تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذَلِكَ أَدْنَى أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا
You may put off whichever of them you wish and consort with whichever of them you wish, and there is no sin upon you [in receiving again] any [of them] whom you may seek [to consort with] from among those you have set aside [earlier]. That makes it likelier that they will be comforted and not feel unhappy, and all of them will be pleased with what you give them. Allah knows what is in your hearts, and Allah is all-knowing, all-forbearing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:51
[Pooya/Ali Commentary 33:51] This verse allowed the Holy Prophet to get rid of any of his wives as and when he pleased.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:51
سوره احزاب / آیه 51
(51) تُرْجِىْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِىٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ مَا فِىْ قُلُوْبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا ترجمہ (51) اپنی بیویوں میں سے جس کے (مقررہ وقت کو) آپ چاہیں مؤخر کرسکتے ہیں اور جسے چاہیں اپنے پاس ٹهہراسکتے ہیں اور ان میں سے جن بعض کو آپ نے اپنے سے الگ کر دیا ہے ، اگر چاہیں تو اپنے پاس جگہ دے دیں ، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ خدائی حکم ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ وہ غمگین نہ ہوں اور جو کچھ آپ انھیں دے دیں وہ اس پر راضی ہوں ۔ اور خدا اس چیز کو اچھی طرح جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور خدا بندوں کے تمام اعمال اور ان کی مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حلیم بھی ہے اور انھیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:51
شان نزول
شان نزول اسی سورہ کی آیت 28 اور 29 کی تفسیر اور ان کی شان نزول کے بیان میں مفسرین کے بقول پیغمبراکرم کی بعض بیویوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمارے نان و نفقہ اور اخراجات میں اضافہ کیجیئے۔ (چونکہ ان کی نگاہ مال غنیمت پر لگی ہوئی تھی اور وہ یہ چاہتی تھیں کہ انہیں اس سے زیادہ ملناچاہیئے) اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور صراحت کے ساتھ ان کے گوش گزار کردیا کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہیں تو ہمیشہ کے لیے پیغمبر سے الگ ہوجائیں اور اگر خدا ، رسول دردز جزا کو چاہتی ہیں تو پھراسی سادہ زندگی کہ ساتھ نبا کریں ۔ اس کے علاوہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی کے اوقات کی تقسیم کے بارے میں بھی ان کے درمیان رقابت موجود تھی جو پیغمبراکرمؐ کو تمام پریشانیوں اور اہم مصروفیات کے ساتھ ساتھ زبردست مشکلات سے دو چار کیے ہوئے تھی ۔ اگرچہ آپ ان کے درمیان ضروری عدالت قائم رکھتے ۔ لیکن پھر بھی وہ باتوں سے باز نہ آتی تھیں، لہذا زیرنظر آیت نازل ہوئی اورآنحضرتؐ کو ان کے درمیان اپنے اوقات کی تفسیم میں پوری پوری آزادی دی گئی اور ساتھ ہی انھیں بھی خبردار کیا گیا کہ خدائی حکم بے ، لہذااس سے نہ تو کسی کو پریشانی ہو اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا غلط نتیجہ اخذ کرسکیں. ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:51
کیایہ حکم آپؐ کی سب بیویوں کے بارے میں تھا؟
کیایہ حکم آپؐ کی سب بیویوں کے بارے میں تھا؟ اسلامی فقہ خصائص پیغمبر کے باب میں یہ مسئلہ زیر بحث چلا آرہا ہے کہ آیا بیویوں کے درمیان اوقات کی مساوی تقسیم پیغمبراسلام پربھی اسی طرح واحب ہے جس طرح دوسرے مومنین پر یا نہیں اور یا آپؐ استثنائی اور اختیاری حکم کے حامل ہیں؟ ہمارے تمام فقہاء اور اہل سنت کے کچھ فقہا کے درمیان مشہور یہ ہے کہ آپ اس حکم سے مستثنٰی اوراس کی دلیل میں وہ زیر بحث آیت کو پیش کرتے ہیں ، جس میں خداکہتاہے : "ترجی من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء۔" "جسے آپ چاہیں تاخیر میں ڈال دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھ لیں" ۔ کیونکہ یہ جملہ پیغمبراکرم کی تمام ازواج کے بارے میں گفتگو کرنے کے بعد آیا ہے ، لہذاس بات کا متقاضی ہے کہ مجمع مونث کی ضمیر "هن " ان سب کی طرف لوٹے اور اسی مطلب کوفقہا اور بہت سے مفسرین نے قبول کیا ہے. لیکن بعض حضرات اس ضمیر کو ان بیویوں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں ، جنہوں نے حق مہر کے بغیر اپنے آپ کو رسول اللہ کے سپرد کر دیا تھا۔ حالانکہ اولاً تو تاریخی اعتبار سے یہ ثابت نہیں کہ اس نے کوئی خارجی موضوع پیدا بھی کیا یانہیں ؟ اور بعض کا نظریہ ہے کہ صرف ایک ہی مو رد تھا ۔ جس میں صرف ایک خاتون اس صورت سے رسالت مآب کی زوجیت میں داخل ہوئیں، بہرحال اصل مسئلہ تاریخی لحاظ سے ثابت اور مسلم نہیں۔ ثانیًا یہ تفسیر ظاہرآیت کے خلاف ہے اور علماء نے اس آیت کی شان نزول کا جو ذکر کیا ہے، اس سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی بناء پر قبول کرلینا چاہیئے کہ مذکورہ بالا حکم عام ہے اور سب ازواج کے بارے میں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:51
ایک اورمشکل آسان ہوتی ہے
تفسیر ایک اورمشکل آسان ہوتی ہے: پیغمبراسلامؐ جیسا عظیم خدائی رہبر جو سخت حوادث اور وسائل میں گھرا ہوا ہو اور اس کے دشمن اس کے خلاف خطرناک داخلی اور خارجی سازشوں میں مصروف ہوں تو وہ اپنی شخصی اور خصوصی زندگی کی طرف اپنی فکر کو زیادہ مشغول نہیں رکھ سکتا، اسے اپنی گھریلو زندگی نہیں نسبتًا سکون اور آرام کا حامل ہونا چاہیئے تاکہ وہ جن مشکلات کے انبوہ میں گھرا ہوا ہے ان کا حل سکون و اطمیان سے تلاش کر سکے۔ اگرکسی انسان کی خارجی زندگی آشفتگی کا شکارہو اور گھریلو حالات بھی توجہ اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہوں تو ایسے طوفانی لمحات انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم ثبوت پیش کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی متعدد شادیاں زیادہ ترسیاسی اجتماعی اور انسانی ہمدردی کی بناء پرتھیں اور درحقیقت کار رسالت کا ایک حصہ تھیں ، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات عورتوں کے درمیان اختلاف اور ان کی معمول کی زنانہ رقابتیں رسول اللہؐ کے گھرمیں ایک طوفان کھڑا کر دیتیں اور آپ کی فکر اور دہن کو اپنی طرف مبذول کر لیتیں۔ یہی وہ منزل ہے ، جہاں خدا اپنے پیغمبرؐ کو ایک اورخصوصیت عطا فرماتا ہے جہاں سے روز روز کے جھگڑوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرکے آپ کو آسوده خاطر اور فارغ البال کردیا گیا۔ چنانچہ اس آیت میں ہم پڑھتے ہیں : "اگر آپ چاہیں تو ان عورتوں میں سے ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان اور دوسری تفاسیر سے اقتباس۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہرایک (کے وقت) کو موخر کرکے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دے سکتے ہیں": (ترجی من تشاء منهن وتؤوي اليک من تشاء) - "ترجي" "ارجاء" کے مادہ سے تاخیر کے معنی میں ہے اور "تووی" "ایواء" کے مادہ سے کسی شخص کو اپنے پاس جگہ دینے کے معنی میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعدد ازواج کے سلسلے میں احکام اسلام کا حکم یہ بھی ہے کہ شوہرا پنے اوقات کو ان کے درمیان منصفانہ طورتقسیم کرے اور اگر ایک رات ان میں سے ایک کے ہاں ہے تو دوسری رات دوسری کے پاس رہے۔اس سلسلے میں عورتوں و میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس موضوع کو اسلامی فقہ میں "حق قسم" کے عنوان سے تعبیر کیا جاتاہے۔ رسول اسلامؐ کے خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ طوفانوں اور بحرانوں سے بھرپور زندگی کے مخصوص حالات کی بناء پر مذکوره بالا میت کی رو سے "حق قسم" کی رعایت ، آیت کے ذریعے آپ سے ساقط ہوگئی تھی ۔ خصوصًا جب آپ مدینہ میں موجود تھے۔ بیویاں متعدد تھیں اور تقریبًا ہرماہ آپ کو کسی نہ کسی مسلط کردہ جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ مذکورہ آیت نے آپ کو مکمل اختیار دے دیا کہ آپ جس طرح چاہیں اپنے اوقات کو تقسیم کر دیں۔ لیکن اس اختیار کے باوجود آپؐ کوشش کرکے عدل و مساوات فرماتے ، تاریخ اسلام میں اس کی مکمل تصریح موجود ہے۔ اس خدائی حکم سے پیغمبراکرم کی بیویوں اور آپؐ کی داخلی زندگی کے ماحول کو سکون اور آرام ملا۔ اس کے بعد قرآن کہتا۔"جس وقت ان میں سے بعض کو ایک طرف کردیں اور پھرچاہیں کہ انھیں اپنے پاس جگہ دیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں": (ومن بتغيت ممن عزلت قلاجناح عليک)۔ اس طرح سے نہ صرف یہ کہ ابتداء میں آپ کو اختیار ہے ، بلکہ اسے جاری اور برقرار رکھنے میں بھی آپؐ کا یہ اختیار برقرار ہے اور اصطلاح کے مطابق اختیار کو "تخيیر استمراری" کہتے ہیں نہ کہ "تخییر ابتدائی" اور اس وسیع اور کھلے اختیارات کے حامل حکم کے بعد آپ کا اپنی بیویوں کے سلسلہ میں ہر کا عذر ختم ہوجاتا ہے اور آپ اپنی فکر کو مکمل طور پر رسالت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔ ازواج پیغمبر کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ انھیں رسول کی زوجہ ہونے کے اعزاز کے علاوہ ایک اور اعزاز بھی حاصل ہے اوروہ یہ کہ اوقات کی تقسیم کے سلسلے میں آنخضرت کو جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں ، وہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کرلیں ، جو ایک قسم کے ایثاراور فدا کاری کا کھلاثبوت ہے اور اس طرح ان پر کوئی اعتراض وارد ہوسکتا ہے اور نہ بی یہ کوئی معیوب بات ہے ۔ کیونکہ انہوں نے حکم خدا کو تسلیم کیا ہے، خدا فرماتا ہے۔ "یہ خدائی حکم ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے ہے ، اور یہ کہ کبھی غمگین نہ ہوں ، بلکہ آپ جو کچھ انہیں دیں وہ سب اسی پرراضی ہوں": (ذالك ادني ان تقرا عينهن ولایحزن ویرضین بما تيتهن كلهن)۔ کیونکہ: اولًا: یہ ان سب کے لیے ایک عمومی حکم ہے اور اس میں کسی قسم کافرق روا نہیں رکھا گیا۔ ثانيا : یہ حکم خدا کی طرف سے ہے جو نہایت اہم مصلحتوں کی بناء پر جاری کیا گیا ہے ۔ اسی بناء پر انہیں یہ حکم خوشی خوشی قبول کرلینا چاہیئے اور پریشانی کے بجاۓ اظہار مسرت کرنا چاہیئے۔ لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو کوشش کرتے کہ تقسیم اوقات کے سلسلے میں عدل و مساوات کو مد نظر رکھا جائے۔ البتہ چند ایک موارد ایسے ہی ملتے ہیں کہ جہاں پر مساوات کو نظرانداز کر دیا گیا ، لیکن اس کا سبب کچھ خاص اور ہنگامی حالات تھے اور یہ ازواج رسولؐ کی خوشنودی کا ایک اور سبب تھا۔ کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ باوجود یکہ حضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو مکمل اختیارات حاصل ہیں ، لیکن پھربھی حتی الامکان مساوات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں اس سلسلے کلام کو اس جملے پر ختم کیا گیا ہے : جو کچھ تمھارے دلوں کے اندر ہے اسے خدا جانتا ہے اور وہ بندوں کے تمام اعمال اور مصلحتوں سے باخبر ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حلیم بھی ہے اور بندوں کو عذاب و سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ (واللہ یعلم مافی قلوبكم وكان الله عليمًا حليمًا)۔ جی ہاں خدا جانتاہے کہ تم خدا کے کسی حکم پر دلی طور پرراضی ہو اور اسے تسلیم کرتے ہو اور کسی کو ناپسند کرتے ہو؟ وہ جاتاہے کہ تم کن بیویوں کی طرف زیادہ میلان رکھتے ہو اور کن کی طرف تھوڑے مائل بو؟ اورایسے میلانات کے موقع پر کسی اورطرح حکم خدا کا لحاظ کرتے ہو؟ اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون لوگ پوشیدہ جگہوں میں بیٹھ کرپیغمبر کے بارے میں اس قسم کے خدائی احکام پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور دل میں بھی آپ پر معترض ہیں اور کون خندہ پیشانی کے ساتھ ان سب کو قبول کرتے ہیں۔ اس بناء پر "قلوبكم" کی تعبیر بہت وسیع ہے۔ اس میں پیغمبراسلام اور ان کی بیویاں بھی شامل ہیں اور وه تمام مومنین بھی جو ان احکام کے ناتے تسلیم و رضا کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ یا اعتراض اور انکار تو کرتے ہیں ، لیکن اسے ظاہر نہیں کرتے۔