وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ
The blind one and the seer are not equal,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:19
[Pooya/Ali Commentary 35:19] Refer to Baqarah: 48, 123, 254; An-am: 165; Bani Israil: 15. Aqa Mahdi Puya says: This is the refutation of the doctrine of the subjective value of good and bad, which even now a section of the Indian school of philosophy maintains.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:19-23
سوره فاطر / آیه 19 - 23
(19) وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْـرُ (20) وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّوْرُ (21) وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ (22) وَمَا يَسْتَوِى الْاَحْيَآءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُسْمِـعُ مَنْ يَّشَآءُ ۖ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِى الْقُبُوْرِ (23) اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ ترجمہ (19) نابینا اور بینا ہرگز برابر نہیں ہیں ۔ (20) اور نہ ہی ظلمتیں اور روشنی ۔ (21) اور نہ ہی (آرام بخش) سایہ اور گرم جلانے والی ہوا ۔ (22) اور مردہ اور زندہ بھی ہرگز برابر نہیں ہیں ۔ خدا اپنا پیغام جس کے کان تک چاہتا ہے پنچاتا ہے اور تم قبروں (میں سونے) والوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے ۔ (23) تم تو صرف ڈرانے والے ہو (اب اگر وہ ایمان نہ لائیں تو پریشان نہ ہونا کہ تم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:19-23
نوروظلمت یکساں نہیں هیں
تفسیر نوروظلمت یکساں نہیں هیں ان مباحث کی مناسبت سے کہ جو ایمان و کفر کے سلسلے میں گزشتہ آیات میں بیان ہوئے تھے ، زیربحث آیات میں چار پرکشش مثالیں مومن اور کافر کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جن میں "ایمان وکفر" کے آثار نہایت واضح طور پر مجسم ہو گئے ہیں۔ پہلی مثال میں کافر و مومن کونابینا اور بینا کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے : "نابینا اور بینا ہرگز برابر نہیں ہیں"۔ (وما يستوي الاعمٰى والبصیر)۔ ایمان نور ہے اور روشنی بخشنے والا ہے اور انسان کو کائنات شناسی ، اعتقاد ، عمل اور تمام زندگی میں روشنی اور آگاہی بخشتا ہے ۔ لیکن کفر ظلمت اور تاریکی ہے اور اس میں نہ تو سارے عالم ہستی کے بارے میں صحیح دانش و بینش ہے اور نہ صحیح اعتقاد اور عمل صالح کی کوئی خبر ہے۔ قرآن مجید اسی سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیہ ، 257 میں حق مطلب ادا کرتے ہوئے کہتا ہے: الله ولى الذین امنوا يخرجھم من الظلمٰت الى النور والذين کفروا اوليائهم والطاغوت يخرجونھم من النور الي الظلمات اولئك اصحاب النار هو فيها خالدون "خدا مومنوں کا ولی ، راہنما اور سرپرست ہے. وہ انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف ہدایت کرتا ہے لیکن کافروں کا ولی طاغوت ہے کہ جو انہیں روشنی سے ظلمتوں کی طرف کھینچ لےجاتاہے، وہ اصحاب دوزخ ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے" ۔ چشم بینا تنہا کافی نہیں ہے ، لہذا روشنی اور نور بھی ہونا چاہیئے تاکہ انسان ان دوعوامل کی مدد سے موجودات کا مشاہدہ کرسکے ۔ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: "نہ ہی تاریکیاں نور کے برابر ہیں"۔ (ولا الظلمات ولا النور). چونکہ تاریکی گمراہی کا سبب ہے ، تاریکی سکون و جمود کی عامل ہے اور تاریکی طرح طرح کے خطرات کی عامل ہے لیکن نور اور روشنی حیات و حرکت ، رشد ونمود اور تکامل و ارتقاء کا منشاء ہے ۔ اگر نورختم ہوجاۓ تو عالم کی تمام قوتیں اور طاقتیں ختم ہوجائیں اور موت سارے مادی عالم کو گھیر لے ، اور اسی طرح عالم روحانی میں نورایمان ہے کہ وہ رشد و تکامل کا عامل ہے اور حیات وحرکت کا سبب ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : "(آرام بخش ) سایہ گرم ہوا اور جلانے والی لُو کے برابر نہیں ہے"۔ (ولا الظل ولا الحرور)۔ مومن اپنے ایمان کے سائے میں سکون اور امن و امان سے زندگی بسر کرتا ہے لیکن کافراپنے کفر کی وجہ سے تکلیف اور رنج میں جلتا رہتا ہے۔ راغب مفردات میں کہتا ہے "حرور" (بروزن "قبول") گرم اور جلانے والی ہوا کے معنی میں ہے (مارنے والی اور خشک کردینے والی ہوا)۔ بعض اسے باد سموم کے معنی میں سمجھتے ہیں اور بعض سورج کی سخت اور شدید حرارت کے معنی میں ۔ زمخشری کشاف میں کہتا ہے کہ "سموم" موذی اور ہلاک کرنے والی ہواؤں کو کہتے ہیں ۔ جو دن کے وقت چلتی ہیں لیکن "حرور" کہا تو انہیں ہواؤں کو جاتا ہے لیکن بغیر اس تمیز کے کہ وہ دن کے وقت چلیں یا رات کو بہرحال اس قسم کی ہوائیں کہاں اور ٹھنڈا اور نشاط آفریں کی سایہ کہاں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو نوازتا ہے۔ آخری تشبیہ میں فرمایا گیا ہے: "اور زندہ اور مردہ ہرگز برابر نہیں ہے" (وما يستوی الأحياء ولاالاموات)۔ مومنین زندہ ہیں اور سعی و کوشش ، حرکت و جنبش اور رشد و نمو کے حامل ہیں ۔ وہ شاخیں ، پتے پھول اور پھل رکھتے ہیں ان کا فر خشک لکڑی کی طرح ہیں کہ جس میں نہ طراوت ہے نہ پتا، نہ پھول اور نہ کوئی سایہ اور سوائے جلانے کے اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ سوره انعام کی آیہ 122 میں ہے کہ : اومن كان ميتًا فاحييناه وجعلنا له نورًا يمشي به في الناس کمن مثله في الظلمات ليس بخارج منها. "کیا وہ شخص کہ جو مردہ تھا اور ہم نے اسے زندہ کیا ، اور ہم نے اسے نورعطا کیا کہ جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے ، اُس شخص کے مانند ہے کہ جو ظلمات اور تاریکیوں میں غوطہ زن ہے اور ہرگز اس سے نہیں نکلے گا"؟ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: "خدا جسے چاہتا ہے سننے والا بنا دیتا ہے "تاکہ وہ حق کی عورت کو دل کے کان سے سنے اور توحید کی منادی کرنے والوں کی خدا پر لبیک کہے "( انا لله يسمع من يشاء)" اور تم اپنی بات ہرگز ان مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچاسکتے جو قبروں میں سوئے ہوۓ ہیں" (وما انت بمسمع من في القبور) - تمہاری فریاد چاہے جس قدر رسا ہو اور تمهاری گفتگو جس قدر بھی دل نشین ہو اور تمهارابیان جتنا بھی فصیح و بلیغ ہو مُردے اس میں سے کسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے اور وہ لوگ کہ جو گناہ پر اصرار اور تعصب ،عناد ، ظلم اور فساد میں غوطہ زن ہونے کی وجہ سے اپنی روح انسانی کو کھو بیٹھے ہیں ، یقینًا تمهاری دعوت قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اس بناء پران کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے پریشان اور بے تاب نہ ہو ۔ تمهاری ذمہ داری تو صرف بات کو پہنچانا اور ڈرانا ہے۔ "تم تو صرف ڈرانے والے ہو"۔ (ان انت الانذیر)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:19-23
3- تعبیرات کا تنوع فصاحت کا ایک حصہ ہے
3- تعبیرات کا تنوع فصاحت کا ایک حصہ ہے : ان چارتشبہیوں ہوں میں کہ جو اوپر والی و آیات میں بیان ہوئی ہیں مختلف تعبیرات نظر آتی ہیں۔ مثلًا "اعمٰی" و "بصيره" - "ظل" و "حرور" مفرد کی صورت میں آئی ہیں ۔ جبکہ "احیاء" و "اموات" دونوں جمع کی صورت میں ہیں اور "ظلمات" و "نور" میں سے ایک لفظ مفرد اور دوسرا جمع کی صورت میں آیا ہے۔ نیز پہلی اور دوسری تشبیہ میں جومنفی صورت رکھتے ہیں انہیں مقدم رکھا ہے (ا عمٰی و ظلمات) و جبکہ تیسری اور چوتھی تشبیہ میں جو کہ مثبت صورت رکھتے ہیں ، "ظل" اور "احیاء" کو مقدم رکھا گیا ہے ۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ پہلی تشبیہ میں حرف نفی کا تکرار نہیں ہوا جبکہ باقی تین تشبیہات میں نفی و کا تكرار ہوا ہے۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ "مایستوی" ، صرف پہلی اور آخری تشبیہ میں آیا ہے اور باقیوں میں نہیں ہے بعض مفسرین نے اس تفادت کے لیے کچھ نکات بیان کیے ہیں ۔ جن میں سے کچھ تو قابل و ملاحظہ ہیں اور قابل اعتراض - منجملہ ان نکات کے کہ جو قابل ملاحظہ ہیں ایک یہ ہے کہ "ظلمات" کا جمع ہونا اور "نور" کا منفرد ہونا اس بناء پر ہے کہ ظلمت یعنی کفر کے بہت سے شعبے ہیں ، لیکن ایمان اور توحید کی صرف ایک ہی حقیقت ہے۔ ایمان خط مستقیم ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان ایک خط مستقیم کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہوتا لیکن ظلمت ، کفر ٹیڑھے خطوط کی طرح ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان ہزار ہزار تھے خطوط کرتے ہیں - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 صحیح مسلم ، کتاب الجنائز ، حدیث 1 ، 2 جلد 2 ص 631). ؎2 نہج البلاغہ ، كلمات قصار جملہ 130 - ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پہلی دو مثالوں میں منفی صورتوں کو مقدم رکھتا آغاز اسلام کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں نے جاہلیت کی نابینائی اور شرک کے ظلمات سے اسلام کی روشنی اور بینائی کی طرف ہدایت پائی . لیکن دو دوسری مثالیں دوسرے مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جب اسلام نے اپنی جڑوں کو والوں کی زمین میں محکم کرلیا تھا اور اپنی اثباتی صورتوں کو معاشرے میں وسعت دی تھی۔ لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر اصولی طور پر بیان میں تنوع گفتگو میں ایک خاص قسم کی روح اور تازگی پیدا کر دیتا ہے اور اسے دل نشین ، خوبصورت اور پرکشش بنا دیتا ہے ، جبکہ ایک ہی طرح کے کلام کی تکرار ـــــــ سوائے استثنائی مواقع کے ـــــ گفتگو کی لطافت ختم کردیتی ہے ۔ اسی بناء پر فصحاء وبلغاء ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی گفتگو کی تعبیروں کو متنوع اور دل نشیں بنائیں اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن فصاحت و بلاغت کے اعلی درجہ پر ہے۔ اس بناء پر اگر فصاحت و بلاغت کے علاوہ ان تعمیرات میں اور کوئی نکتہ نہ بھی ہوتا تب بھی یہی چیز کافی تھی ۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے حضرات ان اسرار کے علاوہ کہ جو ہم نے انہیں کیسے ہیں، ان تعمیرات میں دوسرے اسراری تلاش کرسکیں کہ جو اس وقت ہم سے پوشیدہ ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:19-23
2- کیا مردے کسی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے؟
2- کیا مردے کسی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے؟: اوپر والی آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر توجہ دینے سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں : پہلا یہ کہ قرآن یہ کیسے کہتا ہے کہ: "تم اپنی آواز مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچا سکتے"، حالانکہ مشہور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے جنگ بدر کے دن یہ حکم دیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر کفار کے بدنوں کو کنویں میں پھینک دیا جائے ۔ اس کے بعد آپؐ نے انہیں پکار کر فرمایا : هل وجد تم ما وعد الله ورسوله حقًا ؟ فاني وجدت ما وعدني اللہ حقاً۔ "کیا تم نے اس چیز کو کہ جس کا خدا اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا حق پایا ہے؟ میں نے تو جس کا خدا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا سے پایا ہے۔" اس موقع پر حضرت عمر نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ ! آپ ایسے اجساد سے کس طرح گفتگو کر رہے ہیں جن میں روح ہی نہیں ہے؟ پیغمبراکرمؐ نے فرمآیا : ما انتم باسمع لما اقول منهم ، غير انهم لا يستطيعون أن يردوا شيئا۔ "تم میری باتوں کو ان سے بہتر طور پر نہیں سنتے، بات صرف اتنی ہے کہ وہ جواب دینے کی توانائی نہیں رکھتے۔ 1 اسی طرح آداب میت میں سے ایک یہ ہے کہ عقائد حقہ کی اسے تلقین کی جا ئے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات زیر بحث آیات کے ساتھ کس طرح مناسبت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ زیر بحث کے ساتھ بیان ہوتی ہے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر روح البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں ۔ صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ (صحیح بخاری جلد 5 ، ص 97 باب قتل ابی جہل)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ آیات مردوں کے عدم ادراک کو معمول کے لحاظ سے اورطبعی حوالے سے بیان کرتی ہیں لیکن جنگ بدر کی روایات یا تلقین میت والی روایت فوق العادۃ شرائط وحالات کے ساتھ مربوط ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کی باتیں فوق العادۃ طور پر ان مردوں کے کانوں تک پہنچائیں ۔ دوسرے لفظوں میں عالم برزخ میں انسان کا ربط عالم دنیا سے منقطع ہوجاتا ہے ، سوائے ان موقعوں کے کہ جن کے بارے میں خدا حکم دے دے کہ یہ ارتباط برقرار رہے اسی بناء پر عام حالات میں ہم مردوں کے ساتھ ارتباط پیدا نہیں کرسکتے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہماری آواز مردوں کے کانوں تک نہیں پہنچتی تو پھر پیغمبراکرمؐ اور آئمہ پرسلام بھیجنا اور انہیں وسیلہ قرار دینا اور ان کی قبور کی زیارت کرنا اور بارگاہ خدا وندی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا کیا مفہوم رکھتا ہے؟ وہابیوں کی ایک جماعت ہے جو عام طور پر فکری جمود کے حوالے سے مشہور ہے ۔ قرآن کی دوسری آیات کا مطالعہ کیے بغیر ابتدائی ظواہر سے یہی بات کرتی ہے ۔ یہ لوگ بہت سی احادیث کو کہ جو پیغمبرؐ سے منقول ہوتی ہیں کوئی وقعت نہ دیتے ہوئے ، مسلہ توسل کی نفی کردیتے ہیں اور یوں انہوں نے اپنے گمان ناقص سے ان پرخط بطلان کھینچ دیا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی اسی سے کہ جو ہم نے پہلے سوال کے جواب میں دیا ہے واضح ہوجاتا ہے کیونکہ پیغمبراکرمؐ اور اولیائے خدا کا معاملہ دوسرے لوگوں سے الگ ہے۔ وہ شہداء کے مانند (بلکہ ان کی پہلی صف میں قرار پاتے ہیں، اور زندہ جاوید ہیں ، اور "احیاء عند ربهم يرزقون " کے مصداق پروردگار کی روزی سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں ۔ خدا کے حکم سے اس جہان کے ساتھ ان کا ارتباط باقی رہتا ہے ۔ جیسا کہ اس جہان میں رہتے ہوئے وہ مردوں کے ساتھ ارتباط برقرار رکھ سکتے ہیں جیسا کہ مقتولین بدرکی مثال موجود ہے۔ اسی بناء پر بہت سی روایات میں کہ جو اہل سنت اور اہل تشیع کی کتابوں میں منقول ہوئی ہیں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبراکرمؐ اور آئمہ کچھ لوگوں کی باتیں جو دور یا نزدیک سے ان پر سلام بھیجتے ہیں ، سنتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں ، یہاں تک کہ امت کے اعمال بھی ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں ۔ ؎1 یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ نماز کے تشہد میں پیغمبراکرمؐ پرسلام بھیجیں اور یہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آںحضرت سے ایسی بات کریں کہ جسے آپؐ بالکل نہیں سنتے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کشف الارتياب ص 109 ، آیه 105 سورہ توبہ کے ذیل میں ہم نے بھی "اعمال پیش ہونے کا مسئلہ "کی طرف اشارہ کیا ہے" (جلد 8 تفسیر نمونہ ص 108 اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- متعدد روایات میں صحیح مسلم میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ سے خود پیغمبراکرمؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : لقنوا موتاكم لا اله الا الله . "اپنے مردوں کو لا اله الا الله کی تلقین کرو"۔ ؎1 نہج البلاغہ میں بھی مردوں کی ارواح کے ساتھ ارتباط کے مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ حضرت علیؑ نے ان مومنین کے ارواح سے کہ جو کوفے کے نواحی قبرستان میں سے گفتگو کی ۔ ؎2
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:19-23
1- ایمان و کفر کے آثار
چند اهم نکات 1- ایمان و کفر کے آثار : ہم جانتے ہیں کہ قرآن جغرافیائی ، نسلی اور طبقاتی قسم کی سرحدوں میں سے کہ جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں کسی کا قائل نہیں ہے اس نے تو صرف ایک ہی سرحد شمار کی ہے اور وہ ایمان و کفر کی سرحد ہے ، اور وہ اس طرح سے تمام انسانی معاشرے کو دو گروہوں ۔ مؤمن اور کافر میں تقسیم کر دیتا ہے۔ قرآن نے ایمان کے تعارف میں متعدد مواقع پر اسے نور کے ساتھ یہ تشبیہ دی ہے اور کفر کوظلمت کے ساتھ اوریہ تشبیہ ــــ نتیجہ خیزی کےلیے - ایک زندہ ترین تشبیہ ہے۔ ؎1 ایمان ایک قسم کا باطنی ادراک اور بصیرت ہے۔ قلبی عقیدے اور جنبش و حرکت سے تو ام یہ ایک قسم کا علم و آگاہی ہے۔ یہ ایک قسم کا یقین ہے کہ جو انسان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں اترجاتاہے اور ایسے اسلامی کاموں کا سرچشمہ بن جاتا ہے کہ جو معاشرے کی رشد و نمو کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن کفر و جہالت ہے ، نا آگاہی اور بے یقینی ہے کہ جس کا نتیجہ عدم تحرک ، احساس مسئولیت کا فقدان اور شیطانی اور مخرب حرکات ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ "نور" عالم مادہ میں انسان ، حیوان اور نباتات کے لیے ہر قسم کی حیات، حرکت ، نمو اور رشد کا مبداء ہے اور اس کے برعکس ظلمت و تاریکی خاموشی اور خواب و غفلت کی عامل ہے اورمسلسل جاری رہنے کی صورت میں موت ہے اور زندگی کے خاتمے کا سبب ہے۔ اس بنا پر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان آیات میں ایمان و کفر کو نور وظلمت سے ، حیات و موت سے اور آرام بخش سائے اور بادسموم سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسی طرح مومن و کافر کو بینا و نابینا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کہنے کے لائق تمام باتیں ان پاتشبیہوں میں بیان ہوگئی ہیں ۔ ہم زیادہ دور نہ جائیں ، جس وقت ہم ایک مومن کے ساتھ نشست و برخاست کرتے ہیں، تو ہم اس کے تمام وجود میں اس نور کا اثر محسوس کرتے ہیں اس کے افکار ضیابخش ہوتے ہیں ، اس کی باتیں درخشنده ہوتی ہیں اور اس کے اعمال و اخلاق ہمیں حقیقت زندگی اور حیات واقعی سے آشنا کرتے ہیں۔ لیکن کافر کے تمام وجود سے تاریکی برستی ہے، وہ اپنے مادی اور وقتی مفادات کے علا وہ کچھ نہیں ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بقره ــــ 257، مائده ــــــ 15 ، 16 ابراہیم - 1 ، 5 زمر- 22، حدید-9 اورطلاق 11 کی طرف رجوع فرمائیں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- سوچتا اس کی فکر کا افق اور فضا اس کی شخصی زندگی کی چار دیواری سے اوپر نہیں جاتے وہ شہوات کے طوفانوں میں غوطہ زن ہوتا ہے اور اس کی ہمنشینی انسان کے قلب و روح کو ظلمات و تاریکی کی موجوں میں ڈبو دیتی ہے کیونکہ: ؎ ہمدمی مرده دھد مردگی صحبت افسردہ دل افسردگی مردے کی ہمنشینی سے مردگی حاصل ہوتی ہے ۔ اور افسردہ دل کی صحبت سے افسردگی ملتی ہے۔ اور اس طرح سے قرآن نے جو کچھ ان آیات میں بیان کیا ہے اسے ہم محسوس بھی کرسکتے ہیں سمجھ بھی سکتے ہیں یعنی وہ قابل ادراک ہے۔