إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ
You can only warn someone who follows the Reminder and fears the All-beneficent in secret; so give him the good news of forgiveness and a noble reward.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 36:11
[Pooya/Ali Commentary 36:11]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:11-12
چند قابل توجه نکات
چند قابل توجه نکات 1- اس آیت میں ایسے اشخاص ــــ کہ جن پر پیغمبرؐ کا "انذار" اور پندونصیحت موثر ہے کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں : 1- نصیحت کی پیروی۔ 2- پوشیدہ طور پر خدا سے ڈرتا۔ البتہ ان دو اوصاف سے مراد آمادگی اور صلاحیت ہے یعنی انذار صرف ان افراد پر موثر ہوتا ہے جو سننے والا کان اور آمادہ دل رکھتے ہیں۔ انذار ان میں دو اثر پیدا کرتا ہے پہلا ذکر و قرآن کی پیروی اور دوسرا پروردگار اور اسی کی طرف سے عائد ذمہ داریوں کی ادائیگی کا احساس ۔ دوسرے لفظوں میں ان دو اوصاف کی صلاحیت ان میں موجود ہے لیکن انذار کے بعد وہ عملی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ہٹ دھرم ، دل کے اندھوں اور غافل لوگوں کے برخلاف کہ جو نہ تو سننے والے کان رکھتے ہیں اور نہ ہی خشیت و خوف الٰہی کے لیے آمادگی - یہ آیت سورة بقرہ کی پہلی آیات کے مانند ہے کہ جن میں فرمایا گیا ہے: ذٰلك الكتاب الأرب فية ھدیٰ للمتقین "اس کتاب آسمانی میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یہ پرہیزگاروں کے لیے باعث ہدایت ہے"۔ 2- بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق "ذکر" سے مراد قرآن مجید ہے کیونکہ یہ لفظ قرآن میں بارہا اسی شکل میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ؎1 لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اس سے مراد اس کا لغوی معنی یعنی ہر قسم کا تذکراور نصیحت اور اس میں آیات قرآن اور پیغمبراکرمؐ اور خدائی رہبروں کے تمام انذار اور پند و نصائح بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوں- ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سوره نحل - 44 ، حٰم السجدہ -41 ، زخرف -44 اور قمر -25 ۔ جبکہ "ذکر" قرآن میں بارہا مطلق ذکر سے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 3- خشیت ، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ، اس خوف کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ احساس عظمت موجود ہو نیز "رحمٰن" کی تعبیر کہ جو خدا کی رحمت عامہ کی مظہر ہے ، یہاں ایک لطیف تکتے کی حامل ہے اور وہ یہ کہ عظمت خدا کے خوف کے ساتھ ساتھ وہ اس کی رحمت کی امید بھی رکھتے ہوں تاکہ خوف و رجاء کے دونوں پلڑے ۔ کہ جو تکامل و ارتقار کی طرف مسلسل حرکت کے حامل ہیں ۔ متوازن رہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض آیات قرانی میں رجاء و امید کے بارے میں تو "اللہ" کے نام کا ذکر ہوا ہے جو کہ ہیبت و عظمت کا مظہر ہے: لمن كان يرجوا الله واليوم الأخر (احزاب ۔21) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رجاء بھی خوف کے ساتھ ہونا چاہیے اور خوف رجاء کے ساتھ (غور کیجئے گا)۔ 4- "بالغیب" کی تعبیر یہاں پر استدلال و برہان کے ذریعے خدا کی شناخت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس کی پاک ذات انسانی حواس سے پنہاں ہے۔ صرف دل کی آنکھ سے اور اس کے آثار کے ذریعے کے اجلال و جمال کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "غیب" یہاں پر لوگوں کی آنکھ سے پنہاں کے معنی میں ہو یعنی اس کا مقام خشیت و خوف ریا کے پہلو سے اور لوگوں کی موجودگی میں ہی نہ ہو بلکہ وہ تنہائی میں بھی خشیت کا حامل ہو۔ بعض نے اسے "قیامت" کے معنی میں تفسیر کیا ہے کیونکہ اس کے واضح مصادیق میں سے وہ اموربھی ہیں کہ جو ہماری حس سے پنہاں ہیں لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ 5- "فبشره" کا لفظ درحقیقت "انذار" کی تکمیل ہے کیونکہ خدا کا پیغمبرؐ ابتداء میں انذار کرتا ہے اور جس وقت فرمان خدا کی پیروی اور احساس عظمت کے ساتھ خوف پیدا ہوجائے اور اس کے اثرات انسان کے قول و فعل میں ظاہر ہوں ، تو وہ بشارت دیتا ہے۔ کس بات کی بشارت دیتا ہے ؟ پہلے تو اس بات کی کہ جو انسانی فکر اور دوسری چیز سے زیادہ اپنی طرف مشغول رکھتی ہے اور پھر ان لغزشوں کے بارے میں کہ جو کبھی کبھار اس سے سرزد ہوتی ہیں ، کہ خدائے بزرگ و برتر نے وہ سب بخش دی ہیں ۔ اس کے بعد اوراجر کریم اور بہترین جزا کی بشارت دیتا ہے کہ جس کے مختلف پہلوؤں کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ لفظ "مغفرت" بھی نکرہ کی شکل میں بیان ہوا ہے اور "اجرکریم" بھی ۔ ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے مواقع پر نکرہ کی صورت میں لفظ کا آنا عظمت کے بیان کے لیے ہے بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "فبشره" میں "فاء" کہ جوتفریع کے لیے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کی مغفرت اور اور کریم ترتیب وار نصیحت کی پیروی اور پروردگار کے خوف کا نتیجہ ہیں۔ گزشتہ آیات میں مومنین اور انبیاء کے انذار کو قبول کرنے والوں کے اجر و ثواب کا ذکر ہے ، اسی کا مناسبت سے بعد والی آیت میں مسئلہ معاد و قیامت اور حساب و کتاب اور جزاء کے لیے مثبت اعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : "ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں"۔ (انا نحی نحی الموتی )۔ "نخن" (ہم) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس عظیم قدرت کے ہوتے ہوئے کہ جس کا تم سب کو ہمارے متعلق علم ہے مزید کسی بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں ہے کہ بوسیدہ اور گلی سڑی ہڈیاں نئے سرے سے کا کس طرح زندہ ہوں گی اورلباس حیات کس طرح زیب تن کریں گی۔ نہ صرف یہ کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے بلکہ "بم وه تمام کچھ کہ جو انہوں نے آگے بھیجا ہے اور اس کی تمام اثاربھی لکھ رہے ہیں"۔ (ونکتب ما قاموا و اثارهم) - اس بناء پر کوئی چیز فروگزاشت نہیں ہوگی اور ہرچیز نامۂ اعمال میں روز حساب کے لیے محفوظ ہوجائے گی۔ "ماقدموا" (جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے) ان اعمال کی طرف اشارہ ہے کہ جو انہوں نے انجام دیئے ہیں اور ان کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ لیکن "واثارهم" کی تعبیر انسان کے ان اعمال کی طرف و اشارہ ہے کہ جو باقی رہ جاتے ہیں اور ان کے آثار معاشرے میں منعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً صدقات جاریہ (انسان کی تعمیرات ، اوقات اور ایسے مراکز کی جو بعد ازاں باقی رہ جاتے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں) ۔ یہ احتمال بھی آیت کی تفسیر میں موجود ہے کہ "ما قدموا" تو ان اعمال کی طرف اشارہ ہو کہ جو شخصی جنبہ رکھتے ہیں اور "اثارهم" ان کاموں کی طرف کہ جو رواج پاجاتے ہیں اور انسان کے بعد بھی موجب خیرو برکت یا موجب شروزیاں اور سبب گناہ بنتے ہیں۔ البتہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور ممکن ہے کہ دونوں تفاسیراس کے مفہوم میں جمع ہوں۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لئے اضافہ کیا گیا ہے:" ہم نے تمام چیزوں کا واضح اور آشکارکتاب میں احصاء کر دیاہے"۔ و کل شیء احصيناه في امام مبین )۔ اکثر مفسرین نے یہاں "امام مبین" سے "لوح محفوظ " مراد لی ہے یعنی وہ کتاب کہ جس میں اس جہان کے تمام موجودات ، واقعات اور اعمال ثبت محفوظ ہیں۔ نیز "امام" کی تعبیر ممکن ہے کہ اس نظر سے ہو کہ یہ کتاب قیامت میں ثواب و عقاب کے تمام مامورین کے لیے رہبر اور پیشوا ہے اور انسانوں کے اعمال کی قدر وقیمت پرکھنے کے لیے ان کی جزا و سزا کا ایک معیار ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ "امام" قرآن کی بعض دوسری آیات میں "تورات" کے بارے میں استعمال ہوا ہے ۔ فرمایا گیا ہے: اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِـهٖ كِتَابُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْـمَةً (ہود ـــ 17)۔ " کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہو اور اسی کی طرف سے اس کے پیچھے ایک شاہد بھی ہو اور اس سے پہلے موسٰی کی کتاب کہ جو امام اور رحمت تھی اس پرگواہی دیتی ہے (اس شخص کی مانند ہے کہ جو ایسا نہیں ہے)۔ اس آیہ میں لفظ "امام" کا اطلاق تورات پر اس کے معارف و احکام کی بناء پر ہے۔ اسی طرح اس میں بیان شده پیغمبراسلامؐ کی ان نشانیوں کی وجہ سے ہے اور ان تمام امور میں وہ مخلوق کے لیے رہبرو پیشوا بن سکتی ہے۔ اس بناء پر مذکورہ لفظ و امام ، ہر موقع پر اس موقع کی مناسبت سے مفهوم دیتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:11-12
2- ہر چیز ثبت ہوتی ہے
2- ہر چیز ثبت ہوتی ہے: ایک گویا اور بیدار کرنے والی حدیث میں امام صادق سے منقول ہے:- أن رسول الله نزل بارض قرعاء فقال لأصحابه: انتوا بحطب، فقالوا : يارسول الله نحن بارض قرعاء! قال فليأت كل انسان بما قدرعليه، فجاء وابه حتی رموا بین یدیه ، بعضه على بعض فقال رسول الله (ص) هكذا تجمع الذنوب ثم قال اياكم والمحقرات من الذنوب ، فان لكل شيء طالبًا الأوان طالبھا يكتب ما قدموا وأثارهم وكل شيء احصيناه في امام مبین - رسول خدا ایک بے آب و گیاہ علاقے میں پہنچے تو آپؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لکڑیاں اور ایندھن اکٹھا کرکے لاؤ۔ انہوں نے عرض کیا : اے خدا کے رسولؐ ! یہ خشک سرزمین ہے کہ جس میں ، کوئی لکڑی اور اینددھن نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا : تم جاؤ اور تم میں سے جس سے جتنا ہوسکتا ہے جمع کرے ۔ ان میں سے ہر ایک تھوڑا سا ایندھن اور خشک لکڑی لے آیا اور اسے پیغمبر خدا کے سامنے ایک دوسرے پر ڈال دیا (اسے آگ لگائی گئی تو اس سے بڑے بڑے شعلے ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "لوح محفوظ" کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد 10 میں سورہ رعد کی آیہ 39 کے ذیل میں اور اسی طرح جلد 5 میں سوره انعام کی آیہ 59 کے ذیل میں بحث کی ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بھڑکنے لگے)۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا : اس طرح سے (چھوٹے چھوٹے) گناہ ایک دوسرے میں جمع ہوتے جاتے ہیں (اورتم ان کو فرداً فرداً ایک سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے)۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا : چھوٹے چھوئے گناہوں سے ڈرو کیونکہ ہرچیز کا ایک حساب کنندہ ہے اور جو کچھ تم نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ اس کے آثار باقی رہ گئے ہیں اس کا حساب کنندہ اُسے لکھتا ہے اور اس نے ہر چیز کو کتاب مبین میں ثبت کیا ہے۔ ؎1 یہ ہلا دینے والی عمارت اس امر کی منہ بولتی تصویر ہے کہ جب چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہوتے ہیں تو ان کا مجموعہ ایک بہت بڑی آگ کا سامان بن جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ قبیلہ "بنوسلمہ" مدینہ سے کچھ فاصلے پررہتا تھا ۔ انہوں نے مسجد نبوی کے قریب نقل مکانی کرنے کا ارادہ کیا تو زیربحث آیت نازل ہوئی (انا نحن نحي الموتى ....) تو پیغمبراکرمؐ نے ان سے فرمایا : "ان اثاركم تكتب" تمهارےآثار( مسجد کی طرف آنے کے لئے تمہارے قدم) تمہارے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے (اور ان کا اجر و ثواب نہیں ملے گا) جب بنی مسلمہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اپنی اسی جگہ پررہ گئے۔ ؎2 واضح رہے کہ یہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور ان امور میں سے ہر ایک ا س کا ایک مصداق ہے۔ وہ چیز کہ جو ممکن ہے۔ ابتدائی نظر میں اوپر والی تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ متصور نہ ہو ، اہل بیت سے مروی وہ روایات ہیں کہ جن میں "امام مبین" سے امیرالمومنین مراد لیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث امام باقرؑ سے مروی ہے ۔ آپؐ نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس وقت یہ آیہ : « وكل شيء احصيناه في امام مبین" نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر و عمر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا اس سے مراد تورات ہے؟ فرما یا نہیں ! عرض کیا : انجیل ہے؟ فرمایا نہیں! عرض کیا : قرآن ہے ؟ فرمایا نہیں! اسی حالت میں امیرالمومنین علیؑ یارسول اللہ کی طرف آۓ جس وقت آپؐ کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا : هو هذا! انه الامام الذی احصی الله تبارك وتعالى فيه علم شيء ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرنورالثقلين جلد 4 ص 378. ؎2 تفسیر قرطبی میں یہ حدیث ابو سعید خدری سے صحیح ترمذی سے نقل ہوئی ہے اور اس کے مشابہ حدیث صحیح مسلم میں "جابر بن عبد اللہ انصاری" سے بھی منقول ہے دوسرے مفسرین مثلًا آلوسی فخررازی ، طبرسی اور علامہ طبا طبائی نے بھی اسے کچھ فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "امام مبین یہ شخص ہے یہی ہے وہ امام کہ جس میں خدا وند تعالٰے نے ہرچیز کےعلم کا احصاء کردیا ہے"۔ ؎1 تفسیر علی بن ابراہیم میں ابن عباسی کے واسطہ سے خود امیرالمومنین سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا : انا والله الامام المبین آیین الحق من الباطل ورثته مر رسول الله "خدا کی قسم! میں وہ امام مبین ہوں کہ جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے۔ یہ علم میں نے رسول اللہؐ سے ورثہ میں حاصل کیا ہے اور ان سے سیکھا ہے"۔ ؎2 اگربعض مفسرین ــــ جیسے آلوسی ــــــ نے شیعہ حوالوں سے ایسی روایات نقل کرنے سے خوف کھایا ہے اور اسے تفسیر آیہ سے بے خبری اور نادانی کی طرف منسوب کیا ہے لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس قسم کی روایات "امام مبین" کی "لوح محفوظ" کے ساتھ تفسیر کے منافی نہیں ہیں کیونکہ پیغمبرؐ کا پاک دل پہلے درجہ میں اور ان کے جانشین کا دل دوسرے درجہ میں ایسے آئینے ہیں جولوح محفوظ کو منعکس کرتے ہیں اور ان علوم کا ایک عظیم حصہ کہ جو "لوح محفوظ" میں ہے خدا کی طرف سے ان کی طرف الہام ہوتا ہے ، اس طرح سے وہ "لوح محفوظ" کا ایک نمونہ ہیں . اس بناء پر "امام مبین" کا اطلاق اس مطلب پر کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ یہ کہ ایسی شاخ ہے کہ جو اسی کی جڑ لوٹتی ہے. اس سے قطع نظر جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان کامل کا وجود ایک "عالم صغیر" ہے کہ جس میں عالم کبیر سمایا ہوا ہے اس سلسلےمیں حضرت علی علیہ السلام کی طرف یہ شعر منسوب ہے: اتزعم انك جرم صغير؟ وفیک انطومی العالم الاكبر! "کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا ساجسم ہے حالانکہ عالم کبیرتجھ میں سمودیا گیا ہے"۔ نیزہم بھی جانتے ہیں کہ عالم ہستی ایک لحاظ سے علم خدا اور لوح محفوظ کا ایک صفحہ ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آلوسی نے باوجود یکہ مذکورہ روایات کا شدت سے انکار کیا ہے تاہم آخری تفسیر کو چنداں بعید نہیں سمجھا۔ بہرحال اس بات میں کہ "امام مبین" سے مراد "لوح محفوط" ہی ہے کوئی شک و شبہ نہیں ہے، مذکورہ روایات بھی اس پر قابل تطبیق ہیں ۔( غورکیجئے گا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "معاني الاخبارصدوق " باب معنی الامام المبین ص 95۔ ؎2 نورالثقلين جلد 4 ص 379 ۔ ،۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:11-12
1- ثبت اعمال کی مختلف کتابیں
چند اهم نکات 1- ثبت اعمال کی مختلف کتابیں : قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال چند کتابوں میں ثبت ہوتے ہیں تاکہ حساب کتاب کے وقت کسی شخص کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ پہلی کتاب تو "شخصی نامۂ اعمال" ہے کہ جو ایک فرد کی ساری عمر کے اعمال ثبت کرتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ قیامت کے دن ہرشخص سے کہا جائے گا : اقرأ كتابك كفى بنفسك اليوم عليك حسيبًا ”تو خود ہی اپنا نامۂ اعمال پڑھ لے ، تو خود ہی اپنے نفس کا حساب کرنے کے لیے کافی ہے" (بنی اسرائیل - 14) - یہ وہ مقام ہے کہ مجرمین کی فریاد بلند ہو گی ؛ يقولون يا ويلتنا مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة و كبيرة الاحصاها۔ "وہ کہیں گے کہ واۓ ہو ہم پر کیسی کتاب ہے کہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں ہے کہ جو اس میں ثبت نہ ہو"۔ (کہف ، 49)۔ "یہ وہی کتاب ہے کہ جو نیکوکاروں کے دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کے بائیں ہاتھ میں ہو گی"۔ (حاقہ ــــــ 19 ، 25 ) ۔ دوسری کتاب "امتوں کا نامۂ اعمال" ہے اور ان کی اجتماعی زندگی کے اعمال بیان کرتی ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: كل امة تدعٰى الى كتابها "قیامت کے دن ہر امت کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائےگا (جاثیہ ــــ 28)۔ ؎ تیسری کتاب اعمال نامۂ جامع و عمومی یعنی لوح محفوظ ہے کہ جس میں نہ اولین و آخرین کے تمام انسانوں کے اعمال بلکہ عالم کے تمام واقعات یکجا ثبت ہیں۔ یہ قیامت کے اس عظیم موقع پر آدمی کے اعمال پر ایک اور گواہ ہے اور حقیقت میں یہ کتاب حساب و کتاب کے فرشتوں اور جزا و سنرا کے ملا ئکہ کے لیے امام و رہبر ہے۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:11-12
کس قسم کے لوگ تیری تنبیه کو قبول کرتے هیں
تفسیر کس قسم کے لوگ تیری تنبیه کو قبول کرتے هیں گزشتہ آیات میں ایسے گروہ کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو کسی طرح بھی خدائی تنبیوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور ان کو ڈرانا نہ ڈرانا برابر ہے۔ زیر بحث آیات ایک اور گروہ کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ۔ یہ لوگ مذکورہ گروہ کے بالکل مد مقابل قرار پاتے ہیں ۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ایک کا دوسرے سے موازنہ کرکے مسئلہ زیادہ واضح ہو جائے اور یہی قرآن کا طریق کارہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "تو تو صرف اسی کو خدا سے ڈرا سکتا ہے جو اس کے ذکر کی پیروی کرے اور خداوند رحمان سے پوشیدہ طورپراور غیب میں ڈرے"۔ (انما تنذر من اتبع الذکر وخشي الرحمن بالغیب)۔ "اور جو ایسا ہے اسے مغفرت اور بہترین اجروثواب کی بشارت دے"۔ (فبشره بمغفرة واجر كريم)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:11-12
سورہ یٰس / آیه 11 -12
(11) اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الـذِّكْـرَ وَخَشِىَ الرَّحْـمٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّاَجْرٍ كَرِيْـمٍ (12) اِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتٰى وَنَكْـتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُـمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ اَحْصَيْنَاهُ فِىٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ ترجمہ (11) تو تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتا ہے کہ جو اس خدائی نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمٰن سے پوشیدہ طور سے ڈرتا ہے ایسے شخص کو بخشش اور بهترین اجر و ثواب کی بشارت دے دے۔ (12) ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے اور ان کے تمام آثار کو ہم لکھتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کا واضح "کتاب: میں احصاء کر دیا ہے۔