeliever who will be roasting in hell. After seeing the fate of the disbeliever, the believer, in paradise, will gratefully acknowledge the grace and mercy of Allah which saved him from eternal damnation. He is in ecstasy. The danger has passed. He is safe now. Beyond the realm of death life is eternal, blissful. This was an aspiration on the earth, but in the hereafter it is a realisation. Whatever has been described in these verses is a fact of life in the hereafter and a guidance to every individual who is alive today.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:50-61
سوره صافات / آیه 50 - 61
۵۰۔فَاٴَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ ۔ ۵۱۔قالَ قائِلٌ مِنْہُمْ إِنِّی کانَ لی قَرینٌ ۔ ۵۲۔ یَقُولُ اٴَ إِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقینَ ۔ ۵۳۔ اٴَ إِذا مِتْنا وَ کُنَّا تُراباً وَ عِظاماً اٴَ إِنَّا لَمَدینُونَ ۔ ۵۴۔قالَ ہَلْ اٴَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ ۔ ۵۵۔فَاطَّلَعَ فَرَآہُ فی سَواء ِ الْجَحیمِ۔ ۵۶۔ قالَ تَاللَّہِ إِنْ کِدْتَ لَتُرْدینِ ۔ ۵۷ ۔وَ لَوْ لا نِعْمَةُ رَبِّی لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرینَ ۔ ۵۸۔اٴَ فَما نَحْنُ بِمَیِّتینَ ۔ ۵۹۔ إِلاَّ مَوْتَتَنَا الْاٴُولی وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ ۔ ۶۰۔إِنَّ ہذا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ۔ ۶۱۔ لِمِثْلِ ہذا فَلْیَعْمَلِ الْعامِلُونَ۔ ترجمہ ۵۰۔(اس حال میں جبکہ وہ اپنی باتوں میں مگن ہوں گے ) بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کی طرف رُخ کرکے سوال کریں گے ۔ ۵۱۔ان میں سے ایک کہے گا :میراایک ساتھی تھا ۔ ۵۲۔جوہمیشہ یہ کہا کرتاتھا : کیا(سچ مُچ) تونے بھی بات کو مان لیا ہے ؟ ۵۳۔کہ جب ہم مرجائیں گے اورمٹی اورہڈ یاں ہوجائیں گے تو (دوبارہ ) زندہ کیے جائیں گے اور ہمیں جزا وسزادی جا ئے گی ؟ ۵۴۔(اس کے بعد ) کہے گا : کیا تم اس کی کوئی خبرلاسکتے ہو؟ ۵۵۔اس موقع پروہ تلاش کرنے لگے گااوراِدھراُدھرنظر دوڑائے گا تواچانک اسے جہنم کے وسط میں دیکھے گا ۔ ۵۶۔اسے دیکھ کروہ کہے گا : خدا کی قسم کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی کہ تومجھے بھی جہنم کی طرف کھینچ لے جائے ۔ ۵۷۔ اور اگر میرے پر وردگارکی نعمت اوراحسان نہ ہو تا تومیں بھی جہنم میں حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوتا ۔ ۵۸۔ (اے دوستو! ) کیاہم اب کبھی نہیں مریں گے ( اور دائمی جنت میں رہیں گے ) ؟ ۵۹۔اوراس پہلی موت کے سوااب اورکوئی موت ہمارے پاس نہیں آئے گی اورہمیں کبھی سزانہیں دی جائے گی (خدا کی یہ میرے لیے کیسی نعمت ہے ) ۶۰۔سچ مچ یہ تو بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ ۶۱۔ہاں ! کوشش کرنے والوں کو ایسی جزا کے لیے کوشش اور عمل کرنا چاہیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:50-61
۳۔ اس قسم کی نعمات کے لیے کوشش کرنا چاہیے
کیا انسان کے لیے یہ بات مناسب ہے کہ انسان عمر کے گراںبہاسر مائے اور خدا داد تعمیر ی صلاحیتوں کو ایسے امور میں صرف کر ے جو پانی کے بلبلوں کی طرح ناپا ئیدار ہوں ؟ایسی متاع ہے جو بے قد ر و قیمت اور فنا ہونے والی ہے . ایسی متاع ہے جس میں آ فتیں ہی فتیں ہیں اور دردسر ہی دردسر ہے۔ یاان قیمتی صلاحیتوں اور وسائل کو ایسی راہ میں استعمال کرے جس کا نتیجہ حیات ِ دوداں ، بے پایا ں نعمتیں اور پر وردگار کی خوشنودی ہے۔ قرآن زیر نظر آ یات میں کتنی خُوب صورت تعبیر پیش کرتا ہے ، کہتاہے سعی و کوشش کرنے والوں کو اس طرح کے مقصد کے لیے سعی و کوشش کرنی چاہیے . لذّات روحانی سے معمور جنّت کے لیے اور جسمانی نعمتوں سے بھری ہوئی بہشت کے لیے جس کی شراب طہور کو ملکوتی نشے میں غرق کردے گی اوراس کے باصفادوستوں کی ہم نشینی پر کوئی غم نہ رہنے دے گی ۔ جس میں نہ کوئی چیز محدود ہے نہ کسی چیزکی کوئی ممانعت . نہ اس میں زوال کاغم ہوگا اور نہ ہی حفاظت نگہداری کا دردسر ۔ ہاں ! ایسی جنت کے لیے سعی و کوشش کرناچاہیے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:50-61
2۔ آ یات کس شخص کے بار ے میں نازل ہو ئیں ؟
بعض مفسّرین نے ان آیات کے بار ے میں کئی شان نزول نقل کیے ہیں ان کے مطابق یہ آ یات ان دو افراد کی طرف اشارہ کررہی ہیں جن کا ذکر سورہ ٴ کہف میں ایک مثال کے طور پر کیاگیا ہے جہاں قرآن فر ماتاہے : وَ اضْرِبْ لَہُمْ مَثَلاً رَجُلَیْنِ جَعَلْنا لِاٴَحَدِہِما جَنَّتَیْنِ مِنْ اٴَعْنابٍ وَ حَفَفْناہُما بِنَخْلٍ وَ جَعَلْنا بَیْنَہُما زَرْعاً ... ان کے لیے مثال بیان کی : ان دومَردوں کی داستان،جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انواع واقسام کے انگور وں کاباغ قرار دیاتھا جس کے گر د اگرد کھجور کے درخت تھے اور دونوں کے درمیان پُر برکت زراعت ہوتی تھی ... ( کہف ۳۲ تا ۴۳) ۔ ان آیات میں یہ بیان ہواہے کہ ان دونوں آدمیوں میں سے ایک شخص بہت ہی خود خواہ ،مغرور،کم ظرف اور منکر معاد تھا ۔ دوسرا مومن اور قیامت کامعتقدتھا . بالا آخر وہ بے ایمان مغرور شخص اس جہان میں بھی خدا ئی عذاب میں گرفتار ہو ااوراس کاسارامال و سرمایہ تباء و برباد ہوگیا ( 1) ۔ لیکن زیربحث آیات کالب و لہجہ سور ہٴ کہف کی آ یات کے ساتھ ہرگز ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ آیات کوئی علیحدہ داستان بیان کررہی ہے۔ بعض دوسرے مفسرین اسے دوشریک کار یا دوستوں سے متعلق جانتے ہیں . وہ دونوں ہی دولت مند تھے . ایک نے راہ ِ خدا میں بہت زیادہ خرچ کیااوردوسر ے نے بُخل کی. وہ ان باتون کامعتقد نہیں تھا . کچھ مدّت کے بعد خرچ کرنے والا آدمی محتاج ہوگیا تو اس کے دوست نے اسے سرزنش کی اور بُر ابھلا کہا اور مذاق کے طور پر کہا : ء انک لمن الصداقین کیاتو راہِ خُدا میں انفاق کرتاہے ( 2) ۔ لیکن یہ شان ِ نزول اس با ت پر موقوف ہے کہ ہم زیر بحث آیات میں ”مصد قین “ کے ” صاد “ کوتشدید کے ساتھ پڑ ھیں تاکہ اس کاتعلّق انفاق اورصدقہ دینے سے ہوجائے ۔ جبکہ ” مصدقین “ کی مشہور قراء ت ” صاد “ کی تشدید کے بغیر ہے . اس بنا پر مذ کورہ شان ِ نزول مشہور قراء ت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ 1۔تفسیر فخرازی،جلد ۲۶ ،ص ۱۳۹۔ 2۔روح المعانی جلد ۲۳ ،ص ۸۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:50-61
۱۔ جنتیوں کا دوزخیوں کے ساتھ ربط
آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ایک قسم کارابط قائم ہوجائے گا . گو یا بہشتی جو او پر رہتے ہوں گے ، دوزخیوں کی طرف نگا کردیں گے اوران کی حالت و کیفیت کودیکھ لیں گے ( یہ معنی فاطلع کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے جو اوپر ہے جھانکنے کے معنی میں ہے ) ۔ البتہ یہ اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان فاصلہ تھوڑا ہے . بلکہ ان حالات میں انھیں دیکھنے کی بہت زیادہ طاقت دے دی جائے گی ، جس کے سامنے فاصلے اورمکان کا مسئلہ پیش ہی نہیں آئے گا ۔ مفسّرین کے کلمات میں ہے کہ بہشت میں ایک بہشت میں ایک روشندان ہے جس سے جہنم کو دیکھا جاسکتا ہے۔ سورہ ٴ اعراف کی آیات سے بھی اس قسم کا رابط اچھی طرح سے واضح ہوتاہے . قرآن کہتاہے : وَ نادی اٴَصْحابُ الْجَنَّةِ اٴَصْحابَ النَّارِ اٴَنْ قَدْ وَجَدْنا ما وَعَدَنا رَبُّنا حَقًّا فَہَلْ وَجَدْتُمْ ما وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا قالُوا نَعَمْ فَاٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَہُمْ اٴَنْ لَعْنَةُ اللَّہِ عَلَی الظَّالِمینَ (اعراف ۔ ۴۴) ۔ جنتی دوزخیوں لو پُکار کرکہیں گے :ہمارے پروردگار نے ہم سے جن چیز کاوعدہ کیاتھا ہم نے اسے برحق پایا ، کیاتم نے بھی جس کاتمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیاتھا اسے برحق پایاہے ؟وہ کہیں گے :ہاں . تو اس وقت کوئی ان کے درمیان میں سے پکار کرکہے گاکہ ستم گروں پرخدا کی لعنت ہو ۔ اسی سورہ کی آیہ ۴۶ سے معلوم ہوتاہے کہ ” اہل بہشت اوراہل دوزخ کے درمیان ایک حجاب ہے (وَ بَیْنَہُما حِجابٌ ) ۔ ” نادٰی “ کی تعبیر جو عام طورپر دورسے بات کرنے کے موقعوںپراستعمال ہوتی ہے ، یہ ان دونوں گرو ہوں کی مکانی یامقامی دُوری کی نشانی ہے لیکن جیساکہ ہم نے بار ہا بیان کیاہے کہ قیامت کے دن کے حالات و شرائط اس جہان کے حالات سے بہت مختلف ہیں اورہم اس جہان کے معیار وں پر ان کا ادراک نہیں کرسکتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:50-61
جہنمی دوست کی تلاش
گزشتہ آیات میں پروردگار کے مخلص بندوں کاذکر تھا جو جنت کی طرح طرح کی نعمتوں میںغرق ہوں گے انھیں قسم قسم کے پھل میسّر ہوں گے ،جنت کی حو ریں ان کی خدمت میں ہوں گی . شراب طہور کے جام ان کے گرد گردش میں ہوں گے اوروہ جنّت کے تختوںپر تکیہ لگائے ہوئے با صفا دوستوں کے ساتھ راز ونیاز کی باتوں میں مشغول ہوں گے .ایسے میں اچانک ان میں سے بعض اپنے ماضی اور دنیا کے دستوں کی سوچ میں پڑ جائیں گے و ہی دوست جنھوںنے اپنی راہ الگ کرلی تھی اورجنت میں جن کی جگہ خالی پڑی ہو گی وہ ان کاانجام جانتے کی کوشش کریں گے ۔ ہاں ! اس وقت جبکہ ” وہ گفتگو میں محوہوں گے اور مختلف موضو عات پر بات کررہے ہوں گے اوربعض دوسرے بعض کی طرف رُخ کرکے سوال کررہے ہوں گے اوران کے جواب سن رہے ہوں گے (فَاٴَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلی بَعْضٍ یَتَساء َلُونَ)۔ اچانک ان میں سے ایک کوکچھ باتیں یاد آئیں گی ، وہ دوسروں کی طرف منہ کرکے کہے گا : دنیا میں میرا ایک دوست اور ہمنشین تھا (قالَ قائِلٌ مِنْہُمْ إِنِّی کانَ لی قَرینٌ) ۔ لیکن افسوس وہ انحراف کی راہ پرچل پڑااورمنکر ین قیامت کے ساتھ ہوگیا ” وہ ہمیشہ مجھ سے کہا کر تاتھا کیاسچ مچ تونے بھی اس بات کو با ور کر لیا ہے اور تو بھی اس کی تصدیق کرتاہے “ (یَقُولُ اٴَ إِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقینَ)۔ ” کہ جس وقت ہم مرجائیں گے اور خاک اورہڈیاں ہوجائیں گے تو ( دوبارہ ) زندہ ہوں گے اورحساب و کتاب کے کٹہر ے میں کھڑ ے ہوں گے اوراپنے اعمال و کردار کے جواب میں ہمیں مجازات کردار کا سامنا کرنا پڑے گا . میں توان باتوں کو باور نہیں کرتا (اٴَ إِذا مِتْنا وَ کُنَّا تُراباً وَ عِظاماً اٴَ إِنَّا لَمَدینُونَ ) (۱) ۔ اے دوستو! کاش مجھے معلوم ہوتا کہ اب وہ کہاں ہے اورکن حالات میں ہے ؟ افسوس اس کی جگہ ہمارے درمیان خالی پڑ ی ہے۔ ! اس کے بعد وہ مزید کہے گا :اے دوستوں! کیا تم اِدھر اُدھر نظردوڑاکردیکھ سکتے ہو اوراس کاپتہ لگاسکتے ہو ؟(قالَ ہَلْ اٴَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ) (۲) ۔ اس موقع پر وہ خود بھی تلاش کے لیے کھڑا ہوجائے گا اور جہنم کی طرف ایک نگاہ ڈالے گا تو اچانک اپنے دوست کو وسطِ جنہم میں دیکھے گا (فَاطَّلَعَ فَرَآہُ فی سَواء ِ الْجَحیمِ ) ۔(۳) ۔ اسے مخاطب کرتے ہوئے ” آ وازدے کرکہے گا :خداکی قسم کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی کہ تومجھے بھی آ گرادے اورہلاکت کی طرف کھینچ لے جائے “ (قالَ تَاللَّہِ إِنْ کِدْتَ لَتُرْدین) (۴) ۔ کوئی کسرباقی نہیں رہ گئی کہ تیرے وسوسے سے میرے صاف دل پراثر انداز ہوجائیں اورمجھے بھی اسی کج راستے پرڈال دیں کہ جس پر توچل رہاتھا ” اگر لطفِ الہٰی میرا مددگار نہ ہوتا اورمیر ے پروردگار کی نعمت میری نُصرت کو نہ پہنچتی ، تومیں بھی آج تیرے ہی ساتھ جہنم کی آگ میں موجود ہوتا “ ( وَ لَوْ لا نِعْمَةُ رَبِّی لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرین) ۔ یہ توفیق الہٰی ہی تھی جو میری رفیق راہ بنی اوراسی کی ہدایت کے لطف و کرم کے ہاتھ نے مجھ پر نوازش کی اورمیر ی رہبری کی ۔ اس موقع پر وہ اپنے جہنمی دوست کی طرف رُخ کرے گا اور یہ بات سرزنش کے طورپر اسے یاد دلاتے ہوئے کہے گا :-کیاتو ہی دنیا میں یہ نہیں کہاکرتاتھا کہ ” ہم کبھی نہیں مریں گے “ (اٴَ فَما نَحْنُ بِمَیِّتینَ)۔ سوائے اس پہلی دنیا وی موت کے اوراس کے بعد نہ کوئی نئی زندگی ہوگی اورنہ ہی ہمیں عذاب دیاجائے گا (إِلاَّ مَوْتَتَنَا الْاٴُولی وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ)۔ اب تو دیکھ اورسوچ کہ تجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے ؟موت کے بعد اس قسم کی زندگی تھی اور اس طرح کا ثواب وجزا اورسز او عذاب تھا . اب تمام حقائق تیرے سامنے آ شکار ہوئے ہیں . لیکن کیافائدہ کیوں کہ لوٹنے کی اب کوئی راہ نہیں ہے۔ اس تفسیر کے مطابق حقائق دوآخری آیات اس جنتی شخص کی اپنے دوزخی ساتھ کے ساتھ گفتگو ہے .وہ قیامت کے انکار کے سلسلے میں اس کی کہی ہوئی باتیں اسے یا د دلار ہا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے ان دو نوں آیات کی تفسیر میں ایک اوراحتمال ذکر کیاہے اور وہ یہ کہ بہشتی شخص کی گفتگو دوزخی دوست کے ساتھ ختم ہوگئی ہے اور بہشتی دوست آپس میں باتیں دوبارہ کرنے لگیں گے .ان میں سے ایک فرطِ مسرت سے پکار کرکہے گا :” کیا واقعاً اب ہم نہیں مر یں گے“ اور یہاں ہماری حیات جاودانی ہے ، کیا پہلی موت کے بعداب کوئی موت نہیں آ ئے گی اور یہ لطفِ الہٰی ہم پرہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہوگا ؟ البتہ یہ باتیں شک وشبہ کی بنا ء پر نہیں ہوں گی . بلکہ فرط وودجدو سرور سے ہوں گی ۔بالکل اسی طرح کہ جیسے بعض اوقات انسان طویل آ رز و اورانتظا ر کے بعد کوئی وسیع اوراچھا مکان حاصل کرتاہے تو تعجب کے ساتھ کہتاہے کیایہ میری ملکیت ہے ؟اے میرے خدا ! یہ کتنی اچھی نعمت ہے،کیایہ مجھ سے لے تو نہیں لی جائے گی ؟ بہرحال اس گفتگو کو ایک پُر معنی اوربہت ہی احساس انگیز جملے پرختم کیاگیاہے ، جس میں بہت سی تاکید ات بھی موجود ہیں ارشاد ہوتاہے : ” واقعاًیہ ایک عظیم کامیابی ہے (انّ ھٰذالھو الفوز العظیم ) ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی کہ انسان نعمت جا وداں اورحیات ابدی میں مستغر ق ہو اور انواع و اقسام کے الطافِ الہٰی اس کے شامل ِحال ہوں.اس سے برتر و بالا اور کس چیز کاتصّور ہوسکتاہے۔ اس کے بعد خداوند عظیم ایک مختصر،بیدارکن اور معنی خیز جملے پر اس بحث کو ختم کرتاہے . اس مثال کے مطابق لوگوں کو عمل کرنا چاہیے (لِمِثْلِ ہذا فَلْیَعْمَلِ الْعامِلُونَ ) ۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ آخری آیت بھی جنتیوں کی ہی گفتگو کاحصّہِ ہے ، بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ اس دن اورکوئی عمل نہیں ہوسکتا . دوسرے لفظوں میں اس دن عمل کاکوئی محل نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو یہ کہہ کرعمل کرنے کا شوق د لائیں . جبکہ آیت کاظا ہر اس بات کی نشا ندہی کرتاہے کہ مقصد یہ ہے کہ یہ کہہ کر تمام گزشتہ آیات سے نتیجہ اخذ کیاجائے اور لوگوں کو ایمان و عمل کی طرف دعوت دی جائے ، لہذا مناسب یہی ہے کہ اس بحث کے آ خر میں یہ خدا ہی کی گفتگو ہو ۔ ۱۔ ” مدینون “ دین کے مادہ سے جزا کے معنی میں ہے یعنی کیاہمیںجزادی جائے گی ؟ ۲۔” مطلعون “ ” اطلا ع “ کے مادہ سے سرا و نچا کرکے جستجو اور تلاش کرنا اور اور کسی چیزکے لیے جھا نکنا اوراس کے بار ے میں آگاہی حاصل کرنا ہے۔ ۳۔ ”سواء “ وسط اوردرمیان کے معنی میں ہے۔ ۴۔ ” تردین “” ارداء “ کے مادہ سے بلندی سے گر نے کے معنی میں ہے جس سے عام طور پر ہلاکت واقع ہوجاتی ہے۔