وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا
A faithful man or woman may not have any option in their matter, when Allah and His Apostle have decided on a matter, and whoever disobeys Allah and His Apostle has certainly strayed into manifest error.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:36
[Pooya/Ali Commentary 33:36] Refer to the commentary of verses 4, 5 and 28 to 32 of this surah about Zayd, Zaynab and the Holy Prophet. Zayd's marriage with the Holy Prophet's cousin Zaynab daughter of Jahsh was celebrated in Makka eight years before the hijrat. At the time of their marriage when she was informed by the Holy Prophet she did not like the proposal, so her brother Abdullah bin Jahsh; and both of them, according to Imam Muhammad bin Ali al Baqir, wanted to exercise their freedom of choice in this matter, then this verse was revealed. We must not put our own wisdom in competition with Allah's wisdom. We must accept it loyally, and do the best we can to carry it out. We must make our will consonant to the will of Allah. Also refer to the commentary of Nisa: 65. Zaynab the high-born could not reconcile herself with Zayd. Both were good believers, and both loved the Holy Prophet; but there was mutual incompatibility and this proved to be the cause of separation between them. Zayd wished to divorce her. The Holy Prophet tried his best to prevent separation between them, because Zaynab's reputation would be ruined, but as marriage should be according to Allah's plan, a source of happiness, not torture, Islam permits the bond of marriage to be dissolved, provided that all interests concerned are safeguarded. Refer to the commentary of Nisa : 3 for polygamy and al Baqarah: 227 to 237 for divorce. After the divorce Zaynab's misery as a widow began to disturb the family of Banu Hashim. In fact, Zaynab's parents wanted to give Zaynab's hand to the Holy Prophet right from the beginning, but at the Holy Prophet's command she was married to Zayd. Now she, and her brothers and other members of the family asked the Holy Prophet to marry her. Then the verse 37 was revealed and the Holy Prophet married her. The issue of an adopted son has been dealt with in the commentary of verse 4 of this surah. Aqa Mahdi Puya says: "An adopted son is not the real son", and all other Quranic injunctions are valid in all ages. "You did fear the people" implies that the right course should be followed, whether the people like it or not, as said in verse 54 of Ma-idah: "They fear not the censure of the censurers." Prophethood does not deprive the prophet and his family of essential human rights divinely legislated for all.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:36-38
سوره احزاب / آیه 36 -38
(36) وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُـوْنَ لَـهُـمُ الْخِيَـرَةُ مِنْ اَمْرِهِـمْ ۗ وَمَنْ يَّعْصِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِيْنًا (37) وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّـذِىٓ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّـٰهَ وَتُخْفِىْ فِىْ نَفْسِكَ مَا اللّـٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَۚ وَاللّـٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْـهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَىْ لَا يَكُـوْنَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِىٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَآئِهِـمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ اَمْرُ اللّـٰهِ مَفْعُوْلًا (38) مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّـٰهُ لَـهٝ ۖ سُنَّـةَ اللّـٰهِ فِى الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَكَانَ اَمْرُ اللّـٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ترجمہ (36) کوئی با ایمان مرد اور باایمان عورت یہ حق نہیں رکھتے کہ خدا وراس کا رسول کسی امر کو لازم سمجھیں تو وہ خدا کے فرمان کے مقابلے میں ، اپنی طرف سے خودمختارہوں اور بوشخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں گرفتار ہے۔ (37) وہ وقت یاد کرو جب اس شخص کو جسے خدا نے نعمت دی تھی اور تم نے بھی اس پر احسان کیا تھا ، تم اس سے کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور خدا سے ڈرو (اور تم اسے یہ بات بار بار کہتے تھے) اور تم اپنے دل میں ایک چیز چھپائے ہوئے تھے کہ جسے خدا نے آشکار کرنا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس بات کے زیادہ لائق ہےکہ اس سے ڈرو ۔ جس وقت زید اپنی بیوی سے جدا ہوا تو ہم نے اس کی بیوی کا نکاح تم سے کردیا تاکہ مومنیں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹیوں کی بیویوں سے مطلقہ ہونے کے بعد شادی کرنے میں کوئی مشکل باقی نہ رہے اور خدا کا فرمان تو پورا ہوکر رہتا ہے۔ (38) جو چیز خدا نے بنی پرفرض کی ہے ، اس کے بارے میں پیغمبر پر کسی قسم کا جرم نہیں ہے ، خدا کی سنت ان لوگوں کے بارے میں بھی جاری ہے جو اس سے پہلے تھے اور خدا کا فرمان ٹھیک ٹھیک اور حساب و کتاب کے مطابق ہے.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:36-38
شان نزول
شان نزول اکثر اسلامی مؤرخین اور مفسرین کے مطابق زیر نظر آیات (رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد) زینب بنت حجش اور آنحضرت سے آزادکردہ غلام زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ زمانہ بعثت سے پہلے اور اس کے بعد جب کہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی نے پیغمبراسلام سے شادی کی تو حضرت خدیجہ نے زید نامی ایک غلام خریدا ، جسے بعدمیں آنحضرتؐ کو ہبہ کردیا۔ آپ نے اسے آزاد کردیا چونکہ اس کے قبیلے نے اسے اپنے سے جدا کردیا تھا، لہذا رسول رحمت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے اپنا بنالیا تھا، جس اصطلاح میں متبنٰی کہتے ہیں۔ ظہوراسلام کے بعد زیدکے بعد مخلص مسلمان ہوگیا اور اسلام کے ہراول دستے میں شامل ہوگئے اوراسلام میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا۔ آخری میں جنگ موتہ میں ایک مرتبہ لشکراسلام کے کمانڈر بھی مقرر ہوئے اوراسی جنگ میں شربت شہادت نوش کیا۔ جب سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زید کا عقد کرنا چاہا تو اپنی پھوپھی زاد ، زینب بنت امیہ بنت عبدالمطلب سے اس کے لیے خواستگاری کی ، زنیب نے پہلے تو یہ خیال کیا کہ آنخضرت اپنے لیے اسے انتخاب کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ خوش ہوگئی اور رضامندی کا اظہار کردیا ، لیکن بعد میں جب اسے پتہ چلا کہ آپ کی یہ خواستگاری تو زید کے لیے تھی تو سخت پریشان ہوئی اور انکار کردیا۔ ان کے بھائی عبداللہ نے بھی اس چیزی سخت مخالفت کی۔ یہی وہ مقام تھا جس کے بارے میں زیر تبصرہ آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور زینب اور عبداللہ جیسے افراد کو تنبیہ کی کہ جس وقت خدا اور اس کا رسول کسی کو ضروری سمجھیں تووہ مخالفت نہیں کرسکتے۔ جب انھوں نے یہ بات سنی تو سرتسلیم خم کردیا۔ (البتہ آگے چل کرمعلوم ہوگا کہ یہ شادی کوئی عام شادی نہیں تھی بلکہ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لیے ایک تمہید تھی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کسی باوقار اور مشہور خاندان کی عورت کسی غلام کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی ، چاہے وہ غلام کتناہی اعلٰی قدر وقیمت کا مالک کیوں نہ ہوتا۔ لیکن یہ شادی زیادہ دیرتک نہ نبھ سکی اور طرفین کے درمیان اخلاق ناچاقیوں کی بدولت طلاق تک نوبت جا پہنچی ۔اگرچہ پیغمبراسلام کا اصرار تھا کہ یہ طلاق واقع نہ ہو لیکن ہوکررہی۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم نے شادی میں ان کا ناکامی کے تلافی کےطور پر زینب کو حکم خدا کے تحت اپنے حبالہ عقد میں لے لیا اور یہ بات یہیں پر ختم ہوگئی۔ لیکن دوسری باتیں لوگوں کے درمیان چل نکلیں جنہیں قرآن مجید نے بعض زیر بحث آیات کے ذریعے ختم کردیا، جن کی تفصیںل انشاءاللہ بھی آئے گی۔ ؎1 شان نزول اکثر اسلامی مؤرخین اور مفسرین کے مطابق زیر نظر آیات (رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد) زینب بنت حجش اور آنحضرت سے آزادکردہ غلام زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ زمانہ بعثت سے پہلے اور اس کے بعد جب کہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی نے پیغمبراسلام سے شادی کی تو حضرت خدیجہ نے زید نامی ایک غلام خریدا ، جسے بعدمیں آنحضرتؐ کو ہبہ کردیا۔ آپ نے اسے آزاد کردیا چونکہ اس کے قبیلے نے اسے اپنے سے جدا کردیا تھا، لہذا رسول رحمت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے اپنا بنالیا تھا، جس اصطلاح میں متبنٰی کہتے ہیں۔ ظہوراسلام کے بعد زیدکے بعد مخلص مسلمان ہوگیا اور اسلام کے ہراول دستے میں شامل ہوگئے اوراسلام میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا۔ آخری میں جنگ موتہ میں ایک مرتبہ لشکراسلام کے کمانڈر بھی مقرر ہوئے اوراسی جنگ میں شربت شہادت نوش کیا۔ جب سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زید کا عقد کرنا چاہا تو اپنی پھوپھی زاد ، زینب بنت امیہ بنت عبدالمطلب سے اس کے لیے خواستگاری کی ، زنیب نے پہلے تو یہ خیال کیا کہ آنخضرت اپنے لیے اسے انتخاب کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ خوش ہوگئی اور رضامندی کا اظہار کردیا ، لیکن بعد میں جب اسے پتہ چلا کہ آپ کی یہ خواستگاری تو زید کے لیے تھی تو سخت پریشان ہوئی اور انکار کردیا۔ ان کے بھائی عبداللہ نے بھی اس چیزی سخت مخالفت کی۔ یہی وہ مقام تھا جس کے بارے میں زیر تبصرہ آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور زینب اور عبداللہ جیسے افراد کو تنبیہ کی کہ جس وقت خدا اور اس کا رسول کسی کو ضروری سمجھیں تووہ مخالفت نہیں کرسکتے۔ جب انھوں نے یہ بات سنی تو سرتسلیم خم کردیا۔ (البتہ آگے چل کرمعلوم ہوگا کہ یہ شادی کوئی عام شادی نہیں تھی بلکہ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لیے ایک تمہید تھی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کسی باوقار اور مشہور خاندان کی عورت کسی غلام کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی ، چاہے وہ غلام کتناہی اعلٰی قدر وقیمت کا مالک کیوں نہ ہوتا۔ لیکن یہ شادی زیادہ دیرتک نہ نبھ سکی اور طرفین کے درمیان اخلاق ناچاقیوں کی بدولت طلاق تک نوبت جا پہنچی ۔اگرچہ پیغمبراسلام کا اصرار تھا کہ یہ طلاق واقع نہ ہو لیکن ہوکررہی۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم نے شادی میں ان کا ناکامی کے تلافی کےطور پر زینب کو حکم خدا کے تحت اپنے حبالہ عقد میں لے لیا اور یہ بات یہیں پر ختم ہوگئی۔ لیکن دوسری باتیں لوگوں کے درمیان چل نکلیں جنہیں قرآن مجید نے بعض زیر بحث آیات کے ذریعے ختم کردیا، جن کی تفصیل انشاءاللہ بھی آئے گی۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ------ ؎1 تفسیر مجمع البیان ، تفسیر قرطبی ، تفسیرالمیزان ، تفسیر فخرالرازی ، تفسیر ظلال القرآن اور دوسری تفاسیر زیر بحث آیات کے ذیل میں اسی طرح سیرۃ ابن ہشام ، جلد اول ص 264 اور کامل ابن اثیرجلد 2 ص 277۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:36-38
1- جھوٹے افسانے
چند اہم نکات 1- جھوٹے افسانے: پیغمبراسلام کی زینب کے ساتھ شادی کی داستان قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کردی ہے اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس کا ہدف منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کے ذریعے دور جاہلیت کی ایک رسم کو توڑنا تھا ، اس کے باوجود دشمنان اسلام نے اسے غلط رنگ دے کر ایک عشقیہ داستان میں تبدیل کردیا۔ اس طرح سے انہوں نے پیغمبراکرم کی ذات والا صفات کو آلودہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور اس بارے میں مشکوک اور جعلی احادیث کا سہارا لیا ہے۔ ان داستانوں میں ایک یہ بھی ہے کہ جس وقت رسول اکرم زید کی احوال پرسی کے لیے اس کے گھر گئے اور جونہی آپؐ نے دروازہ کھولا تو آپ کی نظر زینب کے حسن و جمال پرجا پڑی تو آپؐ نے فرمایا: "سبحان الله خالق النورتبارك الله احسن الخالقين"۔ منزہ ہے وہ خدا جونور کا خالق ہے اور جاوید و بابرکت ہے وہ اللہ جو احسن الخالقین ہے"۔ ان لوگوں نے اس جملے کو زینب کے ساتھ آنحضرت صلی الله علیہ والہٖ وسلم کے لگاؤ کی دلیل قرار دیا ہے، حالانکہ عصمت و نبوت کے مسئلے سے قطع نظر بھی اس قسم کے افسانوں کی تکذیب کے واضح شواہد ہمارے پاس موجود ہیں: پہلایہ کہ حضرت زینب ، رسول پاکؐ کی پھوپھی زاد تھیں اور خاندانی ماحول میں تقریبًا آپ کے سامنے بڑھی پلی تھیں اور آپؐ ہی نے زید کےلیے ان کی خواستگاری کی تھی۔ اگرزینب حد سے زیادہ حسین تھیں اور بالفرض اس کے حسن و جمال نے پیغمبراکرم کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرلیاتھا تو نہ تو اس کاحسن و جمال ڈھکا چھپا تھا اور نہ ہی اس ماجرے سے پہلے ان کے ساتھ آنحضرتؐ کا عقد کرنا کوئی مشکل امر تھا۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو زینب کوزید کے ساتھ شادی کرنے سےدلچسپی نہ تھی ، بلکہ اس بارے میں انہوں نے اپنی مخالفت کا اظہارصراحت کے ساتھ بھی کردیا تھا اور وہ اس بات کو کاملًا تریجح دیتی تھیں کہ زید کی بجائے رسول اللہ کی بیوئی بنیں ، کیونکہ جب آنحضرت زید کے لیے زینب سے خواستگاری کرنے آئے تو وہ نہایت خوش ہوگئیں ، کیونکہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ آپؐ ان سے اپنے ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- -- ؎1 عظیم مفسر طبرسی مرحوم "مجمع البیان" میں اس طرح نقل کرتے ہیں کہ "فتزوجها رسول الله ..... وما اولم علی امرءة من نسائه ما اولم عليها، ذبح شاۃ واطعم الناس الخيز واللحم ،حتي امتد النهار ۔ (مجمع البیان جلد 8 ص 361)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- لیے خواستگاری کی غرض سے تشریف لائے ہیں ، لیکن بعد میں قرآن کی آیت کے نزول اور خدا و پیغمبر کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے زید کے ساتھ شادی کرنے پر راضی ہوگئیں۔ توان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تو ہم کی کونسی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ آپؐ زنیب کے حالات سے بے خبر تھے ؟ یا آپ ان سے شادی کی خواہش رکھتے ہوئے بھی اقدام نہیں کرسکتے تھے؟ دوسرا یہ کہ جب زید نے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف رجوع کیا تو آپؐ نے بار بار اسے نصحیت کی اور طلاق دینے کے لیے روکا اور یہ چیز بجائے خود ان افسانوں کی نفی کا ایک اور شاہد ہے۔ پهر یہ کہ خود قرآن صراحت کے ساتھ اس شادی کا مقصد بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کی دوسری باتوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چوتھا امر یہ ہے کہ آیت بالا میں خداوند عالم اپنے پیغمبر فرماتا ہے کہ زید کی مطلقہ بیوی کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی خاص بات تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں سے ڈرتے تھے، جبکہ انھیں صرف خدا سے ہی ڈرنا چاہیے ۔ خوف خدا کا مسئلہ واضح کرتا ہے کہ یہ شادی ایک فرض کی بجا آوری کے طور پر انجام پائی تھی کہ خدا کی ذات کے لیے شخصی معاملات کو ایک طرف رکھ دینا چاہئے تاکہ ایک خدائی مقدس ہدف پورا ہو۔ اگرچہ اس سلسلے میں کور دل دشمنوں کی زبان سے زخم اور منافقین کی افسانہ طرازی کا پیغمبرکی ذات پرالزام ہی کیوں نہ آتا ہو۔ پیغمبراکرم نے حکم خدا کی اطاعت اور غلط رسم کو توڑنے کی پاداش میں یہ ایک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اوراب تک کررہے ہیں۔ لیکن سچے رہبروں کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آجاتے ہیں ، جن میں انھیں ایثار اور فدا کاری کا ثبوت دینا پڑتا ہے، اور وہ اس قسم کے لوگوں کے اتہامات اور الزامات کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ، تاکہ اس طرح سے وہ اپنے اصل مقصد تک پہنچ جائیں۔ البتہ اگر پیغمبرگرامیؐ قدر نے زینب کو بالکل ہی نہ دیکھا ہوتا اور نہ ہی پہچانا ہوتا اور زینب نے بھی آپؐ کے ساتھ ازدواج کے بارے میں رغبت کا اظہار نہ کیا ہوتا اور زید بھی انھیں طلاق دینے پر تیار نہ ہوتے (نبوت وعصمت کے مسئلہ سے ہٹ کر) پھرتو اس قسم کی گفتگو اوران تو ہمات کی گنجائش ہوتی، لیکن پیغمبر کی تو وہ دیکھی دکھائی تھیں لہذا ان تمام امکانات کی نفی کے ساتھ ان افسانوں کا جعلی اور من گھڑت ہونا واضح ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں نبی اکرمؐ کی زندگی کا کوئی لمحہ یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو زینب سے کوئی خاص لگاؤ اور رغبت ہو، بلکہ دوسری بیویوں کی طرح اور شاید ان میں سے بعض دوسری بیویوں کی نسبت ان سے کم رغبت رکھتے تھے اور ان افسانوں کی نفی پر یہ ایک اور دلیل ہے. آخری بات جس کی طرف ہم یہاں پر اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس غلط رسم کو مٹانا تو ضروری تھا، لیکن اس کی کیا ضرورت تھی کہ خود آنحضرت ہی اس کے لیے عملی اقدام اٹھائیں۔ آپ یہ بھی کرسکتے تھے کہ اس مسئلے کو قانون کی صورت میں بیان کردیتے اور دوسروں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے شادی کرنے کی ترغیب دلاتے۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیئے کہ بعض اوقات ایک جاہلانہ اور غلط رسم کا خاتمہ خاص کر شادی بیاہ کے سلسلے میں اور وہ بھی ایسے افراد سے جو دنیا کی نگاہوں میں کم حیثیت ہوتے ہیں ، صرف گفتگو سے ممکن نہیں ہوتا، بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ کام اچھا ہے تو پیغمبر اسے خود کیوں نہیں انجام دیتے؟ اپنے آزاد شدہ غلام کی مطلقہ بیوی سے خود شادی کیوں نہیں کرتے؟ وغیره ۔ اس قسم کے مواقع پر ایک عملی نمونہ اس طرح کے تمام اعترضات کو ختم کردیتا ہے ، فیصلہ کن انداز میں وہ غلط رسم ٹوٹ جاتی ہے قطع نظر اس کے کہ یہ عمل بذات خود ایک قسم فداکاری اور ایثار بھی تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:36-38
2- حق کے سامنے جھک جانا ہی عین اسلام ہے
2- حق کے سامنے جھک جانا ہی عین اسلام ہے: اس میں شک نہیں کہ انسان کا فکری اور روحانی استقلال اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہرکسی کے سامنے سرتسلیم خم کردے ، کیونکہ وہ بھی اس کی طرح کا انسان ہے اور ہوسکتا ہے کہ کئی مسائل میں وہ (جس کے سامنے جھکایا جارہاہے) غلطی میں مبتلا ہو۔ لیکن جب مسئلے کا سلسلہ عالم اورحکیم خدا اور اس کے پیغمبر تک جاپہنچتا ہو ، جو خدا کے حکم کے ساتھ بولتا اور اسی کے حکم کے مطابق قدم اٹھاتا ہو تو اب مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کرنا گمراہی کی دلیل ہوگا ، کیونکہ اس کا حکم اور فرمان ہر قسم کے شائبہ تک سے پاک ہوتا ہے۔ نیز اس سے قطع نظر کہ اس کا فرمان خود انسان ہی کے مفاد میں ہوتاہے اور خدا کی پاک ذات کو تو کوئی چیز بھی فائدہ نہیں پہنچاتی تو کیا پھربھی ممکن ہے کہ کوئی عقلمند انسان اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اپنے مفادات اور صالح کو پامال کردے؟ ان سب باتوں سے ہٹ کر ، ہم اس کی ملکیت ہیں اور ہمارے پاسں جوکچھ بھی ہے ، اس کا دیا ہوا ہے اوراس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ اس لیے قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات دکھائی دیتی ہیں جو اس مسئلے کی طرف اشاره کرتی ہیں۔ کوئی آیت کہتی ہے : "انما کان قول المومنین اذا دعوا الى الله ورسوله ليحكم بینهم ان يقولوا سمعنا و اطعنا واولئك هم المفلحون." (النور۔۔۔۔۔۔ 51)۔ "انبیاء کے حقیقی پیروکار وہی لوگ ہیں جو خدا اور اس کے رسول کا حکم سن کر کہتے ہیں ۔ ہم نے سنا اور اطاعت کی "۔ "فلا وربک لا يؤمنون حتٰی یحكموك فيما شجر بينهم ثم لایجد وافی انفسهم حرجًا مما قضيت ويسلموا تسليمًا"۔ (نساء / 65)۔ "تمھارے پروردگار کی قسم کی وہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ، جب تک کہ تجھے اپنے اختلافات میں حاکم اور فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کرلیں اور پھر تیرے کیے ہوئے فیصلے سے ذرہ برابر بھی ناراضی کا اظہار نہ کریں اور مکمل طور پر سر تسلیم خم کریں۔" کبھی قرآن کہتا ہے : "ومن احسن دینًاممن اسلم وجهه لله وهو محسن" (نساء/ 125) "کسی شخص کا دین اس شخص سے بہترہے جو اپنے پورے وجود کے ساتھ پروردگار کے سامنے جھک گیا جبکہ وه نیکوکار بھی ہے"۔ اصولی طور پراسلام تسلیم کے مادہ سے لیاگیا ہے اور وہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے ۔ اس بناء ہر شخص جس قدرحق کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اسی قدر روح اسلام سے ہبرمند ہے۔ اس سلسلے میں لوگوں کی کئی قسمیں ہیں: ایک گروہ صرف ان امور میں فرمان حق تعالٰی کے سامنے جھکتاہے ، جن میں اس کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ مشرک ہوتے ہیں جنہوں نے اپنا نام "مسلم" رکھا ہوا ہوتا ہے ، ان کا کام "تومن ببعض ونكفر ببعض" کے مصداقص احکام الٰہی کصے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہوتا ہے۔ حتی کہ اگر وہ ایمان بھی لاتے ہیں تو حقیقت میں اپنے مفاد کے لیے ایمان لاتے ہیں نہ کہ حکم خدا پر۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے، جن کا ارادہ اور خوابش خدا کے ارادے اور خواہش کے تابع ہو تی ہے۔ جس وقت ان کے مفادات فرمان حق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں تو وہ اپنے مفادات سے دستکش ہوکر فرمان خدا کے سامنے جھک جاتے ہیں ۔ یہی سچے مومن اور پکے مسلمان ہوتے ہیں۔ تیسرا گروہ مذکورہ دونوں گروہوں سے برتر اور افضل ہوتا ہے ، یہ لوگ اصولی طور پر وہی کچھ چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے اور وہی ارادہ کرتے ہیں جو خدا کرتا ہے۔ یہی ان کی تمنا اور منتہائے مقصود ہوتا ہے ، وه اس مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ صرف اسی چیز کو پسند کرتے ہیں جسے خدا پسند کرتا اور کس چیز سے نفرت کرتے ہیں ، جس سے خدا نفرت کرتا ہے۔ یہی لوگ اس کی بارگاہ کے خواص ، مخلصین اور مقربین ہوتے ہیں ۔ جن کا سارے کا سارا وجود رنگ توحید میں رنگا ہوتا ہے، اس کی محبت میں غرق اوراس کے جمال میں محو ہوتا ہے ۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس سلسلہ میں ایک اور بحث بھی جلد 3 میں سورہ نساء کی آیہ 65 کے ذیل میں ہو چکی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:36-38
ایک بہت بڑی رسم ٹوٹتی ہے
تفسیر ایک بہت بڑی رسم ٹوٹتی ہے : سب جانتے ہیں کہ اسلام کی روح تسلیم ہے اور وہ بھی حکم خدا کے سامنے غیرمشروط طور پر ، یہ معنی قرآن کی مختلف آیات اورعبارات سے ظاہر ہوتا ہے ، منجملہ ان کے مندرجہ بالا آیت ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کسی ایماندار مرد اور باایمان عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کو ضروری سمجھیں تو حکم خدا کے سامنے ان کا اپنا اختیار چلے"۔ (وماکان لمومن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسولہ امرًا ان يكون لهم الخيرة من امر هم)۔ انھیں چاہیئے کہ وہ اپنا ارادہ حق تعالٰی کے ارادے کے تابع کرلیں جیسا کہ ان کا وجود سراپا اسی کے ساتھ وابستہ ہے ۔ "قضي" یہاں پرقضاۓ تشریعی" قانون ، فرمان اور فیصلہ دبنے کے معنی میں ہے اور واضح سی بات ہے کہ نہ توخدا لوگوں کی اطاعت اور تسلیم کا محتاج ہے اور نہ ہی پیغمبراکرم کو ان سے کسی قسم طمع ، بلکہ حقیقت میں خود ان لوگوں کو اپنا فائدہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اپنے علم و معرفت کے محدود ہونے کی وجہ سے وہ باخبر نہیں ہو پاتے لیکن خدا تو جانتا ہے اور اپنے پیغمبر کو حکم بھی دیتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح سے ایک ماہر طبیب بیمار سے کہتا ہے کہ میں اس صورت میں تمہارا علاج کروں گا جب تم میری ہدایت کو بسروچشم نے قبول کروگے اوراپنی طرف سے خود مختار نہیں بنوگے۔ درحقیقت یہ بات بیمار کے بارے میں طبیب کی ولی شفقت اور انتہائی دل سوزی کی دلیل ہوتی ہے اور خدا تو اس قسم کے طبیب سے بدرجہا اولٰی اور برتر ہے ۔ اسی لیے آیت کے آخر میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :"جوشخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی کا شکار ہوگا"۔ (ومن يعص الله ورسوله فقد ضل ضلالاًمبينًا)۔ وہ راہ سعادت کھودے گا اور بے راہروی اور بدبختی کا شکار ہوجائے گا ۔ کیونکہ اس نے مہربان خدا اور اس کے رسولؐ کے فرمان کی پروا نہیں کی جو خیروسعادت کا ضامن ہے. اس سے بڑ کر اور واضح گمراہی کیا ہوسکتی ہے؟ اس کے بعد زید اور اس کی بیوی زینب کی اس مشہور داستان کو بیان کیا گیا ہے جو پیغمبراسلام صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی کے حساس مسائل میں سے ایک ہے اور ازواج رسول کے مسئلہ سے مربوط ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔" اس وقت کو یاد کرو جب اس شخص کو جسے خدانے نعمت دے رکھی تھی اورتم نے (بھی اے رسولؐ !) اسے نعمت دی تھی اور تم کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور خدا سے ڈرو"۔ (واذ تقول للذي انعم الله عليه وانعمت عليه امسك عليك زوجك واتق الله) - نعمت خدا سے مراد وہی ہدایت اور ایمان کی نعمت ہے جو زید بن حارثہ کو نصیب ہوئی تھی اور پیغمبر کے نعمت یہ تھی کہ آپ نے اسے آزاد کیا تھا اور اپنے بیٹے کی طرح اسے عزت بخشی تھی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زید اور زینب کے درمیان کوئی جھگڑا ہوگیا تھا اور یہ جھگڑا اس قدر طول پکڑگیا کہ نوبت جدائي اوع طلاق تک جا پہنچی۔ اگر "تقول" کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ فعل مضارع ہے اور اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ آنحضرت بارہا بلکہ ہمیشہ اسے نصیحت کرتے اور روکتے تھے۔ کیا زینب کا یہ نزاع زید کی سماجی حیثیت کی بناء پرتھا جو زینب کی معاشرتی حیثیت سے مختلف تھی ؟ کیونکہ زینب کا ایک مشہور و معروف قبیلہ سے تعلق تھا اور زید آزاد شده تھا ۔یازید کی اخلاقی سختیوں کی وجہ سے تھا؟ یا ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی ، بلکہ دونوں میں روحانی اور اخلاقی موافقت اور ہماآہنگی نہیں تھی ؟ کیونکہ ممکن ہے دو افراد اچھے تو ہوں لیکن فکر و نظر اور سلیقہ کے لحاظ سے ان میں اختلاف ہو جس کی بناء پردہ اپنی ازدواجی زندگی کو آیندہ کے لیے جاری نہ رکھ سکتے ہوں ؟ بہرحال مسئلہ اس حد تک پیچیدہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے۔" تم اپنے دل میں ایک چیز کو چھپائے ہوئے تھے جسے خدا آشکار کرتا ہے اور تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ خدا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرو ": وتخفی فی نفسك ما الله مبدیہ وتخشى التاس و الله احق ان تخشاه)۔ مفسرین نے اس مقام پر بہت سی باتیں کی ہیں اور بعض لوگوں کی تعبیرات میں لاپرواہی اور نافہمی کے سبب دشمن کے ہاتھ بہانے آگئے، حالانکہ ان قرائن سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ آیات کے شان نزول اور تاریخ میں یہ بات موجود ہے کہ پیغمبر کی نظرمیں تھا کہ اگران میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی نہیں ہو پاتی اور نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے تو وه اپنی پھوپھی زاو زینب کی اس ناکامی کی تلافی اپنے ساتھ نکاح کی صورت میں کردیں گے ، اس کے ساتھ آپؐ کو یہ خطرہ بھی لاحق تھاکہ لوگ دو وجوہ کی بنا پر آپ پر اعتراض کریں گے اور مخالفین ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کردیں گے۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ زید آنحضرت کا منہ بولا بیٹا تھا، اور زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق بولے بیٹے کے بھی وہی احکام ہوتے تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ بھی تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بھی شادی کرنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ دوسری یہ کہ رسول اکرمؐ کیونکر اس بات پر تیار ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ سے عقد کریں جبکہ آپؐ کی شان بہت بلند و بالا ہے۔ بعض اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے یہ ارادہ حکم خداوندی سے کیا ہوا تھا اور آیت کے بعد والے حصےمیں بھی اس بات کا قرینہ موجود ہے۔ اسی بناء پریہ مسئلہ ایک تو اخلاقی اور انسانی مسئلہ تھا اور دوسرے یہ زمانہ جاہلیت کی دو غلط رسموں کو توڑنے کا ایک نہایت ہی مؤثر ذریعہ تھا. (یعنی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے ازدواج . اور آزاد کردہ غلام کی مطلقہ سے عقد)۔ مسلم ہے کہ پیغمبرؐ کوان مسائل میں نہ تو لوگوں سے ڈرنا چاہیئے تھا اور نہ ہی فضا کے مکدر ہونے اور زہریلے پروپیگنڈا سے خوف زدہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بہرحال کی فطری بات ہے کہ انسان اس قسم کے مواقع پرخصوصًا جہاں بیوی کے انتخاب کا مسئلہ ہو تو خوف و وحشت کا شکار ہوہی جاتا ہے ، خاص کرجب یہ احتمال ہو کہ ایک جنجال کھڑا ہوجائے گا اور آپؐ کے مقدس مشن کی ترقی اور اسلام کی پیش رفت کے لیے رکاوٹ کھڑی ہوجائے گی اور یہ بات ضعیف الایمان افراد کو متزلزل کردے گی اور ان کے دل میں شکوک و شبات و پیدا ہوجائیں گے۔ اس لیے آیت کے آخرمیں فرمایاگیا ہے۔ جس وقت زید نے اپنی حاجت کو پورا کرلیا اوراپنی بیوی کو چھوڑدیا تو ہم اسے تمہاری زوجیت میں لے آئے تاکہ منہ بولے بٹیوں کے مطلقہ ہوںے کے مطلقہ ہونے کے بعد مومنین کو ان سے شادی کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو"۔ (فلمًا قض زيد منها وطرًازوجناكها لكي لا يكون على المومنین حرج في ازواج ادعیابهم اذا قضوا منهن وطرًا)۔ یہ کام ایسا تھا جسے انجام پاجانا چاہیئے تھا" اور خدا کا فرمان انجا پاکر رہتاہے": (وكان امرالله مفعولًا)۔ "أدعياء" "دعی" کی جمع ہے جو منہ بولے بیٹے کے معنی میں ہے، "وطر" ضرورت اور اہم حاجت کے معنی میں ہے اور "زینب" کی طلاق اور جدائی کے بارے میں اس تعبرکا انتخاب حقیقت میں لطف بیان کی وجہ سے بے تاکہ "طلاق" کا لفظ جو عورتوں کے لیے بلکہ مردوں کے لیے بھی عیب ہے ، صراحت کے ساتھ بیان نہ ہو ، گویا یہ دونوں ایک دوسرے کے احتیاج مند تھے کہ ایک مدت تک مشترکہ زندگی بسر کریں اورجب یہ احتیاج ختم ہوگئی تو ان کے درمیان جدائی واقع ہوگئی ۔ "زوجناكھا" (ہم اسے آپ کی تزویج میں لے آئے) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ازواج ، خدا کی طرف سے تھا۔اسی لیے تاریخ میں آیا ہے کہ "زینب" رسول خدا کی دوسری بیویوں پر فخرو مباہات کرتی اورکہتی تھیں: " زوجكن اهلوكن وزوجني الله من السماء"۔ "پیغمبرؐسے تمھارا نکاح تو تمھارے رشتہ داروں نے کیا لیکن میرا نکاح اللہ نے آنحضرت کے ساتھ آسمانوں میں کیا ہے. ؎1 قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن ہرقسم سے کے شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے پوری صراحت کے ساتھ اس شادی کا اصل مقصد بیان کرتا ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک کو توڑنے کے لیے تھی یعنی منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں سے شادی نہ کرنے کے سلسلے میں یہ خود ایک کلی مسئلہ کی طرف اشارے کہ پیغمبرؐ کا مختلف عورتوں سے شادی کرنا کوئی عام سی بات نہیں تھی، بلکہ اس میں کئی ایک مقاصد کا ذکرکرنا مقصود تھا جو آپؐ کے مکتب کے مستقبل انجام سے تعلق رکھتا تھا۔ "كان امراللہ مفعولا" کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں دو ٹوک فیصلہ کردینا چاہیئے اور کرنے کا کام ضرورانجام پذیر ہونا چاہیئے۔ ایسے مسائل میں جوکلی اور بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں ، ان کے سلسلہ میں دنیا کے شور شرابے اور جنجال کے ساتھ سامنے ہتھیار نہیں ڈال دینا چاہیئے۔ مذکورہ بالا آیت کی واضح تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے ضمن میں جوالزامات دشمن یا نادان دوست لگاتے ہیں ، وہ بالکل بے بنیاد ہیں اور انشااللہ ہم نکات کی بحث میں اس بارے میں مزید وضاحت کریں گے۔ آخری زیر بحث آیت گزشتہ مباحث کی تکمیل کے سلسلے میں یوں کہتی ہے، "خدا نے جو چیز پیغمبر پر واجب کردی ہے اس کے بارے میں ان کے لیے کسی قسم کی سختی اور حرج نہیں ہے": (ماكان على النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ)۔ جب خداوند عالم انھیں کوئی حکم دیتا ہے تواس کے بارے میں کسی قسم کی رو رعایت جائز نہیں ہے ۔ کسی قسم کے چون و چرا کے ہغیر اس پرعمل درآمد ہونا چاہیئے۔ آسمانی رہبروں کو خدائی احکام کے اجراء میں اِدھر اُدھر کی باتوں پر بھی کان نہیں دھرنا چاہیئے ، غلط سیاسی فضا با غلط قسم کے آداب ورسوم جو ماحول پر چھائے ہوئے ہیں، مدنظرنہیں رکھنا چاہیئے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کامل ابن اثیر جلد 2 ص 177 قابل توجہ امر یہ ہے کہ پیغمبراکرم کی زینب سے شادی پانچویں سحری میں ہوئی (حوالہ مذکررہ)- کیونکہ بعض اوقات اس قسم کے احکام انہی غلط رسومات کو مٹانے اور غلط اور رسوا کن بدعتوں کو قلع قمع کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، انہیں ولايخافون لومة لائم (مائده / 54) کا مصداق ہوتے ہوئے دنیا کی کسی سرزنش اور شور وغوغا خاطر میں نہ لاکر حکم انہی پر کاربند ہونا چاہیئے۔ اصولی طور پراگر ہم یہ چاہیں کہ جب تک فرمان خدا کے لیے سب کی رضا اور خوشنودی حاصل نہ کرلیں ، اس وقت تک کچھ نہ کریں تو یہ بات قطعًا ناممکن ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جوصرف اس دقت راضی ہوتے ہیں جب ہم ان کی تمام خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کرلیں یا ان کے مکتب کے پیرکار ہوجائیں، جیساکہ قرآن کہتا ہے۔ " ولن ترضی عنک الیھود ولا النصارٰى حتٰى تتبع ملتهم" یہود و انصاری ہرگز تجھ سے راضی نہیں ہوں گے، جب تک تو ان کے دین کی غیر شروط پیروی نہ کرے"۔ (بقراہ/120) زیربحث آیت کے بارے میں بھی معاملہ کچھ اسی طرح کا تھا، کیونکہ جیسا یہ ہے کہہ چکے ہیں ، رسول خدا صلی الله علیہ والہٖ وسلم کے زینب سے شادی کرلینے پر اس ماحول کے عام لوگوں کی نظر میں دو اعتراض تھے ایک تو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی جو ان کی نگاہ میں سگے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے کے مترادف تھا اور یہ ایسی بدعت تھی، جسے ہرحالت میں توڑنا چائیے تھا اور دوسرا ایک باوقارشخصیت یعنی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جیسے شخص کا ایک آزاد شده غلام کی مطلقہ سے شادی کرنا ۔ کیونکہ یہ چیز پیغمبر کو ایک غلام کے ہم پلہ قرار دیتی تھی اس غلط خیال کو بھی بہر صورت ختم ہونا چاہیئے تھا اوراس کی جگہ انسانی اقدار کو لینا چاہیے تھی اور میاں بیوی کا "کفو" ہونا صرف ایمان، اسلام اور تقوٰے کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیئے تھا، اور یہی ہوکررہا۔ اصولی طور پر کسی رسم ورواج کو توڑنے اور غیر انسانی آداب ورسوم کو ختم کرنے سے ہمیشہ ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے ۔ لہذا پیغبروں کو کبھی ایسے ہنگاموں کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے بعد والے جملہ میں فرمایا گیا ہے: انبیاء کے بارے میں یہ خدائی سنت گزشتہ امتوں میں بھی جاری رہ چکی ہے: (سنة الله فی الذين خلوا من قبل)۔ گویا اسے رسول ! صرف آپ ہی ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں، بلکہ تمام انبیاء غلط رسم ورواج کوتوڑتے وقت ان مشکلات سے دو چار ہوۓ تھے۔ اس معاملہ میں بے سب سے بڑی مشکل صرف یہ نہیں تھی کہ ان دو غلط رسموں کو توڑا جائے ، بلکہ آنحضرت کی شادی کامسئلہ بیچ میں آجانے کی وجہ سے عیب جوئی کے لئے دشمن کے ہاتھ میں ایک اور بہانہ بھی آتا تھا ، جس کا تفصیل بعد میں آئے گی۔ اس قسم کے بنیادی و مسائل کے فیصلہ کن ہونے کو ثابت کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: خدا کا حکم ہمیشہ جچاتلا اور صحیح صحیح پروگرام کے مطابق ہوتا ہے اور اسے نافذ العمل ہونا چاہیے" (وكان امرالله قدًامقدورًا)۔ ہوسکتا ہے کہ "قدًامقدورًا" کی تعبیر فرمان الٰہی کے حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں حکمت اور مصلحت کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے دونوں معانی مراد لیے جائیں یعنی فرمان خدا حساب و کتاب پر مبنی بھی ہے اور وہ بغیر کسی حیل و حجت کے نافذالعمل بھی ہے۔ پھرمزیدار بات یہ کہ تاریخی کتابوں میں ہے کہ پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے زینب سے ازواج کے سلسے میں کھانے کی دعوت کاایسا عمومی بندوبست کیا ، جو اس سے پہلے کسی شادی کے موقع پر دیکھنے نہیں آیا تھا۔ ؎1 اس طرح سے گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ آپ کسی طرح میں بے ہودہ اور فضول رسم و رواج سے مرعوب نہیں ، بلکہ اس خدائی حکم کے نفاذ پرفخرکرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کی نگاہ میں یہ بھی تھا کہ اس طرح سے زمانہ جاہلیت کی رسم کو توڑنے کی آواز نام جزیرۃ العرب کے رہنے والوں کے کانوں تک پہنچ جائے ۔