لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا
Beyond that, women are not lawful for you, nor that you should change them for other wives even though their beauty should impress you, except those whom your right hand owns. Allah is watchful over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:52
[Pooya/Ali Commentary 33:52] Aqa Mahdi Puya says: Allah commanded the Holy Prophet not to marry any woman after the revelation of this verse. Although his followers are prohibited to marry more than four women (see commentary of Nisa: 3) but muta (temporary marriage) is allowed in addition to four wives (see commentary of Nisa: 24).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:52
سوره احزاب / آیه 52
(52) لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ رَّقِيْبًا ترجمہ (52) اس کے بعد آپ پر کوئی اور عورت حلال نہیں ہے اور نہ ہی آپ اپنی بیویوں کو دوسری بیویوں سے تبدیل کرسکتے ہیں (کہ کسی کو طلاق دے کر دوسری بیوی کو اس جگہ لے آئیں ) ہر چند ان کا حسن و جمال آپ کو بھلا لگے ، سوائے ان عورتوں کے جوکنیز کی صورت میں آپ کے ملک میں آجائیں اور خدا ہرچیز کا ناظراور نگہبان ہے (اس طرح سے ہم نے قبائل کے اس دباؤ کو تجھ سے اٹھالیا ہے کہ آپ ان کے ہاں سے بیوی کا انتخاب کریں )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:52
ازواج رسول کے بارے میں ایک اور اہم حکم
تفسیر ازواج رسول کے بارے میں ایک اور اہم حکم : اس آیت میں ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مربوط احکام میں سے ایک اہم حکم بیان ہوا ہے ، خدا فرماتاہے: "اس کے بعد آپ پر کوئی دوسری عورت حلال نہیں ہے اور آپ کوحق نہیں پہنچتا کہ ان بیویوں کو دوسری بیویوں سے تبدیل کرلیں ۔ اگرچہ ان کا حسن و جمال آپ کو بھلا لگے ۔ سوائے ان عورتوں کے جوکنیز کی صورت میں آپ کے اختیار میں آجائیں اور خدا ہرچیزپرناظر اور نگہبان ہے: (لايحل لك النساء من بعد ولا ان تبدل بهن هن ازواج ولو اعجبك حسنھن الاماملكت يمينک وكان الله على كل شی.ء رقيبًا )۔ مفسرین اور فقہاء نے اس آیت کی تنفسیر میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور اسلامی مآخذ میں بھی اس بارے میں مختلف روایات آئی ہیں۔ ہم پہلے تو اس آیت کا ظاہر مطلب بیان کریں گے جو اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے باہمی ارتباء سے پیدا ہوتا ہے (قطع نظر اس کے کہ مفرین اس بارے میں کیا کہتے ہیں) پھر دوسرے مطلب کی طرف جائیں گے۔ "من بعد" کی تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ کے لیے کوئی نئی شادی حرام ہے ، اسی بناء پر لفظ "بعد" یا "بعدزمانی" کے معنی میں ہے ، یعنی اس زمانے کے بعد آپؐ کے لیے کوئی نئی شادی حرام ہے۔ لہذا کسی نئی بیوی کو انتخاب نہ کریں ، یا بعد اس کے کہ آپؐ نے اپنی بیویوں کو گزشتہ حکم خداوندی کے مطابق اختیار دے دیا ہے کہ یا تو آپؐ کے گھر میں سادہ زندگی گزاریں یا پھر علیحدہ ہوجائیں تو انھوں نے اپنی مرضی سے آپ کی زوجیت کو ترجیح دی ہے ، تو اب اس کے بعد کسی کا اور عورت سے آپؐ کو شادی نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو طلاق دے کرکسی اور بیوی کو اختیار کریں بالفاظ دیگر نہ تو ان کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ بیویوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:52
1- اس حکم کا فلسفہ
چندایک نکات 1- اس حکم کا فلسفہ: یہ حد بندی آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے لیے کوئی نقص شمار نہیں ہوتی ، بلکہ یہ ایک ایساحکم ہے ، جس کا فلسفہ بہت ہی گہرا ہے، کیونکہ تاریخی شواہد کی بناء پر نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر مختلف افراد اور قبائل کی جانب سے مسلسل زور دیا جارہا تھا کہ آپ اپنی زوجیت کے لیے ان کا رشتہ قبول فرمائیں اور مسلمان قبائل کا ہر شخص اس بات پر فخر محسوس کرتا تھا کہ ان کے خاندان کی کوئی عورت پیغمبر اسلام سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو ، یہاں تک کہ جیسا ابھی بیان ہوچکا ہے کہ بعض عورتیں حق مہر کے بغیر تیارتھیں کہ اپنے آپ کو "هبہ" کے عنوان سے آنحضرتؐ کے علقہ ازدواج میں دے دیں اور غیر مشروط طور پرآپؐ سے شادی کرلیں۔ البتہ ان قبائل سے رشتہ ازدواج ایک حد تک آنحضرتؐ کی ذات اور ان کے سیاسی ، سماجی اور اجتماعی مقاصد کے لیےگرہ کشا تھا ، لیکن فطری بات ہے کہ کوئی چیز اگر حد سے گزر جائے تو خود ایک مشکل بن جاتی ہے چونکہ ہر قبیلے کی یہی خواہش تھی کہ آپؐ کو رشتہ دیں اور اگر نبی اکرمؐ بھی ان سب کی خواہشات کو پورا کرنے لگ جاتے اور کچھ عورتوں کو عقد کی صورت میں ان کی شادی اور بیاہ کی شکل میں اپنے دائرہ اختیار میں لے آتے تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں۔ اسی لیے تو خدائے حکیم ایک محکم قانون کے ذریعے آپ کو اس اقدام سے روک رہا ہے اور ہر قسم کے نئے ازدواج یا موجودہ عورتوں کی تبدیلی سے منع کررہاہے۔ اس دوران میں شاید کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے مقصود تک پہنچنے کے لیے یہ بہانہ بناتے تھے کہ آپ کی بیویاں عام طورپر بیواہ ہیں اور ان میں سن رسیدہ خواتین بھی پائی جاتی ہیں ۔ جو حس و جمال سے محروم ہیں ، لہذا مناسب ہے کہ آپؐ کسی حسین وجمیل عورت سے شادی کرلیں ۔ قران خاص کر اس مسئلے کو مد نظر رکھ کر یہ بات زور دے کر کہتا ہے کہ اگر صاحب جمال عورتیں بھی ہوں تب بھی آپؐ ان سے حق ازدواج نہیں رکھتے۔ علاوہ ازیں حق شناسی کا تقاضا بھی ہے۔ کیونکہ آپ کی بیویوں نے آپ کے ساتھ جس وفا کا ثبوت دیا اور دنیا کی ہر چیز پرسادہ اور روحانی زندگی کو ترجیح دی ، خدا ان کے مقام کی حفاظت کے لیے پیغمبراکرم کو اس قسم کا حکم دے رہا ہے۔ باقی رہاکنیزوں کے بارے میں آنجناب کا مجاز و مختار ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور پاک درحقیقت آزاد عورتوں کی وجہ و مشکلات میں مبتلا تھے ۔ لہذا اس امر کی ضرورت نہیں تھی کہ اس حکم کو کنیزوں کے بارے میں بھی محدود کردیاجائے۔ اگرچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس استثناء سے بھی استفادہ نہیں کیا گیا۔ یہ تھا وہ مفہوم جوآیت کے ظاہر سے واضح ہوتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:52
2- مخالف روایات
2- مخالف روایات: متعدد روایات میں سے بعض توسند کے لحاظ سے ضعیف اور بعض قابل غور ہیں ان کے مطابق "الایحل لک النساء من بعد" کا جملہ ان عورتوں کی طرف اشارہ ہے ، جن کی تحریم سورہ نساء کی آیه 23 اور 24 میں بیان ہو چکی ہے (یعنی ماں ، بیٹی ، بہن ، پھوپھی اور خالہ وغیرہ ) ان روایات کے بعض کے ذیل میں یہ صراحت ہوئی ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ کچھ عورتیں تو دوسرے لوگوں پرحلال ہوں ، لیکن وہی رسالت مآب پر حرام ہوں ؟ کوئی عورت آپ پر حرام نہیں ۔ سوائے ان کے جوسب پر حرام ہیں۔ ؎1 البتہ بعید نظر آتاہے کہ یہ آیت ان آیات کی طرف اشارہ ہوجو سورہ نساء میں گزر چکی ہیں ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان روایات میں سے بعض میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "من بعد" سے مراد سورہ نساء میں حرام شدہ عورتوں کے علاوہ ہے۔ اس بناء پر بہتر ہے کہ ان روایات کی تفسیر سے چشم پوشی اختیار کی جائے جو اخباراحاد میں سے ہیں اور اصطلاحی الفاظ میں "اس کا علم اس کے اہل یعنی معصومین پر چھوڑدیں"۔ کیونکہ وہ روایات ظاہر آیات کے ساتھ میل نہیں کھاتیں اور ہمیں آیت کے ظاہر پر عمل کرنے کا حکم اور مذکوره اخبار و روایات ظنی ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ بہت سے علاقوں کا نظریہ ہے کہ زیر بحث آیت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہر قسم کی نئی شادی کرنے کو حرام قرار دیا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور آپ کو ازدواج کی اجازت مل گئی ۔ لیکن آپ نے اس سے ادستفادہ نہیں کیا۔ حتٰی کہ وہ اس آیت "انا احللنالك ازواجك اللاتي أتيت اجورهن ..." کومذکورہ حکم کا ناسخ مانتے ہیں جو زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ لیکن ان کا نظریہ ہے کہ اگرچہ وہ آیات قرآن میں اس سے پہلے لکھی ہوئی ہے لیکن نازل اس کے بعد ہوئی ہے ، یہاں تک کہ فاضل مقداد "کنزالعرفان" میں نقل کرتے ہیں کہ علماء کے درمیان مشہورفتوٰی اور نظریہ یہی ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر نورالثقلین جلد 4 294 ، 295 ؎2 کنزالعرفان جلد ص 244۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ نظریہ ایک تو مذکورہ بالا روایات کے ساتھ واضح تضاد رکھتا ہے۔ دوسرے کا ظاہر آیات کے ساتھ بھی ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ آیات کا ظاہر بتاتا ہے کہ " انا احللئالك ازوجک" والی آیت زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہوئی ہے اورنسخ کا مسئلہ قطعی ویقینی دلیل کا محتاج ہے ۔ بہرحال آیت کے ظاہر سے زیادہ قابل اطمینان اور واضح ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں ہے اورآیت کے مطابق ہرقسم کی نئی شادی یا بیویوں کی تبدیلی ، اس اوپر والی آیت کے نزول کے بعد پیغمبراکرمؐ کے لیے حرام ہوگئی تھی اور اس حکم میں بہت بڑی مصلحت پوشیدہ ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:52
3- آیانکاح سے پہلے عورت کو دیکھا جاسکتا ہے؟
3- آیانکاح سے پہلے عورت کو دیکھا جاسکتا ہے؟ مفسرین کی ایک جماعت نے "ولو اعجبك ؟حسنھن" کے جملے کو اس مشہورحکم کی دلیل سمجھا ہے جس کی طرف اسلامی روایات میں اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اسے نکاح سے پہلے اس حد تک دیکھ سکتا ہے کہ جس سے اس کی شکل صورت اور جسمانی ساخت واضح ہوسکے۔ اور اس حکم کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اچھی طرح دیکھ بھال کر اپنی بیوی کا انتخاب کرسکے تاکہ بعد کی ندامت اور پشمانی سے بچ جائے جس سے عہد و پیمان کو خطرہ لائق ہوسکتا ہے ، جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے فرمایا: جو شادی کرنا چاہتا تھا۔ "انظر اليها فانہ جدران یدرم بینکما " "پہلے سے اس عورت کو دیکھ لیں کیونکہ یہ چیز سبب بنے گی کہ تمھارے درمیان مودت اور الفت پائدار رہے"۔ ؎1 ایک اور حدیث میں امام جعفرصادقؑ سے مروی ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا: " کیا مرد کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کی غرض سے اسے غور سے دیکھ سکتا اور اس کے چہرے اورپشت کی طرف نگاہ کرسکتا ہے؟ فرمایا گیا "نعم لا بأس أن ينظر الرجل الى المرأة اذا ارادان يتزوجها ینظر إلى خلفها والى وجهها"۔ ہاں کوئی حرج نہیں کہ جس وقت انسان کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے اسے دیکھ لے اور اس کے چہرے اور پشت کی طرف نگاہ کرے ۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 5303۔ ؎2 وسائل شیعہ جلد 14 ابواب مقدمات النکاح باب 32 حدیث 3۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- البتہ اس سلسلے میں احادیث بہت موجود ہیں ۔ لیکن بعض میں یہ تصریح ہوئی ہے کہ اس موقع پر شہوت اور لذت کی غرض سے نگاہ نہیں ہونی چاہیئے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ حکم ان مواقع کے ساتھ مخصوص ہے ، جب انسان واقعًا اس عورت کے بارے میں تحقیقات کرنا چاہے ۔ اگر اس میں مطلوبہ شرائط نظر پائی جائیں تو اس سے شادی کرے گا لیکن اگر کسی نے ابھی تک شادی کا فیصلہ ہی نہیں کیا ، تو وه صرف شادی کے احتمال یا جستجو کے نام پر عورتوں کی طرف نظرنہیں کرسکتا۔ البتہ بعض مفسرین نے زیر بحث آیت میں یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ ان نگاہوں کی طرف اشارہ ہے ، جو اتفاقیہ طورکسی عورت پر جاپڑتی ہیں تو اس صورت میں یہ آیت مذکور حکم پر دلالت نہیں کرے گی ، بلکہ اس حکم کامسلک صرف روایات ہوں گی ۔ لیکن" ولو اعجبك حسنهن " ( اگر چہ ان کا حسن آپ کو بھلا معلوم ہو) کاجملہ اتفاقیہ اور غیر ارادی نگاہوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ نہیں ہے ۔ لہذا اس کی دلالت اس سے پہلے والے حکم پر بعید نظر نہیں آتی۔