قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
Say, ‘I give you just a single advice: that you rise up for Allah’s sake, in pairs or singly, and then reflect: there is no madness in your companion; he is just a warner to you before [the befalling of] a severe punishment.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 34:46
[Pooya/Ali Commentary 34:46] It is an exhortation which only an intelligent person would grasp. The Holy Prophet is commanded by Allah to invite the people to independent thinking about Allah, and his prophethood. The suggestion is to use individual reflection over the matter, because crowd mentality would not serve the purpose of perceiving or realising the finer and higher spiritual truths. Each person should earnestly and sincerely communicate to himself. During times of need, the promise of the Lord to guide the sincere ones is there. (Ankabut: 69; Nahl 43; Anbiya: 7). The essential prerequisite for such realisation is a heartfelt reflection free from any preconceived notion or prejudice.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 34:46-54
From Couplets 51 onwards to 54, presages emergence of Sufiyani marching to Damascus sending forces to Baghdad and Medina where in former place, they will kill 3000, commit fornication and kill 300 of the Bani Abbas chiefs and advancing to Kufa destroying its neighbourhood, shall face their opponent. The second party going to Medina will lay it waste for three days and nights, and will march towards Mecca when under Divine commands, at Baida, they will be sunk underground by Gabriel, leaving two of the tribe of Jhenia.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:46
انقلاب فکری ھراصل انقلاب کی بنیا د ہے
آیات کے اس حصّہ میں اور آئندہ آیات میں کہ جن میں سورہ کے آخر ی مباحث بیان ہوئے ہیں ، پیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار پھر حکم دیتا ہے ، کہ اب ان لوگوں کومختلف دلائل کے ذریعہ حق کی طرف دعوت دیں ، اور گمراہی سے روکیں ،اور گزشتہ مباحث کی طرف پانچ مربہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتاہے : ” ان سے کہہ دے ‘ ... (قل ) ۔ پہلی آیت میں تمام اجتماعی ،اخلاقی ، سیاسی ، اقتصادی اورفرہنگی تغیرات اور تبد یلیوں کے اصل خمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہت ہی مختصر اور پُر معنی جملوں میں کہتاہے کہ : ” ان سے کہہ دو کہ میں تو تمہیں صرف ایک ہی چیز کے بارے میں نصیحت کرتاہوں ،اوروہ یہ ہے کہ تم خدا کے لیے کھڑے ہوجاؤ .دو ، دو افراد (مل کر ) یاایک ایک فرد (اکیلے اکیلے ہی ) اور پھر غور وفکر کرو “ (قُلْ إِنَّما اٴَعِظُکُمْ بِواحِدَةٍ اٴَنْ تَقُومُوا لِلَّہِ مَثْنی وَ فُرادی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوا) ۔ ” یہ تمہارا دوست اور ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) کسی قسم کی فکری کجی اورجنون نہیں رکھتا “ (ما بِصاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّة) ۔ ”بلکہ وہ توصرف تمہیں خدا کے سخت عذاب سے ڈرانے والاہے “ (إِنْ ہُوَ إِلاَّ نَذیرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذابٍ شَدیدٍ) ۔ اس آت کے کلمات وتعبیرات میں سے ہرایک ، ایک اہم مطلب کی طرف اشارہ کرتاہے ، جن میں سے دش نکات ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں ۔ ۱۔ ”اعظکم “ (میں تمہیں نصیحت کرتاہوں ) کاجملہ حقیقت میںاس واقعیت کوبیان کرتا ہے کہ اس گفتگو میں مجھے تمہاری خیر وصلا ح مطلوب ہے نہ کہ کوئی اوردوسرامسئلہ ۔ ۲۔ ” واحدة “ (صرف ایک ہی بات ) کی تعبیر ،خصوصا ” انما “ کی تاکید کے ذریعہ، اس واقعیت کی طرف ایک بولتا ہوا اشارہ ہے ، کہ تمام انفرادی اوراجتماعی اصلاحات کی بنیاد فکر اورسوچ کو روبہ عمل لاناہے جب تک کسی قوم وملت کی سوچ اور فکرسوئی ہوئی ہے اس وقت تک وہ قوم وملت دین وایمان اورآزادی و استقلال کے چوروں اورڈاکوؤں کے حملوں کی زد میں رہتی ہے ،لیکن جس وقت افکار بیدار ہوگئے ،توان کے او پر راستے بند ہوجاتے ہیں ۔ ۳۔ یہاں ”قیام “ کرنے کی تعبیردو پاؤں پر کھڑے ہونے کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ کام کو انجام دینے کی آمادگی کے معنی میں ہے ،کیونکہ انسان جب اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہوجاتا ہے ، تووہ اپنی زندگی کے مختلف پرو گراموں کوانجام دینے کے لیے آمادہ ہوتا ہے ،اس بناء پر غور وفکر کرنا پہلے س آمادگی کا محتاج ہوتاہے کہ جس سے انسان میں وہ حرکت اور تیار ی وجود میں آتی ہے جس سے وہ پختہ اراد ہ کے ساتھ غور وفکر کرنے لگتاہے ۔ ۴۔ ” للہ “ کی تعبیر اس معنی کوبیان کرتی ہے کہ قیام اور آمادگی میں خدائی جذبہ ہوناچاہیئے ،اور وہ سوچ جس کی تحریک اس طرح سے ہوقیمتی ہوتی ہے ، اصولی طور پر کاموں میں خلوص ، یہاں تک کہ سوچنے اورغور وفکر کرنے میں بھی نجات اور برکت کاسبب ہوتا ہے ۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ ” اللہ ‘پرایمان کاہونا یہاں پرتسلیم شدہ ماناگیاہے ،اس بناء پر دوسر ے مسائل کے لیے غور وفکر کرناس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توحید ایک فطری امر ہے ،کہ جو بغیر کسی غور وفکر کے بھی واضح وروشن ہے ۔ ۵۔ ” مثنٰی وفرادٰی “ ) دو دو یاایک ایک ) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غور وفکر شوروغل سے دُور ہو کر کرنا چاہیئے . لوگوں کوایک کرکے اکیلے ہی یاز یادہ سے ، زیادہ دو دو مل کر قیام کرنا چاہیئے اوراپنی سوچ بچار اور فکر کوکام میں لانا چاہیئے ،کیونکہ شور وغوغا کے درمیان سوچ وبچار گہرااورعمیق نہیں ہوگا ، خصوصاً جبکہ مجمع اوربہت سے لوگوں کی مود گی میں اپنے اعتقاد سے دفاع اور اس کی حمایت میں خود خواہی اور تعصب کے عوامل زیادہ پیدا ہوتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کابھی اظہار کیا ہے کہ یہ دونوں تعبیریں اس بناء پر ہیں چونکہ ”انفرادی“ اور ” اجتماعی “ افکار یعنی مشورے کی آمیز ش کواپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتے ہیں ،لہٰذا انسان کو چاہیئے کہ ایک توتنہائی میں سوچ بچار کر ے ، اوردوم دوسروں کے افکار سے بھی فائدہ اٹھائے ،کیونکہ فکرو رائے میں استبداد واستقلال تباہی کاباعث ہوتاہے ،اور ہمفکر ی اور علمی مشکلات کے حل کے لیے کوشش کرنا ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ ،جہاں بات شور و غوغاتک نہ پہنچے وہاں پرقابلِ اطمینان حدتک اس کابہتراثر ہوتا ہے اور شاید اسی بناء پر مثنٰی کو فرادیٰ پر مقدم رکھتاہے ۔ ۶۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن یہاں کہتاہے : ” تتفکّرو ا “ (غور وفکر کرو ) لیکن کسی چیز میں ؟ اس لحاظ سے یہ مطلق ہے اوراصطلاح کے مطابق ” متعلق کاحذف ہونا عمومیت پردلالت کرتاہے یعنی ہرچیز مین ،معنوی زندگی میں ، ماد ی زندگی میں ،اہم مسائل میں ،اورچھوٹے سے چھوٹے مسائل میں ،خلاصہ یہ کہ ہر کام میں پہلے غور کرنا چاہیئے ، لیکن سب سے زیادہ اہم ، ان چار سوالات کے جواب معلوم کرنے کے لیے سوچ بچار کرناچاہیئے : میں کہاں سے آیاہوں ؟ میں کس لیے آیاہوں ؟ میں کہاں جار ہاہوں ؟ اوراب میں کیاںہوں ؟ لیکن بعض مفسرین کا نظر یہ یہ ہے کہ ”تفکر “ کامتعلق یہاں اس کے بعد کاجملہ : ( مایصاحبکم من جنّة ) ہے ،یعنی اگرتم تھوڑا سابھی غور وفکر کرو تو تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم جنون کے سلسلے میں تمہارے بیہودہ اتہام سے پاک ومنزہ ہے ۔ لیکن پہلا معنی زیادہ واضح نظر آتاہے ۔ لیکن مسلمہ طور پر منجملہ ان امور کے کہ جن میں غور فکر کرنا چاہیئے یہی مسئلہ نبوت اور برجستہ (عمدہ ) صفات کامسئلہ ہے کہ جوپیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اوران کی عقل وخرد میں موجود تھیں ،بغیر اس کے کہ (یہ غور وفکر کرنا ) انہیں میںمنحصر ہو ۔ ۷۔ ”صاحبکم “ (تمہاراساتھی اوردوست ) کی تعبیر ،پیغمبرصلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی ذات کے بارے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے ، کہ آپ اُن کے غیر معروف اور ناشناختہ نہیں ہیں ، آپ ان کے درمیان سالہا سال رہے ہیں ،انہیں امانت و درایت اورصدق وراستی کے ساتھ تم نے پہچاناہے ، اب تک تم نے ان کی زندگی کے نامہٴ عمل میں کوئی کمزور ی کانقطہ مشاہد ہ نہیں کیا ہے ،تواس بناء پر انصاف سے کام لو . جو اتہامات تم ان پر باندھ رہے ہووہ سب کے سب بے بنیاد ہیں ۔ ۸۔ ” جِنّة “ جنون کے معنی میںاصل میں مادہ (جن ) بروزن ظن سے ستر وپوشش کے معنی میں ہے ، اور چونکہ مجنون کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ گو یااس کی عقل چھپی ہوئی ہے اوراس پرپر دہ پڑا ہوا ہے ، لہذا یہ تعبیراس کے بارے میں استعمال ہوتی ہے . بہرحال قابلِ ملاحظہ نکتہ یہاں یہ ہے کہ گویا وہ اس حقیقت کو بیان کرناچا ہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ سوچ بچار اور فکر کی بیدار ی کی دعوت دینے والا خود مجنون ہو . جبکہ وہ سوچ بچار اور تفکر کرنے کے منادی کررہاہے . اس کی یہی بات اس کی انتہائی عقل ودرایت کی دلیل ہے ۔ ۹۔ ” ان ھو الاّ نذیر لکم “ کاجملہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کومسئلہ انذار میںخلاصہ کرتا ہے ،یعنی خدا کی داد گاہ میں جوابدہی اوراس کے عذاب سے ڈرانا ، یہ ٹھیک ہے کہ پیغمبر بشارت کی رسالت بھی رکھتا ہے لیکن جوچیز انسان کوزیادہ سے زیادہ حرکت پرابھارتی ہے وہ مسئلہ انذار ہے . اسی لےے قرآ ن کی بعض دوسری آیات میں بھی پیغمبرکی تنہاذمہ داری کے طور پر ذکر ہوا ہے ، مثلا ً سورہ احقاف کی آیہ ۹ میں : ( وما انا الاّ نذیر مبین ) ” میں ایک واضح انذار کرنے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں “ اس معنی کی نظیر یہ سورہ ص کی آیہ ۶۵ اوردوسری آیات میں بھی آئی ہے ۔ ۱۰۔ ” بین یَدَیْ عَذابٍ شَدید“ کی تعبیر اس طر ف اشارہ ہے کہ قیامت اس قدر نزدیک ہے کہ گویا تمہارے چہر ے کے سامنے ہے ،اور سچ مچ دنیا عمر کے مقابلہ میں وہ اسی طرح ہے ، یہ تعبیر اسلامی روایات میں بھی آئی ہے کہ پیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بعثت انا والساعة کھاتین “ ( وضم (ص ) الوسطی والسبابة ) . میر ی بعثت اور قیام ِ قیامت ان کی دو طرح ہے . اس کے بعد آپ نے انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو ایک دوسری سے ملا دیا (۱) ۔ ۱۔ تفسیرروح المعانی ، ذیل آیہ زیر بحث جلد ۲ ۲ ، ۱۴۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:46
۱۔ تمام انقلابات کی جڑ بنیاد
مادی اور کمیونسٹ مکاتبِ فکر کہ جو ہمیشہ سچے مذاہب کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے رہتے ہیں ، وہ ہمیشہ اس بات پراصرار کرتے ہیں کہ ادیان کی دعوت اصل میںعوام الناس کے افکار کو بیکار کرنے کے مترادف ہے . ان کی یہ رسوا تعبیر کہ ” دین عوام الناس کے لیے افیو ں ہے “ مشہور و معروف ہے ۔ اس طرح شرق وغرب کے سا مراجی اس خوف وہراس کی وجہ سے جو وہ مومنین کے قیام اوران کے افکار ِ مذہبی اورراہِ خدا میں شہادت کوقبول کرنے کے ضمن میں رکھتے ہیں یہ کہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماہر ین نفسیات اور اسکا لرز کواس مطلب کی تلقین کریں کہ وہ اپنی اپنی اصطلاح میں ... اپنی علمی کتابوں میں انہیں بیان کریں ، کہ مذہب طبعی طور پر انسانی جہالت اور نا دانی کی پیداوار ہے ۔ البتہ یہ ایک وسیع بحث ہے ، اوراپنی جگہ پرانہیں دوٹوک اور ندانِ شکن جواب دیئے گئے ہیں ، کہ ان سب کی یہاں گنجائش نہیں ہے . لیکن زیر بحث آیات کی مانند بہت سی آیات کہ جو غور وفکر اورسوچ بچار کی طرف دعوت دیتی ہیں . بلکہ دین کانچوڑ اورانسان کی پیش رفت اورتکامل وار تکامل و ار تقاء کا سبب اسی غور وفکر کو جانتی ہیں . ان جھوٹ اور افتراء باند ھنے والوں کاسارا پو ل کھول کررکھ دیتی ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام جیسا دین و آئین بے حسی یاشل کردینے کاذریعہ یاجہالت کی پیدا وار ہو . حالانکہ اس کالانے والااپنی بلند آواز کے ساتھ تمام انسانوں کومخاطب کرتے ہو ئے کہتا ہے کہ : سوئے ہوئے افکار کو بیدار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور قیام کرو . اور وہ بھی ایسے ماحول میں جو پُر سکون اورشورو غوغاسے خالی ہو ۔ ایسے ماحول میں کہ جوہوا وہوس اور مسموم اور زہر یلے پرو پیگنڈے سے دور ہو ۔ تعصبات سے دور ہو ،جھگڑوں اورہٹ دھر میوں سے دور ہو ۔ خداکے لیے قیام کرو اورغور وفکر کرو ۔ کہ میری طرف سے تمہیں یہی تنہا وعظ ونصیحت ہے . اور بس ۔ کیا اس قسم کے دین کوکہ جو نہ صرف اس مقام پربلکہ بہت سے دوسرے مقامات پربھی اسی دعو ت کو دہراتاہے ، افکار کوسُن کرنے والے اورنشہ آور کے ساتھ متہم کرنا ، مضحکہ خیز اورقہقہ لگا نے والی با ت نہیں ہے ؟ ! خاص طور پر یہ بات کہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ تم اکیلے تنہا ئی اورانفرادی طور پر غور وفکر کرو ، بلکہ دو دو افراد کی شکل میں ، اورایک دوسرے سے تعاون اور معاونت کی صورت میں بھی غور وفکر کرنے میںمشغول رہو ، انبیاء علیہ السلام کی دعوت کے مطالب ومفاہیم کوسنو ، ان کے دلائل کابغور مطالعہ کرو ، اگر وہ تمہاری عقل کے ساتھ ہم آہنگ ہوں تو اسے قبول کرلو ۔ ہمارے زمانہ میں شرق وغرب کی تباہی کن جہنمی طاقتوں اورقدرتوں کے مقابلہ میں جو حوادث ، مختلف ممالک میں ، انقلابی مسلمانوں کے قیام کی وجہ سے رو نما ہوئے ، انہوں نے مستکبرین کی نگاہ میں دنیا کوتیرہ وتاریک کرکے رکھ دیاہے . اوران کی طاقت وقدرت کی بنیا دوں کو ہلا کررکھ دیاہے ، ان حوادث نے اس بات کی نشا ندہی کی ہے کہ وہ یعنی مستکبرین اچھی طرح سے اس نکتہ کوسمجھ چکے تھے کہ ان کے سخت ترین دشمن ( مسلمان ) کے اصل مذہبی عقائد ان کے لیے عظیم خطرہ ہیں ، اورانہوں نے یہ بھی نشاندہی کردی کہ ان اتہامات کاہدف و مقصد کہ جو مذہب کے بارے میں کیے گئے ہیں کیاہے ؟ واقعاً عجیب بات ہے کہ مغربی فلسفی مردم شناسی کی اصطلاح کی تحلیلوں اورتجزیوں میںاس مسئلہ کومسلّم سمجھتے ہیں کہ ماورا ء طبعیت یعنی اس دنیا اوپر کوئی عالم نہیں ہے . اور دین نو ع بشر کی ایک خود ساختہ چیز ہے ، پھر اس مسئلہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ اس کا عامل کیاہے ؟ اقتصادی مسائل ہیں ؟ انسانوں کاخوف ہے ؟ بشر کی لاعلمی اور عدم آگا ہی ہے ؟ روحانی عقدے ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ ؟ لیکن وہ اس بات کے لےے تیارنہیں ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے ہی اس پہلے سے کیے ہوئے اپنے غلط فیصلہ سے خالی ہو کر فکر یں کہ عالم طبعیت یعنی اس کا ئنات کے علاوہ ایک اورعالم ہے اور توحید ک روشنی دلیلوں اورحضرت محمدصلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم جیسے نبیا ء کی نبوت کی آشکار اورواضح نشا نیوں میں سوچ بچار سے کام لیں ۔ یہ لوگ زمانہ ٴ جاہلیت کے مشرکین سے ملتے جلتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ وہ تومتعصب اور ہٹ دھرم تھے اس صورت میں کہ وہ ان پڑھ تھے ، یہ متعصب اورہٹ دھر م ہیں ، پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ، اسی بناء پر زیادہ خطرناک اورزیادہ گمراہ کن ہے ۔ یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ قرآن کی بہت سی آیات کاآخر ی حصّہ تفکر ،تعقل اور تذکر کی دعوت ہے ۔ کبھی کہتاہے ” ان فی ذالک لاٰ یات لقوم یتفکرون “ ( نحل . ۱۱ . ۶۹) ۔ اور کبھی کہتا ہے : ” ان فی ذالک لاٰیات لقوم یتفکرون “ ( رعد . ۳ . زمر . ۴۲ . اور جاثیہ . ۱۳ ) ۔ اور کبھی کہتا ہے : ” لعلھم یتفکرون “ (حشر . ۲۱ . اعراف . ۱۷۶) ۔ اور کبھی اس جملہ کو دو بارہ خطاب کی صورت میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” کذالک یبین اللہ لکم الاٰیات لعلکم تتفکرون “ اس طرح سے خدا تمہارے لیے اپنی آیات کوبیان کرتاہے ، شاید کہ تم غور وفکر کرو “ (بقرہ . ۲۱۹۔ ۲۶۶ )۔ اسی طرح کے جملے قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، مثلا ً قرآن کی بہت سی آیات میں ” فقہ “ (فہم ) کی دعوت دی گئی ہے ،عقل و تعقل کی دعوت اور ان افراد کی تعریف کی گئی ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں ،اوران کی مذمت کہ جو اپنی فکر کو استعمال نہیں کرتے ، یہ بات قرآن مجید کی ۴۶ آیات میں وارد ہوئی ہے ۔ علماء اور دانشمندوں ،اور علم ودانش کے مقام و مرتبہ کی اتنی زیادہ تعریف و توصیف کی ہے ، کہ اگر ہم ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے ان کی تفسیر کریں تووہ خودایک مستقل کتاب بن جائے ۔ اس سلسلہ میں بس اتناہی کافی ہے کہ قرآن دوزخیوں کی صفات میں سے ایک صفت تفکرو تعقل نہ کرنے کو بیان کرتاہے : ” وقالو الوکنانسمع او نعقل ماکنّا فی اصحاب السّعیر “ ( دوزخی کہیں گے کہ اگرہم سننے والے کان اور بیداار عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں سے نہ ہوتے ) . کیونکہ دوزخ میں صاحبان ِ عقل کی جگہ نہیں ہے . ( مُلک . ۱۰( اورایک او ر دوسری جگہ پر کہتا ہے : اصو لی طور پر وہ لوگ جو کان رکھتے ہیں لیکن سنتے نہیں ، آنکھ رکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں ،اور عقل رکھتے ہیں لیکن سوچتے نہیں ، و ہ جہنم کے لیے نامزد ہوگئے ہیں ۔ ” ولقد ذراٴنا لجھنم کثیراً من الجن والانس لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین لایبصرون بھا ولھم اٰذان لایسمعون بھا اولٰیک کا لا نعا م بل ھم اضل اولٰیک ھم الغافلون “ ۔ ” یقینا جِنّوں اورانسانوں کے بہت سے گروہ جہنم کے لیے قرار دے دئیے ہیں . ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ عقل رکھتے ہیںلیکن اس کے ساتھ سوچتے نہیں ، آنکھ رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دیکھتے نہیں ، کان رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ سنتے نہیں ،وہ چو پا یوں کی مانند ہیں ، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ وہی تو اصل غافل ہیں “ ۔( اعراف . ۱۷۹(
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:46
۲۔ غور وفکر کے سلسلے میں رویاتِ اسلامی
روایات ِ اسلامی میں . قرآن کی پیروی کرتے ہوئے . غور وفکر کامسئلہ اہمیت کے اعتبار سے درجہ اوّل میں قرار پاتاہے ،اوربہت ہی بلیغ اور پُر کشش تعبیرات اس سلسلہ میں دیکھا ئی دیتی ہیں ، کہ جن کے کچھ نمونے ہم یہاں پرپیش کرتے ہیں : الف ۔ غور وفکر کرناعظیم ترین عبادت ہے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے منقول ہے : ” لیس العبادة کثرة الصلاة والصوم انما العبادة التفکرفی امر اللہ عذوجل “ (عبادت نماز و روزہ کی کثرت میں نہیں ہے ، عبادت واقعی توخدا وند تعالیٰ کے کاموں اور جہانِ آفرینش کے کاموں میں غور و فکرکرنا ہے ) (1) ۔ ا یک دوسری روایت میں یہ منقول ہوا ہے : ” کان اکثرعبادة ابی ذر التفکر “ 2 ۔ ب۔ ایک ساعت غوروفکر کر نا ایک رات کی عبادت سے بہتر ہے ۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیاکہ لوگ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ : ” تفکر ساعة خیر من قیام لیلة “ ایک ساعت غوروفکر کرنا ایک رات بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے ۔ اس سے کیا مراد ہے ، اور غوروفکر کس طرح کرناچاہیئے ؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : ’ ’ یمر بالخربة او بالدار فیقول این ساکنوک این بانوک مالک ا تتکلمین “ جب تُو کسی ویرانے کے پاس سے گزر تاہے ، یاکسی ایسے گھر کے پاس سے ( کہ جو اپنے بسنے والوں سے خالی ہو ) گزرتا ہے تو کہتا ہے ،تجھ میں رہنے والے کہاں گئے ؟ تیری بنیاد رکھنے والوں کاکیا ہوا ؟ تُو بولتا کیوں نہیں (3) ۔ ج۔ غوروفکر سرچشمہ عمل ہے ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ” ان التفکر ید عواالی البر والعمل بہ “ ”غورو فکر کرنا نیکی اوراس پرعمل کرنے کی دعوت دیتا ہے (4) ۔ 1۔ اصول ِ کافی جلد ۲ ، کتاب ” الکفروالا یمان “ باب ” التفکر “ (ص .۴۵) ۔ 2۔سفینتہ البحار ، جلد ۲ ،ص ۳۸۳ ، مادہ فکر ۔ 3۔ مدرک مذکورہ ۔ 4۔ سفینتہ البحار ، جلد ۲ ، ص ۳۸۳ ، مادہ فکر ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 34:46
سوره سبأ / آیه 46
۴۶۔قُلْ إِنَّما اٴَعِظُکُمْ بِواحِدَةٍ اٴَنْ تَقُومُوا لِلَّہِ مَثْنی وَ فُرادی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوا ما بِصاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ ہُوَ إِلاَّ نَذیرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذابٍ شَدیدٍ ترجمہ ۴۶۔ کہہ دو کہ میں تو تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتاہوں ، کہ تم دو دو افراد (مِل کر ) یااکیلے ہی خدا کے لیے کھڑے ہوجاؤ ، اس کے بعد غور کرو اورسوچو ( کہ ) یہ تمہارا دوست اورساتھی (محمد صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم ) کسی قسم کابھی جنون نہیں رکھتا ، وہ توصرف (خدا کے ) سخت عذابسے تمہیں ڈرانے والا ہے ۔