إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا
Indeed those who offend Allah and His Apostle are cursed by Allah in the world and the Hereafter, and He has prepared a humiliating punishment for them.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:53-58
(Men are either faithful or otherwise. Do no torment the faithful, and do not act otherwise before ignorant else you will be like them). As per Couplet 57, those who grieve the Prophet are cursed by God in this world and in eternity shall be punished. The Prophet has repeatedly called is beloved daughter Fatima, “a piece of his liver” (allegorically) on functioning of which life exists. If anybody torments Fatima, as though he injures the Prophet for which hell is the punishment. So, also, he said, “If anybody worried or tormented Ali to the extent of his hair, he is cursed, and the cursed receives the door of penance closed against him. Couplet 58 is revealed against those who have tormented Ali and Fatima, who are immaculate, and those who are faithful should not similarly be vexed without rhyme or reason, as the faithful are highly estimated in the Eyes of God.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:56-58
آنحضرت پردرودوسلام
تفسیر ؎1 آنحضرت پردرودوسلام : گزشتہ آیات میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی حرمت کی حفاظت کے لیے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف اور آزرارنہ پہنچانے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور ان آیات میں پہلے تو رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خدا اور اس کے فرشتوں کا خصوصی و تعلق اور لگاؤ بیان کیا گیا ہے ۔ پھراسی سے متعلق مومنین کو حکم دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ کو دکھ پہنچانے والوں کے لیے دردناک عذاب اور ان کے منحوس انجام کی خبر دی گئی ہے۔ آخرمیں ان لوگوں کے عظیم گناہ کا تذکرہ کرتا ہے جو مومنین کو تہمت کے ذریعے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ۔" خدا اور فرشتے نبی پر رحمت اور درود بھیجتے ہیں"۔ (ان الله وملائكته يصلون على النبي )۔ رسول کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مرتبہ اس قدر بلند و بالا ہے کہ عالم ہستی کا آفرید گار اورحق تعالٰی کے فرمان کے مطابق اس کائنات کی تدبیر کرنے والے فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں۔ اب جبکہ ایساہے تو تم بھی اس وسیع پیغام سے ہم آہنگ ہوجاؤ۔" اے وہ لوگو ! جوایمان لائے ہو ان پر درود بیجو اور انھیں سلام کرو اور ان کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کردو"۔ (یا ایهالذین امنواصلوا عليه وسلموا تسليمًا)۔ وہ عالم آفرینش کا ایک انمول گوہر ہیں اور اگر خدا کی مہربانی سے تمھیں میسر ہیں تو مبادا انہیں ارزاں سمجھ لو ، مبادا اس کی عظمت اور مقام کو فراموش کر دو جو خدا اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہے ، وہ ایک ایسا عظیم انسان ہے ، جو تمھارے ہی درمیان کھڑا ہے ، لیکن وہ ایک عام انسان نہیں بلکہ ایسا انسان ہے ، جس کا وجود پوری کائنات کا خلاصہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:56-58
چند قابل توجہ نکات
چند قابل توجہ نکات 1- "صلات" کی جمع " صلوات " ہے اور جس وقت اس کلمہ کو خدا کی طرف نسبت دی جائے تورحمت نازل کرنے اور رحمت بھیجنے کے معنی میں ہوگا اور جب اس کی نسبت فرشتوں اور مومنین کی طرف ہو تو پھرطلب رحمت کے معنی میں ہو گا۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ عجیب اتفاق ہے کہ ان آیات کی تفسیر کی ابتدا شب میلاد رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ماہ ربیع الاول 1404 ھ میں ہوئی ہے۔ ؎2 راغب نے مفردات میں اس مفہوم کو دوسرے لفظوں میں پیش کیا ہے ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 2- "یصلون" کو فعل مضارع کی صورت میں لانا اس کے استمرار کی دلیل ہے ، یعنی ہمیشہ خدا اور فرشتے اس پر رحمت بھیجتے اور درود بھی بھیجتے ہیں مسلسل اور جاوداني رحمت اور درود ۔ 3- "صلم" اور "سلموا" کے درمیان کیا فرق ہے ؟ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے ، لیکن جو کچھ ان دو الفاظ کے لغوی مفہوم اور قرآنی آیت کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ "صلوا" پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرطلب رحمت اور درودر بھیجنے کا حکم ہے۔ رہا "سلموا" تو وہ یا تو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام اور فرامین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے معنی میں ہے جیسا کہ سورہ نساء کی آیت 65 میں آیا ہے: " ثم لایجد وافي انفسهم حرجًا مما قضیت ویسلموا تسلیما" "مومن وہ ہیں جو آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں ، حتی کہ آپ کے کسی فیصلے میں ذرہ بھر بھی ناراضی کا اظہار نہ کریں ۔بلکہ مطلق طور پرتسلیم کرلیں "۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام سے ابوبصیرنے عرض کیا : پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پر صلوات بھیجنے کو تومیں سمجھ گیا ہوں لیکن اس تسلیم کا کیا معنی ہے؟ تو امام نے فرمایا: "هوالتسلیم له فی الامور"۔ "ہرکام میں ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا"۔ ؎1 یا پھر پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زپر"السلام علیک یارسول الله " اور اس قسم کے کسی طریقے سے سلام بھیجنے کے معنی میں ہے ، جس کا مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ خداوندی سے سلامتی کی درخواست کرنا ہے۔ ابو حمزه ثمالی ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کعب نامی ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر سلام کرنا تو ہم جانتے ہیں ، لیکن صلوات کس طرح بھیجنی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ، یوں کہا کرو : " اللهم صلى علٰی محمد وال محمد كما صليت على ابراهيم انك حميد مجید، وبارك على محمد وال محمد كما باركت علٰى ابراهيم وال ابراهيم انا حميد مجيد"۔ اس حدیث سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود وصلوٰۃ کی کیفیت بھی واضح ہوجاتی ہے اور سلام کا معنی بھی ۔ ؎2 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں اور دوسری حدیث شیعہ اورسنی کتابوں میں متعدد طریقوں سے قریب قریب ایک جیسی عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔ ؎2 مجمع البیان ، انہی آیت کے ذیل میں یہ حدیث شیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں متعدد طریقوں سے تقریبًا ایک جیسی عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اگرچہ سلام کے یہ دونوں معانی مختلف نظر آتے ہیں ۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں ایک ہی نقطے کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ اور وہ بے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور قولی اورعملی تسلیم کیونکہ جو شخص ان پر سلام بھیجتا اور خدا سے ان کی سلامتی طلب کرتا ہے تو درحقیقت وہ ان سے اپنے عشق اورمحبت کا ثبوت دیتا ہے اور انھیں واجب الاطاعت پیغمبر کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ 4- یہ امر قابل توجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر صلوات بھیجنے کی کیفیت کے سلسلے میں بے شمار شیعہ اورسنی روایات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "محمد" پر صلواۃ بھیجتے وقت "آل محمد" کا اضافہ بھی کرو۔ درمنشور میں "صحیح بخاری" صحیح مسلم ، سنن ابوداؤد ، سنن ترمذی ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، ابن مردویہ اور دوسرے راویوں نے "کعب بن عجرہ" سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: " اما السلام عليک فقد علما فكيف الصلاة عليك؟" "آپ پر سلام کرنا تو تم جانتے ہیں ، لیکن فرمایئے صلات کیسے بھیجی جائے ؟" توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔ یوں کہو : " اللهم صلى علٰی محمد وال محمد كما صليت على ابراهيم انك حميد مجید، وبارك على محمد وال محمد كما باركت علٰى ابراهيم وال ابراهيم انا حميد مجيد"۔ ۔ سیوطی (تفسیر درمنشور کے موتف) نے اس حدیث کے علاوہ اٹھارہ دوسری احادیث بھی نقل کی ہیں ، جن میں تصریح ہوئی ہے کہ تصلوات میں "آل محمد" کا بھی ذکر کرنا چاہیئے۔ ان احادیث کو اہل سنت کی مشہور ومعروف کتب اور صحابہ کی ایک جماعت سے نقل کیا گیا ہے ، جن میں ابن عباسی ، طلحہ ، ابو سعید خدری ، ابوہریرہ ، ابومسعود وانصاری ،بریدہ ابن مسعود ، کعب نن عجرہ اور امیر المومنین حضرت علیؑ شامل ہیں ۔ ؎1 برادران اہل سنت کی مشہور حدیث کی کتاب ، صحیح بخاری میں اس بارے میں متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے قارئین کرام اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔ ؎2 صحیح مسلم میں بھی اس سلسلے میں دو روایات آئی ہیں . ؎3 تعجب کی بات ہے کہ اس کتاب باوجود یکہ ان دو احادیث میں محمد وآل محمد کا کئی بارباہم تذکرہ ہوا ہے ، لیکن باب کا جو عنوان منتخب کیا گیا ہے وہ "باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم" (ذکر آل کے بغیر) ہے۔ ؎ 4 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیردرمنشور آیہ مذکورہ کے ذیل میں (تفسیر المیزان جلد 16 ص 365 ، 366 کے مطابق:۔ ؎2 صحیح بخاری جلد 6 ص 151۔ ؎3 صحیح بخاری جلد 1 ص 305 باب الصلاة على النبي ۔ ؎4 پاکستان میں بھی ریڈیو ،ٹی وی، اخبارات ، کتب ، رسائل اور تقاریرمیں خصوصًا مولوی صاحبان جب آنحضرت کا ذکر کرتے ہیں تو "صلی اللہ علیہ وسلم" ہی لکھتے اور بولتے ہیں۔ "آلہ" ادا نہیں کرتے۔ تعجب ہے (مترجم)۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اہل سنت اور متعدد شیعہ روایات میں "محمد" اور "آل محمد" کے درمیان لفظ "علٰی" کے ساتھ فاصلہ تک بھی نہیں ہے اور صلاۃ تر کی کیفیت اس طرح ہے اور صلاۃ کی کیفیت اس طرح ہے۔ " اللهم صل علٰى محمد وال محمد"۔ اس گفتگو کوہم اسلام کے عظیم الشان پیغمبرکی ایک اور حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں " ابن حجر مکی اپنی کتاب صواعق محرقہ میں نقل کرتے ہیں کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : "لا تصلوا على الصلاة البتراء فقالوا وما الصلاۃ البتراء ، قال تقولون اللهم صل على محمد ، وتمسكون ، بل قولوا اللهم صل على محمد وآل محمد" "مجھ پر کبھی (ناقص اور) دم بریدہ صلوات نہ بھیجا کرو"۔ اصحاب نے عرض کی : حضور! وہ ناقص صلوٰۃ کیاہے؟ فرمایا: اگر فقط "اللھم صل على محمد" کہو اور اس سے آگے نہ بڑھو اور رک جاؤ۔ بلکہ چاہیئے کہ یوں کہاکرو: "اللهم صل على محمد و ال محمد "۔ ؎1 انہی روایات کی بناء پر اہل سنت کے بزرگ فقہا کی ایک جماعت حضورختمی مرتبت کے نام کے ساتھ "آل محمد" کے اضافہ کو نماز کے تشہد واجب سمجھتی ہے ۔ ؎3 5- آیا رسالت مآب صلی الله علیہ و آلہ وسلم پر صلاة بھیجنا واجب ہے یا نہیں ، اگر واجب بے تو کہاں کہاں واجب ہے؟ یہ وہ سوال ہے ، جس کا جواب فقہا نے دیا ہے۔ تمام فقہا شیعہ اسے نمازمیں پہلے اور دوسرے تشہد میں واجب سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ باقی تمام مقامات پر مستحب جانتے ہیں . علاوہ ان احادیث کے جو اہل بیت کے طریقوں سے اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں ، کتب اہل سنت میں بھی وہ روایات کم نہیں جو وجوب پردلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور روایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ "سمعت رسول اللہ يقول لا يقبل صلاة الابطھور، وبالصلاة على"۔ "میں نے رسول اللہ سے سنا انھوں نے فرمایا کہ نماز طہارات اور مجھ پر درود بھیجے بغیر قبول نہیں ہوگی"۔ فقہاء اہل سنت میں سے امام شافعی دوسرے تشہد میں صلوٰۃ پڑھنا واجب سمجھتے ہیں اور امام احمد اور دوسرے کئی فقہا کے بارے میں دو طرح کی روایات نقل ہوئی ہیں ، البتہ امام ابوحنیفہ جیسے بعض افراد سے واجب نہیں سمجھتے ۔ ؎3 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 صواعق محرقہ ص 144۔ ؎2 علامہ علی کتاب تذکرہ کی بحث تشہد میں اس قول کو تمام علماء شیعہ کے علاوہ امام ا حمد بن حنبل اور بعض شافعیوں سے بھی نقل کرتے ہیں۔ ؎3 تذکرہ علامہ علی جلد 1 ص 126۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت امام شافعی اس فتوے کو اپنے شعرمیں نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں یا اهل بیت رسول الله احبكم فرض من الله وفی القران انزله كفا كم ، من عظیم القدر انكم من لم يصل عليكم لا صلاة له "اے اہل بیت رسول! تمھاری محبت خدا کی جانب سے قرآن میں واجب قرار دی گئی ہے"۔ "تمھارے مقام کی عظمت کےلیے یہی کافی ہے کہ جو شخص تم پر درود نہ بھیجے اس کی نماز باطل هے". ؎1 بعد والی آیت حقیقت میں گزشتہ آیت کے نقطہ مقابل کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے ۔ "جو لوگ خدا اور اس کے رسول ایذا اور تیار کیےہوئے ہے" خدا انھیں دنیا اورآخرت میں رحمت سے دورکردیتاہے اور ان کے لیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کیے ہوئے ہے"۔ ان الذین یؤ ذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة و اعدلهم عذابًا مهینًا)۔ پروردگار کو ایذا پہچنانے سے کیا مراد ہے؟ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ مراد کفروالحاد ہے ، جو خدا کو عضبناک کرتا ہے کیونکہ خدا کے بارے میں آزار اوراذیت کا استعمال درحقیقت خدا کے غضب کے علاوہ کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ خدا کو ایذاء دینے سے مراد رسول خدا اور مومنین کو ایذاء پہنچانا ہو اور یہاں پر خدا کا ذکراس مطلب کو اجاگر کرنے کے لیے ہے ۔ لیکن پیغمبر اسلام کی ایذاء کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر وہ کام شامل ہے جو آپ کو ایذاء پنچائے خواہ وہ کفروالحاد ہو یا احکام الٰہی کی مخالفت ، نیز آپ کی طرف ناروانسبتیں اور تہمتیں یا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انھیں اپنے گھر دعوت دیں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے زحمت اور مشقت پیدا کرنا ۔ جیسا کہ اسی سورہ کی آیہ 53 میں ابھی گزرچکا ہے۔ یعنی "أن ذلكم كان يؤذي النبی ....." تمھارا یہ کام پیغمبر کو تکلیف دیتا ہے۔ یا وہ امر جو سورۃ توبہ کی آیت 61 میں آچکا ہے کہ پیغمبراکرم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مشفقانہ گفتگو کی وجہ سے دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ساده لوحی اور خوش فہمی کا الزام دیتے تھے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: " ومنهم الذين يوذون النبي ويقولون هواذن"۔ " ان میں سے کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو نبی کو تکلیف پہچاتے اور کہتے کہ وہ خوش فہم انسان ہیں جو ہرایک کی بات پر کان دھرلیتاہے"۔ اور اسی قسم کی دوسری باتیں۔ یہاں کی اس آیت کے ذیل میں وارد ہونے والی روایات سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ خاندان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خصوصًا حضرت ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 كتاب الغدیر " میں ان (اشعار کی نسبت امام شافعی کی طرف " شرح المواهب زرقانی" جلد 7 ص 7 میں ایک اور ہے۔ جماعت سے بھی نقل کی گئی ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- علیؑ اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دختر نیک اختر حضرت فاطمه الزهرا علیها السلام کو تکلیف دینا بھی اسی آیت میں شامل ہے چنانچہ صحیح بخاری جزء پنجم میں آیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا۔ " فاطمۃ بضعة منی فمن اغضبها أغضبي"۔ فاطمہ میرا جگر کا ٹکڑا ہے ، جو شخص اسے غضب ناک کرے گا وہ مجھے غضب ناک کرے گا ۔ ؎1 یہی حدیث صحیح مسلم میں اس طرح آئی ہے : " أن فاطمة بضعۃ منی یوذینی ما اذاها "۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے ، وہ مجھے تکلیف میں دیتی ہے"۔ ؎2 آنحضرت کا اس سے ملتا جلتا فرمان حضرت علی علیہ اسلام کے بارے میں بھی ہے: ؎3 باقی رہا زیر بحث آیت میں لفظ تو جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں ، اس کا معنی ہے " رحمت خدا سے دوری" یہ بالکل رحمت اورصلوٰۃ کے مد مقابل ہے ، جس کا بیان اس سے پہلی آیت میں ہوچکا ہے۔ "لعن" اور رحمت الٰہی سے دھتکارا جانا اور وہ بھی خود خدا کی طرف سے کہ جس کی رحمت بے پایاں اور وسیع ہے ، درحقیقت عذاب کی بدترین قسم ہے ، خصوصًا جب کہ رحمت سے یہ دوری دنیا اور آخرت دونوں میں ہوا۔ (جیسا کہ اسی آیت میں ہے) اور شاید اسی بناء پر "لعن" کا ذکر" عذاب مہین" پہلے ہواہے"أعد" (تیار کرچکا ہے) کی تعبیر اس عذاب کی تاکید اور اہمیت کی دلیل ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت مومنین کی ایزاء کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور خدا اور پیغمبر کے بعد اس امر کی حد سے زیادہ اہمیت بتاتی ہے ، خدا تعالٰی فرماتا ہے :"جو لوگ صاحب ایمان مردوں اور عورتوں کو اس کام کی وجہ سے جو انہوں نے انجام نہیں دیا آزار پہنچاتے ہیں وہ بہتان اور آشکارا گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ":(والذین یؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا واثهامبینًا )۔ کیونکہ مومن، ایمان کی وجہ سے خدا اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، اسی وجہ سے یہاں پر خدا اور رسول کے بعد اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ "بخير مالكتسبوا" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے جب آزار و اذیت کا سبب ہو۔ یہیں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس وقت ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتاہے جوحد ، قصاس یا تعزیر ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 صحیح بخاری جزء 5 ص 200۔ ؎2 صحیح مسلم جلد 4 ص 1903 (باب الفضائل فاطمہؑ) ؎3 مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کا موجب ہو تو پھر ان پر حدود و قصاص وغیرہ کے اجراء میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ اسی طرح امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہ چیزیں شامل نہیں ہیں۔ "بهتان" کو "اثم مبین" پر مقدم کرنا اس کی اہمیت کی وجہ سے ہے ، کیونکہ بہتان کا شمار عظیم ترین اذیتوں میں ہوتا ہےاوراس کا زخم نیزے اورخنجر کے زخم سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے ، یا کسی عرب شاعر نے کہا ہے: جراحات السنان لها القيام ولایلتام ماجرح ، اللسان "نیزے کے زخم تو مندمل ہوسکتے ہیں ، لیکن زبان کے زخم نہیں مل سکے"۔ اسلامی روایات میں اس بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہم پڑھتے ہیں۔ خدا وند عزوجل ارشاد فرماتا ہے : "لياذن بحرب مني من اذا عبدی المؤمن "۔ "جو شخص میرے مومن بندے کو تکلیف پہنچاتا ہے ، وہ میرے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے ۔ ؎1 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے لب ولہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ رہتے تھے جب مومنین کے خلاف غلط افواہیں پھیلاتے اور ان کی طرف ناروا باتیں منسوب کرتے تھے (حتی کہ خود پیغمبراسلامؐ بھی ان موزیوں کی زبان سے محفوظ نہیں رہ سکے تھے) ۔ وہی لوگ جو دوسرے معاشروں خصوصًا موجودہ دور میں کم نہیں ہیں ، ان کا کام نیک اور مقدس لوگوں کے خلاف سازشیں تیار کرنا ، جھوٹ بولنا اور بہتان تراشی کرنا ہوتابے ۔ قرآن مجید انھیں اپنے سخت ترین حملوں کا نشانہ بناتا ہے اوران کے اعمال کو بہتان اور واضح گناہ قرار دیتا ہے۔ بعد والی آیات میں بھی اس سلسلے میں بات ہوگی۔ ایک اور حدیث میں جسے امام رضاعلیہ اسلام اپنے جد امجد حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیان کرتے ہیں ، اس طرح آیا ہے: "من بهت مؤمنا اومؤمنة اوقال فيه ماليس فیه اقامه الله تعالٰى يوم القيامة على تل من نارحتیٰ يخرج مما قاله فبه"۔ " جو شخص مومن مرد یا مومن عورت پر بہتان باندھے ، یا اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کرے جو اس میں نہیں ہے۔ توخدا اسے قیامت میں آگ کے ٹیلے پر قرار دے گا اور وہ اس وقت تک وہیں رہے گا، جب تک اپنے کیے کی سزانہ پالے"۔ ؎2 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اصول کافی جلد 2 ، ص 35۔ ؎2 بحارالانوار جلد 75 ص 194۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:56-58
سوره احزاب / آیه 56 -58
(56) اِنَّ اللّـٰهَ وَمَلَآئِكَـتَهٝ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (57) اِنَّ الَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَعَنَهُـمُ اللّـٰهُ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا (58) وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا ترجمہ (56) خدا اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام کرو اور ان کے فرمان پرسرتسلیم خم کرو. (57) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اذیت پہنچاتے ہیں ، خدا انہیں دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور اس نے ان کے لیے خوار کردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (58) اور جواہل ایمان مردوں اور عورتوں کو بلاوجہ اذیت پہنچاتے ہیں ، وہ بہتان اور واضح گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:57
[Pooya/Ali Commentary 33:57] Refer to the commentary of Nisa: 115; Anfal: 13 and Bara-at: 61 for the accursed position of those who annoyed the Holy Prophet, particularly refer to the commentary of Baqarah: 2 to 5 on page 51 to know that whosoever annoyed the daughter of the Holy Prophet, Fatimah Zahra, had annoyed the Holy Prophet, and he who annoyed the Holy Prophet had annoyed Allah, and he is a disbeliever for whom Allah has prepared a humiliating punishment. Aqa Mahdi Puya says: Whosoever recites curtailed salawat as mentioned in the commentary of verse 56, by omitting ali Muhammad causes a continuous annoyance to Allah and his prophet, therefore condemns himself to the humiliating punishment promised in this verse.