وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ
There came a man hurrying from the city outskirts. He said, ‘O my people! Follow the apostles!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 36:20
[Pooya/Ali Commentary 36:20] When the people rejected the message from Isa, a man, Habib al Najjar, known as the mumin of ali Yasin, (see verse 14), came running from the outskirts of the city and urged his people to believe in the message. Aqa Mahdi Puya says: The Roman name of Habib was Theofulus. Like him there was a God-fearing man in Madina who embraced Islam as soon as he came to know that the Holy Prophet was inviting people to the true religion of Allah. According to Tafsir Thalabi the Holy Prophet said that there were three persons who, without a moment of hesitation, responded to the call of three prophets: mumin of ali Firawn, mumin of ali Yasin, and Ali ibna abi Talib; and they never worshipped any god save Allah even for "the twinkling of an eye." When Obayda bin Harith was fatally wounded in the battle of Badr, he told the Holy Prophet: "I wish Abu Talib were here to see that I am the first from his house to give my life in the cause of Allah."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
4- امتوں میں سب سے سبقت کرنے والے
4- امتوں میں سب سے سبقت کرنے والے : تفسیر ثعلبی میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے: سباق الامم ثلاثة لم يكفروا بالله طرفة عين علي بن ابي طالب وصاحب یٰس و مؤمن آل فرعون فھم الصديقون وعلى افضلھم۔ "امتوں میں سب سے سبقت کرنے والے تین افراد ہیں کہ جہنوں نے ایک چشم زدن کے لیے ہرگز خدا سے کفر نہیں کیا ، علی بن ابی طالب اور صاحب یٰس (حبیب نجار) اور مومن آل فرعون ـــــ انہوں نے اپنے زمانے کے پیغمبر کی (قولاً اور عملًا) تصدیق کی ہے اور على ان سب سے افضل و برتر ہیں"۔ ؎1 یہی معنی و مفهوم تفسیر درمنشور میں ایک دوسری عبارت سے رسول اللہؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا : الصديقون ثلاثة : حبيب النجار مومن أل يٰس الذي قال يا قوم اتبعوا المرسلين ، وحزقیل مؤمن آل فرعون الذي قال اتقتلون رحلًا ان یقول ربي الله، و على بن ابى طالب (ع )وھو افضلھم انبیاء کی تصدیق کرنے والے تین آدمی تھے حبیب نجار مومن آل یٰس کہ جس نے پکار کر یہ کہا کہ اے میری قوم ! خدا کے رسولوں کی پیروی کرو اور حزقیل مومن آل فرعون! موسی کا دفاع کیا اور ان کی حمایت کرتے ہوئے ان کے قتل کی سازش کے مقابلے میں جو فرعونیوں کی طرف سے ترتیب دی گئی تھی) کہا : کیا تم اسے شخص کو قتل کرناچاہتے ہو جو یہ کہتا کہ میرا پروردگاراللہ ہے؟ اور علی بن ابی طالب کو جوان سب سے افضل و برترہیں ۔ ؎2 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، تفسیرقرطبی ، المیزان اور نور الثقلین ۔ ؎2 المیزان ، جلد 17 ص 86 بحوالہ تفسیر در منشور - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
3- برزخ کی سزا وجزاء
3- برزخ کی سزا وجزاء: زیر بحث آیات میں ہے مذکورہ "مومن" نے شہادت کے بعد خدائی بہشت میں جگہ پائی اور وہ یہ آرزو رکھتا تھا کہ اے کاش! پیچھے رہ جانے والے اس کی قسمت سے آگاہ ہوجاتے۔ یقینًا یہ آیات شہداء سے مربوط آیات کی طرح قیامت والی ابدی و جاوداني جنت سے مربوط نہیں ہیں جس میں آیات قرآنی کے مطابق مردوں کے قیامت میں اٹھنے اور محشر کے حساب وکتاب کے بعد داخلہ ہوگا ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے لیے برزخ میں بھی ایک طرح کی جنت و دوزخ ہے کہ جس میں شہید تو نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور"آل فرعون" جیسے سرکش صبح و شام اس کی آگ میں معذب ہوتے ہیں ۔ اس مطلب کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت سے ایسے مسائل حل ہوجاتے ہیں کہ جوبہشت و دوزخ کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ معراج کی روایات اور اس جیسے دیگر واقعات کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
2- اس داستان کے تربیتی اور اصلاحی نکات
2- اس داستان کے تربیتی اور اصلاحی نکات : زیر بحث آیات میں اس داستان کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے بہت سے مسائل سیکھے جاسکتےہیں کہ جن میں سے کچھ حسب ذیل ہیں: (ا) صاحب ایمان افراد راه خدا میں کبھی بھی تنہائی سے نہیں گھبراتے۔ جیسا کہ ایک مرد مومن حبیب نجار شہر کے مشرکین کے انبوہ سے وحشت زدہ نہیں ہوا۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ايها الناس لاتستوحشوا في طريق الهدي لقلة اھله اے لوگو! ہدایت کی راہ میں افراد کی کمی سے کبھی بھی وحشت نہ کرو۔ ؎1 (ب) مومن لوگوں کی ہدایت کا عاشق ہوتا ہے اور ان کی گمراہی سے اسے دکھ پہنچتا ہے۔ یہال تک کہ وہ اپنی شہادت کے بعد بھی یہ آرزو رکھتا ہے کہ اے کاش! دوسرے لوگ اس کے مقامات کو دیکھ لیتے اور ایمان لےآتے۔ (ج) انبیاء کی دعوت کے مطالب خود اس کی ہدایت و حقانیت کے بہترین گواہ ہوتے ہیں (و هم مھتدون)۔ (د) مردان کی طرف دعوت میں کسی بھی اجرپرنگاہ نہیں ہونی چاہیئے ورنہ وہ اثر انداز نہ ہو سکے گی۔ (ه) بعض اوقات گمراہی کا عامل پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عامل ضلال مبین اور آشکار ہوتا ہے اور بت پرستی و شرک "ضلال مبین" اس کا واضح مصداق ہیں۔ (و) مردان حق حقیقتوں پر تکیہ کرتے ہیں اور گمراہ لوگ موہومات و خیالات پر۔ (ز) اگر نحوست و بدبختی موجود ہو تو اس کا سرچشمہ خود انسان اور اس کے اعمال ہیں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 201 - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- (ح) "اسراف" اور تجاوز بہت سی بدبختیوں اور انحرافات کا عامل ہے۔ (ط) پیغمبروں اور ان کے راستے پر چلنے والوں کا فریضہ "بلاغ مبین" اور ہرمیدان میں واضح و آشکار دعوت دینا ہے ۔ چاہے لوگ اُسے قبول کریں یا نہ کریں۔ (ی) اجتماع و جمعیت کامیابی ،عزت اور قوت کے اہم عوامل میں سے ایک ہے (نعززنا بثالث) - (ک) خدا سرکش لوگوں کی سرکوبی کے لیے آسمان و زمین کے عظیم لشکرجمع نہیں کرتا بلکہ ایک ہی اشارے سے ان کی ہر چیز درہم برہم کردیتا ہے۔ (ل) شہادت اور بہشت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اور شہید اپنی سواری سے زمین پر آنے سے کی حورالعین کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔ (م) خدا انسان کو پہلے تو گناہ کی آلودگی سے پاک کرتا ہے اور پھر اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دیتا ہے (بما غفرلي ربي وجعلني من المكرمين)۔ (ن) دشمنان حق کی مخالفت اورسخت سے گھبرانا نہیں چاہیئے کیونکہ پوری تاریخ میں یہ ان کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے (یحسرة على العباد مايأتیهم من رسول الاکانوا به يستهزون) - اس سے بڑھ کر اور کونسی حسرت کی بات ہوگی کہ انسان ہدایت کے دروازوں کو تعصب ہٹ دھرمی اور غرورکی بناء پر اپنے اپور بند کر دے اور حق آفتاب عالمتاب کونہ دیکھے. (س) انبیاء پر سب سے پہلے ایمان لانے والے معاشرے کے مستضعفین ہوا کرتے تھے (وجاء رجل من اقصى المدينة) - (ع) وہی لوگ تھے کہ جو راہ طلب میں کبھی تھکےنہیں تھے اور ان کی سعی و کوشش ہمیشہ جاری رہتی تھی (یسعٰی)۔ (ف) تبلیغ کا طریقہ انبیاء الٰہی سے ہی سیکھنا چاہیے کہ جو بے خبر دلوں پر تاثیر کرنے کے لیے تمام موثر طریقوں سے استفادہ کرتے تھے کہ جن کا ایک نمونه زیر نظر آیات اور ان روایات میں کہ جو ان کی تفسیر میں آئی ہیں ، مشاہدے میں آتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
ایک جان بکف مجاهد
تفسیر ایک جان بکف مجاهد زیر بحث آیات میں ان رسولیوں کی جدوجہد کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے تھوڑے سے مومنین نے بڑی شجاعت سے ان انبیاء کی حمایت کی اور وہ کافر ومشرک اور ہٹ دھرم اکثریت کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور جب تک جان باقی رہی انبیاء الہی کا ساتھ دیتے رہے۔ ارشاد ہوتا ہے : "ایک (باایمان) مرد شہر کے دور دراز مقام سے بڑی تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا کافر گروہ کے پاس آیا اور کہا : اے میری قوم ! مرسلین خدا کی پیروی کرو"۔ (وجاء من اقصا المدينةرجل يسعٰي قال يا قوم ابتعوا المرسلین)۔ اس شخص کا نام اکثر مفسرین نے "حبیب نجار" وبیان کیا ہے۔ وہ ایسا شخص تھا کہ جو پروردگارکے پیغمبروں کی پہلی ہی ملاقات میں ان کی دعوت کی حقانیت اور ان کی تعلیمات کی گہرائی کو پاگیا تھا وہ ایک ثابت قدم اورمصمم کار مومن ثابت ہوا ۔جس وقت اُسے خبر ملی کہ وسط شہر میں لوگ ان انبیاءالٰہی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور شاید انہیں شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس نے خاموش رہنے کو جائزنہ سمجھا۔ چنانچہ "یسعٰی" کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تیزی اور جلدی کے ساتھ مرکز شهر تک پہنچا اور جو کچھ اس کے بس میں تھاحق کی حمایت اور دفاع میں فروگزاشت نہ کی۔ "رجل کی تعبیر ناشناختہ شکل میں شاید اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک عام آدمی تھا ، کوئی قدرت و شوکت نہیں رکھتا تھا اور اپنی راہ میں یکہ و تنہا تھا لیکن اس کے با وجود ایمان کے نور و حرارت نے اس کا دل اس طرح سے روشن اور مستعد کر رکھا تھا کہ راہ توحید کے مخالفین کی سخت مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان میں کود پڑا۔ اس کا واقعہ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آغازاسلام میں مومنین کہ جو بہت تھوڑی سی تعداد میں تھے اسے اپنے لیے نمونہ عمل سمجھیں اور جان لیں کہ تنہا ایک مومن بھی پوری طرح ذمہ داری ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے خاموش رہنا جائز نہیں ہے ۔ "اقصى المدينة" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان رسولوں کی دعوت شہر کے دور دراز کے مقامات تک پہنچ گئی تھی اور آماده دلوں میں اثرکرچکی تھی ۔ اس سے قطع نظر کہ شہر کے دور دراز کے علاقے ہمیشہ ایسے مستضعفین کے مرکز ہوتے ہیں کہ جو حق کو قبول کرنے کے لیے زیادہ آمادہ وتیار ہوتے ہیں ، اس کے برعکس شہروں میں نسبتًا خوشحال لوگ زندگی بسر کرتے ہیں جن کو حق کی طرف راغب کرنا آسانی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ "یاقوم" (اے میری قوم )کی تعبیر اس شخص کی اہل شہر کے بارے میں ہمدردی کو بیان کرتی ہے اور رسولوں کی پیروی کی دعوت ایک مخلصانہ دعوت ہے جس میں اس کی ذات کے لیے کوئی فائده اورنفع میں ہے۔ آیےاب دیکھتے ہیں کہ یہ مومن مجاہد اپنے شہر والوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی منطق اور دلیل کو اختیار کرتا ہے۔ اس نے پہلے یہ دلیل اختیار کی کہ "ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے اپنی دعوت کے بدلے میں کوئی اجر طلب نہیں کرتے"۔ (اتبعوا من لا يسئلكم اجرًا)۔ یہ ان کی صداقت کی پہلی نشانی ہے کہ ان کی دعوت میں کسی قسم کی مادی منفعت نہیں ہے، وہ تم سے کوئی مال چاہتے ہیں اور نہ ہی جاہ و مقام ، یہاں تک کہ وہ تو تشکر و سپاس گزاری بھی نہیں چاہتے اور نہ ہی کوئی اور صلہ۔ عظیم انبیاء کے خلوص ، بے غرضی اور ان کی صفائے قلب کی نشانی کے طور پر بارہا آیات قرآنی میں اس بات کا ذکر آیا ہے۔ صرف سور: شعراء میں پاپنج مرتبه وما اسئلکم عليه من اجر" کی تکرار ہے ۔ ؎1 اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : (علاوہ ازیں) یہ رسول جیسا ان کی دعوت کے مطالب اور ان کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے"کہ وہ ہدایت یافتہ افرادہیں (وهم مھتدون)۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کسی کی دعوت کو قبول نہ کرنا یا تو اس بناء پر ہوتا ہے کہ اس کی دعوت حق نہیں ہے اور وہ بے راہ روی اور گمراہی کی طرف کھینچ رہاہے یا یہ کہ ہے تو حق لیکن اس کو پیش کرتے والے اس کے ذریعے کوئی خاص مفاد حاصل کر رہے ہیں کیونکہ یہ بات خود اس قسم کی دعوت کے بارے میں بدگمانی کا ایک سبب ہے لیکن جب نہ وہ بات ہو اور نہ یہ ، تو ہھر تامل و تردد کے کیا معنی ؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قرآن ایک اور دلیل پیش کرتا ہے اور اصل توحید کے بارے میں بات کرتا ہے کیونکہ یہی انبیا کی دعوت کا اہم ترین نکتہ ہے کہتا ہے:" میں اس ہستی کی پرستش کیوں نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سورہ شعراء آیہ 109 ، 127 ، 145 ، 164 و 180۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کیاہے"۔ (وما لي لا اعبد الذی فطرنی )۔ ؎1 وہ ہستی پرستش کے لائق ہے کہ جو خالق و مالک ہے اور نعمات بخشنے والی ہے ، نہ کہ یہ بت کہ جن سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔فطرت سلیم کہتی ہے کہ خالق کی عبادت کرنا چاہیئے ہے کہ اس بے قدرقیمت مخلوق کی "فطرنی" ( جس نے مجھے پیدا کیا ہے) ممکن ہے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ میں جس وقت و اپنی فطرت اصلی اور سرشتِ حقیقی پر غور کرتا ہوں تو اچھی طرح سے محسوس کرتا ہوں کہ میرے اندر سے ایک ایسی رسا آواز بلند ہوتی ہے کہ جو مجھے میرے خالق کی پرستش کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ وہ دعوت کہ جو عقل و خرد کے ساتھ ہم آہنگ ہے، میں ... "فطرت" اور "عقل و خرد" کی اس دہری دعوت کو کس طرح اہمیت نہ دوں - قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ شخص یہ نہیں کہتا کہ "مالكم لا تعبدون الذي فطركم " (تم اس خدا کی عبادت کیوں نہیں کرتے کہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے) بلکہ کہتا ہے کہ "میں کیوں اس طرح نہ کروں" یعنی خود اپنے آپ سے شروع کرتا ہے تا کہ بات زیادہ موثر ہو۔ اس کے بعد خبردار کرتا ہے کہ یاد رکھو "تم سب کے سب آخرکار اکیلے ہی اس کی طرف لوٹ کرجاؤ گے"۔ (وليه ترجعون)۔ یعنی نہ صرف تمہارا اس جہان کی زندگی میں اس کے ساتھ تعلق ہے بلکہ دوسرے جہان میں بھی تمهاری ساری سرنوشت اسی کے دست قدرت میں ہوگی۔ ہاں ! اسی کی طرف رخ کرو کہ دونوں جہانوں میں تماری سرنوشت جس کے اختیار میں ہے۔ اپنے تیسرے استدلال میں بتوں کی کیفیت بیان کرتا ہے اور خدا کے لیے عبودیت کے اثبات کو بتوں کی عبودیت کی نفی کے ذریعے تکمیل کرتے ہوئے کہتا ہے : "کیا میں خدا کے سوا اور معبود اپنا لوں ، جبکہ خدا رحمٰن مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت مجھے معمولی سا فائدہ بھی نہ دے گی اور وہ مجھے اس کے عذاب سے نہ بچاسکیں گے"۔ (ءانتخذ من دونه الهة ان یردن الرحمٰن بضر لا تغن عني شفاعته شيئًا ولا ینقذون) - اس مقام پر پھر اپنے بارے میں بات کرتا ہے تاکہ تحکم اور آمریت کا لہجہ نہ ہو اور دوست اپنا حساب خود کرلیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ومالي لا اعبد .. "میں کچھ محذوف ہے اور وہ تقدیر میں اس طرح تھا : ای شی لي اذالم اعبد خالقي (مجمع البیان) بعض مفسرین نے "مالی" کو "لم" "کیوں" اس کے معنی میں لیا ہے ۔ (بتیان زیربحث آیت کے ذیل میں) - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ وہ دراصل بت پرستوں کے بہانن کی نشاندہی کرتا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم تو ان کی اسی بنا پرستش کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ خدا میں ہمارے شفیع ہوں۔ کہتا ہے : کونسی شفاعت اور کونسی مدد و نجات ؟ وہ تو خود تمهاری مدد کے محتاج ہیں ، حوادث کی تنگناۓ میں وہ تمہارا کیا کام دے سکتے ہیں۔ "الرحمن" کی تعبیر یہاں پر خدا کی رحمت کی وسعت اور تمام نعمتوں کی اسی کی طرف بازگشت ہونے کی جانب اشارہ ہے اور یہ خود توحید عبادت کی دلیل ہے اس کے علاوہ یہ اس نکتہ کو بھی بیان کرتی ہے کہ خدائے رحمٰن کسی کے لیے ضرر اور نقصان نہیں چاہتا مگر یہ کہ انسان کی غلط روش اپنے انتہائی درجہ کو پہنچ جائے جو اس کو خدا کی وسیع رحمت سے دور کرکے اس کے غضب کی وادی میں گرفتار کردے ۔ اس کے بعد یہ مجاہد مومن مزید تاکید و توضیح کے لیے کہتا ہے : اگر میں اس قسم کے بتوں کی پرستش کروں اور انہیں پروردگار کا شریک قرار دوں تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا"۔ (اني اذًالفي ضلال مبين). اس سے بڑھ کر کھلی گمراہی کیاہوگی کہ عاقل و باشعور انسان ان سے شعور موجودات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور انہیں زمین و آسمان کے خالق کے برابرجانے۔ اس مجاہد مومن نے ان استدلالات اور مؤثر و وسیع تبلیغات کے بعد ایک پر تاثیر آواز کے ساتھ سارے مجمع کے سامنے اعلان کیا سب لوگ جان لو کہ میں "ان رسولوں کی دعوت پر ایمان لایا ہوں اور میں نے ان رسولوں کی دعوت کو قبول کرلیا ہے"۔ (اني امنت بربكم) - اس بناء پر میری باتوں کو سنو "اور جان لو کہ میں ان رسولوں کی دعوت پر ایمان رکھتا ہوں اور تم میری بات پر عمل کرو کہ یہی تمہارےفائدہ کی بات ہے ( فاسمعون). اس جملے میں اور اسی طرح "اني أمنت بربکم" میں مخاطب کون ہے؟ اس بارے میں عرض ہے کہ کہ گزشتہ آیات کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ وہی مشرکین اور بت پرستوں کا گروہ ہے کہ جواس شہرمیں رہتا تھا "ربکم" (تمہارا پروردگار) کی تعبیر بھی اس معنی سے تضاد نہیں رکھتی کیونکہ یہ تعبیر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں استدلالات توحید بیان کرتے ہوئے آئی ہے ۔ ؎1 نیز "فاسمعون" (میری بات پر کان دھرو) بھی اس بات کے ساتھ کہ جو بیان ہوئی کوئی مخالفت نہیں رکھتا کیونکہ وہ یہ لفظ انہیں اپنی گفتگو کی پیروی کرنے کی دعوت کے لیے کہتا ہے جیسا کہ مومن ، آل فرعون کی داستان میں آیا ہے ۔ وہ فرعرنیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: یا قوم اتبعون أهدكم سبيل الرشاد ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 آیه 3 ، 32 يونس - 3 بود -52 ہود - 24 نخل - 29 کہف وغیرہ کی طرف رجوع کریں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ "اے میری قوم! میری پیروی کرو تاکہ میں تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کروں"۔ (مومن ـــ38 ) اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے میں وہ رسول مخاطب ہیں کہ جوخدا کی طرف سے اس قوم کو دعوت دینے کے لیے آئے تھے اور " ربکم "کی تعبیر اور فاسمعون کو اس پر قرینہ قرار دیا ہے ، اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ اس پاکباز مومن کے جواب میں اس ہٹ دھرم قوم کا ردعمل کیا تھا ۔ قرآن نے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کہی لیکن بعد والی آیات کے لب وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے شہید کردیا۔ ہاں ! اس کی پرجوش اور ولولہ انگیز گفتگو قوی اور طاقتور استدلالات اور ایسے عمدہ و دلنشین نکات کے ساتھ تھی ۔مگر اس سے نہ صرف یہ کہ ان سیاه دلوں اور مکر و غرور سے بھرے ہوئے سروں پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا بلکہ کینہ و عداوت کی آگ ان کے دلوں میں ایسی بھڑکی کہ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور انتہائي سنگدلی اور بے رحمی سے اس شجاع مردمومن کی جان کے پیچھے پڑگئے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے پتھر مارنے شروع کیے اور اس کے جسم کو اس طرح سے پتھروں کا نشانہ بنایا کہ وہ زمین پر گر پڑا اور جان جان آفریں کے سپرد کردی ۔ اس کے لبوں پر مسلسل یہ بات تھی کہ "خداوندا ! میری اس قوم کو ہدایت فرما کہ وہ جانتے ہیں ہیں ۔ ؎1 ایک اور روایت کے مطابق اسے اس طرح پاؤں کے نیچے روندا کہ اس کی روح پرواز کرگئی ۔ ؎2 لیکن قرآن اس حقیقت کو ایک عمدہ اور سربستہ جہلہ کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:" اسے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا"۔ (قیل ادخل الجنة) - یہ وہی تعبیر ہے کہ جو راہ خدا کے شہیدوں کے بارے میں قرآن کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے : ولاتحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتًا بل احیاء عند ربهم یرزقون " یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہ خدا میں قتل کیے گئے ہیں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زنده جاوید ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں"۔ (آل عمران ـــــ 169) جاذب توجہ بات یہ ہے کہ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مرد مومن شہادت پاتے ہی جنت میں داخل ہوگیا ۔ ان دونوں کے درمیان اس قدر کم فاصلہ تھا کہ قرآن مجید نے اپنی لطیف تعبیرمیں اس ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ؎2 تفسیر مجمع البیان ، تبیان، تفسير ابوالفتوح رازی و غیره - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کی شہادت کا ذکر کرنے کے بجائے اس کے بہشت میں داخل ہونے کو بیان کیا۔ شہیدوں کی منزل یعنی بہشت وسعادت کس قدرنزدیک ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں بہشت سے مراد برزخ والی بہشت ہے کیونکہ قرآنی آیات سے بھی اور روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہشت جاوداں مومنین کو قیامت میں نصیب ہوگی اور دوزخ بھی بدکاروں کے لیے اسی طرح۔ اس بناء پر عالم برزخ میں ایک دوسری جنت و دوزخ ہے کہ جو قیامت کی جنت و دوزخ کا ایک نمونہ ہے جیسا کہ امیرالمومنین علیؑ کی ایک روایت میں قبر کے بارے میں مقتول ہوا ہے : القبراما روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النيران۔ قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے"۔؎1 بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ حملہ اس خطاب کی طرف اشارہ ہے کہ جو قیامت کے دن اس مجاہد اور ایثارپیشہ مومن سے کیا جائے گا اور یہ مستقبل کا پہلو رکھتا ہے نہ کہ حال کا ۔ یہ احتمال ظاہر آیہ کے خلاف ہے۔ بہرحال اس شخص کی پاک روح آسمانوں کی طرف ، رحمت الہی کے قرب اور بہشت نعیم کی طرف پرواز کر گئی اور وہاں اسے صرف یہ آرزو تھی کہ:" اے کاش میری قوم جان لیتی ( قال ياليت قوی یعلمون)۔ "اے کاش وہ جان لیتے کہ میرے پروردگار نے مجھے اپنی بخشش اور عفو سے نوازا ہے اور مجھے مکرم لوگوں کی صف ہمں جگہ دی ہے"۔ (بما غفرلي ربي وجعلني من المكرمين)۔ ؎2 اے کاش ان کی آنکھ حق بین ہوتی ۔ ایسی آنکھ کہ جس پر مادی دنیا کے ضخیم پردے پڑے ہوئے نہ ہوتے اور جو کچھ اس پردے کے پیچھے ہے اسے دیکھ لیتے ۔یعنی وہ ان سب نعمتوں اور خدا کے اکرام و الطاف کو دیکھ لیتے اور جان لیتے کہ ان کی اہانتوں کے بدلے خدا نے میرے حق میں کیا لطف فرمایا ہے اے کاش ! وہ دیکھتے اور ایمان لے آتے لیکن افسوس ! ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر گرامی اسلامؐ نے فرمایا : انه نصح لهم في حياته وبعد موته - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 بحارالانوار ، جلد 2 ص 218- ؎2 "ما" "بماغفرلی ربی" میں مصدریہ ہے یا موصولہ ہے یا استفہامیہ؟ تین احتمال ذکر کیے گئے لیکن استفہامیہ والا احتمال بعید نظر آتا ہے ۔ دوسرے دواحتمالوں میں سے موصولہ والا احتمال زیادہ تر صحیح معلوم ہوتا ہے اگرچہ معنی کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "اس باایمان شخص نے اپنی زندگی میں بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور موت کے بعد بھی ان کی ہدایت کی آرزو رکھتا تھا۔ ؎1 یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ پہلے غفران الہی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے اور پھر اس کے اکرام کا۔ کیو نکہ پہلے انسان کی روح کو گناہوں کی آلودگی سے مغفرت کے پانی کے ساتھ پاک ہونا چاہیے اور جب پاک ہو جائے تو پھر بساط قرب اوراکرام الہی کا مقام پاتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ خدا کا اکرام و اعزاز اور بزرگی ۔ بہت سے بندوں کو نصیب ہوتی ہے اور اصولاً "تقوٰی " اور "اکرام" دوش بدوش آگے بڑھتے ہیں جیسا کہ فرمایا گیا ہے: ان اكرمكم عند الله اتقاكم (حجرات ـــــــ 13)۔ "لیکن" اکرام بطور کامل اورکسی شرط کے بغیر قرآن مجید میں دو گروہوں کے بارے میں آیا ہے۔ پہلاگروہ خدا کے مقرب فرشتے ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ : بل عباد مکرمون لا يسبقونه بالقول و هم با مرہ یعملون "وہ خدا کے مکرم بندے ہیں کہ جوبات کرنے میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے فرمان پرکار بند رہتے ہیں"۔ (انبیاء - 26-27)۔ ور دوسرے کامل الایمان بندے کہ جنہیں قرآن نے "مخلصین" کے نام سے یاد کیا ہے اور ان کے بارے میں کہتا : اولئك في جنات مكرمون وہ جنت کے باغوں میں مکرم ہوں گے قدر ہوں گے" ۔ ( معارج ــــ 35)۔ ؎2 ــــــــــــــــــــــــــ بہرحال یہ تو اس مرد مومن اور سچے مجاہد کا انجام تھا کہ جس نے اپنی ذمہ داری کی انجام دہی اور خدا کے پیغمبروں کی حمایت میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور آخر کار شربت شهادت نوش کیا اور خدا کے جوار رحمت میں جگہ پائی ۔ لیکن آیئے دیکھیں کہ اس ظالم اور سرکش قوم کا انجام کیا ہوا؟ اگرچہ قرآن میں ان تین پیغمبروں کے انجام کار کے متعلق ــ کوئی بات نہیں کی گئی کہ جو اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے۔ لیکن بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس قوم نے ، اس مرد مومن کو شہید کرنے کے علاوہ اپنے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسير قرطبی جلد 8 ص 5464- ؎2 المیزان ، جلد 17 ص 86 زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پیغمبروں کو بھی شہید کردیا جبکہ بعض نے تصریح کی ہے کہ اس مرد مومن نے لوگوں کو اپنے ساتھ مشغول رکھا تاکہ وہ پیغبراس سازش سے بچ جائیں ــ جو ان کے خلاف کی گئی تھی ۔ اور کسی پر امن جگہ منتقل ہوجائیں لیکن اس قوم پر خدا کا درد ناک عذاب نازل ہوا کہ جس کی طرف بعد والی آیات میں ارشاد ہوا ہے یہ امر پہلے قول کی ترجیح کے لیے قرینہ ہے ۔ اگرچہ "من بعده "( اس مرد مومن کی شہادت کے بعد) کی تعبیر نزول عذاب کے بارے میں ایک بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوسرا قول صحیح ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ ہم نے دیکھا کہ شہرانطاکیہ کے لوگوں نے خدا کے پیغمبروں کی کیسے مخالفت کی ۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا۔ قران اس بارے میں کہتا ہے:" ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں بھیجا اور اصولًا ہمارا طریقہ ہی نہیں ہے کہ ایسی سرکش اقوام کو نابود کرنے کے لیے ان امور سے کام لیں"۔ (وما انزلنا على قومه من بعد و من جند من السماء وماکنا منزلين )- ہم ان امور کے محتاج نہیں ہیں صرف ایک اشارہ کی کافی ہے کہ جس سے ہم ان سب کو خاموش کر دیں اور انہیں دیارعدم کی بھیج دیں اور ان کی زندگی کو درہم برہم کر دیں۔ صرف ایک اشارہ ہی کافی ہے کہ ان کے حیات کے عوامل ہیں ان کی موت کے عامل میں بدل جائیں اور مختصر سے وقت میں ان کی زندگی کا وقت لپیٹ کر رکھ دیں۔ پھر قرآن مزید کہتا ہے: "صرف ایک آسمانی چیخ پیدا ہوئی ، ایسی چیخ کہ جو ہلادینے والی اور موت کا پیغام کی اچانک سب پر موت کی خاموشی طاری ہوگئی"۔ (ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم خامدون) - کیا یہ چیخ بجلی کی کڑک تھی کہ جو بادل سے اٹھی اور زمین پرجاپڑی اور ہرچیز کو لرزه براندام کردیا اور تمام عمارتوں کو تباہ کر دیا اور وہ سب خوف کی شدت سے موت کی آغوش میں چلے گئے ۔ یایہ ایسی چیخ تھی کہ جو زمین کے اندر سے ایک شدید زلزلے کی صورت میں اٹھی اور فضا میں تھا دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کی لہرنے انہیں موت کی آغوش میں سلادیا۔ ایک چیخ وہ جو کچھ بھی تھی ، لمحہ بھر سے زیادہ نہ تھی ۔ وہ ایک ایسی آواز تھی کہ جس نے سب آوازوں کو خاموش کردیا اور ایسی ہلادینے والی تھی کہ جس نے تمام حرکتوں کو بے حرکت کردیا اور خدا کی قدرت ایسی ہی ہے اور ایک گمراہ اور بےثمرقوم کا انجام یہی کرتا ہے، بسو زند چوب درختان بی بر سزا خود ہمیں است مربي بری را "بے ثمر درختوں کی لکڑی جلانے ہی کے کام آتی ہے کیونکہ بے ثمر چیز کی سزا یہی ہے"۔ آخری زیربحث آیت میں بہت ہی جامع اور موثر انداز میں تاریخ کے تمام سرکشوں کے دعوت انبیاء سے ٹکراؤ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : "افسوس ہے ان بندوں پر کہ کوئی ایسا پیغمبر ان کی ہدایت کے لیے نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایاہو"۔ (ياحرة على العباد مایا تیهم من رسول الاكانوا به يستہزءون)۔ وائے ہے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے خدا کی رحمت کا دریچہ خود سے بند کرلیا۔ افسوس ان پر کہ جہنوں نے اپنی ہدایت کے چراغ توڑ ڈالے۔ ہائے سعادت سے محروم وہ لوگ کہ جو نہ صرف پیغمبروں کی ندا پرکان نہیں دھرتے بلکہ ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور پھر انہیں تہ تیغ کردیتے ہیں حالانکہ گزشتہ بےایمان سرکشوں کا برا انجام دیکھ چکے ہیں اور ان کے دردناک انجام کے بارے میں سن چکے ہیں یا تاریخ کے صفحات میں پڑھ چکے ہیں لیکن انہوں نے کچھ بھی تو عبرت حاصل نہیں کی اور انہوں نے بھی اسی وادی میں قدم رکھ دیا اور اس انجام میں گرفتار ہوگئے۔ واضح رہے کہ یہ جملہ خدا کی گفتار ہے چونکہ یہ تمام آیات اس کی طرف سے بیان ہورہی ہیں۔ البتہ "حسرت" کالفظ ـــــ ان واقعات یہ کہ جن کے بارے میں انسان سے کچھ ہو نہ سکے اندرونی پریشانی کے معنی میں ہوتا ہے ۔ خدا کے بارے میں یہ لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا جیسا کہ "خشم" اور "غضب" اور اس قسم کے دیگر امور بھی اس کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان بدبختوں کا حال ایساتھا کہ جو انسان بھی ان کی کیفیت سے آگاہ ہوتا ، وہ متاسف و متاثر ہوتا کہ وہ نجات کے ان تمام وسائل کے ہوتے ہوئے اس ہولناک گرداب میں کیوں غرق ہو گئے ۔ ؎1 "عباد" (خدا کے بندے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تعجب اس چیز پر ہے کہ خدا کے بندے کہ جو اس کی نعمتوں میں مستغرق میں اس قسم کا جرم کرتے ہیں ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
1- انطاکیہ کے رسولوں کی داستان
چند اهم نکات 1- انطاکیہ کے رسولوں کی داستان : انطاکیہ ، شام کےعلاقہ کا ایک قدیم شہر ہے بعض کے قول کے مطابق یہ شہر مسیح علیہ السلام سے تین سوسال پہلےتعمیرہوا۔ یہ شہرقدیم زمانے میں دولت و ثروت اور علم و تجارت کے لحاظ سے مملکت روم تین بڑے شہروں میں سے ایک شمار ہوتا تھا۔ شہر انطاکیہ حلب سے ایک سو کلومیٹر سے کچھ کم اور اسکندریہ سے تقریبًا ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 راغب مفردات میں کہتا ہے کہ"حسرت" اس چیز پر غم کے معنی میں ہے کہ جو انسان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ یہ شہرخلیفہ ثانی کے زمانہ میں ابوعبیدہ جراح کے ہاتھوں فتح ہوا اور رومیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا اس میں رہنے والے لوگ عیسائی تھے ۔ انہوں نے جزیہ دینا قبول کرلیا اور اپنے مذہب پر باقی رہ گئے ۔ ؎1 پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ شہر فرانسیسیوں کے قبضہ میں آگیا ۔ اہل انطاکیہ زیادہ ترعیسائی اور فرانسیسیوں کے ہم مذہب تھے اس لیے جب فرانسیسیوں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اس بات کے پیش نظر کہ ان کے شام سے نکلنے کے بعد اس ملک میں ہونے والے فتنہ و فساد سے عیسائیوں کو کوئی گزند نہ پہنچے، انہوں نے اسے ترکی کے حوالے کردیا ۔ انطاکیہ عیسائیوں کی نگاہ میں اسی طرح سے دوسرا مذہبی شہر شمار ہوتا ہے جس طرح سے مسلمانوں کی نظرمیں مدینہ ہے اور ان کا پہلا شہر بیت المقدس ہے کہ جس سے حضرت عیسٰیؑ نے اپنی دعوت کی ابتداء کی اور اس کے بعد حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لانے والوں میں سے ایک گروہ نے انطاکیہ کی طرف ہجرت کی اور پولس اور برنابا ؎2 شہروں کی طرف گئے ۔ انہوں نے لوگوں کو اس دین کی طرف دعوت دی ۔ وہاں سے دین عیسوی نے وسعت حاصل کی ۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں اس شہر کے بارے میں (زیر بحث آیات میں) خصوصیت کے ساتھ گفتگو ہوئی ہے۔ ؎3 مفسرعالی قدرطبرسی ، مجمع البیان میں کہتے ہیں : حضرت عیسیؑ نے حواریین میں سے اپنے دو نمائندے انطاکیہ کی طرف بھجیے جس وقت وہ شہر کے پاس پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ جو چند چیزیں چرانے کے لیے لایا تھا ۔ یہ "حبیب" صاحب یس تھا۔ انہوں نے اسے سلام کیا "بوڑھے نے جواب دیا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم عیسٰی کے نمائندے ہیں ، ہم اس لیے آئے ہیں کہ تمہیں بتوں کی عبادت کے بجائے خدائے رحمان کی طرف دعوت دی۔ بوڑھے نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی معجزہ یا نشانی بھی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ! ہم بیماروں کو شفا دیتے ہیں اور مادر زاد اندھوں اور برص میں مبتلا لوگوں کو حکم خدا سے صحت و تندرستی بخشتے ہیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 فرہنگ قصص قرآن ماده "انطاکیہ" ص 320۔ ؎2 "پولس" مشہور عیسائی مبلغ ہے ۔ اس نے حضرت عیسیؑ کے بعد عیسائیت پھیلانے میں بہت کوشش کی ہے اور "برنابا" کااصلی نام "یوسف" ہے، اور وه "پولس" اور "مرقس" کے اصحاب میں سے تھا۔ اس کی ایک انجیل ہے جس میں پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کی بہت زیادہ بشارتیں نظرآتی ہیں لیکن عیسائی اسے غیر قانونی شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک مسلمان نے لکھی ہے ۔ ؎3 تفسیرابوالفتوح رازی حاشیہ ازمرحوم عالم بزرگوار شعرانی۔ ،۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بوڑھے نے کہا : میرا ایک بیمار بیٹا ہے کہ جو سالہاسال سے بستر پرپڑا ہے انہوں نے کہا : ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم تمهارے گھر جاکر اس کا حال معلوم کریں۔ بوڑھا ان کے ساتھ چل پڑا۔ انہوں نے اس کے بیٹے پر ہاتھ پھیرا تو وہ صحیح و سالم اپنی جگہ پر اٹھ ہوا۔ یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور خدا نے اس کے بعد بیماروں میں سے ایک کثیر گروہ کو ان کے ہاتھ سے شفابخشی - ان کا بادشاہ بت پرست تھا۔ جب اس تک خبرپہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہوا؟ انہوں نے کہا: کہ ہم عیسٰی سے فرستادہ ہیں ، ہم اس لیے آئے ہیں کہ یہ موجودات جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں ان کی عبادت کے بجائے ہم تمہیں اسی کی عبادت کی طرف دعوت دیں جو سنتا بھی ہے اور ایسا دیکھتابھی ہے ۔ بادشاہ نے کہا : کیا ہمارے خداؤں کے علاوہ کوئی اور معبود کی موجودہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! وہی کہ جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا ہے ۔ بادشاہ نے کہا : اٹھ جاؤ کہ میں تمهارے بارے میں کچھ سوچ بچارکروں ۔ یہ ان کے لیے ایک دھمکی تھی۔ اس کے بعد لوگوں نے ان دونوں کو بازار میں پکڑکرمارا پیٹا۔ لیکن ایک دوسری روایت میں ہے کہ عیسٰی کے ان دونواں نمائندوں کو بادشاہ تک رسائی حاصل نہ ہوئی اور ایک مدت تک وہ اس شہرمیں رہے ۔ ایک دن بادشاہ اپنے محل سے باہر آیا ہوا تھا تو انمول تکبیر کی آواز بلند کی، اور "اللہ" کا نام عظمت کے ساتھ لیا - بادشاه غضب ناک ہوا اور انہیں قید کرنے کا حکم دے دیا اور ہر ایک کو سو کواڑے مارے۔ جس وقت عیسٰی کے ان دونوں نمائندوں کی تکذیب ہوگئی اور انہیں زدوکوب کیا گیا تو حضرت عیسٰی نے شمعون الصفا کو ان کے پیچھے روانہ کیا۔ وہ حواریوں کے بزرگ تھے۔ شمعون اجنبی صورت میں شہرمیں پہنچے اور بادشاہ کے اطرا فیوں سے دوستی پیدا کرلی، انہیں ان کی دوستی بہت بھائی اور ان کے بارے میں بادشاہ کو بھی بتایا ۔ بادشاہ نے بھی ان کودعوت دی اور انہیں اپنے ہمنشینوں میں شامل کرلیا ۔ بادشاہ ان کا احترام کرنے لگا۔ شمعون نے ایک دن بادشاہ سے کہا : میں نے سنا ہے کہ دو آدمی آپ کی قید میں ہیں اور جس وقت انہوں نے آپ کو آپ کے دین کے بجائے کسی دوسرے دین کی دعوت دی تو آپ نے انہیں مارا پیٹا؟ کیا کبھی آپ نے ان کی باتیں سنی بھی ہیں؟ بادشاہ نے کہا : کہ مجھے ان پر اتنا غصہ آیا کہ میں نے ان کی کوئی بات نہیں سنی۔ شمعون نے کہا : اگر بادشاہ مصلحت سمجھیں تو انہیں بلالیں تاکہ ہم دیکھیں تو سہی کہ ان کے پلے ہے کیا۔ بادشاہ نے انہیں بلالیا شمعون نے یوں ظاہر کیا جیسے انہیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور ان سے کہا: تمہیں یہاں اس نے بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس خدا نے کہ جس نے سب کو پیدا کیا ہے اور حبس کا کوئی شریک نہیں ہے"۔ شمعون نے کہا : تمهارا معجزہ اور نشانی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کچھ تم چاہو! بادشاہ نے حکم دیا اور ایک اندھے غلام کو لایا گیا جسے انہوں نے حکم خدا سے شفا بخشی بادشاہ کو بہت تعجب ہوا- اس مقام پر شمعون بول اٹھے اور بادشاہ سے کہا : اگر آپ اس قسم کی درخواست اپنے خداؤں سے کرتے تو کیا وہ بھی اس قسم کے کام کی قددرت رکھتے تھے ؟ بادشاہ نے کہا : تم سے کیا چھپا ہوا ہے ۔ ہمارے یہ خدا کہ جن کی ہم پرستش کرتے ہیں نہ تو کوئی ضرر پہنچا سکتےهیں ،نہ نفع دےسکتےہیں اورنہ ہی کوئی اورخاصیت رکھتےہیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے ان دونوں سے کہا : اگر تمہارا خدا مردے کوزندہ کرسکتا ہے توہم اس پر اور تم پر ایمان لےآئیں گے۔ انہوں نے کہا : ہمارا خدا ہرچیزپرقدرت رکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا : یہاں ایک مردہ ہے جسے مرے ہوئے سات دن گزرچکے ہیں ابھی تک تم نے اسے دفن نہیں کیا۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ اس کا باپ سفر سے آجائے۔ اسے زندہ کردکھاؤ۔ مردہ کو لایا گیا تو وہ دونوں تو آشکاردعا کررہے تھے اور شمعون دل ہی دل میں - اچانک مردے میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ میں سات روز سے مرچکاہوں میں نے جہنم کی آگ اپنی آنکھ سے دیکھی ہے اور میں تمہیں خبردارکرتا ہوں کہ تم سب خداے یگانہ پر ایمان لے اؤ۔ بادشاہ نے تعجب کیا۔ حبس وقت شمعون کو یقین ہوگیا کہ اس کی باتیں اس پر اثرکرگئی ہیں تو اسے خدائے یگانہ کی طرف دعوت دی اور وہ ایمان لےآیا اور اس کے ملک کے باشندے بھی اس کے ساتھ ایمان لے آئے ۔ اگرچہ کچھ لوگ اپنے گھر پر باقی رہے۔ اس روایت کی نظر تفسیر عیاشی میں امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے، اگرچہ ان کے درمیان کچھ فرق ہے۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تفسير مجمع البیان ، جلد 8 ص 429 زیربحث آیات کے ذیل میں (تلخیص کے ساتھ) . ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن گزشتہ آیات کے ظاہر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس شہر والوں کا ایمان لانا بہت بعیدنظرآتاہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ وہ صیحۂ آسمانی کے ذرایعہ ہلاک ہوگئے۔ ممکن ہے کہ روایت کے اس حصہ میں راوی سے اشتباہ ہوا ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں "مرسلون" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پیغمبر اور خدا کے بھیجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں قرآن کہتا ہے کہ شہر کے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم ہم جیسے بشر ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں فرمائی . قرآن مجید میں اس قسم کی تعبیرات عام طور پر خدائی پیغمبروں کے بارے میں آئی ہیں ، یہ کہنا کہ پیغمبروں کے بھیجے ہوئے بھی تو خدا کے بیجھے ہوتے ہیں تو یہ توجیہ یہاں بعید نظر آتی ہے ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:20-30
سورہ یٰس / آیه 20 - 30
(20) اُولٰٓئِكَ لَمْ يَكُـوْنُـوْا مُعْجِزِيْنَ فِى الْاَرْضِ وَمَا كَانَ لَـهُـمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ۘ يُضَاعَفُ لَـهُـمُ الْعَذَابُ ۚ مَا كَانُـوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُـوْا يُبْصِرُوْنَ (21) اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ خَسِرُوٓا اَنْفُسَهُـمْ وَضَلَّ عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ (22) لَا جَرَمَ اَنَّـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُـمُ الْاَخْسَرُوْنَ (23) اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاَخْبَتُـوٓا اِلٰى رَبِّـهِـمْ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَنَّـةِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (24) مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَـمِّ وَالْبَصِيْـرِ وَالسَّمِيْـعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (25) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُـوْحًا اِلٰى قَوْمِهٓ ٖ اِنِّـىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ (26) اَنْ لَّا تَعْبُدُوٓا اِلَّا اللّـٰهَ ۖ اِنِّـىٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْـمٍ (27) فَقَالَ الْمَلَاُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرَاكَ اِلَّا بَشَـرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّـذِيْنَ هُـمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِىَ الرَّاْىِۚ وَمَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِيْنَ (28) قَالَ يَا قَوْمِ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّىْ وَاٰتَانِىْ رَحْـمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْۖ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُـمْ لَـهَا كَارِهُوْنَ (29) وَيَا قَوْمِ لَآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّـٰهِ ۚ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا ۚ اِنَّـهُـمْ مُّلَاقُوْا رَبِّـهِـمْ وَلٰكِنِّىٓ اَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ (30) وَيَا قَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِىْ مِنَ اللّـٰهِ اِنْ طَرَدتُّـهُـمْ ۚ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ترجمہ (20) ایک (باایمان) مرد شہر کے دور دراز مقام سے دوڑتا ہوا آیا (اور) اس نے کہا : اے میری قوم ! (رسولانِ) خدا کی پیروی کرلو۔ (21) ایسے لوگوں کی پیروی کرلو کہ جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں ۔ (22) میں کیوں اس ہستی کی پرستش نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹ کرجاؤ گے۔ (23) کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود اپنا لوں جبکہ خدائے رحمٰن چاہے کہ مجھے نقصان پہنچے تو ان کی شفاعت میرے لیے کچھ بھی فائدہ مند نہ ہو اور نہ ہی وہ مجھے (اس کے عذاب سے )نجات دلا سکیں۔ (24) اگر میں ایساکروں تو پھر میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ (25) (اسی بناپر) میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں ، میری باتیں کان لگا کر سنو۔ (26) (آخر کار انہوں نے اسے شہید کر دیا) اس سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا تو اس نے کہا کہ اے کاش میری قوم کو علم ہوتا ۔ (27) کہ میرے پرور دگار نے مجھے بخش دیا ہے اور مکرم و محترم لوگوں میں سے قرار دیا ہے۔ (28) ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں بھیجا اور نہ ہی ہماری یہ سنت تھی۔ (29) صرف ایک آسمانی للکارتھی ، پس اچانک سب خاموش ہوگئے۔ (30) افسوس ہے ان بندوں پر کہ جن کی ہدایت کے لیے جو بھی پیغمبر آیا وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔