يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا
O you who have faith! Do not enter the Prophet’s houses for a meal until you are granted permission, without hanging around for it to be readied. But enter when you are invited, and disperse when you have taken your meal, without cozying up for chats. Such conduct on your part offends the Prophet, and he is ashamed of [asking] you [to leave]; but Allah is not ashamed of [expressing] the truth. When you ask [his] womenfolk for something, do so from behind a curtain. That is more chaste for your hearts and theirs. You should not offend the Apostle of Allah, nor may you ever marry his wives after him. Indeed that would be a grave [sin] with Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:53
[Pooya/Ali Commentary 33:53] Generally it is an essential principle of refined society to show deference to all women. To the "mothers of the believers" this respect was due in a higher degree due to their connection with the Holy Prophet. "From behind a curtain" implies hijab (veil). Aqa Mahdi Puya says: This verse shows that there was a noticeable dearth of good manners in the companions of the Holy Prophet. Their conduct was annoying and objectionable. Refer to the commentary of Nur: 271.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:53-58
(Men are either faithful or otherwise. Do no torment the faithful, and do not act otherwise before ignorant else you will be like them). As per Couplet 57, those who grieve the Prophet are cursed by God in this world and in eternity shall be punished. The Prophet has repeatedly called is beloved daughter Fatima, “a piece of his liver” (allegorically) on functioning of which life exists. If anybody torments Fatima, as though he injures the Prophet for which hell is the punishment. So, also, he said, “If anybody worried or tormented Ali to the extent of his hair, he is cursed, and the cursed receives the door of penance closed against him. Couplet 58 is revealed against those who have tormented Ali and Fatima, who are immaculate, and those who are faithful should not similarly be vexed without rhyme or reason, as the faithful are highly estimated in the Eyes of God.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
چند نکات
چند نکات چونکہ زیر بحث آیات میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ایک دعوت کے اس موقعے پر مسلمانوں کے کچھ فرائض کا ذکر ہوا ہے۔لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ "مہمان نوازی ، مہمان کا حق اور میزبان کے فرائض" کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کا ایک گوشہ بیان کیا جائے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
شان نزول
شان نزول اس آیت کی شان نزول کے بارے میں مفسرین نے یوں نقل کیا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زینب بنت حجش سے ازدوا ج کے موقع پردعوت ولیمہ کا اچھا خاصا بندوبست کیا۔ (ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہ اہتمام اس بناء پر تھا ۔ تاکہ زمانہ جاہلیت کی ااس غلط رسم کو توڑا جائے جو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی کے ساتھ نکاح کی حرمت کے سلسلے میں تھی اور اس رسم کو دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں ختم کردیا جائے تاکہ معاشرے میں یہ مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے ۔ نیز زمانہ جایلیت کی اس غلط رسم کو بھی ختم کردیا جائے کہ آزاد کردہ غلاموں کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح معیوب ہے)۔ آنحضرت صلی اللہ علیه وآلہٖ وسلم کے خاص خادم انس کہتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپؐ کے اصحاب کو کھانے کی دعوت دوں چنانچہ میں نے سب کو دعوت دی اور وہ ٹولیوں کی صورت میں آکر کھانا کھاتے اور حجرے سے باہر نکل جاتے ۔ یہاں تک کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اب کوئی شخص باقی نہیں رہ گیا ہے کہ جسے میں نے دعوت دی ہو اور وہ نہ آیا ہو تو آپؐ نے فرمایا بس ٹھیک ہے، اب دسترخوان بڑھاؤ ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا تو سب لوگ اٹھ کر چلے گئے ۔ لیکن تین افراد اسی طرح آپؐ کے حجرے میں بیٹھے رہے اور بحث و مباحت اور گفتگو میں مصروف ہو گئے ۔ جب ان کی گفتگو لمبی ہوگی تو آنحضرت صلی الله علیہ والہٖ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپؐ کے ہمراہ کھڑا ہوگیا تاکہ وہ لوگ متوجہ ہوجائیں اور اٹھ کر چلے جائیں ، پیغمبراکرم باہر آ گئے حتی کہ جناب عائشہ کے حجرے تک پہنچ گئے اور پھرلوٹ گئے میں بھی آپؐ کی خدمت میں آیا اور دیکھا کہ وہ لوگ اسی طرح بیٹھے ہوئے ہیں تو زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اس قسم کے مسائل کے سلسلے میں ضروری احکام کی تعلیم دی ۔ ؎1 نیز بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ہمسائے اور کبھی دوسرے لوگ معمول کے مطابق چیزيں عاریتًا لینے کے لیے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویوں کے پاس آتے۔ اگرچہ وہ اس زمانے کی سادہ زندگی کے مطابق کسی غلط کام کے مرتکب نہیں ہوتے تھے ، لیکن ازواج رسول کی قدرومنزلت کے پیش نظر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی ۔ اور مومنین کو حکم دیا گیا کہ جب رسول اللہ کے ہاں ان کی کسی بیوی سے کوئی چیز لینا چاہیں تو پردے کی اوٹ سےلیں۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ کے بعض مخالفین نے کہا: "پیغمبر کیونکر ہماری بعض بیوہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لے آئے ہیں ۔ بخدا جب اس دنیا سے ان کی آنکھیں بند ہوں گی تو ہم ان کی بیویوں سے شادی کریں گے۔ اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور آپؐ کے بعد آپؐ کی بیویوں سے شادی کی کلی طور پرممانعت کردی گئی اور اس سازش کو بھی ناکام بنادیا گیا۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 مجمع البیان جلد 8 ص 366 آیہ مذکورہ کے ذیل میں۔ ؎2 مجمع البیان جلد 8 ص 366 - 368۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
سوره احزاب / آیه 53 -54
(53) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوتَ النَّبِيِّ اِلَّآ اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْـرَ نَاظِرِيْنَ اِنَاهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُـمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُـمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ ۚ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى النَّبِىَّ فَيَسْتَحْيِىْ مِنْكُمْ ۖ وَاللّـٰهُ لَا يَسْتَحْيِىْ مِنَ الْحَقِّ ۚ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَاسْاَلُوْهُنَّ مِنْ وَّّرَآءِ حِجَابٍ ۚ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّـٰهِ وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوٓا اَزْوَاجَهٝ مِنْ بَعْدِهٓ ٖ اَبَدًا ۚ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّـٰهِ عَظِيْمًا (54) اِنْ تُبْدُوْا شَيْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّـٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا ترجمہ (53) اے ایمان لانے والو ! پیغمبرؐ کے گھروں میں داخل نہ ہونا ،مگر یہ کہ تمہیں کھاناکھانے کی اجازت دی جائے (اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مقرره وقت سے پہلے نہ آؤ اور) کھانے کے وقت کی انتظار میں نہ بیٹھو ، لیکن جب تمھیں دعوت ہو تو داخل ہوجاؤ اور جس وقت کھانا کھالو توتکل جاؤ اور (کھانا کھا لینے کے بعد) بحث و مباحثہ اور باتیں کرنے کے لیے نہ بیٹھو۔ یہ عمل ہیغمبرؐ کو پریشان کرتا ہے مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں لیکن خدا حق (کے بیان کرنے) سے نہیں شرماتا اور جس وقت وسائل زندگی میں سے کوئی چیز (عاریتا) ان (رسول کی بیویوں) سے طلب کرو تو در میان میں پردہ حائل ہونا چائیے یہ کام تمھارے اور ان کے دل کو زیادہ پاکرکھتاہے۔ اورتم حق نہیں رکھنےکہ پیغمبرخدا کو آزار (واذیت) پہنچاؤ اور نہ ہی کبھی ان کے بعد ان کی بیویوں کو اپنی زوجیت میں لانا ، کیونکہ یہ کام خدا کے نزدیک بہت بڑی جسارت ہے۔ (54) کسی چیز کو ظاہر کرو یامخفی رکھو ، خدا ہر چیز سے آگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
4- مہمان کی ذمہ داری
4- مہمان کی ذمہ داری ہمیشہ حقوق اورفرائض برابرکی حیثیت رکھتے ہیں ، یعنی جس طرح مہمان کے لیے میزبان کی کچھ اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں ، اسی طرح میزبان کی طرف سے مہمان پربھی کچھ اہم ذمداریاں عاید ہیں ، چنانچہ جو کچھ مذکورہ بالا احادیث میں بیان ہوچکا ہے ، اس کے علاوہ بھی مہمان کا فریضہ ہے ۔ جو کچھ اسے صاحب خانہ اپنے گھرمیں پیش کرے ، اسے قبول کرے ، مثلًا جو کچھ بیٹھنے کے لیے حاضر کرے اسے قبول کرے، امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: " اذا دخل احدكم على اخيه في رحله فليقعد حیث یا مرصاحب الرحل فان "صاحب الرجل اعرف بعورة بيته من الداخل عليه"۔ جس وقت تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے گھرمیں داخل ہو تو جہاں وہ بیٹھنے کے لیے کہے وہیں بیٹھ جائے، کیونکہ صاحب خانہ اپنے گھر کی کیفیت اور ان حصوں سے جنہیں آشکار نہیں ہونا چاہیے زیادہ واقف ہوتاہے. ؎3 خلاصہ یہ کہ مہمان نوازی اور میزبانی کے آداب و فرائض اور اسلامی معاشرے میں اس کی خصوصیات بہت بحث طلب ہیں۔ جو لوگ اس سلسلے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں ، انہیں بحارالانوار کی جلد 17 کتاب العشرة کے باب 88 سے لے کر93 تک ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 محجۃ البیضاء جلد 3 ص 30 ۔ ؎2 بحارالانوار جلد 75 ص 455 (حدیث 27)۔ ؎3 بحارالانوار جلد 75 ص 451 ۔ ؎4 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اور کتاب "محجۃ البيضاء جلد 3 باب 4 فضيلۃ الضیافۃ" کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مادیت پرستی کے اس دور میں یہ قدیم انسانی اور اخلاقی رسم محدود ہوکر رہ گئی ہے بلکہ بعض معاشروں میں توقریبًا ختم ہوچکی ہے ، اورشنید میں آیا ہے کہ جب وہاں کے لوگ اسلامی ممالک میں آتے ہیں اور ان علاقوں میں کھلے دل سے مہمان نوازی کے روح پرور مناظر دیکھتے ہیں اور مہمانوں کے ساتھ گرمجوشی اور مہرومحبت کے سلوک کا مشاہدہ کرتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں کہ کس طرح یہ لوگ اپنے گھر میں موجود زندگی کے بہترین وسائل او قمیتی غذائیں ایسے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے وقف کر دیتے ہیں جن سے تھوڑا بہت رابط ہے یا جن سے سفر کے دوران مختضر سی آشنائی ہوئی ہے ۔ لیکن اگر اسلامی روایات کو مد نظر رکھا جائے کہ جن کا ٹھوڑا سا حصہ سے بیان ہوا ہے تو واضح ہوجاتا ہے کہ اس قدرایثار و فداکاری کی کیا وجوہات ہیں اور پتہ چل جاتا ہے کہ اس بارے میں معنوی اور روحانی پہلو کو مد نظر رکھا جاتا ہے ، جو مادیت کے پرستاروں سوچ اورحساب سے بالاتر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
3- مہمان کا حق
3- مہمان کا حق: ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام کی نگاہ میں مہمان کی آسمانی تحفہ اور خدائی عنایت ہے۔ اس کی عزت بھی اسی طرح کرنا چاہیئے ، جس طرح اپنی عزت کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں انتہائی احترام ملحوظ خاطر رکھنا چایئے حتی کہ امیرالمومنین علیہ اسلام پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: من حق الضيف ان تمشی معه فتخرجه من حريمک الى البز"۔ "مہمان کے حقوق میں سے یہ ہے کہ اسے خدا حافظ کہنے کے لیے گھر کے دروانے تک جائیں ۔ ؎2 اور تکلف میں پڑے بغیر اس کے آرام وآسائش کے وسائل فراہم کیے جائیں ۔ حتی کہ ایک حدیث میں ہے کہ: "قال رسول الله ان من حق الضيف ان یعد له الخلال - ؎3 "مہمان کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے خلا ل تک مہیا کریں"۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مہان کم گو اور شرمیلے ہوتے ہیں اسی بنا پر حکم دیا گیا ہے کہ ان سے کھانا کھانے کے بارے میں نہ پوچھا جاۓ بلکہ دسترخوان بچھا دیا جائے ، اگر ضرورت ہو تو کھا لیں گے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے فرماتے ہیں: لاتقل لاخيک اذا دخل عليك اكلت الیو مرشيئًا؟ ولكن قرب الیه ما عندک فأن الجواد كل الجواد من بذل ماعنده"۔ "جب تمھارا بھائی تمھارے پاس آئے تو اس سے یہ نہ پوچھو کہ آج تم نے کھانا کھایا ہے یا نہیں ، بلکہ جو کچھ تمھارے پاس ہو ،اس کے لیے حاضرکر دو۔ کیونکہ صحیح معنوں میں سخی وہی ہوتا ہے جو اس چیز کے خروج کرنے گریزنہ کرےجو اس کے پاس ہے ۔ ؎4 خدا کی بارگاہ میں میزبان کے فرائض میں سے یہ بھی ہے کہ جو کھانا اس نے تیار کیا ہے اسے حقیر نہ سمجھے ، کیونکہ نعمت خداجو ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 75 ص 451۔ ؎2 محجۃ البیضاء جلد 3 ص 29 (باب ثالث) ۔ ؎3 بحارالانوار جلد 75 ص 455 ۔ ؎4 بحارالانوار جلد 75 ص 455 ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بھی ہو معزز اور محترم ہوتی ہے ۔ لیکن ضرورت مند اور تکلف کے دلدادہ لوگوں کے ہاں معمول ہے کہ دستر خوان کو جتنا بھی کھانوں سے. بھردیں ، پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں. یا کہتے ہیں کہ آپ کے شایان شان کھانا تیار نہیں ہوا وغیرہ۔ اسی طرح مہمان کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ اسے حقیر اور معمولی نہ سمجھے۔ ایک حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام اس فرماتے ہیں: "هلک امرؤحتقر لأخيه ما یحضره وهلك امرو احتقر من اخيه ماقدم الیہ"َ۔ "میزبان نے اپنے بھائی کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے ، اگر وہ اسے حقیر سمجھے وہ ہلاک و (گمراہ) ہوگا ۔ اسی طرح جومہمان تیار شدہ چیز کو حقیر سمجھے وہ بھی ہلاک ہوگا"۔ ؎1 اسلام نے مہمان کی قدردانی اور احترام کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا گیا ہے کہ "جب مہمان تمھارے پاس آجائے تو آنے پر اس کی مدد کرو ، لیکن گھر سے جاتے وقت اس کی مدد نہ کرو ، مبادا اس کے دل میں خیال آجائے کہ آپ اس کے جانے کی ترکیبیں کر رہتے ہیں ۔ ؎2
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
2- میزبانی میں سادگی
2- میزبانی میں سادگی : اس ساری اہمیت کے باوجود جو مہمان کو حاصل ہے ، پرتکلف اور انواع و اقسام کے کھانے کھلانا اسلام کی نظر میں نہ صرف یہ کہ اچھا کام نہیں ، بلکہ باقاعدہ طور پر اس سے منع بھی کیا گیا ہے۔ اسلام کا یہ حکم ہے کہ میزبانی اور خاطر تواضع سادہ قسم کی ہو اور اس نے مہمانی اور میزبانی کے حقوق و فرائض کی نشاندہی کے طور پر ایک نہایت ہی منصفانہ حد بندی کر دی ہے اور وہ یہ میزبان کے پاس ہو کچھ موجود ہے اس سے پہلو تہی نہ کرے اور مہمان بھی اس سے زیادہ کی تو قع نہ رکھے۔ اسی سلسلے میں امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "المؤمن لايحتشم من اخيه، وما ادري ايهما اعجب ؟ الذي يكلف اخاه اذا دخل عليه ان يتكلف له ، اوالمتكلف لاخيه ؟ "مومن اپنے مومن بھائی کے ساتھ بے تکلف ہوتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان دو میں سے کون سا شخص زیادہ عجیب ہے، آیا وہ جو اپنے بھائی کے پاس جاکر اسے نہیں ڈال دیتا ہے با وہ جو خود سے مہمان کے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 75 ص 460 (حدیث 14) باب 93۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیے تکلف میں پڑجاتا ہے؟ ؎1 سلمان فارسی راضی اللہ عنہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: "ان لا نتكلف للضيف ما ليس عندنا وان نقدم اليه ما احضرنا۔ "جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے اس کے لیے مہمان کے واسطے تکلف نہ کریں اور جو موجود ہے اس سے پہلو تہی نہ کریں"۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
1- مہمان نوازی
1- مہمان نوازی: اسلام مہمان نوازی کے مسئلے کو خاص اہمیت دیتا ہے ، یہاں تک کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں : "الضيف دليل الجنة"۔ مہمان جنت کاراہنماہے. ؎ 1 مہمان کی اہمیت اور احترام اس قدر زیادہ ہے کہ اسلام میں اسے ایک آسمانی ہدیہ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے ، ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 75 ص 460 (حدیث 14) باب 93۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ارشاد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے: "اذا اراد اللہ بقوم خيرا اهدي اليهم ھدية قالوا وما تلك الهدية؟ قال الضيف، ینزل برزقه ، ویرنحل بذنوب اهل البيت "۔ "جب خدا کسی قوم کی بہتری چاہتا ہے تو اس کی طرف انمول تحفہ بھیج دیتا ہے"۔ "لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہ انمول تحفہ کیا ہے"۔ فرمایا مہمان ، جو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور گھر والوں کے گناہ لے کر جاتا ہے اور وہ بخشے جاتے ہیں۔ ؎1 قابل توجہ یہ ہے کسی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ۔ میرا طرز عمل یہ ہے کہ مکمل وضو کرتا ہوں نماز قائم کرتا ہوں ، زکوۃ برمحل ادا کرتا ہوں اورمہمان کی خندہ پیشانی سے خدا کی خوشنودی کے لیے تواضع کرتا ہوں۔ تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا : "بخ، بخ، بخ ، ما لجهنم عليك سبیل ان الله قد براك من الشح ان كنت كذلک"۔ "کیا کہنا ، مرحبا ، واه واه ، جہنم کے راستے تم پر بند ہیں اور اگر تیری حالت یہی ہے تو خدا نے تجھے ہر قسم کے نخل سے پاک کر دیا ہے"۔ اس سلسلے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے ، لیکن اختصار کو مد نظر رکھ کر اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:53-54
تفسیر
تفسیر اس آیت میں ایک بار پھر روئے سخن مومنین کی طرف ہے اور کچھ مزید احکام خصوصًا جو پیغمبر اکرمؐ اور خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاشرت کے اداب سے متعلق ہیں ۔ مختصر ، واضح اور صریح جملوں میں بیان کرتے ہوئے فریاما گیا ہے: اے وہ لوگو! جوایمان لائے ہو ۔ پیغمبرؐ کے گھروں میں بغیر اجازت کے ہرگز داخل نہ ہونا مگر جب تمھیں کھانا کھانے کے لیے اجازت دے دی جائے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ صحیح وقت پر آؤ نہ یہ کہ پہلے سے آجاؤ اور کھانے کے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہو ": (ایها الذین آمنوا لاتدخلوا بيوت النبی الاان یؤذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه )۔ ؎1 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "اناہ" "الٰی یانی" کے مادہ سے کسی چیز کاموقع آجانے کے معنی میں ہے ، لیکن یہاں پر کھانے کی تیاری کے معنی میں ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- قرآن اس طرح سے معاشرت کے ایک اہم ادب کو بیان کرتا ہے اور وہ بھی ایسے ماحول میں جہاں پر اس کا بہت کم لحاظ رکھا جاتا تھا ، اگر گفتگو پیغمبراکرم کے گھر کے بارے میں ہے ۔ لیکن مسلم ہے کہ یہ حکم آپؐ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ بلکہ کسی بھی موقع پر کسی گھر میں بھی بغیر اجازت کے داخل نہیں ہونا چاہیئے (جیسا کہ سورہ نور کی آیت 27 میں بھی آیا ہے) حتی کہ خود پیغمبراکرمؐ کے حالات میں لکھاہے کہ آپ ہر وقت اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے گھر میں جاتے تو باہر کھڑے ہوکرجازت لیتے. بلکہ ایک دن جابر بن عبداللہ انصاری آپؐ کے ساتھ تھے ، جہاں آپؐ نے اپنےلئے اجازت مانگی وہاں جابر کے لیے بھی اجازت طلب کی اور پھراندر گئے ۔ ؎1 علاوہ ازیں جس وقت مدعوئین کو کھانے کی دعوت ہو توانہیں وقت شناس ہونا چاہیئے اور بے موقع ومحل صاحب خانہ کے لیے اسباب زحمت فراہم نہیں کرنے جاہئیں۔ اس کے بعد دوسرے حکم کو پیش کرتے ہوئے قرآن کہتاہے۔ "لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو اندر جاؤ اور جب کھانے سے فارغ ہوجا تو نکل جاؤ": (ولكن اذا دعيتم فادخلوافاذا طعمم فانتشروا)۔ یہ حکم درحقیقت گزشتہ حکم کی تاکید اور تکمیل ہے ۔ یعنی نہ تو اس گھر میں بے وقت داخل ہونا چاہیئے ، جہاں دعوت دی گئی ہے اور نہ ہی دعوت قبول کرنے میں بے پرواہی سے کام لینا چاہیئے اور نہ ہی کھانا کھالینے کے بعد بہت دیرتک وہاں بیٹھے رہنا چاہیئے۔ ظاہر ہے کہ ان امور کی خلاف ورزی میزبانی کے لیے موجب زحمت ہے اور اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ تیسرے حکم میں فرمایا گیا ہے۔" کھانا کھالینے کے بعد دل لگی اور گفتگو کی مجلس پیغمبرؐ کے گھرمیں (اور کسی بھی دوسرے میزبان کے گھرمیں) نہ جماؤ : ( ولامستأنین لحدیث)۔ البتہ ممکن ہے کہ خود میزبان اس قسم کی مجلس خلوص ومحبت کا خواہاں ہو تو ایسی صورت اس حکم سے مستثنٰی ہے گفتگو وہاں کی ہے جہاں صرف کھانا کھانے کی دعوت دی گئی ہے کہ غپ شپ کی ۔ تو اس قسم کے مقام پر کھانا کھالینے کے بعد مجلسوں کو ترک کردینا چاہیئے ، خصوصًا جبکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر جیسا گھر ہو۔ جو عظیم ترین خدائی فرائض کے انجام پانے کا مرکزہے ۔ ضروری ہے کہ ایسے مقام اسباب زحمت فراہم نہ کیے جائیں ، جن سے وقت ضائع بو ، اس کے بعد حکم کی حلت کو یوں بیان کیا گیاہے۔"یہ کام پیغمبرخدا کو اذیت و آزار بن پہنچاتا ہے ، مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں ۔ لیکن خدا حق بیان کرنے میں رو رعایت سے کام نہیں لیتا": (ان ذالكم كان یؤذی النبی قيستحي منكم والله لايستحی من الحق)۔ البتہ رسول اللہ بھی ایسے مواقع پر بیان کرنے میں رو رعایت نہیں کرتے جو ذاتی نہیں ہوتے ، کیونکہ یہ اچھا نہیں لگتا کہ انسان اپنے بارے میں آپ بات کرے ۔البتہ دوسروں کے بارے میں ہو تو بات کرنا بھی مناسب ہوتا ہے۔ یہ آیت بھی ایسے ہی موقع کی مناسبت سے ہے۔ اخلاقی اصولوں کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا دفاع خود نہ کریں بلکہ خدا ان کا دفاع کرے ۔ ۔۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافی جلد 5 ص 520۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پھرچوتھا حکم پردے کے سلسلے میں ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: "جس وقت ازواج رسول سے ضروریات زندگی کی کوئی چیزطلب کرنا چاہو تو پردہ کی اوٹ میں طلب کرو": (واذا سألتموهن متاعًا فاسئلوهن من وراء حجاب)۔ جیساکہ پہلے بتایا جاچکاہے کہ عربوں اور بہت سے دوسرے لوگوں میں سے معمول تھا کہ بوقت ضرورت ضروریات زندگی کی کئی چیزیں وقتی طور پر ہمسایوں سے عاریتًا لی جاتی تھیں اور پیغمبراکرم کا گھربھی اس طریقہ کارسے مستثنٰی نہیں تھا۔ بھی کبھار لوگ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں سے بھی چیزیں عاریتًا کے لیتے واضح رہے کہ ازواج رسولؐ کی لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آنا (اگرچہ اسلامی حجاب کے ساتھ سہی )کوئی اچھی بات نہیں تھی ،لہذا حکم ہوگیا کہ آیندہ کے لیے یاتو پردہ کے پیچھے سے آکر چیزلیاکریں - با پھر دروازے کے پیچھے سے. یہاں پر جو نکته قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت تین "حجاب" سے مراد عورتوں کا عام پردہ نہیں ، بلکہ اس پر ایک اضافی حکم ہے جو ازواج رسول کے ساتھ محصوص ہے اور وہ یہ کہ لوگ اس بات کے پابند تھے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہٖ وسلم اور کی خصوصی حرمت کے پیش نظر جب کبھی آپ کی بیویوں سے کوئی چیز لینا چاہیں تو پردے کے پیچھے سے لیا کریں اور ازواج رسولؐ پردے کے ساتھ بھی لوگوں کے سامنے نہ آیا کریں۔ البتہ یہ حکم ازواج رسولؐ سے مختص ہے اور عام عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں ۔ یعںی وہ اسلامی حجاب کے ساتھ عام لوگوں کے سامنے آسکتی ہیں۔ اس بات کا شاہد یہ ہے کہ لفظ "حجاب" روز مرہ کے استعمال میں عورت کے پردے کے معنی میں آتا ہے ، لیکن لغت میں اس کا یہ مفہوم نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے فقہاء نے اسے اس مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ "حجاب" لغت میں کسی چیز کے معنی میں ہے جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہوتی ہے ۔ ؎1 اسی بناء پر جو پرده انتڑیوں، دل اور پھیپھڑے کے درمیان موجود ہے اسے "حجاب حاجز" کا نام دیا گیا ہے۔ قران مجید میں بھی یہ لفظ ہرجگہ پردہ یا رکاوٹ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، مثلًا سورہ بنی اسرائیل کی آیت 45 میں ہے : " جعلنا بينك وبين الذين لایومنون با لاخرة حجابًا مستورًا"۔ "ہم نے تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جوآخرت پرایمان نہیں لاتے پوشیدہ پردہ قرار دیا ہے"۔ سورہ ص کی آیه 32 میں ہے: "حتى توارت بالحجاب" "یہاں تک کہ سورج افق کے پردے کے پیچھے پنہال ہوا۔" نیر سورہ شورٰی کی آیت میں آیا ہے: "وما كان لبشران يكلمه اللہ الا وحيًا اومن ورئی حجاب"۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 لسان العرب مادہ "حجب"۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ خدا اس سے بات کرے ۔ مگر وحی کے ذریعے یا پس پردہ (غیب) سے"۔ فقہاء کے کلمات میں قدیم الایام سے اب تک عورتوں کے پردے کے بارے میں عام طور پر "ستر" کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اسلامی روایات میں بھی یہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیرآئی ہے اور عورتوں کے پردے کے بارے میں لفظ "حجاب" کا استعمال ایسی اصطلاح ہے جو زیادہ تر ہمارے زمانے میں رائج ہوئی ہے اور اگر کسی تاریخ میں یا روایت میں بھی مل جائے تو بہت کم ایسا ہوگا۔ دوسرا شاہد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خصوصی خادم انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں اس آیت حجاب کے بارے میں سب سے زیادہ آگاہیوں۔ کیونکہ جب جناب زینب کی پیغمبراکرم سے شادی ہوگئی اور وہ آپ کے گھر میں آگئیں تو آپ نے دعوت ولیمہ کا بندوبست کیا ، لوگوں نے کھانا کھالیا ، لیکن کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد اسی طرح بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: یاایها الذين امنوالا تدخلوابیوت النبی۔ تا۔ من ورائی حجاب"۔ تو اس وقت پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ اٹھ کھڑے ہوۓ۔ ؎1 ایک اور روایت میں انس کہتے ہیں: "ارخی الستربين وبينه" "پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور لوگوں نے جب یہ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوۓ اور منتشر ہوگئے"۔ ؎2 اسی بناء پر اسلام نے مسلمان عورتوں کو پردہ نشینی کا حکم نہیں دیا اور عورتوں کے بارے میں "پردہ نشین" یا اس قسم کی دوسری تعبیریں اسلامی حیثیت نہیں رکھتیں ، جو کچھ کسی مسلمان عورت کے لیے ضروری ہے ، وہی اسلامی پردہ ہے ، لیکن ازواج رسول کا معاملہ کچھ اور ہے ، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن بہت زیادہ تھے اور مفاد پرست ٹولہ اسی ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کوئی موقع ہاتھ لگے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی تہمت کا نشانہ بنائیں ، تاکہ اس طرح سے سیاہ دل لوگوں کے ہاتھ میں دستاویز آجاۓ ۔ لہذا انھیں یہ خاص حکم دیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں امت کو یہ حکم دیاگیاہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی چیز طلب کرتے وقت ان سے پردے کی اوٹ میں بات کیا کریں۔ خصوصًا "وراء" کی تعبیر اس معنی کی گواہ ہے۔ اسی لیے قران مجید اس حکم کے بعد اس کے فلسفے کو یوں بیان کرتا ہے ۔ "یہ تمھارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے بہترہے": (ذالكم اطهر لقلوبكم وقلوبھن)۔ اگر تعلیل کی یہ قسم استحبابی کے منافی نہیں لیکن "فاسئلوهن" میں امر کے وجوب میں ظہور کو بھی متزلزل نہیں کرتی کیونکہ اس قسم کی تعلیل بعض اوقات دوسرے واجب احکام میں بھی آئی ہے۔ پانچویں حکم کو اس صورت میں بیان کیاگیا ہے۔ تم حق نہیں رکھتے کہ رسول خدا کو تکلیف پہنچا"۔ (وما كان لكم ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 صحیح بخاری جلد 6 ص 149 ۔ ؎1 صحیح بخاری جلد 6 ص 149 ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ان تؤذوا رسول الله - اگرچہ اذیت ناک اور تکلیف دہ عمل خود اسی آیت میں بیان ہوگیا ہے اور وہ ہے بے موقع ومحل پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھر جانا ، کھانا کھا لینے کے بعد بیٹھ جانا اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرنا ، اور شان نزول والی روایات میں بھی آیا ہے کہ بعض دل کے اندھوں نے قسم کھائی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں سے عقد کریں گے ، یہ ایک اور تکلیف دہ بات تھی ۔ لیکن آیت کا مفہوم ہر حالت میں عام ہے اور ہر قسم کی تکلیف اور اذیت پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ آخرمیں چھٹا اور آخری حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ کی ازواج کے ساتھ شادی کی حرمت کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے:۔ تم ہرگز یہ حق نہیں رکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیویوں کو اپنے حلقہ ازدواج میں لاؤ ، کیوں کہ یہ کام خدا کے نزدیک بہت بڑی جسارت والا ہے"۔ (ولا ان تنكحوا ازواجه من بعده ابدًا ان ذالكم كان عندالله عظيمًا). یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا نے کس طرح پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیویوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد شادی کے حق سے محروم کردیا۔ جبکہ بوقت وفات آپ کی کچھ بیویاں جوان بھی تھیں ؟ اس سوال کا جواب حرمت کے فلسفے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ: اولا:- جیساکہ آیت کی شان نزول سے معلوم ہوچکا ہے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے انتقام لینے اور آپ کی ذات اقدس ان کی توہین کرنے کےلیے اس قسم کا ارادہ کرچکے تھے۔ اس طرح سے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت کی عزت اور عظمت پر ضرب لگائیں۔ ثانیًا:- اگر یہ مسئلہ جائز ہوتا تو کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیوہ کو اپنے حلقہ زوجیت میں لے آنے کے بعد ممکن تھا کہ اس اقدام سے ناجائز مفاد حاصل کرتے اور اسے وہ معاشرے میں اپنی جھوٹی شہرت حاصل کرنے کاایک ذریعہ قرار دیتے یا اس عنوان سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھریلو حالات سے باخبر ہیں اور ان کی تعلیمات اور مکتب کی خصوصی معلومات انھیں حاصل ہیں. لہذا اسلام میں تحریف کا ارتکاب کرتے۔ یا منافق لوگ ، معاشرے میں ایسی باتیں پھیلانا شروع کردیتے ہو آنحضور کے شایان شان نہ تھیں ۔( غورکیجیئےگا)۔ اس متوقع خطرے کو اس وقت تقویت ملتی ہے ، جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے بالکل تیار کرلیا تھا۔ حتی کہ بعض لوگوں نے اس کا زبانی طور پر اظہاربھی کردیا تھا اور کچھ لوگوں نے شاید ابھی دل میں رکھا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں جن اشخاص کا بعض اہل سنت مفسرین نے یہاں پر نام لیاہے ان میں سے ایک طلحہ بھی تھا۔ ؎1 وہ خداجو نہاں اور آشکارا اسرار سے آگاہ ہے ، اس نے اسے قبیح سازش کو ظاہر کرنے کےلیے ایک فیصلہ کن حکم صادر فرما دیا ، جس سے ان تمام امور کا مکمل طور پر سدباب ہوگیا۔ اور اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5310۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "ام المومنین" کا لقب دے دیا تاکہ لوگ جان لیں کہ ان سے عقد کرنا اپنی ماں سے ازدواج کرنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ وجوہات کی بناء پر واضح ہوجاتا ہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرکیوں واجب قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ اس محرومیت کو خوشی خوشی گلے لگائیں ؟ انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایسے اہم مسائل پیش آجاتے ہیں ، جن کی خاطر اس سے فدا کاری اور قربانی کی مثالیں قائم کرنا پڑتی ہیں اور اپنے بعض مسلم حقوق سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے ، خاص طور جب عظیم اعزازات کے ساتھ عظیم اور سنگین ذمہ داریاں بھی ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب آپ سے عقد کر لیا تو انھیں ایک نہایت ہی عظیم اعزاز مل گیا ۔ جب اس قدر عظیم اعزاز انہیں نصیب ہوگیا تو انہیں اسی قدر ایثار و قربانی کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیئے تھا۔ اسی بناء پر ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد اسلامی امہ کے درمیان نہایت ہی قابل احترام زندگی بسر کرتی رہیں اور اپنی اس کیفیت سے بہت ہی خوش تھیں اور نئے ازدواج سے محرومی کو اس اعزاز کے مقابلے میں حقیر اور ناچیز سمجھتی تھیں۔ خداوند عالم دوسری آیت میں لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوۓ کہتا ہے ۔"اگر کسی چیز کو تم آشکار اور ظاہر کرو یا مخفی رکھو ، خدا بہرحال ان تمام امور سے آگاہ ہے": (ان تبد واشيئًا او تخفوه فان الله كان بكل شيءٍ عليمًا)۔ یہ گمان نہ کرو کہ خدا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں اذیت ناک اور تکلیف دہ منصوبوں سے باخبر نہیں ، وہ تو ان سے بھی باخبر ہے جنہوں نے دل کا حال زبان پر جاری کیا ہے اور ان سے بھی جو دل میں رکھتے تھے ، غرض کہ سب کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور وہ شخص سے اس کے کام اور نیت کے مطابق سلوک کرے گا۔