يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
O Prophet! Indeed We have made lawful to you your wives whom you have given their dowries, and those whom your right hand owns, of those whom Allah gave you as spoils of war, and the daughters of your paternal uncle, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncle, and the daughters of your maternal aunts who migrated with you, and a faithful woman if she offers herself to the Prophet and the Prophet desires to take her in marriage (a privilege exclusively for you, not for [the rest of] the faithful; We know what We have made lawful for them with respect to their wives and those whom their right hands own, so that there may be no blame on you ), and Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:50
[Pooya/Ali Commentary 33:50] As explained in the commentary of verses 28 to 32 of this surah the Holy Prophet as a young man married Khadijah Kubra, a woman older than him, and she remained his only wife till her death. She gave birth to Fatimah Zahra through whom he was blessed with his progeny (see commentary of surah al Kawthar). It clearly indicates that he was not at all a sensuous male. The reason for his marriages, after the death of Khadijah Kubra has also been stated in the commentary of abovesaid verses. Amir Ali in Spirit of Islam says (on the authority of many Muslim historians like Tabari etcetera) that after the death of Khadijah Kubra with a view to cement his friendship Abu Bakr made an offer of his daughter A-isha to the Holy Prophet. At his persuasive solicitations the Holy Prophet consented. This was an act of Abu Bakr's characteristic foresight. With the example of Abu Bakr before him, Umar, also desirous of having a like influence in the close circle of the Holy Prophet, gave his daughter to him. Hafsa was a widow. Umar first offered her to Abu Bakr and then to Uthman but the offer was rejected by both, Umar mentioned this to the Holy Prophet, as a complaint, who, out of compassion, accepted her as his wife. Similarly, he married other women mentioned in the commentary of verses 28 to 32, either out of compassion, or on account of clemency, or to help his mission. All the books of history are clear on this point. For polygamy see commentary of Nisa: 3.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
سوره احزاب / آیه 50
(50) يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ اللَّاتِـىٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَـآءَ اللّـٰهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِىْ هَاجَرْنَ مَعَكَۖ وَامْرَاَةًّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِىُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَاۖ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْـهِـمْ فِـىٓ اَزْوَاجِهِـمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُـهُـمْ لِكَيْلَا يَكُـوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ترجمہ (50) اے پیغمبر! ہم نے آپ کی ان بیویوں کو حلال کیا ہے ، جن کا حق مہر آپ ادا کرچکے ہیں اور اسی طرح وہ کنیزیں جوغنیمت کے ذریعے ہم نے آپ کو بخشی ہیں اور آپ ان کے مالک ہوئے ہیں آپ کے چچا بیٹیاں ، پھوپھیوں کی بیٹیاں ماموؤں کی بیٹیاں اور خالائوں کی بیٹیاں کہ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور جس وقت کوئی باایمان عورت خود کو پیغمبر کے لیے ہبہ کر دے ( اپنے لیے مہر کا تقاضانہ کرے) نبی چاہے تو ا س سے بیاہ کر سکتے ہیں ، لیکن اس قسم کا نکاح صرف آپ کی ذات کے لیے جائز ہے نہ کہ دوسرے مومنین کے لیے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے لیے ہم نے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں کون ساحکم مقرر کیا ہے (اور ان کی مصلحت کس بات کا تقاضاکرتی ہے)۔ یہ اسی بناء پر ہے تاکہ (ادائے رسالت میں) آپؐ کسی مشکل سے دو چار نہ ہوں ، اور خدا بخشنے والا ، اور بڑا مہربان ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
آپ کے لیے کن عورتوں سے نکاح جائز ہے
تفسیر آپ کے لیے کن عورتوں سے نکاح جائز ہے؟ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس سورہ کی آیات کا ایک حصہ پیغمبراسلام اور ان کی زمہ داریوں کو "لف ونشرمرتب" کی صورت میں بیان کرتا ہے ، لہذا گذشتہ آیت میں عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں کچھ احکام ذکر کرنے کے بعد یہاں روئے سخن نبی پاکؐ کی طرف کرتے ہوئے سات ایسے مواقع کو بیان کیا گیا ہے ، جہاں آنحضرت صلی الله علیہ والہٖ وسلم کے لیے نکاح جائز ہے۔ 1 - پہلے فرمایا گیا ہے. "اے پیغمبر! ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویوں کو حلال کیا ہے جن کا حق مہر آپ اداکرچکے ہیں": (یاایها النبي انا احللنا لك ازواجک السلاتي اتيت ا جورهن)۔ ان بیویوں سے مراد بعد والے جملوں کے قرینے کے مطابق وہ عورتیں ہیں جن کی پیغمبراکرم کے ساتھ کسی قسم کی رشتہ داری نہیں تھی ، لیکن انھوں نے آپ سے نکاح کیا اور شاید حق مہر ادا کرنے کا مسئلہ بھی اسی بناء پرتھا ، کیونکہ رسم تھی کہ غیررشتہ داروں میں شادی کے موقع پر حق مہر نقد اداکرتے تھے۔ علاوہ ازیں حق مہر ادا کرنے میں جلدی کرنا خصوصًا اس صورت میں جب بیوی کو اس کی ضرورت ہو ، بہتر ہے لیکن واجب نہیں ہے اور طرفین کی باہمی رضامندی کی صورت میں شوہر کے ذمہ سارے کا سارا یا پھر حصے کی ادائیگی ملتوی بھی کی جاسکتی ہے ۔ 2 - "وہ کنیزیں جو غنائم اور انفال کے ذریعے خدا نے آپ کو بخشی ہیں"۔ ( وما ملكب يميئک مماافاء الله علیک)۔ "افاءالله" "فيء" (بروزن شیء) کے مادہ سے ہے اور ایسے مال کو کہا جاتا ہے جو بغیر مشقت کے ہاتھ آئے۔ اسی لیے جنگی غنیمتوں اور اسی طرح انفال (قدرتی وسائل دولت ، جو اسلامی حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کا کوئی فرد واحد مالک نہیں ہوتا، پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ راغب مفردات میں کہتے ہیں "فيء" بازگشت اور اچھی حالت کی طرف لوٹنے کے معنی میں ہے اور اگر "سایہ" کو "فيء" کہا جاتا ہے تو اس لیے کہ وہ برگشت اور لوٹنے کی حالت رکھتا ہے، آگے چل کرکہتے ہیں ، بغیر کسی تکلیف اورمحنت و مشقت کے حاصل شدہ مال کو بھی "فیء" کہتے ہیں ، کیونکہ وہ اپنی تمام خیرو خوبی کے باوجود بھی سائے کی مانند عارضی اور ختم ہونے والا ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جنگی غنائم میں کبھی کبھی زحمت اورمشقت زیادہ اٹھانا پڑتی ہے ۔ لیکن چونکہ پھر بھی دوسرے اموال کی نسبت سر دردی اور مشقت تھوڑی ہوتی ہے اور بعض اوقات بہت سے اموال ایک حملے میں ہاتھ آجاتے ہیں ،لہذا انہیں "فیء" کہتے ہیں ۔ کیا یہ حکم آنحضرتؐ کی ازواج میں سے کسی کے بارے میں صادق آتاہے؟ اس ضمن میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آپ کی بیویوں میں سے ایک ماریہ قبطیہ غنائم میں سے اور دوسری ازواج "صفیہ" اور "جویریہ" انفال میں سے ہیں جنہوں پیغمبراکرم غلامی کی قید سے آزاد کر کے اپنی زوجیت کے لیے قبول فرمایا اور غلاموں کو تدریجًا آزاد کرنے اور ان کا انسانی مقام ان کی طرف لوٹانے کے لیے یہ امر بذات خود اسلام کے عمومی پروگراموں کا ایک حصہ تھا۔ 3 - "آپ کے چچا کی بیٹیاں ،پھوپھیوں کی بیٹیاں ، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے ، یہ بھی آپ پر حلال ہیں"۔ (وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتک اللاتي هاجرن معک)۔ تو اس طرح سے تمام رشتہ داروں میں سے صرف چچازاد ، پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور اور خالہ زاد عورتوں سے اس شرط کے ساتھ اثر ازدواج جائز ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ ان چار گروہوں میں محدودیت واضح ہے، لیکن "مہاجرت" کی شرط اس لیے ہے ، کیونکہ اس زمانہ میں ہجرت ایمان کی دلیل تھی اور ہجرت نہ کرنا کفر کی۔ یا اس بنا پر ہے کہ ہجرت انھیں زیادہ اعزاز دیتی تھی اورآیت میں بھی ان عالی مقام اور صاحب فضیلت عورتوں کو بیان کرنا مقصود ہے ، جو آپ کی زوجیت کے لیے مناسب اور موزوں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاروں مواقع جو یک کلی حکم کے طور پر آیت میں ذکر ہوئے ہیں ، آیا پیغمبر کی بیویوں میں مصداق خارجی بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ صرف ایک مقام جسے ذکر کیاجاسکتا ہے، وہ ہے آپ کا اپنی پھوپھی زاد زینب بنت حجش کے ساتھ نکاح ، جس کی داستان اسی سورہ میں گزرچکی ہے ، کیونکہ جناب زینب ، حجش کی بیٹی تھیں اور حجش آنخضرتؐ کی پھوپھی کا شوہر تھا۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہاں پر "عم" مفردا اور "عمات" جمع کی صورت میں آیا ہے اسی طرح "خال" مفرد اور "خالات" جمع آیا ہے ۔ مفسرین نے اس کی کئی وجوہات بیان کی ہیں ، جن کو فاضل مقدار نے کنزالعرفان میں بھی نقل کیا ہے ، لیکن سب سے بہتر وجہ یہ ہے کہ "عم" اور "خال" عام طور پرلغت عرب میں اسم جنس کی صورت میں استمال ہوئے ہیں ۔ جبکہ "عمه" اور "خالہ" اس طرح نہیں ہیں اور یہ اہل لغت کا عام طریقہ ہے. جسے ابن العربی نے بھی نقل کیا ہے (دیکھو کنزالعرفان جلد 2 ص 241)اور آلوسی نے روح المعانی میں بھی اس وجہ کو باقی تمام وجوہات پر ترجیح دی ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 4 - "جس وقت کوئی ایمان دار عورت اپنے آپ کو پیغمبر کے لیے ہبہ کر دے (اور اپنے لیے کسی قسم کے قح مہر کا مطالبہ نہ کرے) اگر پیغمبر چاہیں تو اس سے عقد کرسکتے ہیں"۔ (وامرأة مؤمنة ان وهبت نفسهاللنبی ان اراد النبي ان يستنكحها)۔ "لیکن اے پیغمبر! اس قوم کا نکاح صرف آپ کے لیے جائز ہے نہ کہ باقی مومنین کے لیے": (خالصة لك من دون المؤمنين)۔ "ہم جانتے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے ان کی بیویوں اورکنیزوں کے بارے میں کون ساحکم مقرر کیا ہے" اوران کی مصلحتوں کا کیا تقاضاہے": (قد علمنامافرضنا عليهم في ازواجهم وما ملكت ايمانهم)۔ اسی بناء پر اگر ہم نکاح سے متعلق کچھ مسائل میں ان کے لئے بعض مواقع پر پابندی لگا دیتے ہیں تو اس کی بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اور ان میں سے ہر ایک حکم اور قانون باقاعد حساب و کتاب کے تحت ہے۔ پھرفرمایا گیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ (فریضۂ رسالت کی ادائیگی کے سلسلے میں) آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو (اور آپ اس فریضہ کی بجا آوری میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکیں) : ( لكيلا يكون عليك حرج)۔ "اورخدا بخشنے والا رحیم ہے": (وكان اللہ غفورًا رحیمًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
1- رسول اللہؐ کی ایک خصوصیت
چند اہم نکات 1- رسول اللہؐ کی ایک خصوصیت : اس میں شک نہیں کہ "حق مہر کے بغیر بھی بنانے" کی اجازت صرف پیغمبراکرمؐ کو ہے اور یہ آپؐ کے مخصات میں سے ہے اور آیت بھی اس مسئلے میں بالکل واضح ہے۔ اسی بناء پرکوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی عورت سے مہر (تھوڑا ہو یا زیادہ) کے بغیر عقد کرے۔ حتی کہ اگر صیغہ عقد جاری کرتے وقت حق مہر کا ذکر نہ کیا گیا ہو اور کسی قسم کا قرینہ بھی نہ ہوتو "مہرالمثل" دینا چاہیئے ۔ "مہرالمثل" سے مراد وہ حق مہر ہے جو اس جیسی عورتیں مختلف نوعیتوں کے تحت عام طور پر اپنے لیے مقرر کرتی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
2- اس حکم کا خارجی مصداق
2- اس حکم کا خارجی مصداق : اس کلی حکم نے پیغمبراسلام کے بارے کوئی خارجی مصداق بھی پیدا کیا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض مفسرین مثلًا ابن عباس اور کچھ دوسرے حضرات کا نظریہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کیفیت کے ساتھ کسی عورت سے نکاح نہیں کیا اور مذکورہ بالا حکم آپ کے لیے ایک ایسا کلی حکم تھا، جس سے کبھی بھی استفادہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے آپ کی ان تین چار ازواج کا نام لیا ہے ، جو بغیر حق مہر کے آپ کی زوجیت آئیں۔ وہ "میمونہ بنت حارث" اور " زینب بنت خزیمہ، جن کاتعلق انصارسے تھا ، بنی اسد کی ایک خاتون "ام شرک بنت جابر" اور "خولہ بنت حکیم" تھیں۔ بعض روایات میں آیا ہے جب خولہ اپنے آپ کو پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے بخش دیا تو جناب عائشہ کی صداۓ احتجاج بلند ہوئی اور انھوں نے کہا: " مابال النساء یبذلن انفسهن بلامهر" ان عورتوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق مہر کے بغیر اپنے آپ کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیتی ہیں؟ تواس وقت یہ آیت نازل ہوئی لیکن جناب عائشہ نے حضرت رسالت مآب سے کہا : "معلوم ہوتاہے کہ اللہ آپ کے مقصد کو بہت جلد پورا کردیتاہے۔ (یہ آپ پر ایک قسم کی طنزتھی)۔ تو آنحضرت نے فرمایا: "و انک ان اطعت اللہ سارع فی هواك" " اگر تم بھی خدا کی اطاعت کرلگ جاؤ تو وہ تمھارے مقصد کو بھی جلد پورا کردے"۔ ؎1 اس میں شک نہیں کہ اس قسم کی خواتین تو صرف روحانی اعزاز حاصل کرنے کی خواہاں تھیں ، جو صرف رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہی انھیں حاصل ہوسکتا تھا۔ اس لیے وہ بغیر کسی حق مہر کے آپ کی زوجیت کے لیے آمادہ ہوگئیں ، لیکن جیسا کہ ہم نے ابھی کہا ہے کہ تاریخی طور پر اس قسم کا خارجی مصداق مسلم نہیں ہے ۔ جو چیز مسلم ہے وہ صرف یہ کہ خدا نے پیغمبر اکرم کو اس قسم کی اجازت دے رکھی تھی رہا یہ سوال کہ اس کا فلسفہ کیا تھا ؟ تو اس کی طرف بعد میں اشارہ ہوگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
4- تعداد ازواج کا فلسفہ
4- تعداد ازواج کا فلسفہ: مذکورہ بالا آیت کا آخری جملہ واقع میں پیغمبراسلام صلی الله علیہ و آلہٰ وسلم کے ان مخصوص احکام کے فلسفے کی طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ کہ پیغمبر کے کچھ ایسے مخصوص حالات ہوتے ہیں جو دوسروں کے نہیں ہوئے اوریہی فرق بعض دوسرے احکام میں بھی فرق کا سبب بن جاتا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسير مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں تفسیر قرطبی میں بھی یہ جملہ آیا ہے: "والله مااری ربک الايسارع في هواك" خدا کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ خدا نے آپ کسی خواہش جلد پورانہ کیا ہو۔ اور آلوسی نے بھی "روح المعانی" میں مذکورہ آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے ، چنانچہ اسی اس قسم کی نامناسب اورچبھتی ہوئی گفتگو کا مفہوم کسی پرپوشیدہ نہیں ۔ لیکن آنحضرت اپنی عظمت اور جلالت قدر کی وجہ سےاس موقع پر بھی بڑی خوش اسلوبی اور متانت سے گزرجاتے ہیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- زیادہ واضح تعبیر میں قرآن کہتا ہے : مقصد یہ تھا کہ کچھ ان احکام کے ذریعے پیغمبر کے کاندھوں سے پابندیاں اور مشکلات ہٹا دی جائیں ۔ یہ ایک ایسی لطیف تعبیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرمؐ کا متعدد اور مختلف قسم کی عورتوں سے شادی کرنا درحقیقت آپ کی زندگی کی اجتماعی اور سیاسی مشکلات کے ایک سلسلے کو حل کرنے کے لیے تھا۔ کیونکہ ہرایک کو معلوم ہے کہ جس وقت آنحضرتؐ نے ندائے اسلام بلند کی تو اس وقت آپؐ یکہ و تنہا تھے اور بہت مدت تک سوائے معدودے چند افراد کے آپ پر کوئی بھی ایمان نہیں لیا تھا۔ آپ اپنے زمانے اور ماحول کے تمام بیہودہ اور فضول نظریات اور عقاید کے خلاف ڈٹ گئے ، سب نے جہاد کرنے کا اعلان کردیا ۔ لہذا فطری طور پر اس معاشرے کے تمام قبیلے اور قوم آپ کے خلاف متحد اور متفق ہوگئے۔ اب ضروری تھا کہ دشمنوں کے اس ناپاک اتحاد کو توڑنے کے لیے آپ اپنے وسائل بروئے کار لاتے ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مختلف قبائل کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرتے ، کیونکہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کے درمیان محکم ترین رابطہ رشتہ داری کا رابطہ شمار ہوتا تھا اور کسی قبیلے کے داماد کو اس قبیلے والے ہمیشہ اپنے میں سے سمجھتے تھے اور اس کی حمایت کرنااپنا فریضہ جانتے تھے اوراسے چھوڑ دینا گناہ تصور کرتے تھے۔ ہمارے پاس بہت سے قرائن موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ آنحضرت کی یہ شادیاں بہت سے موارد میں سیاسی اہمیت کی حامل تھیں اور بعض شادیاں مثلًا زینب کے ساتھ ازدواج زمانہ جاہلیت کی غلط رسوم کو توڑنے کے لیے تھی جس کی تفصیل اسی سوره کی آیت 28 کے ذیل میں بیان کی جاچکی ہے۔ اور کچھ دوسری شادیاں متعصب لوگوں اور ہٹ دھرم قوموں کی دشمنی میں کمی کرنے یا ان سے دوستی پیدا کرنے کے لیے تھیں،واضح ہے کہ جو شخص 25 سال کی عمر میں جوکہ عنفوان شباب کا دور ہوتا ہے، ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سے شادی کرتا ہے اور 53 سال کی عمر تک اسی بیوہ خاتون کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کرتا ہے اوراسی طرح وہ اپنی جوانی کی بہاریں گزارنے کے بعد جب بڑھاپے کی خزاں میں قدم رکھتا ہے تو متعدد شادیاں کرتا ہے ۔ تو اس کا یہ عمل یقینًا کسی فلسفے سے خالی نہیں ہے اور کسی بھی حساب سے اسے جنسی لگاؤ سے متہم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود کہ متعدد شادیاں اس زمانے کے عربوں میں ایک عام اور معمول کی طریقہ تھا ۔ کہ بعض اوقات پہلی بیوی دوسری بیوی کی خواستگاری کےلیے جایا کرتی تھی اور ازواج کی تعداد پرکسی قسم کی پابندی نہیں تھی اور پھرآنحضرت کے لیے عالم جوانی میں متعدد شادیاں کرنے سے نہ کوئی اجتماعی اور معاشرتی مسئل حائل تھانہ مالی حالت اور نہ ہی یہ کام کسی قسم کا کوئی عیب اور نقص شمار ہوتا تھا۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ تاریخ میں ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ہی "باکره" عورت سے شادی کی تھی جن کا نام عائشہ ہے ، باقی سب بیویاں تھیں ، جو فطری طور پر جذبات کو ابھارنے کا باعث ہرگز نہیں بن سکتی تھیں ۔ ؎1 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 22 ص 191 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بلکہ میں تاریخوں میں یہاں تک بھی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے عقد تو بہت سی خواتین سے ہوا ۔ لیکن بات عقد کی حد تک محدود رہی اور بس! حتٰی کہ کئی صورتوں میں تو صرف بعض قبائل کی عورتوں کی خواستگاری کو کافی سمجھا گیا ہے. ؎1 وہ لوگ صرف اسی حد تک خوش تھے اور فخرو مباہات کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی کسی عورت کو پیغمبر کی زوجہ ہونے کا شرف اور اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس طرح سے ان کا معاشرتی تعلق پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ مزید مستحکم ہوجاتا اور وہ آنحضرت کی حامیت اذران کا دفاع کرنے میں زیادہ مصمم ہوجاتے۔ پھر یہ کہ انحضرتؐ یقینًا عقیم نہیں تھے۔ اس کے باوجود آپؐ نے جو اولاد چھوڑی ہے وہ نہایت ہی کم ہے۔ حالانکہ اگر ان عورتوں سے یہ شادیاں جنسی جذبے کی تسکین کے لیے ہوتیں تو چاہیئے تھاکہ آپ کے ہاں کثیر تعداد میں اولاد ہوتی۔ نیز یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ان بیویوں میں سے بعض مثلًا حضرت عائشہ جس وقت آنحضرتؐ کی زوجیت میں آئیں تواس وقت بہت ہی کم سن تھیں اور کئی ساں گزارنے کے بعدرایک بیوی ہونے کے قابل ہوئیں ، تو یہ امرواضح کرتا ہے کہ اس قسم کی "بیوی" سے شادی کرنے کا کچھ اور ہی مقصد تھا اور وہ وہی تھا ، جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ اگرچه دشمنان اسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہڑٖ وسلم کی متعدد ازواج کو اپنے مطلب کا ثبوت قرار دے کر اپنے شدید ترین معاندانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور کئی جھوٹے افسانے تراشے ہیں ، لیکن ایک تو متعدد ازواج کے زمانے میں رسول اکرمؐ کی پیرانہ سالی ، دوسرے ان خواتین کے سن اور قبائلی کیفیت اور تیسرے وہ قرائن پر ابھی بیان ہوچکے ہیں، اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں اور معاندین کی سازشوں کو طشت ازبام کردیتے ہیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 22 ص 192
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:50
3- ھبہ اورصیغہ کا نکاح
3- ھبہ اورصیغہ کا نکاح: اس آیت سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ نکاح کا اجراء لفظ "ہبہ" جے ساتھ صرف پیغمبر کے ساتھ مخصوص تھا اور دوسرا کوئی بھی شخص اس قسم کے لفظ سے عقد نکاح جاری نہیں کرسکتا لیکن اگر عقد کا اجراء نکاح کے لفظ کے ساتھ انجام پائے تو پھرجائز ہے کہ حق مہر کا نام نہ لیا جائے ، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ حق مہر کے ذکر نہ کرنے کی صورت میں "مہر المثل" ادا کرنا چاہیئے۔ (جس کی حقیقت وہی ہے جو مہرالمثل کی تصریح میں گزر چکی ہے )۔