وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
Indeed Jonah was one of the apostles.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:139
[Pooya/Ali Commentary 37:139] Refer to the commentary of Anbiya: 87 and 88. Yunus' mission was to the city of Nineveh, then steeped in wickedness. The people rejected him. He departed in anger without the permission of his Lord, so his departure is described as if a slave runs away from captivity. He boarded a fully laden boat which met stormy weather. The sailors, thinking that the ill-luck was caused by some fugitive, wanted to discover him by casting lots. The lot fell on Yunus, so they took up him and cast him forth into the sea. A great fish swallowed up Yunus. He was in the belly of the fish three days and three nights. Then he prayed unto the Lord through the depths of darkness in the fish's belly: "There is no god but You. Glory be to you. I am indeed of the unjust." (Anbiya: 87). If the above noted portion of Anbiya: 87 is recited 12 times for 40 days after any one of the 5 obligatory prayers regularly, the reciter receives help from Allah to put an end to the sorrow or misfortune he or she is afflicted with. By the command of Allah the fish vomited out him upon the dry land. He was in a state of sickness. Allah caused to grow gourd plant there whose large leaves he used to protect his body from the hot sun, flies and other insects which were preying on his wounded body. Then he was commanded to return to the city of Nineveh. The people repented and believed, and Nineveh got a new lease of life.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 37:139-182
As per 166, Divine Lights, foremost creation – glorified God from which the Heavenly Residents learned “Glorification” and when on Earth, earthly beings followed suit. Thus proving their superiority over the rest of creation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
۴۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے اور وہ یہ ہے کہ دوسری اقوام کی سر گزشتوں کے بیان میں آ یات قرآنی میں آ یاہے کہ نزول ِ عذاب کے وقت (عذاب استیصال جو سرکش اقوام کی نابودی کے لیے نازل ہوتاہے ) تو بہ وانابت بے اثر ہوتی ہے توپھر قومِ یونس کے لیے اس مسئلے میں استثناء کیسے ہوا ۔ پہلاجواب تو یہ ہے کہ عذاب ابھی نازل نہیں ہواتھا ابھی کچھ علامات ہی ،جوتنبیہ اورخبردار کر نے کے لیے تھیں ،نظر آ ئی تھیں کہ انہوں نے ان تنبیوں سے برمحل استفادہ کیااور نز ول ِ عذاب سے پہلے ہی تو بہ کرلی اورایمان لے آ ئے ۔ دوسراجواب یہ ہے کہ یہ عذاب ” عذاب استیصال “ نہیں تھا بلکہ گوشمالی کے طورپر تھا . ایسی گو شمالی قوموں پرعذاب نازل کرنے سے پہلے کی جاتی تھی ،تاکہ وہ موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے بیدار ہوجائیں اور تقویٰ کاراستہ اختیار کرلیں . جیساکہ غرق ہونے سے پہلے فر عون کی قوم پرمختلف عذاب بھیجے گئے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
سوره صافات / آیه 139 - 148
۱۴۱۔وَ إِنَّ یُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلینَ ۔ ۱۴۲۔إِذْ اٴَبَقَ إِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ ۔ ۱۴۳۔ فَساہَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضین۔ ۱۴۲۔ فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ وَ ہُوَ مُلیمٌ ۔ ۱۴۳۔فَلَوْ لا اٴَنَّہُ کانَ مِنَ الْمُسَبِّحینَ ۔ ۱۴۴۔لَلَبِثَ فی بَطْنِہِ إِلی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ۔ ۱۴۵۔فَنَبَذْناہُ بِالْعَراء ِ وَ ہُوَ سَقیمٌ ۔ ۱۴۶۔ وَ اٴَنْبَتْنا عَلَیْہِ شَجَرَةً مِنْ یَقْطینٍ ۔ ۱۴۷۔ وَ اٴَرْسَلْناہُ إِلی مِائَةِ اٴَلْفٍ اٴَوْ یَزیدُونَ ۔ ۱۴۸۔ فَآمَنُوا فَمَتَّعْناہُمْ إِلی حینٍ ۔ تر جمہ ۱۳۹۔اور یونس ہمار ے رسولوں میں سے تھا ۔ ۱۴۰۔وہ وقت یاد کر و جب وہ (لوگوں اوروزن سے ) لدی کشتی کی طرف نکل گیا ۔ ۱۴۱۔اوران کے ساتھ قُرعہ ڈالااور ( قرعہ انہیں کے نام کانکلااور وہ ) مغلوب ہوگیا ۔ ۱۴۲۔( انہو ںنے اسے دریامیںپھینک دیا) اورا یک بہت بڑی مچھلی نے اسے نگل لیا، اس حال میں کہ وہ ملامت کامستحق تھا ۔ ۱۴۳۔اوراگروہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا ۔ ۱۴۴۔تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیت میں ہی رہتا ۔ ۱۴۵۔ ( بہرحا ل ہم نے اسے رہائی بخشی اور ) اسے ایک خشک زمین میں جوگھاس اور سبز ے سے خالی تھی ،پھینک دیا اس حالت میں کہ وہ بیمار تھا ۔ ۱۴۶۔ اور ہم نے کدو کی بیل اس کے اوپر اگادی ( تاکہ وہ اس کے چوڑ ے اور مرطوب پتوں کے سایے میں آ رام پائے ) ۔ ۱۴۷۔اور ہم نے اسے ایک لاکھ افراد یا اس سے زیادہ جمعیّت کی طر ف بھیجا ۔ ۱۴۸۔تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ایک مدّت معلوم تک زندگی کی نعمات سے بہرہ مندکیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
یونس امتحان کی بھٹی میں
اس سورہ میں یہ گذ شتہ ابنیاء اوراقوام کی چھٹی اورآخر ی سرگشت ہے . ان آ یات میںیونس علیہ السلام اوران کی توبہ کرنے والی قوم کی سرگزشت بیان کی گئی ہے . قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سرگز شتیں جن نو ح علیہ السلام ،ابراہیم علیہ السلام ،موسٰی علیہ السلام ، وہا رو ن علیہ السلام ، الیاس علیہ السلام ، اور لُوط علیہ السلام کاذکر تھا وہ سب کی سب یہاں آ کرختم ہوئیں کہ وہ قو میں ہرگز بیدار نہ ہوئیں اور عذاب ِ الہٰی میں گرفتار ہو گئیں اور خدانے ان میں سے ان عظیم انبیاء کو نجات بخشی ۔ لیکن اس داستان میں معا ملے کااختتام ان کے برعکس ہے . یونس علیہ السلام کافر قوم عذابِ الہٰی کی ایک نشانی کو دیکھتے ہی بیدار ہوگئی اوراس نے توبہ کرلی اور خدانے اس پر اپنا لطف و کرم فر مایا .اوراسے مادی و روحانی برکات سے بہرہ مندکیا . یہاں تک کہ یونس علیہ السلام کو اس ترک ِ اولیٰ کی بنا پر جو اس قوم کے درمیان سے ہجرت کرنے میںجلدی کرنے کی وجہ سے ان سے سرزد ہواتھا ،مصائب ومشکلات میںپھنسادیا ، یہاں تک کہ ان کے بار ے میں لفظ ” بق “ استعمال کیاکہ جو عام طورپر بھاگ جانے والے غلاموں کے لیے بولا جاتاہے۔ یہ داستانیں اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ اے مشرکین ِ عرب اوراے دیگر انسانو! کیاتم ان پانچ قوموں کی طرح بننا چاہتے ہو یاقومِ یونس علیہ السلام کی طرح ؟ کیاتم اس بُر ی اور در دناک عاقبت اورانجام کے طالب ہو یااس خیر و سعادت کے ؟یہ بات خود تمہارے اپنے ارادے کے ساتھ وابستہ ہے۔ بہرحال قرآن مجید کی متعّدد سورتوں میں(منجملہ سُور ہ ٴ ابنیاء،یونس ،قلم اور زیر بحث سورہٴ صافات میں) ا س عظیم پیغمبر کی داستان بیان ہوئی ہے اورہر ایک میں ان کے حالات کاایک حِصّہ ذکر ہواہے . سُورہ ٴ صافات میں زیادہ تر یونس علیہ السلام کے فرار ، ان کی گرفتار ی اور پھر نجات کامسئلہ بیان ہواہے۔ پہلے گزشتہ داستانوں کی طرح ان کے مقام ِ رسالت کے بار ے میں گفتگو کرتے ہوئے فر مایا ہے : یونس خدا کے رسولوں میں سے تھا (وَ إِنَّ یُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلین) ۔ یونس علیہ السلام نے بھی دیگر انبیاء کی طرح اپنی دعوت کی ابتداء توحید اوربُت پرستی کے خلاف قیام سے شروع کی . اس کے بعد ان برائیوں کے خلاف نبرد آزمائی کی جواس ماحول میں رائج تھے ۔ لیکن وہ متعصّب قو م ، آنکھیں اور کان بند کرکے ، اپنے بڑ ے بوڑھوں کی تقلید کررہی تھی ،ان کی دعوت کوتسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئی ۔ حضر ت یونس علیہ السلام اسی طرح ایک مہر بان باپ کے ماننددل سوزی اورخیر خواہی کے ساتھ اس گمراہ قوم کووعظ نصیحت کرتے رہے ،لیکن اس حکیمانہ منطق کے مقابلے میںدشمنوں کے پاس مغا لطے اور ڈھٹائی کے سوا کوئی چیزنہ تھی ۔ صرف ایک چھوٹا ساگروہ جوشایددوافراد ( ایک عابداو ر ایک عالم ) پر مستمل تھا ان پرایمان لایا ۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اس قدر تبلیغ کی کہ ان سے تقریبا ًمایوس ہوگئے .بعض روایات میں آ یا ہے کہ عابد کے کہنے پر ( او ر گمراہ قوم کی کیفیت اورحالات کودیکھتے ہوئے ) آپ نے پُختہ ارادہ کرلیا کہ ان کے خلاف بد و عا کریں ( ۱) ۔ اسی واقعے کی طرف قرآن بعد والی آ یت میں ارشارہ کرتے ہوئے کہتاہے : اس وقت کو یاد کرو جب اس نے وزن اورلوگوں سے بھری ہوئی کشتی کی طرف فرار کیا (إِذْ اٴَبَقَ إِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ) ۔ ” ابق “ ” اباق “ کے مادہ سے غلام کے اپنے آ قا و مولاکے پاس سے بھاگ جانے کے معنی میں ہے اس مقام پر یہ ایک عجیب وغریب تعبیر ہے.یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت ہی چھوٹاساتر کِ اولیٰ کہ جو عا لی مقام پیغمبروں سے سرز د ہوجائے،خداکی طرف سے کس قد رسخت گیری اور عتاب کاباعث بنتاہے،یہاں تک کہ وہ اپنے پیغمبر کوبھاگ جانے والے غلا م کا نام دیتاہے۔ بلاشک وشبہ یونس معصوم پیغمبر تھے اوروہ کبھی بھی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے،لیکن پھربھی بہتر یہی تھاکہ وہ تحمل سے کام لیتے اور نزول ِ عذاب سے قبل کے آخر ی لمحا ت تک اپنی قوم میں رہتے کہ شاید وہ بیدار ہوجائے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات کے مطابق آپ نے چالیس سال تک تبلیغ کی تھی،لیکن پھر بھی بہتر یہی تھا کہ چند رو ز یاچند گھنٹے اور ٹھہر جاتے.آپ نے چونکہ ایسانہیں کیاالہذا آپ کو بھاگ جانے والے غلام سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بہرحال یونس کشتی پر سوا ر ہوگئے.روایات کے مطابق ایک بہت بڑی مچھلی نے کشتی کی راہ روک لی اورمنہ کھول دیاگو وہ کچھ کھا نے کو مانگ رہی ہو.کشتی میں بیٹھنے والوں نے کہامعلوم ہوتاہے کہ کوئی گنہگا ر ہمرے درمیان ہے ( کہ جسے اس مچھلی کالقمہ بننا چاہیے اور قرعہ اندازی سے کام لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ) . اس موقع پر انہوں نے قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکل آیا.ایک روایت کے مطابق انہوں نے تین مرتبہ قرعہ ڈالا اور ہر دفعہ حضر یونس علیہ السلام ہی کا نام نکلا . ناچار اتھو ں نے یونس علیہ السلام کو پکڑ کراس بہت بڑی مچھلی کے منہ میں پھینک دیا۔ قرآن زیربحث آ یات میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس ماجر ے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے : یونس نے ان کے ساتھ زمانے میں قر عہ ڈالا اورمغلوب ہوگیا (فَساہَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضینَ ) ۔ ” ساھم“ ” سھم“ کے مادہ سے دراصل تیر کے معنی میں ہے اور” ساھمہ“ قرعہ اندازی کے معنی میں ہے، کیونکہ گزشتہ زمانے میں قرعہ اندازی کے وقت تیر کی لکڑیوں پرنا م لکھاکرتے تھے اورانہیں ایک دوسر ے کے ساتھ ملا دیتے تھے ،پھر ان میں سے ایک تیر کی لکڑی باہر نکالتے تھے،جس کے نام کاہوتا اسی کاقر عہ کہلا تا ۔ ’مد حض “ ” اد حاض “ کے مادہ سے باطل کرنے،زائل کرنے اورمغلوب کرنے کے معنی میں ہے . یہاں مراد یہ ہے کہ قرعہ ان کے نام نکلا ۔ یہ تفسیر بھی بیان کی جاتی ہے کہ دریامیں طوفان آگیاتھا اور کشتی پر وزن بہت زیادہ تھا اورکشتی میں بیٹھنے والوں کوہرلمحے غرق ہونے کاخطرہ ہونے لگا . اس کے سوااورکوئی چارہٴ کارنہیں تھاکہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو دریا میںپھینک دیاجائے اورقرعہ یونس علیہ السلام کے نام نکل آ ی. انہوں نے آپ کودریا میں پھینک دیا اورٹھیک اسی وقت ایک مگر مجھ وہاں آن پہنچااوراس نے آپ کونگل لیا۔ بہرحال قرآن کہتاہے کہ ایک بہت بڑی مچھلی نے اسے نگل لیاجب کہ وہ مستحق ملامت تھا(فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ وَ ہُوَ مُلیم) ۔ ” التقمہ “ ” التقام “ کے مادہ سے نگل جانے کے معنی میں ہے۔ ” ملیم“ دراصل ” لوم“ کے ماد ہ سے ہے جو ملامت کے معنی میں ہے ( اور جب یہ بابِ افعال میں چلا جائے تو استحقاق ملامت کے معنی دیتاہے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ یہ ملامت و سرزنش کسی کبیرہ یاصغیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے نہ تھی ، بلکہ اس کاسبب صرف ترکِ اولیٰ تھا،جوان سے سرزد ہوا اور وہ تھا وہ اپنی قوم کوچھوڑ جانے اوران سے ہجر ت کرنے میں جلد ی کرنا ۔ لیکن وہ خداجوآگ کو پانی کے اند ر اور شیشے کوپتھر کی آغوش میں محفوظ رکھتاہے، اس نے اس عظیم جانور کوحکم تکوینی دیاکہ اس کے بند ے یونس علیہ السلام کو معمولی سی تکلیف بھی نہ پہنچائے . حضرت یونس علیہ السلام کو ایک بے نظیر اورعجیب قید میں رہنا تھا ، تاکہ وہ اپنے ترکِ اولیٰ کی طرف متوجہ ہوں اوراس کی تلافی کریں ۔ ایک روایت میں آ یاہے : اوحی اللہ الی الحوت لا تکسر منہ عظماً ولا تقطع لہ وصلاً خدانے اس مچھلی کی طرف وحی کی کہ اس کی کوئی ہڈ ی نہ توڑ نااوراس کے کسی جوڑ کونہ کاٹنا ( ۲) ۔ یونس بہت ہی جلد اصل قضیّے کی طرف متوجہ ہوگئے . آپ نے پور ی توجہّ کے ساتھ بار گاہ ِ خداوندی کی طر ف رُخ کیا اوراپنے ترک ِ اولی پر استغفار کی اور اس کی مقدس بار گاہ سے عفو کاتقاضا کیا ۔ اس مقام پر ایک نہایت پرمعانی اور معروف ذکر حضرت یونس علیہ السلام کی زبا نی نقل ہواہے جو سورہٴ ابنیاء کی آ یہ ۸۷ میں آ یاہے اور اہل عرفان کے درمیان ذکر” یونسیہ “کے نام سے مشہور ہے : فَنادی فِی الظُّلُماتِ اٴَنْ لا إِلہَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمین اس نے تہہ بہ تہہ تار یکیوں میں پکا ر ا کہ :تیرے سواکوئی معبود نہیں ہے ، توپاک ومنزہ ہے میں ہی ظا لموں میں سے تھا ۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیاہے اور تیری بار گاہ میں سے دور ہوگیاہوں اور تیر ے عتاب وسرنش میں ، جومیرے لیے جہنم سوزاں کے مانند ہے ، گرفتار ہوگیاہوں ۔ اس مخلصانہ اعتراف او ر ندامت سے ملی ہوئی تسبیح نے اپناکام کیا اورجیسا کہ سورہٴ ابنیاء میں بیان ہوا ہے : فَاسْتَجَبْنا لَہُ وَ نَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنینَ ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اوراسے اسے غم وندوہ سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کواسی طرح سے نجات دیاکرتے ہیں ( ابنیا ء . ۸۸) ۔ اب دیکھیں زیر بحث آ یات اس سلسلے میں کیاکہتی ہیں،ایک مختصر سے جملے میں فرمایاگیا ہے:اگروہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا (فَلَوْ لا اٴَنَّہُ کانَ مِنَ الْمُسَبِّحین) ۔ تو یقینا وہ قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتا (لَلَبِثَ فی بَطْنِہِ إِلی یَوْمِ یُبْعَثُونَ)۔ اور یہ وقتی قید خا نہ دائمی زندان میںبدل جاتااوروہ دائمی زنداں اس کے لیے قبرستان میںبدل جاتا ۔ حضرت یونس علیہ السلام کامچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہنا ( بالفرض اگروہ درگاہِ الہٰی میں تسبیح او ر توبہ نہ کرتے ) زندہ صورت میں ہونا یامُرد ہ صورت میں . اس ضمن میں مفسّرین نے کئی احتمال بیان کیے ہیں ۔ پہلا احتمال تویہ ہے کہ وہ دونوں ہی زند ہ رہتے اوریونس علیہ السلام ایک قید کی صورت میں قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں قید رہتے۔ دوسرااحتمال یہ ہے کہ یونس علیہ السلام تو مر جاتے اور مچھلی چلتی پھرتی قبر کی صورت میں زندہ رہتی ۔ تیسرااحتمال یہ ہے کہ یونس علیہ السلام اور مچھلی دونوں ہی کاپیٹ یونس علیہ السلام کی قبر بن جاتا اور زمین مچھلی کی قبر . وہ مچھلی کے اندر اور مچھلی زمین کے اندر قیامت کے دن تک دفن ہوجاتے ۔ زیر بحث آ یت ان اقوام میں سے کسی کے لیے بھی دلیل نہیں بن سکتی . لیکن متعدد آ یات جویہ کہتی ہیں کہ اختتام دنیا پرست مرجائیں گے ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قیامت کے دن تک یونس کازند ہ رہنایامچھلی کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے اس لیے ان تینوں تفاسیرمیں سے تیسر ی تفسیر زیادہ مناسب نظر آ تی ہے ( ۳) ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تعبیر طولانی مدّت کے لیے کنا یہ ہو یعنی وہ ایک طولانی مدّت تک اسی زنداں میں رہتے . جیساکہ یہ تعبیراس سے ملتے جلتے موقعوں پراستعمال پر استعمال کی جاتی ہے کہ تجھے فلاں کام کے انتظار میں قیامت تک رہنا ہوگا ۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اس صورت میں ہوتا جب وہ تسبیح اور توبہ نہ کرتے لیکن ایسانہیں ہو ابلکہ انہوں نے تسبیح پروردگار کی اوراس کی خاص بخشش اور عفو ان کے شامل ِ حال ہو ئی ۔ پھر جیساکہ قرآن کہتاہے :ہم نے اسے ایک خشک اور درخت اورسبز ے سے خالی سرزمین میں پھینک دیا، اور اس حالت میں کہ وہ بیمار تھا (فَنَبَذْناہُ بِالْعَراء ِ وَ ہُوَ سَقیمٌ) ۔ وہ بہت بڑ ی مچھلی خشک و بے گناہ ساحل کے نزدیک آ ئی اورحکمِ خداسے اس لقمے کو جو اس سے زائد تھا باہر پھینک دیا ۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس عجیب و غریب زنداں نے یونس علیہ السلا م کے جسم کی سلامتی کو در ہم برہم کردیاتھا . لہذ اوہ بیمار و ناتواں اس زند اں سے آز ا د ہوئے ۔ ہمیں صحیح طورپر معلوم نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کتنی مدت تک مچھلی کے پیٹ میں رہے .لیکن یقینی طورپر جتنا عرصہ بھی رہے اس کے عوارض سے بچ نہیں سکتے تھے . یہ ٹھیک ہے کہ فر مان ِ الہٰی صادر ہو اتھا یونس علیہ السلام مچھلی کے بدن میں ہضم اور جذب نہ ہوں ،لیکن یہ اس معنی میں نہیں تھا کہ اس زندا ں کے کچھ آثار بھی وہ اپنے ساتھ نہ لائیں لہذا مفسّرین کی ایک جماعت نے لکھا ہے کہ وہ ایک نو مولود ،ضعیف و ناتواں اور بے پرو بال ، پرند ے کے بچے کی طرح مچھلی کے پیٹ سے باہر آ ئے . اس طرح سے کہ ان میں حرکت کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی ۔ پھر لطفِ الہٰی ان کے شامل ِ حال ہو ا،کیونکہ ان کابدن بیمار اور خستہ حال تھا اوران کاجسم کمزور و ناتوا ںتھا . ساحل کی دھوپ انہیں تکلیف پہنچا تی تھی . لہذ اان کے لیے ایک نرم و گداز اورلطیف قسم کے لباس کی ضرور ت تھی تاکہ ان کے بدن کو اس کے نیچے آرام حاصل ہو.اس مقام پر قرآن کہتا ہے :” ہم نے ایک کدّو کی بیل اس کے اوپر اگادی “ تاکہ وہ اس کے چوڑ ے اور مرطوب پتوں کے نیچے آ رام کرے (وَ اٴَنْبَتْنا عَلَیْہِ شَجَرَةً مِنْ یَقْطینٍ) ۔ ” یقطین “ کامعنی بہت سے اربابِ لغت اور مفسّرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ یہ اس پودے کوکہتے ہیں جس کی شاخ اور تنانہ ہو. اور جس کے پتے چوڑے ہوں . مثلاًخربوزہ ،کدو ، کھیر ااور تربوز وغیرہ . البتہ بہت سے مفسّرین اوراویانِ حدیث نے تصریح کی ہے کہ اس مقام پر اس سے مراد کدّو کی بیل ہے . توجہّ رہے کہ ”شجرة “ عربی زبان میں ان نباتات کو بھی کہاجاتا ہے جن کاتنا اور شاخ ہو اوران کوبھی جوتنا اور شاخ نہ رکھتے ہوں . دوسر ے لفظوں میں یہ درخت اور پود ے کے لیے عام ہے . یہاں تک کہ اس ضمن میں پیغمبر گرامی السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث بھی نقل کی گئی ہے کہ ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے عرض کیا : انک تحب القرع آپ کدو کوپسند کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فر مایا : اجل ھی شجرة اخی یونس ہاں یہ میرے بھائی یونس علیہ السلام کی سبزی ہے ( ۴) ۔ کہتے ہیں کہ کدو کی بیل میں اس کے علاوہ کہ اس کے پتے چوڑ ے اورپانی سے پُر ہوتے ہیں اوراس سے اچھا خاصا سائبان بنایاجاسکتاہے ، مکھی بھی اس کے پتوں پر نہیں بیٹھتی اور یونس علیہ السلام کے بد ن کی جلد مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے اس قدر نازک اورحساس ہوگئی تھی کہ اس پرحشر ات کے بیٹھنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی . انہوں نے اپنے بدن کو اس کدّ وکی بیل کے ساتھ چھپالیا تاکہ سورج کی پتش سے بھی مامون رہیں اور حشر ا ت الارض سے بھی ۔ شاید خدا کو یہ مطلوب ہے کہ وہ سبق جو حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں دیاتھا اس کی اس مرحلہ میں تکمیل کرے . وہ سورج کی تپش اور اس کی حرارت کو اپنے بدن کی نازک جلدپر محسوس کریں . تاآ یند ہ رہبر ہوتے ہوئے اپنی امت کی جہنم کی جلانے والی آگ سے نجا ت کے لیے زیادہ کوشش کریں . یہی مضمون بعض روایا ت میں بھی آ یا ہے ( ۵) ۔ اب ہم حضرت یونس علیہ السلام کاذکر چھوڑ تے اوران کی قوم کا حال بیان کرتے ہیں ۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے غیض وغضب کی حالت میں اپنی قوم کوچھوڑ دیا اورخد ا کے غضب ک آ ثار بھی اس پر ظاہر ہوگئے ، تووہ لوگ شدّت کے ساتھ لرزاُٹھے . اب انہیں ہوش آ یا . ایک عالم کہ جوان کے درمیان رہتاتھا وہ اس کے گر و جمع ہوگئے اور اس کی رہبر ی اور ہدایت سے تو بہ پرآ ما دہ ہوگئے ۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ سب مل کربیابا ن کی طرف چل پڑ ے اور عورتو ں اوربچّوںنیز جانور وں اوران کے بچوں کے درمیان جدائی ڈال دی .پھر گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے اورنالہ وفریاد کی صدابلند کی . اورخلوص کے ساتھ اپنے گناہوں اوران کوتا ہیوں پر توبہ کی کہ جو انہوں نے خدا کے پیغمبرحضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ روا رکھی تھیں ۔ اس موقع پر عذاب کے پردے ہٹ گئے اور وہ حادثہ پہاڑ و ں پر جاگر. اورتوبہ کرنے والے اہلِ ایمان نے لطفِ الہٰی کے باعث نجات پائی ( ۶) ۔ حضرت یونس اس ماجرے کے بعد اپنی قوم کے پاس آ ئے تاکہ دیکھیں کہ عذاب سے ان پر کیاگز ری ؟ جب وہ آ ئے تو بہت متعجّب ہوئے کہ گو یا دنیا بد ل گئی . وہ تو ان کی ہجرت کے وقت سب کے سب بُت پرست تھے لیکن اب وہ سب کے سب خدا پرست موحّد بن گئے ہیں ۔ قرآن اس موقع پر کہتاہے :ہم نے اسے ایک لاکھ یااس سے کچھ زیادہ افراد کی طرف بھیجا(وَ اٴَرْسَلْناہُ إِلی مِائَةِ اٴَلْفٍ اٴَوْ یَزیدُونَ)۔ وہ ایمان لے آ ئے اورہم نے انہیں ایک معیّن مُدّت تک دنیا وی نعمتیں اور زندگی سے بہر ہ مند کیا (فَآمَنُوا فَمَتَّعْناہُمْ إِلی حین) ۔ البتہ ان کااجمالی ایمان اورتوبہ توپہلے ہوچکی تھی لیکن خدااوراس کے پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام اوران کی تعلیمات واحکام پر تفصیلی ایمان اس وقت صورت پذیر ہو ا جب جناب ِ یونس علیہ السلام ان کے درمیان پلٹ کرآئے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آ یات قرآنی سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ ما مور یت نئے سر ے سے اسی قوم کی طرف ہوئی تھی اور یہ جو بعض نے ان کی جدید ماموریت کو ایک نئی قوم کے لیے سمجھا ہے وہ ظاہر آیات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے ، کیونکہ ایک طرف تویہ بیان ہوا ہے کہ: فَآمَنُوا فَمَتَّعْناہُمْ إِلی حین یعنی یہ قوم جس کی ہدایت کے لیے یونس علیہ السلام مامور ہوئے تھے وہ ایمان لے آ ئی اور ہم نے انہیں ایک معین زمانے تک بہرہ مند کیا ۔ اور دوسری طرف یہی تعبیر سورہٴ یونس میں اسی سابق قوم کے بار ے میں آ ئی ہے۔ فَلَوْ لا کانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَہا إیمانُہا إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنا عَنْہُمْ عَذابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ مَتَّعْناہُمْ إِلی حینٍ (دوسری ) قوموں میں سے کوئی قوم بر وقت ایمان کیوں نہ لائی تاکہ وہ ان کے حال کے لیے مفید ہوتا . سوائے قومِ یونس کے کہ جس وقت وہ ایمان لے آ ئی توہم نے دنیاوی زندگی میں خوار کرنے والاعذاب ان سے برطرف کردیااور ہم نے انہیں ایک مدّت معین تک بہرہ مند کیا(یونس. ۹۸) ۔ ضمنی طورپر یہاں یہ بھی واضح ہو جاتاہے کہ ” الیٰ حین “ (معیّن مدتک ) سے مراد وہی ان کی زند گی اور اجل طبیعی کااختتام ہے۔ زیر بحث آ یات میں ” ایک لاکھ یااس سے زیادہ “ کیوں فر مایاگیاہے اور زیادہ سے مراد کتنی تعداد ہے ؟ اس بار ے میں مفسّرین نے طرح طرح کی تفسیریں بیان کی ہیں .لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس قسم کی تعبیریں کسی چیز کی عظمت اور تاکید کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ کہنے والے کے شک وشبہ کے لیے ( ۷) ۔ ۱۔ یہ پرو گرا م پورا ہوگیااورحضرت یونس علیہ السلام نے ان پر نفرین کی اورانہیں بد دعادی . جوآپ پروحی آ ئی کہ فلاں وقت عذاب ِ الہٰی نازل ہوگا . جب عذاب کے وعد ے کاوقت قریب آیا توحضرت یونس علیہ السلام اس عابد کے ساتھ اس قوم کے درمیان سے باہر چلے گئے ، ایسی حالت میں کہ آپ نہایت غُصّے میں تھے یہاں تک کہ دریا کے کنارے پرپہنچ گئے وہاں لوگوں اور وزن سے بھری ایک کشتی دیکھی . آپ نے ان سے خواہش کی کہ مجھے بھی اپنے ہمراہ لے چلیں ۔ ۲۔ تفسیر رازی جلد ۲۶ ص ۱۶۵ ۔ نیز یہی بات تھوڑ ے سے فرق کے ساتھ تفسیر برہان جلد ۴ ،ص ۳۷ پربیان کی گئی ہے۔ ۳۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ مفسّرین عظیم طبرسی مرحوم جوعام طورپر مختلف اقوام آ یات کے ذیل میں جمع کرتے ہیں.یہاں انہوں نے صرف اسی احتمال پرقناعت کی ہے اور کہتے ہیں : لصار بطن الحوت قبراً لہ الیٰ یوم القیامة مچھلی کاپیٹ قیامت تک کے لیے ان کی قبر بن جاتا ۔ ۴۔ روح البیان جلد ۷ ص ۴۸۹۔ ۵۔ تفسیر نورالثقلین جلد ۴ ص ۴۲۶ حدیث ۱۱۶۔ ۶۔ تفسیربر ہان جلد ۴ ص ۳۵ پریہ حدیث امام صادق علیہ ا لسلام سے منقول ہے۔ ۷۔ اس بناء پر یہاں ” بل “ (یعنی بلکہ ) کے معنی میں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
۱۔ حضرت یونس کی زندگی کی مختصر تاریخ
” یونس “ ” متی “ کے فر زند ہیں ” ذو النون “ ( مچھلی والا ) آپ کالقب ہے اور یہ لقب اس بنا پر ہے کہ چونکہ ان کی سر گزشت . جیساکہ ہم نے بیان کیاہے . ایک مچھلی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے .آپ ان مشہور پیغمبروں میں سے ہیں جو حضرت موسٰی علیہ السلام اورحضرت ہارون علیہ السلام کے بعد اس دنیا میں آ ئے ۔ بعض نے انہیں حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے قرار دیا ہے اوران کی ماموریت قومِ ثمود کے باقی ماندہ لوگوں کی ہدایت قرار دیاہے۔ ان کے ظہور کامقام عراق کاایک علاقہ تھا جس کانام نینوا تھا ( 1) ۔ بعض کتابوں نے لکھا ہے کہ آپ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبرتھے جوحضرت سلیمان علیہ السلا م کے بعداہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے ۔ کتاب ” یوناہ “ میں جوعہد عتیق ( تو رات ) کی کتابوں میں سے ہے . ”یونس “ کے بار ے میں تفصیل ذکر” یوناہ بن متی “ کے نام سے کیاگیاہے۔ اس کے مطابق وہ اس بات کے لیے مامور ہوئے تھے کہ عظیم شہر نینوا جائیں اور لوگوں کی شر ارت کے خلاف قیام کریں. اس کے بعد کچھ اور واقعات بھی بیان کے گئے ہیں جو قرآن کے بیان سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں .فرق صرف اتنا ہے کہ اسلامی روایات کے مطابق توحضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کودعوت دینے کے لیے قیام کیااوراس سلسلے میں اپنے فر یضے اورذمّہ داری کوانجام دیااور جب انکی قوم نے ان کی دعوت کورد کر دیاتوانہوں نے نفرین کی اور بددعا دی . پھر ان کے درمیان سے چلے گئے او ر کشتی اور مچھلی کاواقعہ انہیں پیش آ یا . لیکن تو رات کی عبارت بہت ناموزوں سی ہے اور تصریح کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ انجام ذمّہ داری سے پہلے ہی یہ چاہتے تھے کہ استعفٰی دے دیں .لہذ اوہ بھاگ کھڑ ے ہوئے او رکشتی اور مچھلی والاواقعہ پیش آیا ۔ اس سے بھی پڑھ کرتعجّب کی بات یہ ہے کہ ” تورات “ کہتی ہے۔ جب خدانے اس قوم سے ان کی توبہ کی وجہ سے عذاب اٹھالیا ،تو یونس علیہ السلام کوبہت دُکھ ہوااور وہ بھڑک اُٹھے ( 2) ۔ تورات کی فصول سے معلوم ہوتاہے کہ یونس علیہ السلام کودومر تبہ مامور کیاگیاپہلی ماموریت کے موقع پر انکار کردیااوراس دردناک انجام میں مبتلا ہوئے . دوبارہ انہیں مامور کیاگیاہے کہ اسی شہر” نینوا “ کی طرف جائیں کہ نینوا کے لوگ بیدار ہوچکے ہیں اورخد اپر ایمان لے آ ئے ہیں اور انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ہے . اور وہ عفوِ الہٰی ان کے شامل ِ حال ہوگیا ہے ، لیکن یہ عفو و بخشش یونسکو اچھی نہیں لگی ۔ قرآن اوراسلامی روایا ت کے بیا نات کا موجودہ تورات کے بیانات سے مواز نہ کرنے سے واضح ہو جاتاہے کہ ” تورات“ میں کتنی تحریف ہوگئی ہے کہ اس نے اس عظیم پیغمبر علیہ السلام کے مقام کو اس قدر گرادیا ہے . کبھی ان کی طرف ما موریت اور ذمّہ داری قبو ل نہ کرنے کی نسبت دیتی ہے اور کبھی ایک تو بہ کرنے والی قوم پر پر وردگار کے عفو و رحمت کودیکھ کرخشمناک ہونے کی نسبت دیتی ہے . یہی چیزیں ہیںجو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ موجودہ تورات کسی لحاظ سے بھی قابلِ اعتماد کتاب نہیں ہے بہرحال وہ ایک عظیم پیغمبر ہیںجن کوقرآن نے عظمت کے ساتھ یاد کیا ہے۔ 1۔” نینوا “ کئی مقامات کا نام ہے پہلاموصل کے نزدیک شہر ہے ( یاقصبہٴ موصل ) اور دوسرا اطرافِ کوفہ میں کربلا کی سمت کاایک علاقہ ہے اورایشیائے کوشک میں ایک شہر ہے جودجلہ کے کنار ے واقع مملکت آشور کاپایہ ٴ تخت ہے ( دائرة المعارف دھخدا بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ” نینوا“ ملک آشور کاایک بہت بڑا شہر ہے جوموصل کے بالکل سامنے دجلہ کے مشرق کنارے پر تعمیر کیاگیاتھا ۔ (فرہنگ قصصِ قرآن ) بعض نے ان کاظہور ۸۲۵ قبل مسیح لکھاہے اوراب بھی کوفہ کے نزدیک شطِ فرات کے کنار ے ” یونس“ کے نام کی ایک معروف قبر موجود ہے۔ 2۔تورات کتاب یوناہ پیغمبر فصل اول و دوم وسوم و چہارم ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
۲۔ یونس مچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے ؟
ہم بیان کرچکے ہیں کہ ہمار ے پاس کوئی واضح دلیل نہیں ہے کہ یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنی مدّت رہے ؟چند گھنٹے یاچند دن یاچند ہفتے ؟بعض روایات میں نوگھنٹے ، بعض میں تین دن اوربعض میں اس سے زیادہ ، یہاں تک کہ چالیس دن تک کی مدت بیان کی گئی ہے ، لیکن ان اقوال کاکوئی یقینی ثبوت موجود نہیں ہے . صر ف تفسیر علی بن ابراہیم میں امیر الموٴ منین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں حضرت یونس علیہ السلام کامچھلی کے پیٹ میں تو قف ۹ گھنٹے بیان ہوا ہے ( ۱) ۔ بعض مفسّرین اہل ِ سنت نے اس کی مُدّت ایک گھنٹہ بھی بیان کی ہے ( 2) ۔ لیکن جوکچھ بھی ہو بلاشک وشبہ یہ توقف ایک غیرمعمولی امر ہے انسان ایسے ماحول میں جہاں ہو انہ ہو چند منٹ سے زیادہ زندہ نہیں رکھ سکتا . اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں کئی ماہ تک زندہ رہتاہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اس کے تنفس کی مشینر ی نے اپنا کام کرنا شر وع نہیں کیاہوتا اور وہ ضر وری آ کسیجن صرف ما ں کے خون کے راستے سے حاصل کرتاہے۔ اس بنا پر حضرت یونس علیہ السلام کاماجرا بلاشبہ ایک اعجاز ہے اور یہ پہلا اعجاز نہیں ہے جوہمیں قرآن سے معلوم ہوا ہے . وہی خدا جس نے ابراہیم علیہ السلام کوآگ کے درمیان صحیح وسالم رکھ. اور موسٰی و بنی اسرائیل کو دریا کے وسط میں خشک راستے بناکر غرق ہو نے سے بچا ی. اور نوح کو ایک سادہ اور عام کشتی کے ذریعے اس عظیم اوروسیع طو فان سے نجا ت بخشی اورصحیح وسالم زمین پر اتارا . وہی خدا یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ اپنے مخصوص بندوں میں سے ایک بندے کو ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میںصحیح وسالم رکھے ۔ البتہ گزشتہ او ر مو جودہ زمانے میں اس قسم کی بڑی مچھلیوں کاموجو د ہوناکوئی عجیب بات نہیں ہے . اس وقت بھی بڑی بڑی مچھلیاں ” وہیل “ نام کی موجود ہیں . جن کی لمبائی ۳۰ میٹر سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ اس زمین کاسب سے بڑ ا جانور ہے اور اس کاجگر ایک ٹن تک ہوتاہے۔ ہم نے اسی سورہ میں گزشتہ ابنیاء کی داستانیں پڑھی ہیں جنہوںنے اعجاز آمیز طریقے سے بلاؤں اورمصائب کے نیچے سے نجات پائی اور حضرت یونس علیہ السلام اس سلسلہ ٴ بیان کے آخر ی نبی ہیں ۔ ۱۔ نورالثقلین جلد ۴ ص ۴۳۶ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم ۔ ۲۔تفسیر قُرطبی جلد ۸ ص ۵۵۶۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
۳۔ چھوٹی سی داستان میں بہت سے سبق
ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں ان قصّوں کابیان تربیتی مقاصد کے لیے ہے کیونکہ قرآن کوئی قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ انسان اور تر بیّت کی کتاب ہے۔ اس عجیب داستان میں سے بہت سے پند ونصائح حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ الف :تخلّف ،چاہے ایک بزرگ پیغمبر سے ، ایک ” تر ک اولیٰ “ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو خدا کی بارگاہ میں بہت اہم ہے او ر موجبِ سزا ہے۔ البتہ چونکہ پیغمبر وں کامقام بہت اونچا ہوتاہے لہذاان کی ایک چھوٹی سی غفلت بھی کبھی دوسروں کے گناہ کبیرہ کے برابر سمجھی جاتی ہے . اسی بنا پر ہم نے دیکھ لیاہے کہ اس داستان میںخدانے انہیں بھاگ جانے والاغلام کہا ہے . روایات میں بیان کیاگیاہے کہ کشتی میں بیٹھنے والوں نے کہا تھاکو ئی گنہ گا رآدمی ہمارے درمیان ہے اور انجام کارخدا نے انہیں ایک وحشت ناک زنداں میں گرفتار کی. اور توبہ اورخدا کی طرف گشت کے بعد اس زنداں سے خستہ حال اوربیمار بدن کے ساتھ آزاد ہوئے تھے ۔ تاکہ سب لوگ جان لیں کہ تخلّف اور گناہ کسی شخص سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے .انبیاء و اولیاء ِ خدا کے مقا م کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ وہ اس کے فرمان کے مطیع ہوتے ہیں .ورنہ کوئی بھی خداکے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا . البتہ یہ اس عظیم پیغمبر کی عظمت کی نشانی ہے کہ خدااس کے بار ے میں اس قسم کی سخت گیری کر رہاہے۔ ب : اسی داستان ( کے اس حصّے میں جوسورہ ٴ انبیاء کی آ یت ۸۷ میں آ یاہے ) میں موٴ منین کے غم و اند وہ اور مشکلات سے نجات کابھی وہی راستہ بتا یا گیاہے جو خود حضرت یونس علیہ السلام نے طے کیاتھا اور وہ ہے حق تعالیٰ کی بار گاہ میں خطا اور غلطی کااعتراف ،تسبیح و تنزیہ اور اس کی بار گا ہ میں توبہ وانابت وبا ز گشت ۔ ج :یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ایک گنہ گا ر اور مستحقِ عذاب قو م ، کس طرح سے آ خری لمحات میں اپنی تاریخ کا راستہ بدل سکتی ہے اور خدا کی رحمت ومحبت بھری آغوش کی طرف پلٹ کرنجات پاسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ موقع ہاتھ سے نکلنے سے پہلے متوجہ ّ ہو جائے اور اگر ہوسکے توکسی الم کواپنی رہبری کے لیے منتخب کرے ۔ د:یہ ماجر ااس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ خدا پر ایمان اور گناہ سے توبہ آثار و بر کات کے علاوہ ،دنیا کی ظاہری نعمتوں کارُخ بھی انسان کی طرف موڑ دیتی ہے ، آبادی بڑھاتے ہے نیزطو ل ِ عمر اور زندگی کی نعمتوں سے فائد ہ اٹھانے کاسبب بنتی ہے ، اور مطلب کی نظیر حضر ت نوح علیہ السلام کی داستان میں بھی آ ئی ہے . اس کی تفصیل و تشریح انشاء اللہ سورہٴ نوح کی تفسیر میں بیان کی جائے گی ۔ ھ :خداکی قدرت اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کے سامنے کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے . یہاں تک کہ وہ ایک انسان کو ایک عظیم اوروحشت ناک جا نور کے کے منہ اور پیٹ میں سالم ومحفوظ رکھ سکتاہے اور سالم ہی باہر نکل سکتاہے یہ امور اس بات کی نشادہی کرتے ہیں کہ اس عالم کے تمام اسباب اس کے اراد ے کے تحت اوراس کے فر مان کے سامنے سرنگوں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:139-148
۵۔ اسلام میں قرعہ انداز کی مشر و عیت
قرعہ سے بڑھ کرعادلا نہ فیصلہ اورکون ساہو سکتاہے ( کہ جب معاملہ مشکل ہوجائے ) تو موضوع کو خدا کے سُپرد کردیا جاء ، کیا خدا ( قرآن مجیدمیں یونس علیہ السلام کے بار ے میں ) نہیں کہتاہے ” فَساہَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضین“ (یونس نے کشتی میںبیٹھنے والوں کے ساتھ قرعہ اندازی کی اور قرعہ یونس کے نام نکلا اور وہ مغلوب ہوگئے ( 1 ) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب معاملہ مشکل ہوجائے اوراس کے حل کی اور کوئی دوسری راہ موجود نہ ہو اورکام کو خدا کے سپرد کردیاجائے تو واقعاً قرعہ راہ کشا ہوتاہے . جیساکہ حضرت یونس علیہ السلام کی داستان میں حقیقت پرٹھیک منطبق ہوا ۔ یہی مطلب ایک دوسر ی حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہواہے . آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں : لیس من قوم تنا زعوا ( تقارعوا ) ثم فوضوا امرھم الی اللہ الاّ خرج سھم المحق کسی قوم نے ( جب مسئلہ کے حل کی تمام راہیں مسدود ہوگئی ہوں ) قرعہ پراقدام نہیں کیا جبکہ انہوں نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کردیا ہو . مگر یہ کہ قرعہ حقیقت کے مطابق نکلا اورحق آشکار وواضح ہوگیا ( 2) ۔ اس مسئلے کی مزید تشریح و تفصیل ہم نے کتاب ” القواعد الفقھیہ “ میں بیان کی ہے۔ 1۔ تفسیر برہان جلد ۴ ص ۳۷ (حدیث ۶) 2۔وسائل ، کتاب القضاء جلد ۱۸ باب الحکم بالقرعة فی القضایا المشکتہ از ابواب کیفیتہ الحکم واحکام الد عویٰ (باب ۱۳ ) حدیث ۵۔