فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَا إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍ
Ask them, is their creation more prodigious or [that of other creatures] that We have created? Indeed, We created them from a viscous clay.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 37:11
[Pooya/Ali Commentary 37:11] Man has been created from muddy clay. See commentary of Anam: 2; Araf: 12 and Sajdah: 7. Among men there are the disbelievers, the doubters, the evil-doers, the deniers of Allah's grace and mercy, who have forgotten their lowly state. There is a wonderful variety of created beings in His spacious creation. He has destroyed men like them, more stronger and powerful than them, in the past. He can, if He wills, wipe them off from the surface of the earth and bring another generation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:11-15
۲۔ اس آیت کی ایک شان ِ نزول
بعض مفسرین نے زیر بحث آ یت کی ایک شانِ نزول بھی بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبراکر م(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ایک مشرک سے جس کانام ” رکانہ “ تھا اطراف ِ مکّہ کے ایک پہاڑ پر تنہائی میں ملاقات ہوئی . باوجود اس کے کہ لکانہ مکّہ کے لوگوں میں سب سے زیادہ قوی اور طاقتور تھا ، پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اسے زمین پر پٹخ دیاتاکہ اس پر ظاہر کردیں کہ آپ معجزے کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ عام حیثیت کے لحاظ سے حریف کی کامیابی مسلّم تھی . اس کے بعد آپ نے اپنے کچھ اورمعجزات بھی اسے دکھائے کہ جو اس کی ہدایت کے لیے کافی تھے لیکن وہ نہ صرف یہ کہ ایمان نہیں لایا بلکہ مکّہ میں آیا اور چلاّ کر کہا : یابنی ھاشم ساحروا بصاحبکم اھل الارض اے بنی ہاشم ! تمہاراساتھی جادُو میں اتنا قوی ہے کہ تم اس کے ذر یعہ روئے زمین کے تمام جادو گروں کا مقابلہ کرسکتے ہو ۔ زیرنظر آ یات اس کے اوراس جیسے افراد کے بار ے میں نازل ہوئیں ( 1) ۔ 1۔ تفسیرروح المعانی جلد ۲۲ ،ص ۷۱۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:11-15
وہ ہر گز حق کوقبول نہیں کریں گے
یہ آیات بھی مسئلہ قیامت او ر ہٹ دھرم منکرین کی مخالفت کو بیان کررہی ہیں ۔ گزشتہ بحث کے بعد اب ان آیات میں قرآن ہرچیز پر خدا وندتعالیٰ اور آسمان وزمین کے خالق کی قدرت کے متعلق فرماتا ہے :ان سے پوچھوکیاان کی خلقت اور معادزیادہ مشکل اورسخت تر ہے یافرشتوں اور آسمانوں و زمین کی خلقت (فَاسْتَفْتِہِمْ اٴَ ہُمْ اٴَشَدُّ خَلْقاً اٴَمْ مَنْ خَلَقْنا ) ۔ ہاں ہم نے انھیں ایک معمولی سی چیز ،چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا (إِنَّا خَلَقْناہُمْ مِنْ طینٍ لازِبٍ ) ۔ گو یا مشرکین جومعاد کے منکر تھے انھوں نے گزشتہ آیات سننے کے بعد یہ اظہا ر کیاکہ ہماری خلقت آسمان و زمین اور فرشتوں کی خلقت سے زیادہ اہمیّت رکھتی ہے۔ قرآن ان کے جواب میں کہتاہے : انسانوں کی خلقت ،وسیع زمین و آسمان اوران فرشتوں کی خلقت کے مقابلے میں ، جو ان عوامل میں ہیں کوئی زیادہ اہمیّت نہیں رکھتی ، کیونکہ انسان کی خلقت کامبداٴ مٹھی بھرچپکنے والی مٹی سے زیادہ نہیں ہے۔ ” استفتھم “ ” استفتاء “ کے مادہ سے نئی خبروں کے مطالبہ کے معنی میں ہے اور یہ جونوجوان کو ’ ’ فتٰی “ کہاجاتاہے وہ بھی اس کی روح وجسم کی تر وتاز گی کی بنا پر ( ۱) ۔ یہ تعبیرا ت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگروہ حقیقتاً اپنی خلقت کو آسمان اور فرشتوں کی خلقت سے زیادہ اہم اور زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں تو یہ بالکل ایک نئی بات ہے جس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ” لازب“ کالفظ بعض کے قول کے مطابق اصل میں ” لازم “ تھا . اس کی ” میم “ ” ب “ سے بدل گئی ہے اور اب اسی شکل میں استعمال ہوتاہے .بہرحال یہ ایسی مٹی کے معنی میں ہے جس کے اجزاء ایک دوسر ے کے ساتھ لازم یعنی چپکے ہوئے ہیں . کیونکہ انسان کی خلقت کاپہلایہ مبداٴ تومٹی ہی ہے اس کے بعد اس میں پانی ملایاگیا ہے . پھر آہستہ آہستہ اس نے بد بو دار گار ے کی صورت اختیار کی . اس کے بعد و ہ چپکنے والاگار ابن گیا ۔ ( اس بیان کے ساتھ قرآن مجید کی آیات کی گو ناگوں تعبیرات جمع ہوتی ہیں ) ۔ اس لے بعد مزید فرمایاگیا ہے: توان کے معاد کے بار ے میں انکار سے تعجّب کرتاہے ، لیکن وہ تو معاد کامذاق اڑاتے ہیں (بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُونَ ) ۔ اس برائیوں کاعامل صرف لاعلمی اورجہالت نہیں ہے بلکہ ہٹ دھرمی اور عناد ہے . اس لیے جب انھیں یاددہانی کرائی جائے معاد کے دلائل اورخدائی عذاب کی یاد دہانی تووہ ہر گز متوجّہ نہیں ہوتے اوراسی طرح سے اپنی راہ پر چلتے رہتے ہیں(وَ إِذا ذُکِّرُوا لا یَذْکُرُونَ ) ۔ اور اس سے بھی پڑھ کر ہ کہ : جب وہ تیر ے معجزات میں سے کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو نہ صرف خودتمسخر اڑاتے ہیں بلکہ دوسروں کوبھی ٹھٹھا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں (وَ إِذا رَاٴَوْا آیَةً یَسْتَسْخِرُون) ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادؤ ہے اورکچھ نہیں (وَ قالُوا إِنْ ہذا إِلاَّ سِحْرٌ مُبین) ۔ ان کامعجزات اور آیات الہٰی کو ” ھذٰا ‘ ‘ ( یہ ) کہنااس لیے تھا تاکہ وہ انھیں حقیر اور بے قدرو قیمت ظاہر کریں اورانھیں ”سحر “ کہنااس بنا پر تھا کہ ایک طرف توپیغمبر السلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے خارق اور لعاد ہ اعمال افعال قابلِ انکار نہیں تھے اور دوسری طرف وہ ایک معجزہ کے طورپر ان کے سامنے سرتسلیم خم کرنانہیں چاہتے . تھے صرف ایک لفظ جوان کی شیطنت کااظہار اوران کی ہو ائے نفس کو پورا کر سکتا تھا وہ یہی لفظ سحر تھا جو اس حال میں بھی قرآن اور پیغمبرکے عجیب اورانتہائی زیادہ اثر کے بار ے میں دشمن کے اعتراف کی نشاندہی کرتاہے۔ ۱۔ ” روح المعانی “ زیربحث آ یت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:11-15
سوره صافات / آیه 11 - 15
۱۱۔فَاسْتَفْتِہِمْ اٴَ ہُمْ اٴَشَدُّ خَلْقاً اٴَمْ مَنْ خَلَقْنا إِنَّا خَلَقْناہُمْ مِنْ طینٍ لازِبٍ ۔ ۱۲۔بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُونَ ۔ ۱۳۔وَ إِذا ذُکِّرُوا لا یَذْکُرُونَ ۔ ۱۴۔ وَ إِذا رَاٴَوْا آیَةً یَسْتَسْخِرُونَ ۔ ۱۵۔ وَ قالُوا إِنْ ہذا إِلاَّ سِحْرٌ مُبینٌ ۔ ترجمہ ۱۱۔ ان سے پوچھو کیاان کی خلقت (اور معاد ) زیادہ مشکل ہے یافرشتوں (اور آسمان وزمین ) کی خلقت ؟ہم نے انھیں چپکنے والی مٹی سے پیدا کیاہے ہے۔ ۱۲۔ توا ن کے انکار سے تعجب کرتاہے لیکن وہ توٹھٹھا کرتے ہیں ۔ ۱۳۔ اورجس وقت انھیں نصیحت کی جائے تووہ ہرگز متوّجہ نہیں ہوتے ۔ ۱۴۔ اورجب وہ کوئی معجزہ دیکھیں تودوسر وں کو بھی ٹھٹھاکر نے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ۱۵۔ اورکہتے ہیں یہ تو نرا کُھلاجادُو ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 37:11-15
۱ ۔ ”یَسْتَسْخِرُون “ کا مفہوم
مفسرین کی ایک جماعت کے نظر یہ کے مطابق لفظ ” یَسْتَسْخِرُون“ ” یسخرون “ (تمسخر اڑاتے ہیں ) کے معنی میں آیا ہے اوران دونوں تعبیروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اجبکہ بعض دوسرے ان دونوں کے درمیان مختلف معانی کے قائل ہیں ” وہ ” یَسْتَسْخِرُون“ کو اس مفہوم کی بنا پر جو باب استفعال میں پوشیدہ ہے ، دوسروں کو تمسخر اڑا نے کی دعوت دینے کے معنی میں سمجھتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ صرف خود آیات ِ الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسر ے بھی یہ کام سرانجام دیں تا کہ یہ امر معاشرے میں مذاق ہی بن کررہ جائے ۔ بعض ان دو نوں کے فرق کو زیادہ تاکید کے معنی میں سمجھتے ہیں جو لفظ ” یَسْتَسْخِرُون“ سے معلوم ہوتی ہے۔ بعض نے اس لفظ کو ” کسی چیز کے مذاق ہونے کاا عتقاد رکھنے کے معنی میں بیان کیا ہے . یعنی وہ شدید انحراف کے نتیجے میں حقیقتا ً یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ معجزا ت ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ، لیکن دوسرا معنی سب سے زیادہ مناسب نظر آتاہے۔