وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ
As for the faithless, there is for them the fire of hell: they will neither be done away with so that they may die, nor shall its punishment be lightened for them. Thus do We requite every ingrate.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:36
[Pooya/Ali Commentary 35:36]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:36-38
1- "ذات الصدور" سے کیا مراد ہے؟
چند اهم نکات 1- "ذات الصدور" سے کیا مراد ہے؟ قرآن مجید کی دس سے زیادہ آیات میں بعینہ یہی قبلہ آیا ہے یا گھوڑے سے فرق کے ساتھ یہ بات آئی ہے ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ان الله عليم بذات الصدور . ذات کا لفط کہ جس کا مذکر "ذو" ہے اصل میں "صاحب" کے معنی میں ہے۔ اگرچہ فلاسفہ کی تعبیرات میں، عین و حقیقت اور گوہر اشیاء کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ،لیکن مفردات میں راغب کے قول کے مطابق یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جو کلام عرب میں موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر "ان الله عليم بذات الصدور" کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدا دلوں کے صاحب و مالک سے باخبر ہے"۔ یہ جملہ انسا نوں کے عقائدونیات کے بارے میں ایک لطیف کتایہ ہے کیونکہ عقیدے اور نیتیں جس وقت دل میں گھر کرلیں تو گویا وہ قلب انسان کی مالک ہوجاتی ہیں اور اس پر حکومت کرتی ہیں اور اسی بناء پر یہ عقائدونیات انسانی دل کے صاحب و مالک شمار ہوتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے کہ جس سے جس سے بعض بزرگ علماء نے استفادہ کرتے ہوئے اسے اس عبارت میں مجسم کیا ہے: الإنسان أراثه وافكاره، لاصورته واعضائه۔ "انسان تو بس اس کے عقائد و افکار ہی ہوتے ہیں ، نہ کہ اس کی شکل و صورت اور اعضاء بدن"۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:36-38
ھمیں لوٹا دو تاکه هم اچھے عمل کریں
تفسیر ھمیں لوٹا دو تاکه هم اچھے عمل کریں عام طور پر قرآن "وعدوں" کے ساتھ "وعید" اور بشارت کے ساتھ نذارت کا ذکر کرتا ہے تاکہ خوف ورجاء کے دونوں عوامل کو تقویت دے کیونکہ یہ دونوں باہم انسان کے رشد و کمال کا سبب ہیں انسان حب ذات کے تقاضے کے ماتحت فائدے کے حصول اور دفع ضررکی خواہش رکھتا ہے، اس لیے گزشتہ آیات میں "خیرات میں سبقت کرنے والےمومنین" کی عظیم اور روح پرور جزاؤں کے بارے میں گفتگو کی تھی اور زیر بحث آیات میں کفار کی دردناک سزا کے بارے میں بات کی جارہی ہے۔ یہاں بھی مادی اور روحانی دونوں سزاؤں سے متعلق گفتگو ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے : "وہ لوگ کہ جنہوں نے راہ کفر اختیار کی ، ان کے لیے جہنم کی آگ ہے"۔ (والذين كفروالھم نار جهنم)۔ جس طرح ان لوگوں کے لیے بہشت جادوانی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی جگہ اور ٹھہرنے کا گھر ہے اسی طرح دوزخ بھی اس گروہ کے لیے ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا مقام ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: "ان کے لیے ہرگز موت کا حکم صادرنہیں ہوگا کہ وہ مرجائیں اور اس رنج والم سے رہائی پائیں" (لايقضٰى عليهم فيموتوا)۔ ؎1 اس کے با وجود کہ جلانے والی آگ اور وہ تمام دردناک عذاب ہرلمحہ موت کے منہ میں لے جاسکتا ہے لیکن چونکہ موت وحیات سمیت ہرچیزاللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیےاس کی طرف سے موت کا حکم صادرنہیں ہوگا لہذا وہ نہیں مریں گے بلکہ انہیں زندہ رہنا پڑے گا تاکہ وہ عذاب الٰہی کا مزہ چکھیں ۔ موت تو اس قسم کے لوگوں کے لیے نجات کا ایک ذریعہ ہوگی لیکن اس جملے میں یہ دریچہ بند ہوگیا ہے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "لايقضٰى عليهم" "لايحكم عليهم" کے معنی میں ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اب ایک ہی راستہ باقی رہ جاتاہے اور وہ یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں اور ان کی سزا میں تدریجًا تخفیف ہویا ان میں قوت برداشت کا اضافہ ہو تاکہ اس کے نتیجہ میں درد اور تکلیف میں تخفیف ہو ۔ اس دریچھے کو بھی ایک اور جملے کے ساتھ بند کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : "دوزخ کے عذاب میں سے ان کے لیے کسی چیزکی تخفیف نہیں کی جاۓگی"۔ (ولا يخفف عنهم من عذابها)۔ آیت کے آخر میں اس وعیدالٰہی کے قطعی ہونے کی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے:"ہر کفران کرنے والے کو ہم اسی طرح سے جزادیں گی" (کذالك نجزی کل کفور) - جنہوں نے پہلے تو وجود انبیاء اور کتب آسمانی کی نعمت کا کفران کیا ہے، ان خداداد صلاحیتوں کوضائع کردیا ہے کہ جو راہ سعادت میں ان کے لیے مددگار ہوسکتی تھیں ۔ ہاں ! کفران کرنے والوں کی جزا آگ کے درد ناک عذاب میں جلنا ہی ہے۔ ایسی آگ کہ جس کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے دنیا کی زندگی میں ان روشن کیا ہے۔ اس کا ایندھن ان کے افکارواعمال اور ان کے وجودبنیں گے۔ "کفور" مبالغےکاصیغہ ہے اس لیے یہ "کافر" سے زیادہ عمیق اور گہرا معنی رکھتا ہے ۔ علاوہ ازیں کافر مومن کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے لیکن "کفور" تمام نعمتوں کا کفران کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہذا اس کا مفهوم زیادہ وسیع ہے۔ اس طرح سے "کفور" ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہوں نے تمام خدائی نعمتوں کا کفران کیا ہے اور اس جہان میں اس کی رحمت کے تمام دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیا ہے ۔ اس لیے آخرت میں خدا بھی نجات کے تمام دروازے ان پر بند کر دے گا ۔ بعد والی آیت ان کے درد ناک عذاب کے ایک اور حصہ کو بیان کرتی ہے اور اس سلسلے میں بعض حساس نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے :"وہ دوزخ میں فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگا ہمیں اس جگہ سے نکال۔ تاکہ ہم عمل صالح بجالائیں ، ان اعمال کے بجائے کہ جو تم پہلے انجام دیتےتھے" (وهم یصطرخون فيها ربنا اخرجنا نعمل صالحًا غيرالذي كنا نعمل)۔1 ہاں! وہ اپنے برے اعمال کو دیکھ کر گہری ندامت میں جا پڑیں گے اور دل سے فریاد کریں گے۔ وہ ایک محال چیز کا تقاضا کریں گے یعنی اعمال صالح بجا لانے کے لیے دنیا کی طرف بازگشت کرنے کامطالبہ - "صالحًا" کی تعبیر (نکرہ کی شکل میں) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے کوئی معمولی سا عمل ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "يصطرخون" "صراخ" کے مادہ سے شدید فریاد اور چیخ پکار کے معنی میں ہے کہ جو انسان استغاثہ کرنے اور درد و تکلیف دورکرنےکےلیےاورمددگارکوبلانےکےلیے دل سے نکالتاہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بھی انجام نہیں دیا اور لازمی طور پر یہ سب عذاب اور رنج و تکلیف ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے کہ جو زندگی میں خدا کے ساتھ کوئی ربط و تعلق اور واسطہ نہیں رکھتے تھے اور عصیان و گناہ میں غرق تھے ، اس بنا پر ممکن ہے کہ کچھ تھوڑے بہت اعمال صالح کی نجات کا سبب بن جائیں۔ "نعمل" کہ جوفعل مضارع اور استمرار کی دلیل ہے اسی معنی کی تاکید ہے کہ "ہم ہمیشہ غیرصالح اعمال میں مشغول رہے"۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "صالح" کی "کنا نعمل" کے جملہ کے ساتھ توصیف ایک لطیف نکتے کی حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بُرے اعمال کو ہوائے نفس اور شیطان کی طرف سے مزین کیے جانے کی وجہ سے اعمال صالح خیال کرتے تھے ۔ اب ہمارا مصمم ارادہ ہے کہ اگر ہم واپس چلے جائیں تو ان اعمال کے بجائے کہ جو کام پہلے انجام دیتے تھے ، واقعی اعمال صالح بجا لائیں گے۔ ہاں! گنہگار شروع شروع میں اپنی پاکیزگی فطرت کے مطابق اپنے اعمال کی برائی کا ادراک کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کی برائی اس کی نظر میں کم ہوتی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ اس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے اور اس کی نظر میں وہی برائی اچھائی دکھائی دینے لگتی ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "زین لھم سوء اعمالهم"۔ "ان کے بُرے اعمال کو ان کی نظر میں اچھابنادیاجاتا ہے۔ (توبه ــــــ 37) قران کبھی یہ بھی کہتا ہے: وهم يحسبون انهم يحسنون صنعًا۔ "وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیک عمل انجام دے رہے ہیں"۔ (کہف - 104)۔ بہرحال اس تقاضے کے مقابلے میں خدا کی طرف سے انہیں ایک قاطع اور دو ٹوک جواب دیا جائے گا:" کیا ہم نے تمہیں بیداری اور غور و فکر کے لیے کافی عمرنہیں دی تھی"۔ (اولم نعمركم ما یتذکرفيه من تذكر) - "اور کیا خدا کی طرف سے ڈرانے والا تمہارے پاس نہیں آیا تھا" (وجاء کم النذیر)۔ اب جبکہ یہ بات ہے کہ نجات کے تمام وسائل تمهیں میسر تھے اور تم نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو پھر اسی جبکہ گرفتاربلارہو ، "پس اب تم مزہ چکھو کیونکہ ستمگروں کے لیے کوئی یارو مددگار نہیں ہے" (فذوتوا فما للظالمين من نصير)۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کرتمہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی کیونکہ تمہارے پاس کافی مہلت تھی اور ضروری تعداد میں خدا کی طرف سے ڈرانے والے بھی تمہارے پاس آئے ، بیداری و نجات کے یہ دونوں رکن تمہیں حاصل ہوگئے تھے۔ اس بناء پر تمہارے لیے کوئی عذر اور بہانہ نہیں رہا۔ اگر تمہارے پاس کافی مقدار میں مہلت نہ ہوتی تو عذر تھا اور اگر مہلت تو ہوتی ، لیکن معلم و مربي اور رہبر و ہادی تمہارے پاس نہ آتا تب بھی کوئی عذر تھا لیکن ان دونوں کے ہوتے ہوئے کونسا عذر و بہانہ باقی رہ جاتا ہے۔ لفظ "نذیر" (ڈرانے والا) آیات قرآن میں عام طور پر وجود انبیاء خصوصًا پیغمبراسلامؐ کی طرف اشارے کے طور پرآیا ہے لیکں بعض مفسرین نے اس کے لیے ایک وسیع تر معنی بیان کیا ہے کہ جس میں انبیاء کتب آسمانی اور بیدار کن حوادث ـــ مثلاً دوستوں اور رشتہ داروں کی موت اور پیری و ناتوانی ــــ بھی شامل ہے۔ خصوصًا عربی اشعار میں لفظ "نذير" بڑھاپے کے معنی میں بہت استعمال ہوا ہے ۔ مثلًا ذیل کے شعرمیں: به رأيت الشيب من نذالمنايا لصاحبه وحسبك من نذیر "میں نے بڑھاپے کے سفید بالوں کو موت سے ڈرانے والا دیکھا ہے اور تیرے لیے یہی "نذير" کافی ہے"۔ ؎1 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں عمر کی اس حد کے بارے میں کہ جو انسان کی بیداری اور توجہ کے لیے کافی ہے مختلف تعبيرات بیان کی گئی ہیں۔ بعض میں ساٹھ سال بیان ہوئی ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبراسلامؐ سے منقول ہے: من عمره الله ستين سنة فقد اعذرالیه جسے خدا نے ساٹھ سال عمر دی ہے اس کے لیے عذر کی راہ بند کر دی ہے۔ ؎2 یہی معنی امیرالمومنین علیؑ سے بھی نقل ہوا ہے۔ ؎3 ایک اور حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ : اذا كان يوم القيامة نودی (این) ابناء الستين؟ وهوالعمر الذي قال الله فيه : اولم نعمر كم ما يتذكر فيه من تذكر۔ "جس وقت قیامت کا دن ہوگا تو منادی ندا کرے گا کہ ساٹھ سالہ لوگ کہاں ہیں؟ یہ وہی عمر ہے کہ جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے: "کیا ہم نے تمہیں اتنی مقدار میں عمر نہیں دی تھی کی جس میں لوگ اچھی طرح غور و فکر کرتے ہیں"۔ ؎4 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ، ؎2 ، ؎3 مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔ ؎4 تفسیر قرطبی اور تفسیر درا لمنشور۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ لیکن ایک دوسری حدیث میں امام صادقؑ سے اس کی مقدار صرف اٹھارہ سال معین ہوئی ہے۔ ؎1 البتہ ممکن ہے کہ آخری روایت کم سے کم کی طرف اشارہ ہو اور گزشتہ روایات زیادہ سے زیادہ کی طرف اس بناء پر ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ــــــ افراد کے اختلاف کے ساتھ ـــــ دوسرے برسوں پر بھی قابل تطبیق ہے۔ بہرحال آیت کے مفہوم کی وسعت پھر بھی باقی رہتی ہے۔ آخری زیر آیت میں کفار کے اس تقاضے کا جو وہ دوزخ میں دنیا کی طرف بازگشت کے لیے کریں گے ، جواب دیا گیا ہے :" خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے، ایساخدا یقینًا اس جیز بھی آگاہ ہے کہ جو دلوں کے اندر ہے" (ان الله عالم غيب السماوات والارض انه علیه بذات الصدور)۔ درحقیقت پہلا جملہ دوسرے جملے کی ایک دلیل ہے ۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا دلوں کے بھیدوں سے بے خبر ہو جبکہ زمین وآسمان کے تمام اسرار اور عالم ہستی کی تمام غیب چیزیں اس کے لیے آشکار ہیں۔ ہاں ! وہ جانتا ہے کہ اگر دوزخیوں کے تقاضے کا مثبت جواب دیا جائے اور وہ دنیا کی طرف لوٹ آئیں تو وہی اعمال جاری رکھیں گے جیسا کہ سورہ انعام کی آیت 28 میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ولو ردوا لعادوا لما نهوا عنه وانهم الكاذبون اگر وہ پلٹ جائیں تو وہ پھر انہیں کاموں کو انجام دیں گے کہ جن سے انہیں منع کیا کیا گیا ہے ، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ آیت تمام مومنین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کریں اور خدا کےعلاوہ کسی پر نظر نہ رکھیں کیونکہ اگر ان کی نیت اور محرکات عمل میں معمولی سی بھی ناخالصی ہوئی تو وہ جو تمام غیوب سے آگاہ ہے، اسے بھی جانتا ہے اور اسی کے مطابق جزادے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:36-38
2- واپسی کی کوئی راہ نہیں
2- واپسی کی کوئی راہ نہیں : یقینًا قیامت اور موت کے بعد کی زندگی دنیا کی نسبت ایک مرحله تکامل و ارتقاء ہے اور وہاں سے اس جہان کی طرف بازگشت کوئی معقول بات نہیں ہے۔ کیا هم گزرے ہوئے کل کی طرف لوٹ سکتے ہیں ؟ کیا نومولود بچہ جنینی دور کی طرف لوٹ سکتا ہے؟ کیا وہ پھل جو شاخ سے جدا ہوگیا ہے ممکن ہے کہ پھر شاخ کی طرف لوٹ جائے؟ اسی بناء پر آخرت والوں کے لیے دنیا کی طرف بازگشت ممکن نہیں ہے۔ اگر بالفرض ممکن بھی ہو تو کبھی فراموش کار انسان اپنی اس گزشتہ روش کو برقرار رکھے گا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ، ہم نے بارہا خود اپنے آپ کو آزمایا ہے کہ خاص حالات میں جبکہ ہم کسی تنگی یا سختی میں گرفتار ہوتے ہیں ، تو اس وقت اپنے خدا کے ساتھ مخلصانہ عہد و پیمان کرتے ہیں، لیکن جس وقت وہ حالات بدل جاتے ہیں تو ہم تمام قول و قرار بھول جاتے ہیں ، سوائے ان لوگوں کے جو سچ مچ اپنے اندر ایک گہری تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں ۔ ایسی تبدیلی نہیں کہ جو حالات کے ساتھ مشروط ہو۔ یہ حقیقت قران مجید کی متعدد آیات میں بیان ہوئی ہے۔ سوره انعام کی آیہ 28 میں قرآن صريحًا ایسے افراد کی تکذیب کرتے ہوئے کہتا ہے: ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 عالم کی بزرگوار مرحوم کاشف انعطاء کی " اصل الشیعہ و اصولھا"۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- " اگر یہ پلٹ بھی جائیں تو ان کا طرز عمل دہی پہلے والا ہوگا"۔ لیکن سوره اعراف کی آیہ 53 میں صرف اسی بات پر قناعت کی گئی ہے کہ وہ زیاں کار لوگ ہیں لیکن ان کی بازگشت کی درخواست کا صراحت کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا : فهل انا من شفعاء فيشفعوا لنا اونردفنعمل غيرالذي كنا نعمل قد خسروا انفسھم وضل عنهم ما كانوا يفترون ۔ "کیا آج ہمیں کوئی شافعی مل جائیں گے کہ جو ہماری شفاعت کریں یا پھر ہمیں اجازت ملے کہ ہم واپس چلے جائیں اور جو عمل ہم پہلے کیا کرتے تھے اس کے بجائے نیک عمل انجام دیں؟ انہوں نے اپنے وجود کا سرمایہ گنوادیا ہے اور اپنا ہی نقصان کیا ہے اور وہ سارے جھوٹے معبود جو انہوں نے گھڑرکھے تھے گم ہو گئے اور ان کے بناوٹی معبودوں کا کوئی نام و نشان وہاں نہیں ملے گا"۔ یہی مطلب سوره مومنون کی آیہ 107 ، 108 میں دوسری طرح بیان ہوا ہے: ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون قال اخسئوا فيها ولا تكلمون ۔ پروردگارا ! ہمیں دوزخ سے نکال ، اگر ہم پلٹ گئے (اور پھر انہیں اعمال کو دہرایا) توپھر ہم ظالم ہیں ،وہ ان کے جواب میں فرمائے گا : دور ہو جائو اور مجھ سے بات نہ کرو"۔ بہرحال یہ ایک بے بنیاد تقاضا ہے اور محال آرزو ہے۔ شاید وہ بھی کم و بیش یہ جانتے ہیں لیکن شدت بیچارگی کی وجہ سے اس تقاضے کو دہرائیں گے لہذا آج ہی جبکہ ہمیں موقع میسر ہے ہم جو کچھہ چابتے ہیں وہ انجام دینا چاہیئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:36-38
سوره فاطر / آیه 36 - 38
(36) وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَـهُـمْ نَارُ جَهَنَّـمَ لَا يُقْضٰى عَلَيْـهِـمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ مِّنْ عَذَابِـهَا ۚ كَذٰلِكَ نَجْزِىْ كُلَّ كَفُوْرٍ (37) وَهُـمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِـيْهَاۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْـرَ الَّـذِىْ كُنَّا نَعْمَلُ ۚ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيْـرُ ۖ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْـرٍ (38) اِنَّ اللّـٰهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ترجمہ (36) جولوگ کافرہوگئے ہیں ان کے لئے جہنم کی آگ ہے، ہرگز ان کی موت کا فرمان جاری نہیں ہوگا کہ وہ مرجائیں اور نہ ہی ان کے لیے عذاب میں کوئی تخفيف ہوسکے گی ۔ اس طرح سے ہم ہرکفران کرنے والے کو سزا دیں گے۔ (37) وہ دوزخ میں فریاد کریں گے، پروردگارا ! ہمیں نکال ، تاکہ ہم ان اعمال کے بجائے کہ جوہم انجام دیا کرتے تھے (اب) نیک عمل بجا لائیں ۔ (انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تمہیں اس قدر عمر نہیں دی تھی کہ انسان چاہے تو اس میں متوجہ ہو جائے؟ اور کیا (خدا کی طرف سے) متنبہ کرنے والا تمہارے پاس نہیں آیا تھا ؟ پس اب تم (اس کا مزہ) چکھو کیونکہ ظالموں کے لیے کوئی یاورو مددگار نہیں ہے۔ (38) خدا آسمانوں اور زمین کے غیب سے آگاہ ہے اور جو کچھ دلوں میں ہے وہ اُسے بھی جانتا ہے۔