أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ
Is not He who created the heavens and the earth able to create the like of them? Yes indeed! He is the All-creator, the All-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 36:81
[Pooya/Ali Commentary 36:81] The stress laid on alim (knowing) is to show that no being without consciousness can have any creative power. See Bani Israil: 99.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
چند نکات
چند نکات اس تفسیرمیں ہم نے متعدد بار وعدہ کیا ہے کہ سورہ یٰسین کے اختتام پر ہم معاد کے مختلف پہلوؤں پر ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "کن فیکون" کے بارے میں جلد اول سورہ بقرہ کی آیه 117 کے ذیل میں بھی بحث کی گئی ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کچھ تفصیلی گفتگو کریں گے ۔ اس وقت ہم اس عہد کو پورا کرتے ہوئے قارئین محترم کی توجہ ذیل کی چھ بحثوں کی طرف دلانا چاہیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
سورہ یٰس / آیه 81 - 83
(81) اَوَلَيْسَ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ بِقَادِرٍ عَلٰٓى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَـهُـمْ ۚ بَلٰى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِـيْمُ (82) اِنَّمَآ اَمْرُهٝٓ اِذَآ اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (83) فَسُبْحَانَ الَّـذِىْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَىْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ترجمہ (81) کیا وہ ذات کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا ہے اس بات ک پر قادر نہیں ہے کہ ان کے مانند (خاک شدہ انسانوں) کو پیدا کردے ۔ ہاں وہ خلاق علیم ہے۔ (82) اس کا امر تو صرف یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اُسے کہتا ہے "ہوجا" تو وہ بلا فاصلہ ہوجاتی ہے۔ (83) پس منزہ ہے وہ خدا کہ جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی مالکیت و حاکمیت ہے اور (سب کے سب) اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
6- بہشت و دوزخ
6- بہشت و دوزخ : بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کا عالم مکمل طور پر اسی جہان کے مشابہ ہے البتہ زیادہ کامل اور زیادہ عمده شکل میں ۔ لیکن ہمارے پاس بہت سے ایسے قرائن موجود ہیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس جہان اور اس جہان کے درمیان کیفیت و کمیت کے لحاظ سے بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم اس فاصلے کو چھوٹے سے جنین کے عالم کی اس وسیع دنیا کے درمیانی فاصلے سے تشبیہ دیں تو پھر بھی کامل موازنہ نہیں ہوگا۔ بعض روایات کی صراحت کے مطابق وہاں ایسی چیزیں ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے ، یہاں تک کہ کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ لہذا | قرآن مجید کہتا ہے: فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة عين کوئی انسان نہیں جانتا کہ کیسی کیسی چیزیں ۔۔۔۔ کہ جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب ہیں ۔ اس کے لیے پنہاں رکھی گئی ہیں"۔ (الم سجدہ ۔۔۔۔۔۔ 17)۔ اس جہان پر حاکم نظام اس عالم پر حاکم نظام سے مکمل طور پر مختلف ہے یہاں افراد بطور گواہ عدالت میں جاتے ہیں لیکن وہاں ہاتھ اور پاؤں یہاں تک کہ بدن کی جلد بھی گواہی دے گی : اليوم نختم علٰى افوا هھم و تكلمنا آیدیهم و تشھد ارجلھم بما كانوا يكسبون (يٰسین ۔۔۔۔۔۔۔۔ 65)۔ وقالوا لجلود هم لم شہدتم علينا قالوا انطقنا الله الذي انطق كل شيء (حم سجدہ ۔۔۔۔۔۔ 21)۔ بہرحال دوسرے جہان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے وہ صرف دور کی ایک بات ہے کہ جس قدر ہماری سمجھ میں آتی ہے اور اصولی طور یہ ہماری الف باء اور اس جہان میں ہماری فکری صلاحیت اس کی حقیقی تعریف پر قادر نہیں ہے اور اسی سے جنت و دوزخ اور ان کی نعمتوں اور عذابوں کی کیفیت کے بارے میں بھی جواب دیا جاسکے گا۔ ہم تو اسی قدر جانتے ہیں کہ جنت تو انواع و اقسام کی خدائی نعمتوں کا مرکز ہے ، چاہے وہ مادی ہوں یا روحانی اور دوزخ دونوں جہات کے شدید ترین عذابوں کا مرکز ہے۔ لیکن ان دونوں کی جزئیات کے بارے میں قرآن مجید نے کچھ اشارے بیان کیے ہیں کہ جن پرہم ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کی تفصیلات جب تک کوئی نہ دیکھے ، نہیں جانتا۔ جنت و دوزخ کے وجود کے بارے میں اور یہ کہ وہ کہاں ہیں ، ہم نے نسبتًا تفصیلی بحث سور آل عمران کی آیہ 133 کے ذیل میں دوسری جلد میں کی ہے۔ اسی طرح عالم قیامت میں جزا و سزا ، اور "تجسم اعمال" اور "نامۂ اعمال" کے مسئلے کے بارے میں ہم جلد دوم سوره آل عمران کی آیہ 30 کے ذیل میں اور جلد 12 سورہ کہف کی آیہ 49 کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں۔ " ان تمام باتوں کے علاوہ دوسری مختلف بحثیں متعلقہ آیات کے ذیل میں ، خصوصًا قرآن مجید کی آخری سورتوں میں انشاء اللہ قیامت کی خصوصیات کے بارے میں بیان ہوں گی ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پروردگارا ! اس پر خوف وخطر دن میں ، اس عظیم قیامت اور عدالت میں ہمیں اپنے لطف وکرم سے امن و سکون بخشا۔ خداوندا ! اگر فیصلہ اعمال کے معیار پر ہو تو ہمارا ہاتھ خالی ہے ۔ اپنے فضل و کرم کے ترازو سے ہماری ناچیز نیکیوں کو تولنا اور اپنی رحمت و غفران سے ہماری برائیوں پر پردہ ڈال دینا۔ بارالٰہا ! ایسا کرنا کہ انجام کار تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی تیری بارگاہ میں کامیاب و رستگار ہوں ، آمین یارب العالمین۔ تفسیر نمونہ کی جلد 18 کا اختتام 8 رمضان المبارک 1404 ہجری تفسير نمونہ کی اٹھارویں جلد کا ترجمہ از قلم سید صفد حسین نجفی فرزند سید غلام سرور نقوی مرحوم بروز اتوار بوقت دن کے 12 بج کر 51 منٹ بتاریخ 22 شوال 1406ھ بمطابق 29 جون 1986ء برمکان ولایت خاں صاحب مانچسٹر، یو ۔ کے اختتام پذیر ہوا۔ الحمد لله اولا و أخرًا والصلوة على النبي وأله ابدًا دائمًا ۔ سید صفدر حسین نجفی ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
5- معاد جسمانی
5- معاد جسمانی : معاد جسمانی سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف جسم دوسرے جہان میں لوٹ آئے گا بلکہ مقصد یہ ہے کہ روح اور جسم اکٹھے مبعوث ہوں گے ۔ دوسرے لفظوں میں روح کی بازگشت تومسلم ہے بحث جسم کی بازگشت کے بارے میں ہے ۔ گزشتہ فلاسفہ کی ایک جماعت صرف معاد روحانی کی معتقد تھی وہ جسم کو ایک سواری سمجھتے تھے کہ جو صرف اسی جہان میں انسان کے ساتھ ہے اور موت کے بعد وہ اس سے بے نیاز ہوجائے گا اور اسے چھوڑ کر عالم ارواح میں چلاجائے گا۔ لیکن اسلام کے بزرگ علماء کا عقیدہ یہ ہے کہ معاد روحانی اور جسمانی دونوں صورتوں میں ہوگی یہاں پربعض علماءخصوصیات کے ساتھ سابق جسم کو ضروری نہیں سمجھتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا کسی بھی جسم کو روح کے اختیار میں دے دے گا اور چونکہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے تویہ جسم اسی کو جسم شمار ہوگا۔ جبکہ صاحبان تحقیق کا عقیدہ یہ ہے کہ وہی جسم کہ جو خاک ہو کر بکھر گیا تھا ، خدا کے حکم سے اسی کو جمع کیا جائے گا اور اسی کو نئی زندگی عطا ہوگی اور یہ وہ عقیدہ ہے کہ جو قرآن مجید کی آیات سے لیا گیا۔ قرآن مجید میں معاد جسمانی کے شواہد پر اس قدر زیادہ ہیں کہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ جو معاد کو صرف روحانی سمجھتے ہیں انہوں نے معاد والی فراواں آیات کا تھوڑا سا بھی مطالعے نہیں کیا ہے ، ورنہ معاد کا جسمانی ہونا آیات قرآنی میں اس قدر واضح ہے کہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہی آیات کے جو سورہ یٰسین کے آخرمیں بیان ہوئی ہیں اس حقیقت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں ،کیونکہ عرب کے بیابانی لوگوں کو تعجب اسی بات کا تھا کہ یہ بوسیدہ ہڈی جو ان کے ہاتھ میں ہے اسے کون زندہ کرسکتا ہے؟ قرآن صراحت کے ساتھ اس کے جواب میں کہتا ہے: قل يحيھا الذي انشأها اول مرة "کہیے کہ وہی خدا اس بوسیده بڈی کو زندہ کرے گا کہ جس نے پہلی دفعہ اسے پیدا کیا تھا"۔ معاد کے مسئلے میں مشرکین کا سارا تعجب اور ان کی مخالفت اسی امر پر تھی کہ جب ہم خاک ہوجائیں گے اور ہماری خاک زمین میں مل جائے گی تو پھر دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے؟ وقالواء اذا ضللنا في الارضء انا لفي خلق جديد (الم سجده ۔۔۔۔۔ 10)۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص تم سے کیسے وعدہ کرتا ہے کہ جس وقت تم مرجاؤ گے اور خاک ہو جاؤ گے تو دوبارہ زندہ کیے جاؤگے : ايعدكم انکم اذا متم و کنتم ترابًا وعظامًا انکم یخرجون (مومنون ۔۔۔۔۔۔۔ 35)۔ وہ اس امر پر اس قدر تعجب کرتے تھے کہ اس کے اظہار کو جنون یاخدا پرجھوٹ خیال کرتے تھے : وقال الذين كفروا هل ندلكم علٰى رجل ينبئکم اذا مزقتم كل ممزق انكم لفي خلق جديد "کافروں نے کہا کہ ہم تمہیں ایسا شخص دکھاتے ہیں کہ جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جس وقت تم پوری طرح خاک ہوکر بکھرجاؤ گے تو دوباره زندگی پاؤگے"۔ (سباء ۔۔۔۔۔۔۔ 7) یہی وجہ ہے کہ عام طور پرامکان معاد کے بارے میں قرآني استدلال معاد جسمانی کے گرد ہی گھومتے ہیں اور وہ چھ بیانات کہ جو گزشتہ حصے میں گزرے ہیں سب کے سب اسی مدعا کےکے گواه ہیں - اس کے علاوہ قرآن بار بار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تم قیامت میں قبروں سے نکلو گے۔ (یٰسین - 51 ، قمر- 7 )توقبریں معاد جسمانی کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ابراہیم کے چاروں پرندوں کی داستان ، اسی طرح عزیزؑ کا واقع اور موت کے بعد ان کا زندہ ہونا اور بنی اسرائیل کے مقتول کا قصہ کہ جس کی طرف ہم نے گزشتہ مباحث میں اشارہ کیا ہے ، سب کے سب استراحت کے ساتھ معاد جسمانی کی ہی بات کرتے ہیں ۔ قرآن مجید نے جنت کی مادی و روحانی نعمتوں کی جتنی بھی تعریف کی ہے سب کی سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاد جسمانی طور پربھی ہوگا اور روحانی طور پر بھی ، ورنہ روحاني نعمتوں کے ساتھ ساتھ حوروقصور اور انواع اقسام کی بہشتی غذاؤں اورمادی لذائذ کے کیا معنی ہیں ؟ بہر حال یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص قرآنی منطق اور تعلیمات سے تھوڑی سی بھی آگاہی رکھتا ہو اور پھرمعاد جسمانی کاانکارکرے۔ دوسرے لفظوں میں معاد جسمانی کا انکار قرآن کی نظر میں اصل معادکے انکار کے مساوی ہے۔ ان دلائل منقولی کے علاوہ اس بارے میں عقلی شواہد بھی موجود ہیں ۔ اگر ہم انہیں بیان کرنا شروع کردیں تو گفتگو لمبی ہو جاۓ گی۔ البتہ معاد جسمانی کا اور چند ایکس سوالات و اعتراضات کو ابھارتا ہے مثلًا آکل و ماکول کا شبہ کہ جن کا محققنین اسلام نے جواب دیا ہے اور ہم اس سلسلے میں ایک مختصر اور جامع تشریح سورہ بقرہ کی آیہ 260 کے ذیل میں دوسری جلد میں بیان کرآئے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
4- قرآن اورمسلم معاد
4- قرآن اورمسلم معاد : مسلہ توحید کے جو انبیاء کی تعلیمات میں سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ ہے اس کے بعد معاد کامسئلہ اپنی خصوصیات اور اپنے تربیتی وتعلمی آثار کے ساتھ پہلے درجہ میں قرارپاتا ہے ۔ لہذا قرآنی مباحث میں توحید و خدا شناسی کے بعد بہت سی آیات کو اس نے اپنے ساتھ مخصوص کردیا ہے۔ معاد کے قرآنی مباحث کبھی تومنطقی استدلال کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور کبھی خطابی مباحث اور موثر اور زور وارتلقین کی صورت میں بعض اوقات تو انہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کلام کا صادقانه لب ولہجہ ایسا ہے کہ وہ استدلال کی طرح انسان کی روح اور جان کی گہرائیوں میں اترجاتے ہیں ۔ منطقی استدلال میں قرآن زیادہ تر امکان معاد کے موضوع پر بات کرتا ہے ۔ کیونکہ منکرین زیادہ تر اُسے محال خیال کرتے تھے ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معاد وہ بھی معاد جسمانی کی صورت میں ۔۔۔۔۔۔ کہ جس میں بوسیدہ اور خاک شده اجسام کانئی حیات کی طرف لوٹنا ضروری ہے ۔ امکان پزیر نہیں۔ اس حصے میں قران مختلف طریقوں سے بات کرتا ہے اور یہ سب استد لال جس ایک جگہ جاکرختم ہوجاتے ہیں وه "معاد کے امکان عقلی" کا مسئلہ ہے۔ کبھی تو وہ پہلی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور ایک مختصر، منہ بولتی اور واضح عبارت میں کہتا ہے: کما بدا کم تعودون "جس طرح سے کہ اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا ہے اسی طرح سے تم واپس لوٹو گے"۔ (اعراف ۔۔۔۔۔۔۔ 29)۔ کبھی نباتات کی زندگی اور موت اور ان کی بازگشت کی تصویر کشی کرتا ہے کہ جسے ہم ہر سال اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں ۔ اور اس کے آخر میں کہتا ہے کہ تمہاری بازگشت بھی اسی طرح ہوگی : ونزلنا من السماء ماءً مبارکًا فانبنتابه جنات وحب الحصید ..... واحیبنا به بلدة ما كذالك الخروج "ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے سرسبز باغات اگائے اور کٹےہوۓ دانے .... اور اس کے ذریعے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا (تمهاری) بازگشت بھی اسی طرح ہو گی "۔ (ق ۔۔۔۔۔۔ 9تا11) دوسری جگہ کہتا ہے: والله الذي ارسل الرياح فتشیرسحابا قسقناه الٰى بلد ميت فاحيينا به الارض بعد موتها كذالك النشور خدا ہی ہے کہ جس نے ہواؤں کو بھیجا تاکہ وہ بادلوں کو چلائیں اور ہم نے انہیں مردہ زمین کی طرف دھکیل دیا اور اس کے ذریعے ہم نے زمین کو اس کی موت کے قید حیات بخشی۔ قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے"۔ (فاطر ۔۔۔۔۔ 9) کبھی آسمانوں اور زمین کی خلقت میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : اولم یروا ان الله الذي خلق السماوات والأرض ولم یعی بخلقهن قادر علٰى ان يحيي الموتٰى بلٰى الله علٰى كل شيء قدير "کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ خدا کی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس تخلیق نے اسے تھکا نہیں دیا ، وہ مُردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ۔ ہاں ! وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ (احقاف ۔۔۔۔۔۔۔ 33) اور کبھی توانائیوں کی بازگشت اور سبز درخت سے آگے نکلنے کو اس کی قدرت کے نمونے کے طور پر اورآگ کو پانی کے اندر قرار دینے کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: الذي جعل لكم من الشجر الاخضرنارًا "وہ خدا مردوں کو لباس حیات پہناتا ہے کہ جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگے پیدا کی"۔ (یٰسین ۔۔۔۔۔۔۔ 80) کبھی جنین کی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور کہتا ہے: یاایها الناس ان کنتم في ريب من البعث فانًا خلقناكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة وغير مخلقة لنبين لكم ونقر في الأرحام مانشاء الى اجل مسمًی ثم تخرجكم طقلًا۔ "اے لوگو ! اگر تم قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو تو یہ بات مت کھولو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفہ سے ، پھر جمے ہوئے خون سے پھر مضغہ سے (کہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو چبائے ہوئے گوشت کی طرح کا ہے)- اس حالت میں پہنچ کر بعض تو شکل و صورت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض بے شکل وصورت مقصد یہ ہے کہ ہم تم پر یہ واضح کر دیں (کہ ہم ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) اور جن "جنینوں" کو ہم چاہتے ہیں ایک معین مدت تک ماؤں کے راحم میں روک رکھتے ہیں ۔ اس کےبعد بچےکی شکل میں نہیں عالم دنیا میں بھیجتے ہیں"۔ (حج ۔۔۔۔۔۔۔ 5)۔ وہ نیند کہ جو موت کی بہن ہے بلکہ کئی جہات سے خود موت ہے ۔ اُس کے لیے اصحاب کہف کی تین سو سالہ نیند کی مثال پیش کرتا ہے اور ان کی نیند اور بیداری کے سلسلے میں ایک عمدہ اور مناسب تشریح کرنے کے بعد فرماتا ہے: وكذالك اعثرنا عليهم ليعلموا أن وعد الله حق وان الساعة لاریب فیھا "اس طرح سے ہم نے لوگوں کو ان کی حالت کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لیں کہ خدا کا قیامت کا وعدہ حق ہے اور قیام قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے"۔ (کہف ۔۔۔۔۔ 21) یہ چھ استدلال ہیں کہ جو قرآن کی آیات میں امکان معاد کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ابراہیم کے چار پرندوں کی داستان (ابقره ۔۔۔۔۔۔۔۔ 260) عزیر کی سرگزشت (بقرہ ۔۔۔۔۔۔۔ 259) بنی اسرائیل کے مقتول کا واقعہ (بقره ۔۔۔۔۔۔ 73) بھی بیان کیا گیا ہے ، ان میں سے ہرایک ، ایک تاریخی نمونہ ہے یہ سب اس مسئلے کے لیے دوسرے شواہد و دلائل ہیں کہ جو قرآن نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ وه تصویر جو قرآن مجید نے معاد ، اس کے مختلف پہلوؤں ، مقدمات اور نتائج کی کھینچی ہے اور وہ بولتے ہوئے دلائل کہ جو اس نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں ، اس قدر زندہ اور اطمینان بخش ہیں کہ جو شخص تھوڑا سا بھی بیدار وجدان رکھتا ہے وہ ان کی گہری تاثیر سے ضرور متاثر ہوگا۔ بعض کے قول کے مطابق قرآن کی ایک ہزار دو سو آیات معاد کے سلسلے میں بحث کرتی ہیں کہ اگرمیں جمع کیا جائے اور ان کی تفسیر کی جاۓ تو وہ خود ایک ضخیم کتاب ہوجائے گی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس تفسیر کی مالیت کے اختتام کے بعد ، جس وقت ہم انشاء اللہ تفسیر موضوعی شروع کریں گے تو (معاد کے سلسلہ کی آیات کا)یہ مجموعہ بھی خواہش مندوں کی دسترس میں ہوگا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
3- معاد کے عقلی دلائل
3- معاد کے عقلی دلائل : قرآن مجید میں معاد کے بارے میں بہت دلیلیں بیان ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں سینکڑوں آیات موجود ہیں ۔ ان سے قطع نظر اس امر پر واضح عقلی دلائل بھی موجود ہیں کہ جن میں سے اختصار کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں: ا- برهان حکمت : اگر ہم اس جہان کی زندگی کو دوسرے جہان کے بغیر تصور کریں ، تو یہ لغو اور بے معنی ہوکررہ جائے گی ۔ اس کی مثال بالکل اسی کی ہوگی جیسے ہم جنین کی زندگی کو اس دنیا کی زندگی کے بغیر فرض کرلیں۔ اگر قانون خلقت یہ ہوتا کہ تمام جنین پیدائش کے وقت گلاگھٹ کر مرجاتے تو جنینی دور کس قدر بے مفهوم ہو جاتا ؟ اسی طرح اگر اس جہان کی زندگی کو دوسرے جہان کی زندگی سے الگ تصور کرلیاجائے تو اس کا وجود بھی مہمل ہوجائے گا کیونکہ کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم ستر سال یا اس سے کم و بیش اس دنیا میں مشکلات میں گھرے رہیں ، ایک مدت تک خام اور بے تجربہ رہیں اور جب ناپختگی دور ہو تو عمر تمام ہوجائے۔ ایک مدت تک تم علم کے حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جس وقت معلومات کے لحاظ سے ہم کسی مقام ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 5. ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تک پہنچتے ہیں تو بڑھاپے کی برف ہمارے سروں پر بیٹھ چکی ہوتی ہے۔ آخر ہم یہ زندگی کس لیے بسر کررہے ہیں ؟ کچھ مقدار غذا کھانے ، چند گز کپڑے پیننے باربار سونے اور بیدار ہونے اور اس تھکا دینے والے طرز عمل کو سالہاسال تک دہرانے اورجاری رکھنے کے لیے ؟ کیا واقعًا سے وسیع آسمان ، یہ پھیلی ہوئی زمین اور یہ تمام آغاز و انجام ، یہ تمام استاد و مربي ، سے تمام عظیم کتب خانے اور یہ تمام باریک بینیاں کہ جو ہماری اور تمام موجودات کی خلقت میں کام میں لائی گئی ہیں، کھانے ، پینے ، پہنے اور مادی زندگی کے لیے ہیں؟ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر وہ لوگ کہ جو معاد کو قبول نہیں کرتے ، اس زندگی کی لغویت اور بیہودگی کااعتراف کرتے ہیں اور ان میں سے ایک گروہ خودکشی کرنے اور اس فضول اور بے معنی زندگی سے نجات کو جائز یا باعث افتخار سمجھتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ شخص جو خدا اور اس کی بے پایاں حکمت پر ایمان رکھتا ہے ،اس جان کی زندگی کو دوسرے جہان کی دائمی زندگی کے لیے مقد مہ سمجھے بغیر قابل توجہ شمار کرے۔ قرآن کہتا ہے : افحسبتم انما خلقناکم عبثا و انكم الینا لاترجعون "کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم فضول اور بے کار پیدا ہوئے ہو اور تم ہماری طرف پلٹ کریں اؤگے"۔ (مومنون ــــــ 115) یعنی اگر خدا کی طرف بازگشت نہ ہوتی تو پھراس جہان کی زندگی عبث اور بیہودہ ہوتی۔ ہاں اس دنیا کی زندگی اسی صورت میں مفہوم رکھتی ہے اور خدا کی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے جب اس جہان کو دوسرے جہان کے لیے ایک کھیتی (الدنيا مزرعة الأخرة) اور اس وسیع عالم کے لئے ایک گزر گاہ (الدنيا قنطرة) اور تیاری کی ایک کلاس اور دوسرے جہان کے لیے ایک یونیورسٹی اور اُس گھر کے لیے ایک تجارت خانہ سمجھیں ۔ جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السالم نے اپنے پُرمعنی کلمات میں فرمایا ہے: ان الدنيا دار صدق لمن صد قھا، ودار عافیة لمن فھم عنها، و دار غني لمن تزو منها ، ودار موعظة لمن اتعظ بها ، مسجد أحباء الله و مصلی ملائكة الله ، ومهبط وحي الله ومتجر اولیاء الله۔ "یہ دنیا اس شخص کے لیے کہ جو سچائی کے ساتھ اس سے پیش آئے سچائی کی جگہ ہے اور اُس شخص کے لیے کہ جو اس سے کچھ فہم حاصل کرے عافیت کا گھر ہے اور اس شخص کے لیے کہ جو اس سے زاد راہ حاصل کرے بے نیازی کا گھر ہے اور ا س شخص کے لیے کہ جو اس سے پند ونصحیت حاصل کرے وعظ و نصیحت کا گھر ہے۔ یہ خدا کے دوستوں کی مسجد ہے ، پروردگار کے فرشتوں کی جائے نماز ہے ، وحی الٰہی کے نزول کا مقام ہے اور اولیاءحق کا تجارت خانہ ہے۔ ؎1 خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس جہان کی کیفیت کا مطالعه خوب اچھی طرح سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے : ولقد علمتم النشأة الاولٰى فلولاتذكرون "تم اس دنیا میں نشأة اولٰی اور خود اپنی پیدائش کو دیکھ چکے ہو تو پھر تم متوجہ کیوں نہیں ہوتے کہ اس کے بعد ایک اور جہان بھی ہے؟" (واقعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 62)۔ (ب) برهان عدالت : نظام ہستی اور قوانین خلقت میں غور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس کی تمام چیزیں حساب شده اور جچی تلی ہیں ۔ ہمارے بدن کی ساخت میں اس قسم کا عادلانہ نظام حکم فرما ہے کہ جب بھی کوئی معمولی سی تبدیلی یا غیر موزوں نیت اس میں ظاہر ہوتی ہے تو وہ ہماری یاموت کا سبب بن جاتی ہے ۔ ہمارے دل کی حرکت ہمارے خون کی گردش ، ہماری آنکھ کے پردے ، ہمارے بدن کے سیل اسی دقیق نظام میں شامل ہیں کہ جو سارے جہان پر حکومت کررہا ہے: وبالعدل قامت السماوات والأرض "تمام آسمان اور زمین عدالت ہی کی وجہ سے قائم ہیں "۔ ؎2 تو کیا انسان اس وسیع عالم میں ایک نامطلوب چیز ہو سکتا ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ خدا نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ وہ اسے آزمائے اور وه اس کے سائے میں ارتقائی منزلوں کو طے کرے لیکن اگر انسان آزادی سے غلط فائدہ اٹھائے تو پھر کیا ہوگا ؟ اگر ظالم اور ستمگرلوگ ، گمراہ اور گمراہ کرنے والے اس خدائی انعام سے سوئے استفادہ کرتے ہوئے گمراہی کا راستہ اختیار کیے رہیں تو پھر عدال الٰہی کا تقاضا کیا ہوگا؟َ یہ ٹھیک ہے کہ بدکاروں کے ایک گروہ کو اس دنیا میں بھی سزامل جاتی ہے اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ہیں یا کم از کم اس کا ایک حصہ بھگت لیتے ہیں لیکن مسلم طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ تمام کے تمام مجرم اپنی ساری کی ساری سزا بھگت لیتے ہوں اور سب کے سب پاک اور نیک لوگ اپنے اعمال کا ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، کلمات قصار ، کلمہ 131- ؎2 تفسیرصافی ، سورہ رحمٰن کی آیہ 7 کے ذیل میں ۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بدلہ پورے کا پورا اسی جہان میں پالیتے ہیں ۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ یہ دونوں گروه پروردگار کی عدالت کے پلڑے میں برابر ہوجائیں؟ قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق: افنجعل المسلمين المجرمين مالكم کیف تحكمون "کیا ان لوگوں کو کہ جو قانون خدا کے پیش نظر حق و عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں ہم مجرمین کی طرح قرار دے دیں گے؟ کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے یہ کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو؟" (قلم ۔۔۔۔۔۔۔ 36 ، 36) دوسری جگہ قرآن فرماتا ہے: ام نجعل المتقین کالفجار "کیا یہ ممکن ہے کہ تم پرہیزگاروں کو فاجروں کے مانند قرار دے دیں ؟" (ص ۔۔۔۔۔ 28) بہرحال فرمان حق کی اطاعت میں انسانوں کے درمیان تفاوت ہونا کو ئی شک کی بات نہیں ہے کیونکہ اس جہان کی مکافات اور عدالت وجدان اور گناہوں کے نتائج کا کافی نہ ہونا ، عدالت کے قیام کے لیے تها کافی نظر نہیں آتا ۔ اس بناء پر یہ بات قبول کرنی پڑے گی کہ اجرالٰہی کے اجراء کے لیے کوئی عدل عام کی عدالت ہوکہ جہاں پر سوئی کی نوک کے برابر نیک اور بدکاموں کا حساب ہو۔ ورنہ حقیقی عدالت کیا قائم نہ ہوگی ۔ لہذا یہ بات قبول کرلینی چاہیئے کہ عدل الٰہی کو قبول کرنا وجود معاد و قیامت کے قبول کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے: ونضع الموازين القسط ليوم القيامة "ہم قیامت کے دن عدل کے ترازوقائم کریں گے"۔ (انبیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔ 47) اس کے علاوہ یہ بھی فرماتاہے : وقضی بینهم بالقسط وهم لا يظلمون "قیامت کے دن ان کے درمیان عدالت کے مطابق فیصلہ ہوگا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا"۔ (یونس ۔۔۔۔۔۔۔۔ 54) (ج) برهان هدف : مادہ پرستوں کے نظریے کے برخلاف الٰہی نظریۂ کائنات کے مطابق انسان کی خلقت میں ایک ہدف اور مقصد کارفرما ہے کہ جسے فلسفی تعبیر میں "تکامل وارتقاء" کہتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی زبان میں کبھی " قرب خداوندی" اورکبھی "عبادت و بندگی" کہتے ہیں : وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون "میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا ہے مگر اس مقصد کے لیے کہ وہ میری عبادت کریں" (اور عبادت و بندگی کے سائے میں کامل ہوں اور میرے حریم قرب کی طرف راه پائیں - ( ذاریات۔۔۔۔۔ 56) اگر موت ہرچیز کا اختتام ہو تو کیا یہ عظیم مقصد پورا ہو گا؟ بلاشک وشبہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ضروری ہے کہ اس جہان کے بعد ایک اور جہان ہو اور انسان کا سفر کمال اس میں جاری رہے اور وہ اس (جہان کی) کھیتی کی فصل وہاں کاٹے اور یہاں تک کہ ۔۔۔۔ جیسے ہم کہہ چکے ہیں دوسرے جہان میں بھی یہ سیرتکامل جاری رہنی چاہیئے تاکہ اصلی اور آخری برف پورا ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مقصد خلقت کی تکمیل معاد کو قبول کیے بغیر ممکن نہیں ہے اور اگر ہم اس زندگی کو موت کے بعد والے جہان سے منقطع کرلیں تو ہرچیز معمہ کی شکل اختیار کرلے اور کئی طرح کے "کیوں" کا ہمارےپاس کوئی جواب نہ رہے ۔ (د)- برهان نفي اختلاف : بے شک ہمیں ان اختلافات سے ۔۔۔۔ کہ جو اس جہان کے مختلف مکاتب و مذاہب کے درمیان موجود ہیں دکھ ہوتا ہے ، اور تم سب یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ایک دن سے تمام اختلافات ختم ہو جائیں جبکہ تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اخلافات اس دنیا کے مزاج میں پوری طرح اترچکے ہیں ۔ یہاں تک کچھ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی جو ایک عالمی حکومت قائم کرنے والے ہیں ۔ ان کے قیام کے بعد بھی اگرچہ بہت سے اختلافات ختم ہوجائیں گے ، لیکن پھربھی کچھ مکاتب کا اختلاف کلی طور پر ختم نہیں ہوگا اور قرآن کے ارشاد کے مطابق یہود و نصاریٰ دامن قیامت تک اپنے اختلاف پر باقی رہیں گے : فاغرينا بينهم العداوة والبغضاء الٰى يوم القيامة (مائده ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 14)۔ لیکن وہ خدا کہ جو ہر چیز کو وحدت کی طرف لے جاتاہے آخر میں اختلافات کو ختم کرائے گا اور چونکہ عالم مادہ کے گہرے پردوں کی موجودگی میں یہ بات اس دنیا میں کلی طور پر امکان پذیر نہیں ہے لہذا ہم جانتے ہیں کہ دوسرے جہان میں ۔۔۔۔۔۔ کہ جو عالم بروز و ظہور ہے ۔۔۔۔۔۔ آخر کار یہ مسئلہ عملی شکل اختیار کرلے گا اور حقائق اس طرح سے روشن ہوجائیں گے کہ مکتب و عقیدہ کا اختلاف بالکل ختم ہوجائے گا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس مسئلے کا ذکر ہوا ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے : فالله يحكم بينھم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون "خدا ان چیزوں کے بارے میں قیامت کے دن ۔۔۔۔ کہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا"۔ (البقرة ۔۔۔۔۔۔۔۔ 113) دوسری جگہ فرماتا ہے: واقسموا بالله جهد ايمانهم لا يبعث الله من يموت بلٰی وعدًا عليه حقًا ولٰكن اكثر الناس لا يعلمون ليبين لهم الذي يختلفون فیہ و ليعلم الذين كفروا انھم کانوا اذہین "انہوں نے زور دار قسم کھا کر کہا کہ خدا ان لوگوں کو کہ جو مرجائیں گے کبھی زندہ نہیں کرے گا لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہ خدا کا حتمی وعدہ ہے (کہ ان سب کو زندہ کرے گا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جس چیز میں وہ اختلاف رکھتے تھے سے آن کے لیے واضح کر دے گا کہ جو لوگ منکر ہو گئے تھے وہ یہ جان لیں کہ وہ جھوٹ بولتے تھے"۔ (نحل ۔۔۔۔۔ 38 ، 39)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
وه هرچیزکا مالک وحاکم ھے
تفسیر وه هرچیزکا مالک وحاکم ھے گزشتہ آیات میں خلقت اول اور سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے معاد کے دلائل کا ذکر ہے۔ اب پہلی زیر بحث آیت میں ایک اور حوالے سے اس مسئلے کو بیان کیا گیا اور وہ خدا کی بے پایاں قدرت کا بیان ہے۔ ارشار ہوتا ہے:"کیا وہ ہستی کہ جس نے آسمانون اور زمین کو ان تمام عظمت ، عجائبات اور حیرت انگیز نظاموں کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس بات پر قادرنہیں ہے کہ ان خاک شدہ انسانوں کے مانند نئی تخلیق کرے (اور انہیں ایک نئی زندگی کی طرف لوٹا دے) ہاں ! وہ ایسا کرسکتا ہے اور وہ آگاہ و دانا خلاق ہے"۔ (اوليس الذي خلق السماوات والارض بقادرعلٰى ان يخلق مثلهم بلٰی وهو الخلاق العليم)۔ یہ جملہ کہ جو استفهام انکاری سے شروع ہوا ہے ، حقیقت میں بیدار عقل و وجدان کے سامنے ایک سوال پیش کرتا ہے کہ کیا تم اس عظیم انسان کی طرف نہیں دیکھتے کہ جو عجیب و غریب ثوابت و سیارات اورمنظومات اور کہکشاؤں کا حامل ہے۔ جس کا ہرگوشہ ایک وسیع دنیا ہے ۔ تو وہ ذات کہ جو ان عظیم اور منظم عوالم کی خلقت پر قادر ہے ، کیسے ممکن ہے کہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہ ہو؟ اس سوال کا جواب چونکہ ہر بیدار انسان کے قلب و روح میں موجود ہے ، لہذا وہ جواب کا انتظار نہیں کرتا بلکہ بلا فاصلہ کہتا ہے : ہاں ! وہ اس قسم کی قدرت رکھتا ہے. اس کے بعد خدا کی دو عظیم صفات کا ذکر ہے کہ جو اس مسئلے میں قابل توجہ ہیں ، یعنی صفت خلاقیت اور اس کا بے پایاں علم ۔ یہ حقیقت میں گزشتہ بات کی ایک دلیل ہے کہ اگر تمهارا شک و شبہ خلقت کے بارے میں اس کی قدرت کی وجہ سے ہے تو وہ خلاق ہے (توجہ رہے کہ خلاق مبالغے کا صیغہ ہے)۔ نیز اگر ان ذرات کو جمع کرنا علم و دانش کا محتاج ہے تو وہ ہر لحاظ سے عالم وآگاہ ہے۔ "مثلهم" کی ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ اس بارے میں مفسرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ مشہور یہ ہے کہ یہ ضمیر انسانوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی آسمانوں اور زمین کا خالق اس بات پر قادر ہے کہ وہ انسانوں کی مثل پیدا کردے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے یہ کیوں نہ فرمایا کہ وہ خود از سر نو پیدا کرنے پرقادر ہے ، بلکہ یہ فرمایا کہ "ان کی مثل" پیدا کرسکتا ہے۔ اس سوال کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں لیکن جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ جب انسان کا بدن مٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کی اپنی شکل و صورت باقی نہیں رہتی اور قیامت کے دن جو کچھ لوٹے گا وہ اس کا پہلا مواد ہی ہوگا کہ جو وہ پہلے کی سی صورت اختیار کرلے گا ۔ یعنی مادہ تو وہی ہوگا لیکن شکل و صورت گزشتہ صورت کی مثل ہوگی۔ کیونکہ عین اسی صورت کا خصوصًا قید زمانی کے ساتھ لوٹنا ممکن نہیں ہے خصوصًا جبکہ ہم جانتے ہیں کہ قیامت میں تمام انسان اپنی تمام گزشتہ کیفیات کے ساتھ محشورنہیں ہوں گے۔ مثلًا بوڑھے جوان کی شکل میں اور معلول صحیح و سالم صورت میں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں انسانوں کا بدن اس اینٹ کے مانند ہے جو ریزہ ریزہ ہوکر پراگندہ ہوجائے اور اس کی مٹی کو جمع کرلیاجائے اور دوبارہ اس کا گآرا بناکر سانچے میں ڈال دیا جائے اور اس سے نئی اینٹ بنالی جائے۔ یہ نئی اینٹ ایک حیثیت سے بعینہ وہی ہے اور ایک لحاظ سے اس کی مثل ہے (اس کا مادہ تو وہی ہے لیکن اس کی شکل و صورت پہلی صورت کی مثل و مانند ہے) (غورکیجئےگا)۔ ؎1 بعد والی آیت اس حقیقت پرایک تاکید ہے کہ اس کے ارادہ اور قدرت کے سامنے ہر قسم کی ایجاد سہل و آسان ہے ، اس کے لیے عظیم آسمانوں اور کره خاکی کا ایجاد کرنا اور ایک چھوٹے سے کیڑے کی ایجاد برابر و یکساں ہے، فرماتا ہے : اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ہوجا ، تو وہ فورًا ہوجاتی ہے" ، جیسا کہ خدا نے چاہا ہے (انما امره اذا اراد شيئا ان يقول له کن فیکون)۔ تمام چیزیں اس کے ایک اشارے اور فرمان کے ساتھ وابستہ ہیں تو جو اس قسم کی قدرت کا مالک ہو ، کیا اس کے بارے میں اس بات کی کوئی گنجائش ہے کہ اس کے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق اس کی قدرت میں شک کیا جائے؟ یہ بات واضح ہے کہ یہاں امرالہی لفظی امر کے معنی میں نہیں ہے ، اسی طرح لفظ "کن" (ہوجا) بھی ایسا نہیں کہ جسے خدا لفظ کی صورت میں ادا کرے کیونکہ نہ وہ کوئی لفظ بولتا ہے اور نہ ہی وہ الفاظ کا محتاج بلکہ اس سے مراد اس کا کوئی چیز کے ایجاد تخلیق کرنے کا ارادہ کرنا ہے۔ نیز لفظ "کن" اس بنا پر ہے کہ اس سے زیاد مختصر زیادہ چھوٹی اور زیادہ سریع تعبیر کا تصور نہیں ہوسکتا۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بعض مفسرین نے "مثلھم" کی ضمیر کو آسمانوں اور زمین کی طرف پلٹایا ہے اور کہا ہے کہ ذوي العقول کی ضمیرجمع کا انتخاب اسی بناء پرہے کہ زمین و آسمان میں بہت سے ذوي العقول موجود ہیں - بعض دوسرے مفسرین نے "مثل" کی تعبیر کو اس بات پہ شاہد بنایا ہے کہ عین اسی جسم اور اسی مواد کا لوٹنا کہ جو دنیا میں تھا ، ضروری نہیں ہے کیونکہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے اور یہ روح جس مادہ کے ساتھ بھی تعلق اختیار کرے گی وہ انسان کی مثل ہوگی ، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیئے کہ یہ بات آیات قرآني حتی کہ زیر بحث آیات کے ساتھ بھی بالکل ہم آہنگ نہیں ہے ۔ کیونکہ قرآن صراحت کے ساتھ انہیں آیات میں کہتا ہے کہ خدا انہی بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا اور انہیں لباس حیات پہنائے گا نہ کہ دوسرے مواد کو- (غور کیجئے گا)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ہاں! جونہی وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے وہ فورًا موجود ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں جس وقت خدا کسی چیز کا ارادہ کرے ، تو وہ بلافاصلہ وجود پاجاتی ہے اس طرح سے کہ اس کے "ارادہ" اور "اشیاء کے وجود" کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔ اس بناء پر "امر" ، "قوال اور "کن" کے الفاظ سب کے سب خلق و ایجاد کے مسئلے کی ایک توضیح ہیں اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے یہاں امرلفظی اور "کاف و نون" کا کوئی لفظ ، بات یا قول بیان نہیں ہوا۔ یہ سب کے سب اراده الٰہی کے بعد اشیاء کے تیزی اور سرعت کے ساتھ وجود پانے کو بیان کرتے ہیں، اسے الفاظ و کلمات کی کیا حاجت ہے اصولی طور پر کسی چیز کو ایجاد کرنے کے لیے اس کی مشیت کے بعدہ الفاظ کی وساطت بے معنی ہے زیادہ واضح تعبیر میں ، خدا کے افعال میں دو مرحلوں سے زیادہ کا وجود نہیں ہے ، مرحلہ ارادہ اور مرحلہ ایجاد مذکورہ بالا آیت میں دوسرا مرحلہ امر و قول اور لفظ "کن" کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ بعض قدیم مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں قول اور ایک بات ضرور ہے اور اسے وہ ایک ناشناختہ اسرار میں سے سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ حقیقت میں الفاظ کے پیچ و خم میں الجھ گئے ہیں اور ان کے مفہوم ومطلب سے بے خبر رہے ہیں اور انہوں نے خدائی کاموں کو اپنے اوپر قیاس کرلیا ہے۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں کیا خوب فرمایا ہے : يقول لما أراد لما كونه کن فیکون ؎1 لابصوت يقرع ولا بنداء یسمع و انما کلامه سبحانه فعل منہ انشأه و مثله لم یکن من قبل ذالک کاٹنا ، و لو كان قديما لكان ثانيا ۔ "وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے ، اس سے کہتا ہے ہوجا تو وہ بلاتاخیر ہوجا تی ہے لیکن اس کا کلام نہ تو ایسی ندا ہے کہ جو کانوں سے ٹکرائے اور نہ ہی ایسی ندا کہ جوسنی جائے بلکہ خدا کی بات وہی اس کا فعل ہے کہ جسے وہ ایجاد کرتا ہے اور اس سے پہلے کوئی بھی چیز موجود نہیں تھی اور اگر ہوتی تو وہ دوسرا خدا شمار ہوتی ۔ ؎2 اس سے قطع نظر اگر کوئی لفظ درمیان میں ہو تو اس کی دو صورتیں ہوں گی: پہلی صورت یہ ہے کہ یہ لفظ خود مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور اس کو ایجاد کرنے کے لیے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ کے بعض نسخوں میں مثلًا "منہاج البرعۃ" میں "لما اراد" کی تعبیر ہے - تفسير نورالثقلین میں بھی نہج البلاغہ سے اسی طرح نقل ہوا ہے لیکن دوسرے نسخوں میں مثلاً ابن ابى الحدید ، ابن مبثم اورصبحی صالح کے نسخہ میں "لمن اراد" آیا ہے لیکن مناسب وہی پہلا نسخہ ہے۔ ؎2 نہج البلاغہ خطبہ 186- ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ایک دوسرے "کن" کی ضرورت ہوگی اور اس بات کی اس دوسرے "کن" کے بارے میں بھی تکرار ہوگی اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہرخطاب کے لیے ایک مخاطب کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ابھی تک کوئی چیز موجود ہی نہیں تو خدا "کُن" کہہ کر اسے کس طرح مخاطب کرے گا ، کیا معدوم سے خطاب ہو سکتا ہے؟ قرآن کی دوسری آیات میں یہی معنی دوسرے الفاظ میں آیا ہے ۔ مثلا سورۂ بقرہ کی آیہ 117 میں ہے: واذا قضٰی امرًا فانًما يقول له کن فیکون "جس وقت اس کی قضا اور حکم کسی چیز کے بارے میں ہوتا ہے تو وہ اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہوجا تو وه بلا فاصلہ ہو جاتی ہے"۔ اسی کی مانند سوره نحل کی آیہ 40 میں ہے: انما قولنا لشيء اذا اردنه ان نقول له کن فیکون "جو چیز ہم ایجاد کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمارا قول یہی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں ہوجا تو وہ بلا فاصلہ ہوجاتی ہے۔ ؎1 زیر بحث آخری آیت کہ جوسورہ یٰسین کی آخری آیت ہے مبداء و معاد کے بارے میں ایک کلی نتیجه نکالنے کے لیے اس بحث کو ایک خوبصورت طریقے سے ختم کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے "پسں منزہ ہے وہ خدا کہ جس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزیں ہیں اور تم سب کے سب اسی کی طرف پلٹ کرجاؤگے"۔ (فسبحن الذي بيده ملكوت كل شيء واليه ترجعون)۔ "ملکوت" "ملك" (بروزن "حکم") کے بارہ سے حکومت و مالکیت کے معنی میں ہے اور اس کے ساتھ "واؤ" اور "ت" کا اضا فہ تاکید و مبالغہ کےلیےہے ۔ اس لیے آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا کہ ہرچیزکی مالکیت و حاکمیت بلا شرط خدا کے دست قدرت میں ہے اور اس قسم کا خدا ہر طرح کے عجزو ناتوانی سے منزه و مبرا ہے، تو اس صورت میں مردوں کو زندہ کرنا اور بوسیدہ ہڈیوں اور پراگندہ مٹی کو لباس حیات پہنانا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ، جب یہ بات ہے تو یقینی طور پر تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے اور معاد حق ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
2- ایمان بالقیامت کا اثرانسانی زندگی پر
2- ایمان بالقیامت کا اثرانسانی زندگی پر : مرنے کے بعد کے عالم ، انسان کے اعمال کے آثار کی بقا اور اس کے اچھے برے کاموں کی ہمیشگی کا اعتقاد انسانوں کی فکرونظر اور اعصاب اعمال پر بہت ہی گہرا اثر ڈالتا ہے اور نیکیوں کا شوق پیدا کرنے اور برائیوں سے مبارزہ کرنے کے لیے ایک عامل موثر ہوسکتاہے۔ فاسد و منحرف افراد کی اصلاح اور فداکار و مجاہد اور ایثارکرنے والوں کو شوق دلانے میں حیات ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 جامعہ شناس ساموئیل کینک ص 192 (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ) ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ بعد از موت پر ایمان جو اثرات ڈال سکتا ہے وہ عام عدالتوں اور سزاؤں کے اثرات سے کہیں زیادہ ہیں ۔ چونکہ قیامت و معاد کی عدالت عام عدالتوں سے بہت ہی مختلف ہے، اس عدالت میں نہ تو تجدید نظر کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی اس کے ارکان پر زر و مال اور زور و قوت اثر ڈال سکتے ہیں ، نہ وہاں جھوٹی باتوں سے کوئی فائدہ ہوگا اور نہ فیصلے کے لیے طویل مدت درکار ہوگی ۔ قرآن مجید کہتا ہے: واتقوا يومًا لاتجزي نفس عن نفس شيئا ولا يقبل منها شفاعة ولا يؤخذ منها عدل ولا هم ينصرون "اس دن سے ڈرو کہ جس میں کسی شخص کو کسی دوسرے کی جگہ بدل نہیں دیاجائے گا ، اور نہ ہی اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی فدیہ یا تاوان ہوگا اورنہ ہی کوئی شخص اس کی مدد کے لیے آئے گا"۔ (بقره ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 48) اس کے علاوہ قرآن حکیم میں ہے : ولوان لكل نفس ظلمته مافي الارض لا فتدت به واسروا الند امۃ لما رأوا العذاب وقضى بينهم بالقسط وهم لا يظلمون "ان میں سے جو ظالم ہیں ، اگر تمام روئے زمین بھی ان کے اختیار میں ہو اور اس دن اپنی نجات کےلیےوہ سب کچھ قربان کرڈالیں(تو بھی ان کی نجات نہیں ہوگی) اور جس وقت وہ عذاب الٰہی کودیکھیں گےتو اپنی پیشمانی کوچھپائیں گے(کہ کہیں زیادہ رسوا نہ ہوں) اور ان کے درمیان عدالت کے ساتھ فیصلہ ہوگا اور ان پر ذراسا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا"۔ (یونس ۔۔۔۔۔۔۔ 54) اس کے علاوہ قرآن مجید میں یہ بھی بیان ہوا ہے : ليجزى الله كل نفس ما کسبت ان الله سريع الحساب "مقصد یہ ہے کہ خداہرشخص کو جو کچھ اس نے انجام دیا ہے اس کی جزا دے کیونکہ خدا سريع الحساب ہے"۔ (ابراہیم ۔۔۔۔۔51) اس کا حساب اتنا قطعی اور تیزی کے ساتھ ہوگاکہ بعض روایات کے مطابق : ان الله تعالى يحاسب الخلائق كلهافي مقدار لمح البصر خدا چشم زدن میں سب مخلوق کا حساب چکا دے گا۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 مجمع البیان ، سورہ بقرہ کی آیہ 202 کے ذیل میں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اسی بناء پر قرآن مجید میں بہت سے گناہوں کا سرچشمہ روز جزاء کو بھول جاناقرار دیا گیا ہے۔ سوره الم سجدہ کی آیہ 14 میں ہے: فذوقوا بما نسیتم لقاء يومکم هذا "جہنم کی آگ کا مزہ چکھو کیونکہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کردیاتھا۔" کچھ تعبیرات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان قیامت کے بارے میں کچھ گمان ہی رکھتا ہو تب بھی بہت سے غلط کاموں کو انجام دینے سے رک جائے گا۔ جیسا کہ کم فروشوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: الا يظن اولٰئك انهم مبعوثون ليوم عظيم "کیا وہ یہ گمان نہیں کرتے کہ ایک عظیم دن وہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے"۔ (مطففین ، 4 - 5) گزشتہ زمانے میں بھی اور آج بھی مجاہدین اسلام میدان جہاد میں رجز خوانی کرتے دادا شجاعت دیتے ہیں اور بہت سے لوگ اسلامی ممالک کے دفاع اور محرومین ومستضعفین کی حمایت کے لیے جو عظیم ایثار و فداکاری دکھاتے ہیں یہ سب دوسرے جادوانی گھر یہ اعتقاد کا نتیجہ ہے۔ علماء کے مطالعات اور مختلف تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس قسم کے وسیع مظاہراس عقیدے کے سوا ممکن نہیں۔ وہ مجاہد کہ جس کی منطق یہ ہو کہ : قل هل تربصون بنا الااحدی الحسنين کہہ دو کہ اے دشمنو! تم ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہو؟ سوائے دو سعادتوں میں سے کسی ایک تک پہنچنے کے (یا تم پر کامیابی با افتخارشہادت)"۔ (توبہ ۔۔۔۔۔ 52) یہ مجابد یقینًا شکست ناپذیر ہے۔ موت کا چہرہ اس جہان کے بہت سے لوگوں کے لیے وحشت انگیز ہے، یہاں تک کہ اس کے نام اور ہر اس چیز سے کہ جو اس کی داعی ہے گریز کرتے ہیں ۔ لیکن موت کے بعد زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں کے لیے نہ صرف یہ کہ وہ ناپسندہ نہیں ہے بلکہ ایک عظیم جہان کے لیے دریچہ ہے ، قفس کا ٹوٹ جانا ہے ، انسانی روح کا آزاد ہونا ہے ، زندان بدن کے دروازوں کا کھلنا ہے اور آزادی مطلق تک پہنچناہے۔ اصولی طور پر مبداء کے بعد مسئلہ معاد خدا پرستوں اور مادہ پرستوں کے علم کی حد فاضل ہے کیونکہ اس مقام پر دو مختلف نظریے پائے جاتے ہیں ۔ ایک نظریہ تو وہ ہے کہ موت کو جس میں فنا اور نابودی مطلق سمجھاجاتا ہے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ اس سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس نظریے سے مطابق سب چیزیں اس کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ موت ایک خلقت جدید ہے اس سے انسان ایک کشادہ تر اور روشن عالم میں قدم رکھتا ہے۔ اس پر وسیع و عریضں آسمان کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ اس مکتب کے طرفدار نہ صرف یہ کہ ہدف و مقصد کی راہ میں موت و شہادت سے خوف نہیں کھاتے بلکہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے مکتب سے ہدایت حاصل کرکے انہی کی طرح کہتے ہیں: * والله لابن ابي طالب انس بالموت من الطفل بثدی امه" "خدا کی قسم ! ابوطالب کے بیٹے کی موت سے محبت اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جو ایک شیرخوار بچے کو اپنی ماں کے پستان سے ہوتی ہے۔ ؎1 " ایسے لوگ مقصد کی راہ میں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب زمانے کے مجرم عبدالرحمن ابن ملجم کی تلوار کی ضرب آپؐ کے سر مبارک پرلگی تو آپ نے فرمایا : "فزت برب الکعبہ" "کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہوگیا اور مجھے راحت و سکون مل گیا"۔ مختصر بات یہ ہے کہ معاد و قیامت پر ایمان ، ڈرپوک اور بے مقصد انسان کو شجاع ، بہادراور بامقصد انسان میں تبدیل کر دیتا ہے کہ جس کی زندگی رجز خوانیوں ، قربانیوں ، پاکیزگی اور تقوٰی سے معمور ہوجاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:81-83
1- معاد کا اعتقاد ایک فطری امر ہے
1- معاد کا اعتقاد ایک فطری امر ہے : اگر انسان فنا کے لیے پیدا کیا گیا ہوتا تو پھر اسے "فنا" کا عاشق ہونا چاہیے اور موت سے لطف اندوز ہونا چاہیئے ــــ چاہے موت برمحل اور عمر کے آخری حصہ میں ہو۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ موت (بمعنی نیستی) کا خیال انسان کے لیے کسی زمانے میں بھی خوش آئند نہیں رہا- ہم دیکھ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ قوت سے بھاگ رہا ہے ۔ مومیا کر مُردوں کے جسموں کو باقی رکھنے کی کوشش کرنا اور اہرام مصر جیسے دائمی مقبرے بنانا اور آب حيات ،اکسیر جوانی اور عمر بڑھانے والی چیزوں کے پیچھے بھاگنا - بقا کے ساتھ انسان کے عشق کی ایک واضح دلیل ہے۔ اگر ہم فنا کے لیے پیدا ہوتے ہیں ، توبقا سے اس لگاؤکا کیا مفہوم ہوسکتا ہے ؟ اس صورت میں تو یہ ایک فضول اور بے مصرف لگاؤ ہوگا۔ ہہ مت بھولیے کہ ہم حکیم و دانا خدا کے وجود کوتسلیم کر لینے کے بعد معاد کی بحث کر رہے ہیں ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے وجود میں پیدا کیا ہے وہ کسی حساب کے ماتحت ہی ہوگا اور وہ اس عالم بقاء کے ساتھ عشق بھی کسی حساب کے ماتحت ہی ہوگا اور وہ اس عالم کے بعد کی خلقت اورجہان آخر سے ہم آہنگی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر دستگاہ خلقت نے ہمارے اندر پیاس پیدا کی ہے، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ خارج میں پانی کا وجود ہے۔ اسی طرح اگر جنسی خواہش اور جنس مخالف سے انسانوں میں لگاؤ موجود ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ خارج میں جنس مخالف کا وجود ہے. ورنہ کسی چیز کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کی خواہش کا ہونا حکمت آفرینش سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ دوسری طرف جب ہم تاریخ بشر کا قدیم ترین ایام سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں موت کے بعد زندگی کے بارے میں انسان کے اس راسخ عقیدے کی بہت سی نشانیاں ملتی ہیں۔ وہ آثار کہ جو گزشتہ انسانوں ـــــ یہاں تک کہ تاریخ سے پہلے کے انسانوں ـــ کے آج ہماری دسترس میں ہیں ان سے اس اعتقاد کی شہادت ملتی ہے ، خصوصًامُردوں کے دفن کرنے کا طریقہ ، قبریں بنانے کی کیفیت ، حتٰی کہ مُردوں کے ساتھ کچھ چیزیں دفن کرنا ، اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے ناآگاه وجدان میں موت کے بعد کی زندگی کا اعتقاد چھپا ہوا تھا۔ ایک مشہور ماہر نفسیات کہتا ہے: دقیق تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پہلے نوع بشر کے قبائل ایک قسم کے مذہب کے حامل تھے ۔ کیونکہ وہ اپنے مُردوں کو ایک خاص طریقے سے سپردخاک کرتے تھے اور ان کے کام کاج کے آلات ان کے ساتھ رکھ دیا کرتے تھے اور اس طریقے سے دوسری دنیا کے لوگوں کو اپنے عقیدے کا ثبوت مہیا کرتے تھے ۔ ؎1 یہ تمام باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ قومیں حیات بعد از موت کو قبول کرتی تھیں، اگراس کی تفسیر میں غلط راستے پر چلتی تھیں ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ زندگی بعینہ اس زندگی کی طرح ہے۔ بہرحال اس قدیمی بنیادی اعتقاد کو ایک معمولی اور عام خیال یا صرف ایک رواج اور عادت کا نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ تیسری طرف ایک اندرونی عدالت کا وجود جسے "وجدان" کہتے ہیں ، معاد کے فطری ہونے کا ایک اور گواہ ہے۔ ہر انسان نیک کام انجام دے کر اپنے وجدان کے اندر ایک سکون و اطمینان محسوس کرتا ہے ، ایسا سکون کہ جسے قلم بیان کرنے سے قاصرہے۔ اس کے برعکس انسان گناہوں خصوصًا بڑے بڑے جرائم کرنے کے بعد پریشانی اور بے سکونی محسوس کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خودکشی پر تیار ہوجاتا ہے یا خود کو سزا اور سولی کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے وجدان کے شکنجے سے رہائی کا سبب سمجھتا ہے۔ اس حالت میں انسان خود سے پوچھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھ جیسا ایک چھوٹا سا وجود تو اس قسم کی عدالت کا حامل ہو لیکن یہ عظیم عالم اس قسم کے وجدان اور عدالت سے خالی ہو۔ اس طرح مختلف طریقوں سے مرنے کے بعد کی زندگی اور مسئلہ معاد کا فطری ہونا ہم پر واضح ہوجاتا ہے : ٭- انسانوں کے بقاء سے عمومی عشق کے حوالے سے۔ ٭- پوری انسانی تاریخ میں اس ایمان کے حوالے سے اور ٭- انسان کی روح کے اندر اس کے ایک چھوٹے سے نمونے کی موجودگی کے حوالے سے