لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا
There is certainly a good exemplar for you in the Apostle of Allah—for those who look forward to Allah and the Last Day, and remember Allah much.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:21
[Pooya/Ali Commentary 33:21] This verse describes the rational, functional, individual, social and dynamic attitude of the sincere believers. They always kept the ideal pattern of the Holy Prophet in their minds and faithfully followed his example in letter and spirit. He was sent in this world as the perfect exemplar of all that Allah has commanded mankind to do. In blind envy his critics fail to understand the in depth meaningfulness of his way of life every smallest aspect of which contains useful and profitable guidance for mankind, in every age, for individual and collective life, from material as well as spiritual point of view, because he did not do anything or utter any word unless commanded by Allah (Najm: 2 to 10). The theory of his preaching was always demonstrated by actual practice. If he had not done so he would not have fulfilled the purpose of his advent and his ministry. He has no equal. Whatever he preached, he and his Ahlul Bayt put into practice. About his defensive wars refer to the commentary of al Baqarah: 190 to 193 and 216 and about the polygamy allowed in Islam refer to the commentary of Nisa: 3. Aqa Mahdi Puya says: Ali ibn abi Talib said: "When the fighting was most intense we always found the Holy Prophet nearest the enemy lines." Before him, his father, Abu Talib, used to say that Muhammad was the pivot around whom the Hashimite warriors would gather to take refuge and fight.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:21-27
Bodily notes are enough (history for details may be consulted). Note word “martyr” religiously is applicable to a faithful laying down his life for Divine Will under the commands of Divine Lights and not otherwise as politically commonly referred to nowadays.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
سوره احزاب / آیه 21 -25
(21) لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّـٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَـرَ اللّـٰهَ كَثِيْـرًا (22) وَلَمَّا رَاَى الْمُؤْمِنُـوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَصَدَقَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ ۚ وَمَا زَادَهُـمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا (23) مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّـٰهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْـهُـمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٝ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا (24) لِّيَجْزِىَ اللّـٰهُ الصَّادِقِيْنَ بِصِدْقِهِـمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِيْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (25) وَرَدَّ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِـهِـمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْـرًا ۚ وَكَفَى اللّـٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا ترجمہ (21) تم لوگوں کے لیے رسول خدا کی زندگی میں بہترین نمونہ تھا ان لوگوں کے لیے جو رحمت خدا اور روزجزاء کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔ (22) جب مومنین نے احزاب کے لشکر کو دیکھا تو کہا یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا ہے اور خدا اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اور اس چیز نے سوائے ان کے ایمان اور تسلیم کے کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ (23) مومنین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ سے باندھے گئے عہد و پیمان پر صدق دل سے قائم ہیں ، بعض اپنے عہد کو پورا کرگئے اورانہوں نے اس کی راہ میں شربت شهادت نوش کرلیا اور کچھ انتظار میں ہیں اور انہوں نے ہرگز اپنے عہد و پیمان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ (24) مقصد یہ ہے کہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کی بناء پر اجر دے اور جب چاہے منافقین کو عذاب دے ۔ یا (اگر توبہ کریں تو) ان کی توبہ قبول کرے کیونکہ خدا غفور و رحیم ہے۔ (25) خدانے کا فراحزاب کا منہ پھرا دیا وہ جلتے کڑھتے نامراد لوٹ گئے اور خدا نے اس میدان میں مومنین کو جنگ سے بے نیاز کر دیا۔ (انہیں فتح عطا کی) اور خدا طاقت ور اور ناقابل شکست ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کردار
تفسیر جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کردار : اب تک مختلف گروہوں اور ان کے جنگی احزاب میں کارناموں کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی جن میں ضعیف الایمان مسلمان ، منافق لوگ ، کفر و نفاق کے سرغنے اور جہاد سے روکنے والے شامل ہیں۔ قرآن مجید اس گفتگو کے آخرمیں "سچے مؤمنین "ان کے بلند حوصلوں ، یا مردوں ، جراتوں اور اس عظیم جہاد میں ان کی دیگر خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ۔ اس بحث کی تمہید کو پیغمبر اسلامؐ کی ذات سے شروع کرتا ہے جو مسلمانوں کے پیشوا ، سردار اور اسوہ کامل تھے ،خدا کہتا ہے :"تمھارے لیے رسول اللہ کی زندگی اور (میدان احزاب میں) ان کا کردار ایک اچھا نمونه اوراسوہ کامل تھا، ان لوگوں کے لیے جو رحمت خدا اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں : (ولقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا) - تمھارے لیے بہترین اسوہ اور نمونہ ،نہ صرف اس میدان میں بلکہ ساری زندگی پیغمبراسلامؐ کی ذات والا صفات ہے۔ آپ کے بلند حوصلے ، صبرواستقامت ، پا ئمردی ، زیرکی ، دانائی ، خلوص، خدا کی طرف توجہ ،حادثات پر کنٹرول مشکلات اور مصائب کے آ گے سرتسلیم خم نہ کرنا ، غرضکہ ان میں سے ہر ایک چیز مسلمانوں کے لیے نمونه کامل اور اسوۂ حسنہ ہے۔ وہ ایسا عظیم نا خدا ہے کہ جب اس کی کشتی سخت ترین طوفانوں میں گھر جاتی ہے تو ذرہ برابر بھی کمزوری، گھبراہٹ اور سراسیمگی کا مظاہرہ نہیں کرتا ۔ وہ کشتی کا ناخدا بھی ہے اور اس کا قابل اطمینان لنگر اور چراغ ہدایت بھی۔ وہ اس میں بیٹھنے والوں کے لیے آرام و سکون کا باعث بھی ہے اوران کے لیے راحت جان بھی۔ وہ دوسرر مومنین کے ساتھ مل کر کدال ہاتھ میں لیتا ہے اور خندق کھودتا ہے ، بیلچے کے ساتھ پتھر اکٹھا کرکے خندق سے باہرڈال آتاہے، اپنے اصحاب کے حوصلے بڑھانے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کے لیے ان سے مزاح بھی کرتا ہے ، ان کے قلب روح کو گرمانے کے حربی اور جوش وجذبہ دلانے والے اشعار پڑھ کر انھیں ترغیب بھی دلاتا ہے ، ذکر خدا کر نے پرمسلسل اصرار کرتا ہے اورانھیں درخشاں مستقبل اور عظیم فتوحات کی خوشخبری دیتا ہے۔ انہیں منافقوں کی سازشوں سے متنبہ کرتا ہے اوران سے ہمیشہ خبردار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ صحیح حربی طریقوں اور بہترین فوجی چالوں کو انتخاب کرنے سے لمحہ بھربھی غافل نہیں رہتا۔ اس کے باوجود مختلف طریقوں سے دشمن کی صفوں میں شگاف ڈالنے سے بھی نہیں چوکتا۔ جی ہاں! وہ مومنین کا بہترین متقداء ہے اور ان کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ اس میدان میں بھی اور دوسرے تمام میدانوں میں بھی ۔ "اسوه" (بروزن "عروہ") دراصل اس حالت کے معنی میں ہے جو انسان دوسرے کی پیروی کے وقت اپناتا ہے ،دوسرے لفظوں میں کسی کی تأسی اور اقتداء کرنے کا دوسرا نام ہے، اس بناء پر اس کا معنی مصدری ہوگا تاکہ وصفی اور "لقد كان لكم في رسولا اللہ اسوة حسنة" کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے کے پیغمبر خدا کی ذات میں اچھی اقتداء اور پیروی ہے۔ ان کی اقتداء کرنے سے اپنی راہوں کی اصلاح اور "صرامستقیم" کو اختیار کرسکتے ہو۔ جاذب نظریہ امر ہے کہ قرآن زیربحث آیت میں اس اسوہ حسنہ کو ان اشخاص کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے جو تین خصوصیات کے حامل ہوں یعنی اللہ اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔ حقیقت میں مبداء اور معاد پر ایمان اس بات کا سبب ہے اور ذکر خدا اس کو دوام بخشتا ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ میں کا دل اس قسم کے ایمان سے سرشار نہ ہو ، وہ پیغمبر کے بقش قدم پر چل نہیں سکتا۔ نیز اس راہ پر چلتے ہوئے بھی اگر ہمیشہ ذکر خدا نہ کرے اورشیاطین کو اپنے سے نہ دھتکارے تو تاسی اور اقتداء کو جاری و ساری نہیں رکھ سکے گا۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باوجود اس جواں مردی اور شجاعت کے جو جنگ کے تمام میدانوں میں ان سے دیکھنے میں آئی تھی اور جس کی ایک زندہ مثال اسی جنگ احزاب میں بھی دیکھنے میں آئی ، کہ جس کی طرف بعد میں اشاره ہوگا ، ایک گفتگو میں فرماتے ہیں: " كنا اذا احمر البأس اتقينا برسول الله فلم يكن احد منا اقرب الى العدومنه"۔ "جب بھی جنگ کی آگ شعلہ ور ہوتی تو ہم رسول اللہؐ کی طرف پناہ لیتے اور ہم سے کوئی شخص بھی ان سے زیادہ دشمن کے قریب نہ ہوتا "۔ ؎1 اس مقدے اور تمہید کے بعد سچے مومنین کی حالت کو بیان کرتے ہوئے قرآن یوں فرماتا ہے: جس وقت مومنین نے احزاب کے لشکروں کو دیکھا تو نہ صرف یہ کہ ان پر گھبراہٹ طاری نہ ہوئی بلکہ کہا کہ یہ وہی چیز ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پہلی کرن آشکار ہوچکی ہے اور خدا اور اس کے رسولؐ نے سچ کہا ہے اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم کے علاوہ کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کیا (ولمارا المؤمنون الأحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله ومازا دهم الا ایمانا وتسليمًا)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، کلمات قصار فصل غرائب جملہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بعض کہتے ہیں کہ یہ اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو پہلے نبی کریم نے کی تھی کہ عنقریب قبائل عرب اور تمھارے مختلف دشمن ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تمھاری طرف آئیں گے ۔لیکن جان لوکہ آخر کارفتح تمھاری ہوگی۔ مومنین نے احزاب کے ہجوم کو دیکھا تو یقین کرلیا کہ یہ پیغمبر کا وہی وعدہ ہے اور کہا کہ اب جبکہ وعدے کا پہلا حصہ وقوع پذیر ہوچکا ہے تو دوسرا حصہ یعنی فتح و کامرانی بھی یقینًا اس کے پیچھے پیچھے آنے گی ۔ لہذا ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اضافہ ہوگیا دوسرایہ کہ خدا نے سورۂ بقرہ کی آیت 214 میں مسلمانوں سے فرمایا تھا: "کیاتم گمان کرتے ہو کہ آسانی کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ گے ، بغیر اس کے کہ کچھ حوادث مثل گذشتہ لوگوں کے حوادث کے تمھارے لیے ظاہر ہوں ، وہی لوگ جوشدید پریشانیوں میں متبلا ہوئے اور اس طرح سے ان کا عرصہ حیات ان کے لیے تنگ ہوا کہ انہوں نے کہا کہ خدا کی مدد کہاں ہے"؟ خلاصہ یہ کہ ان سے کہا گیا تھا کہ تم آ زمائش کی سخت کھٹالیوں میں آزمائے جاؤگے، اور وہ اس احزاب کو دیکھ کر خدا اور رسولؐ کی گفتگو کی صداقت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا گیا۔ البتہ ان دونوں تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ خصوصًا جب اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ ایک تو اصل میں خدا کا وعدہ ہے اور دوسرا اس کے پیغمبر کا وعدہ ہے اور یہ دونوں چیزیں زیربحث آیت میں بھی اکٹھی آئی ہیں۔ لہذا ان دونوں کو جمع کرنا نہایت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بعد والی آیت مومنین کے ایک خاص گردہ کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبراکرمؐ کی اقتداء میں سب سے زیادہ پیش قدمی کرتے تھے ، وہ خدا سے کیے ہوئے اپنے اس عہد وپیمان پر قائم تھے کہ وہ آخری سانس اور آخری قطره خون تک فداکاری اور قربانی کے لیے تیار ہیں . فرمایا گیا ہے:" مومنین میں ایسے بھی ہیں جواس عہد و پیمان پر قائم ہیں جو انھوں سے خدا سے باندھا ہے ان میں سے کچھ نے تو میدان جہاد میں شربت شہادت نوش کرلیا ہے اور بعض انتظار میں ہیں": ( من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضٰى نحبہ ومنهم من ينتظر)۔ " اور انھوں نے اپنے عبدہ و پیمان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی ۔" اور نہ ہی ان کے قدموں میں لغزش پیدا ہوئی ہے: (ومابدلوأتبديلًا)۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے برعکس کہ جنہیں طوفان حوادث ادھر سے ادھر پھینک دیتے ہیں اور جو روزانہ اپنے ناتواں دماغ میں نت نئےاور ناپاک منصوبے پروان چڑھاتے رہتے ہیں ، یہ ثابت الایمان مومن پہاڑ کی طرح محکم اور استوار ہیں ۔ انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جو عہد و پیمان انہوں نے اس کے ساتھ باندھا ہے: وہ ہرگز ٹوٹنے والا نہیں ہے "۔ لفظ " نحب " (بروزن "عهد") عہد ، نذر اور پیمان کے معنی میں ہے اور کبھی موت کا خطرے یا تیز چلنے یا بلند آوازسے گریہ کرنے کے معنی میں میں آتا ہے۔ ؎1 مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ یہ آیت کن افراد کے بارے ہے۔ اہل سنت کے مشہور عالم ، حاکم ابوالقاسم جسکانی سند کے ساتھ حضرت علی علیه السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "فیانزلت (رجال صدقوا ماعاهد واالله علیه) نانا والله المنتظر و مابدلت تبديلًا"۔ آیۂ "رجال صدقوا ما عاهد واالله علیه" ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بخدامیں ہی وہ شخص ہوں جو شهادت کا، انتظارکررہا ہوں (اور قبل ازیں ہم میں سے حزه سید الشهداء جیسے لوگ مردانہ وار شربت شہادت نوش کرچکے ہیں) اور میں نے ہرگز اپنی روش اور اپنے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں کی اور اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان پر قائم ہوں ۔ ؎2 بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ " من قضى نحبه" کا جملہ شهداء بدر واحد کی طرف اشارہ ہے اور "منهم من ینتظر" کا جملہ دوسرے سچے مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جو فتح یا شہادت کے انتظار میں تھے۔ "انس بن مالک سے بھی نقل ہوا ہے کہ ان کے چچا " انس بن نضر" جنگ بدر کے دن حاضر نہیں تھے ۔ جنگ کے خاتمے پرجب انھیں معلوم ہوا توانھوں نے سخت افسوس کیا کہ وہ اس جہاد میں کیوں شریک نہیں ہوئے ؟تو اس وقت خدا کے ساتھ عہد کیا کہ اگر کوئی جنگ پیش آئی تو اس میں ضرور شریک ہوں گے اورجب تک جان میں جان ہے ، میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ لہذا انھوں نے دوسری جنگ میں شرکت کی اور جس وقت کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو وہ ڈٹے رہے۔ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑنے کے بعد مجروح ہوئے اورآخرکار درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ ؎3 این عبای سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے کہا: "منهم من قضى نحبه" کا جملہ حمزہ بن عبدالمطلب ، باقی شہداء احد اور انس بن نضر اوران کے ساتھیوں کی طرف اشارہ هے ۔ ؎4 ان تفسیروں کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے ۔ کیونکہ آیت کا ایک وسیع مفہوم ہے جو تمام ان شہداء اسلام پر محیط ہے جو جنگ احزاب سے پہلے شربت شہادت نوش فرما چکے تھے۔ اورمنتظرین بھی تمام وہ لوگ ہیں جو فتح و کامرانی اور شہادت کے انتظارمیں زندہ رہے ہیں ، اور پہلے گروہ کے سردار حضرت حمزہ اور دوسرے کے سردار ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفردات راغب ، مجمع البیان اور لنسان العرب (نحب) ؎2 مجمع البیان آیہ زیربحث کے ذیل میں۔ ؎3 تفسیر قرطبی، فی ظلال القرآن اور مجمع البیان (مختصر سے فرق کے ساتھ) ؎4 مجمع البیان زیربحث آیت کے ذیل میں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جناب علی بن ابی طالب قرار پاتے ہیں۔ اسی لیے تفسیر صافی میں آیاہے: " ان اصحاب الحسين بكربلا كانوا كل من ارادالخروج ودع الحسين وقال! السلام عليك يابن رسول الله ! فيجيبه وعليك السلام ونحن خلفك ، ويقرء، فمنهم من قضٰى نحبه ومنهم من ینتظر" اصحاب امام حسینؑ میں سے جو بھی کربلا میں میدان کی طرف جانا چاہتا تو امام عالی مقام سے الوداع کرتا اور کہتا آپؑ پر سلام ہو اے فرزند رسول ! (سلام وداع کرتا ) توامام بھی انہیں جواب دیتے اور پھراس آیت کی تلاوت کرتے " فمنهم من قضٰى نحبه ومنهم من ينظر:۔ ؎1 کتب مقاتل سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسینؑ نے دوسرے شہداء مثلًا مسلم بن عوسجہ کے جنازہ کے پاس بھی اور جس وقت "عبدااللہ بن يقطر" کې خبر شهادت آپ کو ملی ، اس وقت بھی اس آیت کو تلاوت فرمایا"۔ ؎2 یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت اس قسم کا وسیع مفہموم رکھتی ہے جو ہر زمانے کے تمام سچے مومنین پر محیط ہے۔ چاہے وہ ہوں جنہوں نے جام شہادت زیب تن کیا اور چاہے وہ ہوں جو بیغرکسی قسم کے تنزلزل کے اپنے خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہے اور جہاد و شہادت پر آمادہ رہے ۔ بعد والی آیت میں مومنین اور منافقین کے اعمال کے نتیجے اور آخری ہدف کو ایک مختصرسے جملے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ "مقصد یہ ہے کہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کی وجہ سے جزائے خیر دے اور منافقین کو جب چاہے عذاب دے۔ اور (اگر وہ توبہ کریں) تو انہیں بخش دے اور ان کی توبہ قبول کرے۔ کیونکہ خدا غفور و رحیم ہے"۔ ( لیجزی الله الصاد قین بصدقهم و یعذب المنافقين ان شاء اويتوب عليھم إن الله كان غفورًا رحيمًا)۔ نہ تومخلص مومنین کی سچائی اور وفاداری بغیر جزائے خیر کے رہے گی اور نہ ہی منافقین کی کمزوری اور تخریب کاری بغیر عذاب اور سزا کے رہے گی۔ قرآن توبہ کے دروازے اور بازگشت کی راہیں منافقین کے لیے کھلی رکھتا ہے ، لہذا "او یتوب عليهم" کے جملہ کے ساتھ ان پر توبہ کے دروازے کھولتا ہے اور " غفور رحیم " کے ساتھ ا پنی توصیف کرتا ہے تاکہ ایمان، صدق اور شرعی فرائض پرعمل درآمد کا جذبہ ان میں بیدار کیا جائے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر صافی آیہ زیربحث کے ذیل میں۔ ؎2 تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 259۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- چونکہ یہ جملہ منافقین کے غلط اعمال کے نتیجے کے طور پر ذکر ہوا ہے لہذا بعض بزرگ مفسرین نے اس سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ ممکن بعض اوقات ایک عظیم گنا آلودہ دلوں میں حق و حقیقت کی طرف حرکت ، انقلاب اور بازگشت کا زریعہ بن جائے اور وہ ایسی برائی بن جائے جو ایک خیر اور نیکی کا نقطۂ آغاز ٹھہرے۔ زیربحث آخری آیت جنگ احزاب کے سلسلہ میں حرف آخرکی صورت میں اس بحث کو ختم کرتی ہے ۔ مختصرسی عبارتوں میں اس ماجرے کو واضح طور پر سمیٹے ہوئے کہتی ہے۔" خدا نے کافروں کو ایسی حالت میں واپس لوٹایا کہ ان کے دل غیظ وغضب سے لبریز تھے ، وہ غم وغصہ میں چل رہے تھے اور وہ کسی ایسے نتیجے پر نہ پہنچ سکے جو ان کے پیش نظر تھا"۔ (وردالله الذين كفروا بغيظهم لم یالوخيرًا) - "غیظ" کا معنی غصہ ہے، اور کبھی غم اور اندوہ کے معنی میں بھی آتا ہے ، یہاں پر دونوں معانی مراد ہیں۔ لشکر احزاب ، لشکراسلام پر اپنی آخری فتح کا امیدوار تھا لیکن ناکام رہا اور غم و غصہ کی حالت میں اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گیا۔ یہاں پر "خیر" سے مراد جنگ میں کامیابی ہے۔ البتہ لشکر کفر کی کامیابی کبھی بھی خیر نہیں تھی لیکن قرآن ان کی سوچ کی عکسی کرتے ہوئے اسے "خیر" سے تعبیر کرتا ہے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس میدان میں کسی بھی قسم کی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوۓ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں "خیر" سے مراد مال ہے کیونکہ یہ لفظ کئی دوسرے مقامات پر بھی مال کے لیے بولاگیا ہے جن میں سے سورہ بقرہ کی آیت 180 بھی ہے جسے آیہ وصیت کہتے ہیں ، اس میں ہے :ان ترك خيرا الومنة للوالدين" کیونکہلشکر کفر کے حملے کے اصل مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مدینہ کی غنیمتوں کو حاصل کریں اور اسی سرزمین کو غارت کریں۔ لیکن "خیر" کے مفہوم کو یہاں" مال" کے معنی میں محدود کرنے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ یہاں پراس سے ہر قسم کی کامیابی مرادہے جسے وہ مدنظر رکھے ہوئے تھے اور مال بھی ان سے ایک تھا جس سے وہ محروم رہے۔ بعد والے جملہ میں قرآن مزید کہتا ہے ۔ "خدا نے اس میدان میں مومنین کو جنگ سے بے نیاز کردیا"۔ (وكفى الله المؤمنين القتال)۔ اس قسم کے اسباب و عوامل فراہم کیے کہ کسی قسم کی سختی پیش نہ آئی جس سے مومنین کا زیادہ نقصان ہوتا اور جنگ ختم ہوگئی، کیونکہ ایک طرف سے تو شدید طوفان اور سردی نے مشرکین کو درہم برہم کردیا اور دوسری طرف خدا کے نظر آنے والے لشکر کے ذریعے رعب ، خوف اور وحشت کو ان کے دلوں میں ڈال دیا اور تیسری طرف سے حضرت علی بن ابی طالب علیہ اسلام کی ضرب دشمن کے سب سے بڑے پہلوان عمرو بن عبدود پر پڑی جس سے وہ دیار عدم میں ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ تفسیر المیزان آیه زیر بحث کے ذیل میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ جا پہنچا۔ اس سے ان کی امیدوں اور آرزوؤں کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گری۔ یہ امر اس بات کا سبب ہوا کہ وہ مدینہ کا محاصر ترک کر کے اپنے اپنے قبائل کی طرف ناکام واپس پلٹ گئے۔ آیت کے آخری جملہ میں فرمایا گیا ہے۔ خدا قوی اور ناقابل شکست ہے ( و كان اللہ قويًا عزیزًا)۔ ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ "قوی" تو ہوں لیکن "عزیز" یعنی ناقابل شکست نہ ہوں یعنی ان پر زیادہ قوی شخص کامیاب ہوجائے ۔ لیکن " ناقابل شکست طاقتور" صرف اور صرف خدا ہے جس کی طاقت اور قدرت لا متناہی ہے۔ وہی توہے جس نے اس قسم کے بہت سخت اور خطرناک میدان میں اس قسم کی کا میابی مومنین کے نصیب کی کہ لڑای ، جنگ اور جان دینے تک کی نوبت بھی نہ آئی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
1- جنگ کی اهمیت
جنگ احزاب کے چند اہم پہلو: 1- جنگ کی اهمیت: جنگی احزاب جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں تمام قبائل اور مختلف اسلام دشمن طاقتیں نوخیزاسلام کی سرکوبی کے لیے متحد ہوئی تھیں۔ جنگ احزاب کفر کی آخری کوشش، ان کے ترکش کا آخری تیر اور شرک کی قوت کا آخری مظاہرہ تھا۔ اسی بنا پر جب دشمن کا سب سے بڑا پہلوان عمرو بن عبدو عالم اسلام کے دلیر مجاہد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلے میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "برز الایمان كله الى الشرك كله" "سارے کا سارا ایمان سارے کے سارے (کفراور) شرک کے مقابلے میں آگیا ہے"۔ ؎1 کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی دوسرے پرفتح کفرکی ایمان پریا ایمان کی کفرپر مکمل کامیابی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ فیصلہ کن معرکہ تھا جو اسلام اور شرک کے مستقبل کا تعین کررہاتھا۔ اسی بناء پردشمن کی اس عظیم جنگ اور کارزار میں کمر ٹوٹ گئی اوراس کے بعد ہمیشہ کے لئے ابتکارعمل مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ دشمن کا ستارہ اقبال غروب ہوگیا اور اس کی طاقت کے ستون ٹوٹ گئے۔ اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت رسول گرامیؐ نے جنگ احزاب کے خاتمے پر فرمایا: "الان نغزوهم ولا یغزوننا" "اب ہم ان سے جنگ کریں گے اور ان میں ہم سے جنگ کی سکت نہیں ہے"۔ ؎2
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
3- خندق کی کھدائی
3- خندق کی کھدائی : جیساکہ معلوم ہے کہ خندق کے کھودنے کا سلسلہ حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے وقوع پزیر ہوا۔ خندق اس زمانے میں ملک ایران میں دفاع کا موثر ذریعہ تھا اور جزیرۃ العرب میں اس وقت تک اس کی مثال نہیں تھی اور عرب میں اس کا شمار نئی ایجادات میں ہوتا تھا۔ اطراف مدینہ میں اس کا کھودنا فوجی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ خندق دشمن کے حوصلوں کو پست کرنے اور مسلمانوں کے روحانی تقویت کا بھی موثر زریعہ تھی۔ خندق کے کوائف اور جزئیات کے بارے میں صحیح طور پرمعلومات تک رسائی تو نہیں ہے البتہ مورخین نے اتنا ضرور لکھا ہے کہ اس کا عرض اتنا تھا کہ دشمن کے سوار جست لگا کر بھی اس کو عبور نہیں کرسکتے تھے۔ اس کی گہرائی ایقینًا اتنی تھی کہ اگر کوئی شخص اس میں داخل ہو جاتا تو آسانی کے ساتھ دوسری طرف باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ علاوہ ازیں مسلمان تیراندازوں کا خندق والے علا قہ پراتنا تسلط تھا کہ اگر کوئی شخص خندق کو عبور کرنے کا ارادہ کرتا تو ان کے لیے ممکن تھا کہ اسے خندق کے اندر ہی تیر کا نشانہ بنا لیتے ۔ رہی اس کی لمبائی ترمشہور روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت رسالت مآب صلی الہ علیہ و آلہ وسلم نے دس دس افراد کو چالیس ہاتھ (تقریبًا 20 میٹر) خندق کھودنے پر مامور کیا تھا اور مشہور قول کے پیش نظر کہ لشکراسلام کی تعداد تین ہزار تھی تو مجموعی طور پر اس کی لمبائی اندازًا بارہ ہزار ہاتھ (چھ ہزار میٹر) ہوگی۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 20 ص 228۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ اس زمانے میں نہایت بی ابتدائی وسائل کے ساتھ اس قسم کی خندق کھودنا بہت ہی طاقت فرسا کام تھا خصوصًا جب کہ مسلمان خوراک اور دوسرے وسائل کے لحاظ سے بھی سخت تنگی میں تھے۔ يقينا خندق کھودی بھی نہایت کم مدت میں گئی۔ یہ امر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ لشکر اسلام پوری ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے حملہ آور ہونے سے پہلے ضروری پیش بندی کرچکا تھا اور وہ بھی اس طرح سے کہ لشکرکفر کے مدنیہ پہنچنے سے تین دن پہلے خندق کی کھدائی کا کام مکمل ہوچکا تھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
خدا کوبہت یاد کرو
خدا کوبہت یاد کرو : خدا کو یاد کرنے کا حکم خصوصًا "ذکر کثر" بارہا قرآنی آیات میں آیا ہے اور اسلامی روایات میں بھی اسے بہت زیاده اہمیت دی گئی ہے ، یہاں تک کہ حضرت ابوذرسے ایک حدیت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا : "عليک بتلاوة كتاب الله، وذكر الله كثيرًا فانه ذكر لك في السماء ونورلک فی الارض "۔ تم قرآن کی تلاوت اور بہت یاد خدا لازم ہے کیونکہ اس کے سبب آسمانوں میں (فرشتے) تمہیں یاد کریں گے اور زمین میں تمھارے لئے نور ہوگا"۔ ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق سے منقول ہے : "اذا ذكر العبد ربه الیوم مأة مرة كان ذلك كثيرا"۔ "جب انسان خدا کو دن میں سو مرتبہ یاد کرے تویہ ذکر کنیر شمار ہوگا"۔ ؎2 نیز ایک اور حدیث میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "الا اخبركم بخير اعمالكم وأزكاها عند مليككم ، وارفعها في درجاتكم، وخير لكم من الدينار والدرهم وخير لكم من إن تلقوا عدوكم فتقتلونهم ويقتدونكم؟ قالوا: بلى يارسول الله اقال، ذكراللہ كثيرًا" "کیا میں تمھیں تمہارے پروردگار کے ہاں بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین کاموں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ عمل جو تمھارا بالاترین درجہ اور تمھارے لیے درہم و دینارسے بہتر ہو حتی کہ جہاد اور راہ خدامیں شہادت سے بھی بہتر ہے"۔ انہوں نے عرض کیا ضرور۔ فرمایا : خدا کر زیادہ یاد کرنا۔ ؎3 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین جلد 4 ص 257 بحوالاخصال ۔ ؎2 سفینۃالبحار ، جلد 1 ص 484 ۔ ؎3 سفینۃالبحار ، جلد 1 ص 484 ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن ہرگز یہ تصور نہیں کرنا چاہیئے کہ ان تمام فضائل کے ساتھ ذکر پروردگار سے مراد صرف زبانی ذکر ہے بلکہ اسلامی روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اس سے مراد اس کے علاوہ قلبی اور عملی ذکر بھی ہے ، یعنی جس وقت انسان کو کسی حرام کام کے ارتکاب کا سامنا ہو تو خدا کو یاد کر کے اسے ترک کردے۔ مقصد یہ ہے کہ خدا انسان کی تمام زندگی میں حاضر ناظر ہو اور نور پروردگار اس کی تمام زندگی میں جلو فگن ہو۔ ہمیشہ اس کی یاد میں مگن ہو اور اس کے فرمان کونصب العین قرار دے ، مجالس ذکرسے مرا د وہ مجالس ہیں، جہاں پر جاہلوں کا ایک گردہ اکٹھا ہوجائے اور خود ساختہ ذکر و انکار کا ورد شروع کردے اور بدعتوں کو پھیلانے میں مصروف رہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بادروا الى رياض الجنة"؟ "جنت کے باغوں کی طرف جلدی بڑھو "۔ ؎1 توصحابہ نے عرض کیا: " وما ریاض الجنة؟" "جنت کے باغات کیا ہیں؟" آپؐ نے فرمایا: "حلق الذكر" " مجالس ذکر ہیں"۔ ؎2 اس سے مراد وہ مجالس ہیں جن میں علوم اسلامیہ کا احیاء ہو ، تربیتی واخلاقی پروگرام پیش ہوں جن میں انسانوں کی تربیت اور اصلاح کی جائے تاکہ گناہگار گناہوں سے بچ جائیں اور راہ خدا پر چلیں ۔ ؎3 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سفینۃالبحار ، جلد 1 ص 486 ۔ ؎2 سفینۃالبحار ، جلد 1 ص 486 ۔ ؎3 "ذکراللہ" کی اہمیت اور اس کے مفہوم کے سلسلہ میں، تفسیر نمونہ جلد 10 ص 183 (اردو ترجمہ) میں بھی تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
2- لشکروں کی تعداد
2- لشکروں کی تعداد: بعض مؤرخین نے لشکر کفارکی تعداد دس ہزار سے زیادہ لکھی ہے۔ مقریزی اپنی کتاب "الامتاع" میں لکھتے ہیں : ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانور کی جلد 20 ص 215 میں یہ حدیث "کراجکی" سے نقل کی گئی ہے۔ ؎2 تاریخ کامل ابن اثیر جلد 2 ص 184۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "صرف قریش نے چار ہزار جنگ جوؤں ، تین سو گھوڑوں اور پندرہ سو اونٹوں کے ساتھ خندق کے کنارے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا ۔ قبیلہ بنی سلیم سات سو افراد کے ساتھ " مرالظهران" کے علاقہ میں ان سے آملا ۔ قبیلہ بنی فراز و ہزار افراد کے ساتھ ، بنی اشجع اور بنی مرہ کے قبائل میں سے ہر ایک چار چار سو افراد کے ساتھ پہنچ گیا ۔ اور دوسرے قبائل نے بھی اپنے آدمی بھیجے جن کی مجموعی تعداد دس ہزار سے بھی زیاده بنتی ہے"۔ جبکہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی ۔ انہوں نے (مدینہ کے قریب) "سلع" نامی پہاڑی کے دامن کو جوایک بلند جگہ تھی اپنے اصلی لشکرگاہ کے طور منتخب کیا تھا جو خندق پر اس طرح سے عادی تھی کہ وہ اپنے تیراندازوں کے ذریعہ خندق سے آ نے یا نے والوں پر کنٹرول کرسکتے تھے۔ بہرحال لشکر کفر نے مسلمانوں کا ہرطرف سے محاصرہ کرلیا اور ایک روایت کے مطابق بیسں دن دوسری کے مطابق پچیس دن اور بعض روایات کے مطابق ایک ماہ تک محاصرہ جاری رها۔ ؎1 باوجود یکہ دشمن مسلمانوں کی نسبت مختلف پہلوؤں سے برتری رکھتا تھا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ، آخرکار ناکام ہوکر واپس پلٹ گیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم "اسوہ" اور "قدوہ" ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم "اسوہ" اور "قدوہ" ہیں: ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں میں سے خدا کے بھیجے ہوئے افراد کا انتخاب اسی لیے ہوتا ہے کہ وہ امتوں کے لئے عملی نمونہ بن سکیں ، کیونکہ انبیاء کی عملی تبلیغ اور دعوت کا اہم اور موثر ترین خصہ ان کی عملی دعوت ہوتی ہے۔ اسی بناء پرعلماء اسلام مقام نبوت کے لیے عصمت کو ایک لازمی شرط سمجھتے ہیں اوراس کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ انھیں لوگوں کے لیے "اسوہ" اورمخلوق کے لئے "قدوہ" ہوناچاہیئے ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحاالانوار ، جلد 20 ص 208- ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہٖ ولسم کی اقتداء اور تاسی کا جو حکم آیا ہے وہ مطلق صورت میں ہے ، جو آپؐ کی زندگی کے ہر شعبے کو اپنے میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس کی شان نزول جنگ احزاب ہے لیکن شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی بھی اپنے ساتھ محدود نہیں کرتی۔ اس لیے ہم اسلامی احادیث میں دیکھتے ہیں کہ پیروی کے سلسلے میں اہم سے اہم اور معمولی سے معمولی مسائل کا ذکر ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں : "ان الصبر على ولاة الامرمقروض لقول الله عزوحل لنبيه (ص) فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل ، وايجابه مثل ذلك علٰى اوليائه واهل طاعته ، لقوله ، لقدكان لكم فی رسول الله اسوة حسنة"۔ " صبروشکیبائی اسلامی حکام پر واجب ہے کیونکہ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتاہے ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے صبر و شکیبائی اختیار کی ہے اور اسی چیز کو آپؐ کے دوستوں اور اطاعت گزاروں پر آپ کی پیروی کرنے کے حکم کے ساتھ واجب فرمایاہے۔ ؎1 ایک اورحدیث میں امام صادقؑ سے مروی ہے کہ آپؑ نے نہ فرمایا: "جس وقت پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نماز عشا پڑھتے تو وضو کا پانی اور اپنی مسواک اپنے سرما نے ٓرکھ لیتے اور پانی کے برتن کو ڈھکنے سے ڈھانپ دیتے..... پھرآپؑ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نمازتہجد کی کیفیت بیان فرمائی اور آخر میں فرمایا: "ولقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة " تمارے لیے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اسوہ حسنہ ہے۔ ؎2 واقعًا اگر ہم پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے اسوہ قرار دے دیں ،آپؐ کے ایمان و توکل خلوص و شجاعت ، نظم و نظامت ، زہد و تقوٰی کو اپنے لیے مشعل راہ بنالیں تو ہماری کایا پلٹ جائے اور ہماری زندگی روشن اور منور ہوجاۓ۔ آج سارے مسلمانوں پرخصوصًا باایمان اور پرجوش نوجوانوں پر فرض ہے کہ وہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو حرف بحرف پڑھیں اور اسے دل میں جگہ دے کر ہرلحاظ سے اپنے لیے اسوہ و نمونه قرار دیں ، کیونکہ سعادت ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورا لثقلین جلد 4 ص 255 بحوالہ احتجاج طبرسی ۔ ؎2 وسائل الشیعہ جلد 1 ص 356- ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کااہم ترین وسیلہ اور کامیابی وکامرانی کی اصل کلید یہی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
9- جنگ احزاب کے نتائج
9- جنگ احزاب کے نتائج جنگ احزاب تاریخ اسلام میں ایک اہم موڑ اور سنگ میل ثابت ہوئی جس میں فوجی اور سیاسی اعتبار سے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ بطور خلاصہ اس جنگ کے مفید نتائج چند جملوں میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ الف - دشمن کی آخری کوششوں کاناکام ہوجانا اور ان کی برتری کی آخری طاقت کا ٹوٹ جانا۔ ب - منافقین کی سازش کا شکارہوجانا اور ان خطرناک داخلی دشمنوں کو مکمل طور پر بھانڈا پھوٹ جانا۔ ج - جنگ احد کی شکست کی تلخ یادوں کی تلافی۔ د - دشمن کے دل میں مسلمانوں کی مزید طاقت اور ہیبت کا طاری ہو جانا۔ ھ - جو معجزات مسلمانوں نے اس میدان میں دیکھے ان کی وجہ سے ان کے حوصلوں کا بلند ہوجانا - و - مدینہ کے اندر اور باہر آنحضرتؐ کی حیثیت کا مسلم ہوجانا۔ ز - سرزمین مدینہ کا یہود بنی قریظہ کے شرسے صفایا کی راہ ہموارکرنا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
8- حذیفہ کا واقعہ
8- حذیفہ کا واقعہ: بہت سی تواریخ میں آیا ہے ، حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ ہم جنگ خندق کے ایام میں بھوک اور تھکن ، وحشت اوراضظراب سے اس قدر دو چار تھے کہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک رات (لشکر احزاب میں اختلات پڑجانے کے بعد) پیغمبرؐ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو چھپ چھپا کر دشمن کی لشکرگاہ میں جائے اور ان کے حالات معلوم کر لائے تاکہ وہ جنت میں میرا رفیق اور ساتھی ہو۔ حذیفہ کہتے ہیں خدا کی قسم کوئی شخص بھی شدت و حشت، تھکن اور بھوک کے مارے اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حالت دیکھی تو مجھے آواز دی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا جاؤ الا اور میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آؤ ۔ لیکن وہاں کوئی اور کام انجام نہ دنیا یہاں تک کہ میرے پاس آ جاؤ۔ میں اسی حالت میں وہاں پہنچا جب کہ سخت آندھی چل رہی تھی اور طوفان برپا تھا اور خدا کا یہ لشکر انھیں تہس نہس کر رہا تھا۔ خیمے تیز آندھی کے سبب ہوا میں اڑتے تھے۔ آگ بیابان میں پھیل چکی تھی ۔ کھانے پینے کے برتن الٹ پلٹ گئے تھے۔ اچانک میں نے ابوسفیان کا سایہ محسوس کیا کہ وہ اس تاریکی میں بلند آواز سے کہہ رہا تھا : اے قریش ! تم میں سے ہر ایک اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص کو اچھی طرح سے پہچان لے تاکہ یہاں کوئی بے گانہ نہ ہو ، میں نے پہل کرکے فورًا ہی اپنے پاس بیٹھے وائے شخص سے پوچھا کہ تو کون ہے ؟اس نے کہا، میں فلاں ہوں ، میں نے کہا بہت اچھا۔ پھر ابوسفیان نے کہا خدا کی قسم! یہ ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے ، ہمارے اونٹ گھوڑے ضائع ہوچکے ہیں اور ببی قریظہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سیرۃابن ہشام جلد 3 ص 240 (تلخیص کے ساتھ)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- نے اپنا پیمان توڑ ڈالا ہے اوراس طوفان نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ پھر وہ بڑی تیزی سے اپنے اونٹ کی طرف بڑھا اور سوار ہو نے کے لیے اسے زمیں سے اٰٹھایا ۔ وہ اس قدرجلدی میں تھا کہ اونٹ کے پاؤں میں نبدھی ہوئی رسی کو کھوانا بھول گیا۔ لہذااونٹ تین پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔ میں نے سوچا ایک ہی تیر سے اس کا کام تمام کر دوں ابھی تیر چلہ کمان میں جوڑا ہی تھا کہ فورًا آنحضرت کا فرمان یاد آگیا کہ جس آپ نے فرمایا تھا کچھ کاروائی کیے بغیر واپس آ جانا، تمھارا کا کام صرف وہاں کے حالات ہمارے پاس لانا ہے لہذا میں واپس پلٹ گیا اور جاکرتمام حالات عرض کیے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے بارگاه ایزدی میں عرض کیا: "اللھم انت منزل الكتاب ، سريع الحساب، اهزم الأحزاب اللهم اهذمهم و زلزلهم"۔ "خداوندا : تو کتاب کو نازل کرنے والا اور سر يع الحساب ہے ، تو خودہی احزاب کو نیست و نابود فرما! خدایا! انھیں تباہ کر دے اور ان کے پاؤں نہ جمنے دے"۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
7- نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکرمیں پھوٹ
7- نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکرمیں پھوٹ : نعیم جو تازہ مسلمان اور ان کے قبیلہ "غطفان" کو لشکر اسلام کی خبر نہیں تھی ، وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ آپؐ مجھے جو حکم بھی دیں گے ، میں حتمی کامیابی کے لیے اس پر کار بند رہوں گا۔ رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "تمہارے جیسا شخص ہمارے درمیان اور کوئی نہیں ہے۔ اگرتم دشمن کے لشکر میں پھوٹ ڈال سکتے ہو تو ڈالو ، کیونکہ جنگ پوشیده تدابیر کا مجموعہ ہے" نعیم بن مسعود نے ایک عمده تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ وہ بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس گیا جن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی دوستی تھی ان سے کہا بنی قریظہ! تم جانتے ہوکہ مجھے تمھارے ساتھ محبت ہے ۔ انھوں نے کہا آپ سچ کہتے ہیں: ہم آپ کو اس بارے میں ہرگزکوئی الزام نہیں دیتے۔ نعیم بن مسعود نے کہا : قبیلہ قریش اور غطفان تمھاری طرح نہیں ہیں ۔ یہ تمھارا اپنا شہر ہے ۔ تمارا! مال اولاد اور عورتیں یہاں پر ہیں اور تم ہرگز یہ نہیں کرسکتے کہ یہاں سے کوچ کرجاؤ۔ قریش اور قبیلہ غطفان محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیں اور تم نے ان کی حمایت کی ہے جبکہ ان کا شہر کہیں اور ہے اوران کے مال اور عورتیں بھی دوسری جگہ پر ہیں۔ اگر انھیں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گری کرکے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو اپنے شہر کو لوٹ جائیں گے ، لیکن تم نے اور محمدؐ نے تو اسی شہر میں رہناہے اور یقینًا تم اکیلے ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، تم اس وقت تک اسلحہ نہ اٹھاؤ جب تک قریش سے کوئی معاہدہ نہ کرلو اور وہ اس طرح کہ وہ چند سرداروں اور بزرگوں کو تمھارے پاس گروی رکھ دیں تاکہ وہ جنگ میں کوتاہی نہ کریں۔ بنی قریظہ کے یہودیوں نے اس کو بہت سراہا۔ پھرنعیم مخفی طور پر قریش کے پاس گیا۔ ابوسفیان اورقریش کے چند سرداروں سے کہا کہ تم اپنے ساتھ میری دوستی کی کیفیت سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ ایک بات میرے کانوں تک پہنچی ہے، جسے تم تک پہنچانا میں اپنا فریضہ سمجھتا ہوں تاکہ خیرخواہی کا حق ادا کرسکوں لیکن میری خواہش یہ ہے کہ یہ بات کسی اور کو معلوم نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا تم بالکل مطمئن رہو۔ نعیم کہنے لگے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہودی محمدؐ کے بارے میں تمھارے طرز عمل سے اپنی براءت کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ یہودیوں محمد کے پاس قاصد بھیجا ہے اور کہلوایا ہے کہ ہم اپنے کیے پرپشیمان ہیں اور کیا یہ کافی ہوگا کہ ہم قبیلہ قریش اور غطفان کے چند سردار آپ کے لیے یرغمال بنالیں اور ان کو بندھے ہاتھوں آپ کے سپرد کردیں تاکہ آپ ان کی گردن اڑا دیں۔ اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ مل کر ان کی بیخ کنی کریں گے؟ محمد نے بھی ان کی پیش کش کو قبول کرلیا ہے ۔ اس بناء پر اگر یہودی تمھارے پاس کسی کو بھجیں اور گروی رکھنے کا مطالبہ کریں تو ایک آدمی بھی ان کے سپرد نہ کرتا کیونکہ خطرہ یقینی ہے۔ پھر وہ اپنے قبیلہ غطفان کے پاس آئے اور کہا : تم میرے اصل اور نسب کو اچھی طرح جانتے ہو۔ میں تمھارا عاشق اور فریفتہ ہوا اور میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ تمہیں میرےخلوص نیت میں تھوڑا سا بھی شک و شبہ ہو۔ انھوں نے کہا : تم سچ کہتے ہو ، یقینا ایسا ہی ہے۔ نعیم نے کہا : میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں لیکن ایسا ہوکہ گویا تم نے مجھ سے نہیں سنی۔ انھوں نے کہا : مطمئن رہو۔ یقینًا ایساہی ہوگا ، وہ بات کیا ہے؟ نعیم نے وہی بات جو قریش سے کہی تھی ، یہودیوں کے پشیمان ہونے اور یرغمال بنانے کے ارادے کے بارے میں حرف بحرف ان سے بھی کہہ دی اور انھیں اس کام کے انجام سے ڈرایا۔ اتفاق سے وہ (ماہ شوال 5ھجری ٓکے) جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات تھی ۔ ابوسفیان اور غطفان کے سرداروں نے ایک گروہ بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور کہا : ہمارے جانوریہاں تلف ہورہے ہیں اور یہاں ہمارے لیے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں کل صبح ہمیں حملہ شروع کرنا چاہیے تاکہ کام کو کسی نتیجے تک پہنچائیں۔ یہودیوں نے جواب میں کہا: کل ہفتے کا دن ہے اور ہم اس دان کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ علاوہ ازیں ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر جنگ نے تم پر دباؤ ڈالا تو تم اپنے شہروں کی طرف پلٹ جاؤگے اور ہمیں یہاں تنہا چھوڑ دو گے۔ ہمارے تعاون اور ساتھ دینے کی شرط یہ ہے کہ ایک گروہ گردی کے طور پر ہمارے حوالے کردو۔ جب یہ خبر قبیلہ قریش اور غطفان تک پہنچی تو انہوں نے کہا : خدا کی قسم نعیم بن مسعود سچ کہتا تھا۔ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے ۔ لہذا انہوں نے اپنے قاصد یہودیوں کے پاس بھیجے اور کہا :بخدا ہم تو ایک آدمی بھی تمھارے سپرد نہیں کریں گے اوراگر جنگ میں شریک ہو تو ٹھیک ہے، شروع کرو۔ بنی قریظہ جب اس سے باخبر ہوئے تو انھوں نے کہا: واقعًا نعیم بن مسعود نے حق بات کہی تھی ! یہ جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ کوئی چکرچلارہے ہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوٹ مارکرکے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں اور ہمیں محمد کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ جائیں۔ پھر انہوں نے پیغام بھیجا کہ اصل بات وہی ہے جو ہم کہہ چکے ہیں۔ بخدا ! جب تک کچھ افراد گروی کے طور پر ہمارے سپرد نہیں کرو گے، ہم بھی جنگ نہیں کریں گے ۔ قریش اور غطفان نے بھی اپنی بات پر اصرار کیا، لہذا ان کے درمیان میں اختلاف پڑگیا ۔ اوریہ وہی موقع تھا کہ رات کو اس قدر زبردست سرد طوفانی ہوا چلی کہ ان کے خیمے اکھڑ گئے اور دیگیں چولہوں سے زمین پرآ پڑیں۔ یہ سب عوامل مل ملاکر اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن کو سر پرپاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا اور فرار کو قرار پر ترجیح دینی پڑی۔ حتی کہ میدان میں ان کا ایک آدمی بھی نہ رہا۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
6- پیغمبر اسلام کے فوجی اور سیاسی اقدام
6- پیغمبر اسلام کے فوجی اور سیاسی اقدام: پیغمبر اکرمؑ کی اورمسلمانوں احزاب میں کامیابی کے بہت سے عوامل تھے ۔ اور شدید طوفان کے ذریعے ہوئی اور اس نے احزاب کی تمام بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ نیز پروردگار کے نظر نہ آنے والے لشکر،ان کے علاوہ اور بھی فوجی اور سیاسی عوامل تھے جن میں سے اهم ترین عامل کی ذات پر ایمان اور عقیدہ تھا۔ بعض عواملی یہ تھے۔ (1) حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خندق کھودنے کی تجویز کو قبول کرکے عربوں کی جنگی تکنیک میں ایک نئے عنصرکا اضافہ گیا ، جو اس زمانے موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی تکنیک تھی میں سے لشکر اسلام کے حوصلے بلند ہوۓ اور سپاه کفرچکے چھوٹ گئے۔ (2) عمرو بن عبدود کا اسلام کے عظیم اور مایہ ناز ہیرو علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہاتھوں مارا مانا اور اس کی موت لشکر احزاب کی امیدوں اور آرزوؤں پر پانی پھرجانا۔ (3) لشکر اسلام کے باقائدہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت بنائے گئے مورچے اور مناسب فوجی تکنیک اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن شهر مدینہ میں داخل نہ ہوسکا۔ (4) جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ کامیابی کا اہم ترین عامل ایمان اور اللہ کی ذات پاک پر توکل تھا۔ اس کا بیج مسلمانوں کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بویا تھا۔ اس طویل جنگ میں مسلسل آیات قرآن کی تلاوت ہوتی رہی اور رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی دلنشیں باتیں اہل ایمان کے سینوں میں ایمان و توکل کی آبیاری کرتی رہیں۔ (5) پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا طرزعمل آپ کی عظیم روح اورنفس پراعتماد مسلمانوں کو قوت قلب اور تسکین خاطر عطا کررہے تھے۔ (6) اس پرمزید نعیم بن مسعود کی داستان لشکر احزاب میں تفرق ڈالنے اور اسے کمزور کرنے کا اہم اور موژ عامل تھی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
5- حضرت علیؑ کی تاریخی جنگ
5- حضرت علیؑ کی تاریخی جنگ: اس جنگ کا ایک اہم واقعہ حضرت علیؑ کا دشمن کے لشکر کے نامی گرامی ہے پہلوان عمروبن عبدود کے ساتھ مقابلہ تھا. تاریخ میں آیا ہے کہ لشکراحزاب نے جن دلادران عرب میں سے بہت طاقت ور افراد کو اس جنگ میں اپنی امداد کے لئے دعوت دے رکھی تھی ، ان میں سے پانچ افراد زیادہ مشہور تھے: عمروبن عبدود ، عکرمہ بن ابی جہل ، ببیرہ ، نوفل اور ضرار یہ لوگ دوران محاصره ایک دن دست بدست لڑائی کے لیے تیار ہوئے، لباس جنگ بدان پرسجایا اور خندق کے ایک کم چوڑے حصے سے ، جو مجاہدین اسلام کے تیروں کی پہنچ سے کسی قدر دور تھا ، اپنے گھوڑوں کے ساتھ دوسری طرف جست لگائی اور لشکر اسلام کے سامنے آکھڑے ہوئے، ان میں سے عمرو بن عبدود زیادہ مشہوراور نامور تھا۔ اس کی "کوئی ہے بہادر" کی آواز میدان احزاب میں گونجی اور چونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابلے کے لیے تیار نہ ہوا ، لہذا وہ زیادہ گستاخ ہوگیا اور مسلمانوں کے عقاید اورنظریات کا مذاق اڑانے لگا اور کہنے لگا: تم جو کہتے ہو کہ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ہمارے مقتول جہنم میں تو کیا میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے میں بہشت بھیجوں یا وہ مجھے جہنم کی طرف روانہ کرے؟ اوراس موقع پر اس نے اپنے یہ مشہور اشعار پڑھے: ولقد بححت عن الناء بجمعكم هل من مبارزا ووقفت اتجبن المشجع موقف البطل المناجز ان السماحةوالشجاعةفي الفتی خیرا لغرائزا تمہارے اجتماع میں میں نے اتنا پکارا اور مبارز طلبی کی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں اس وقت ایسی جگہ پرکھڑا ہوں کہ بہادر نما جنگو شجاع اس کی جگہ پر کھڑا ہونے سے گھبراتے ہیں۔ جی ہاں! شرافت اور شجاعت جواں مردوں کی بہترین خصلتیں ہیں۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی الله علیه و اله وسلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص کھڑا ہو اور اس کے شرکو مسلمانوں کے سر سے دور کردے۔ لیکن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی بھی اس کے ساتھ جنگ کے لیے آمادہ نہ ہوا توا آنحضرتؐ نے علی ابن ابی طالبؑ سے فرمایا:"یہ عمرو بن عبدود ہے"۔ حضرت علیؑ نے عرض کی حضور! میں بالکل تیار ہوں خواہ عمرو ہی کیوں نہ ہو۔ پیغمبراکرمؐ نے ان سے فرمایا ۔ میرے قریب آؤ: چنانچہ علی علیہ اسلام آپ کے قریب گئے اور آنحضرتؐ نے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور اپنی خصوص تلوار ذوالفقارنہیں عطا فرمائی اور ان الفاظ میں انھیں دعادی : " اللهم احفظہ من يديه ومن خلفه و عن يمينه وعن شمال ومن فوقہ ومن تحته" خدایا! علی کے سامنے سے ، پیچھے سے ، دائیں اور بائیں سے اور اوپر اور نیچے سے حفاظت فرما۔ حضرت علی علیہ تم بڑی تیزی سے عمرو کے مقابلہ میں یہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں اترے۔ الاتعجلن فقد اتاک مجیب صوتک غير عاجز ذونیة وبصيرة والصدق منجی كل فائز انی لارجوان افيم عليك ناتحة لجنائز! من ضربة غلاء يبقى صوتها بعد الهزاهز جلدی نہ کرو کیونکہ تیری پکار کا قوی اور طاقت ور جواب دینے والا اب آگیا ہے۔ وہ شخص جو پاک نیت ، شائستہ بصیرت اور فاتح انسان کے لیے نجات دینے والی صداقت رکھتا ہے- مجھے امید ہے کہ نوحہ کرنے والیوں کی نو حہ زاری تیرے جنازہ کے پاس بلند کراؤں گا۔ ایسی واضح ضربت سے کہ جس کی صدا جنگ کے میدانوں کے بعد بھی باقی رہے ۔ اور ہر جگہ پہنچے ۔ یہی وہ موقع تھاکہ پیغمبر ختمی المرتبت صلی الہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ مشهور جملہ ارشاد فرمایا۔ "برزالایمان كله لي الشريك کله" پورے کا پورا ایمان پورے کے پورے کفر کے مقابلہ میں جارہا ہے۔ ؎1 امیر المومنین علی علیہ السلام نے پہلے تو اسے اسلام کی دعوت دی جسے اس نے قبول نہ کیا۔ پھر میدان چھوڑ کرچلے جانے کو کہا۔ اس پر بھی اس نے انکار کیا اور اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھا۔آپؑ کی تیسری پیشکش یہ تھی کہ گھوڑے سے اتر آئے اور پیادہ ہوکر دست بدست لڑائی کرے ۔ عمرو آگ بگولہ ہوگیا اور کہا کہ میں نے بھی سوچا بھی نہ تھا کہ عرب میں سے کوئی شخص مجھے ایسی تجویز دے گا۔ گھوڑے سے اترآیا اور علی علیہ السلام پراپنی تلوار کاوارکیا۔ لیکن امیر المومنینؑ نے اپنی مخصوص مہارت سے اس دار کو اپنی سپر کے ذریعے روکا۔ مگر تلوار نے سپر کو کاٹ کر آپؑ کے سر مبارک کو زخمی کردیا۔ اس کے بعد حضرت على علیہ السلام نے ایک خاص حکمت عملی سے کام لیا۔ عمرو بن عبدود سے فرمایا ، تو عرب کا زبردست پہلوان ہے ، جب کہ میں تجھ سے تن تنہالڑ رہا ہوں ۔ لیکن تونے اپنے پیچھے کن لوگوں کو جمع کر رکھا ہے۔ اس پر عمرنے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے عمر کی پنڈلی پرتلوار کا وار کیا ، جس سے وہ سرد قد زمین پرلوٹنے لگا ۔ شدید گرد و غبار نے میدان کی فضا کو گھیر رکھا تھا۔ کچھ منافقین یہ سوچ رہے تھے کہ حضرت علیؑ ، عمرو کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں۔ لیکن سب انھوں نے تکبیر کی آواز سنی تو علیؑ کی کامیابی ان پر واضح ہوگئی ۔ اچانک لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے سرمبارک سے خون بہہ رہا تھا۔ اور لشکرگاہ اسلام کی طرف خراماں خراماں واپس آرہے تھے۔ جبکہ فتح کی مسکراہٹ آپؑ کے لبوں پر کھیل رہی تھی۔ اور عمر کا بےسر پیکرمیدان کے کنارے ایک طرف پڑا ہوا تھا۔ عرب کے مشہور پہلوان کے مارے جانے سے لشکر احزاب اور ان کی آرزوؤں پر ضرب کاری لگی، ان کے حوصلے پست اور دل انتہائی کمزور ہوگئے۔ اس ضرب نے ان کی فتح کی آرزوؤں پر پانی پھیر دیا ۔ اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کامیابی کے بارے میں حضرت علیؑ سے ارشاد فرمایا: لم وزن الیوم عملک بعمل جميع امة محمد الرجع ھملك على عملھم و ذاک أنه لم يبق بيت من المشركين الاوقد دخل ذل بقتل عمرو ولم يبق بيت من المسلمين الا وقد دخل عز بقتل عمرو: اگر تمھارے آج کل کے عمل کو ساری امت محمد کے اعمال سے موازنہ کریں تو وہ ان پر بھاری ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانوار جلد 20 ص 215 ، ابن ابی الحدید : شرح نہج البلاغہ جلد 4 ص 344 حقاق الحق جلد 6 ، 9 یہ روایت ان کتب کے حوالے کے درج کی گئی ہے ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہوگا۔ کیونکہ عمرو کے مارے جانے سے مشرکین کا کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہا جس میں ذلت و خواری داخل نہ ہوئی ہو اور مسلمانوں کا کوئی بھی گھرایسا نہیں ہے جس میں عمرو کے قتل ہو جانے کی وجہ سے عزت داخل نہ ہوئی ہو"۔ ؎1 اہل سنت کے مشہور عالم ، حاکم نیشاپوری نے اس گفتگو کو نقل کیا ہے ۔ البتہ مختلف الفاظ کے ساتھ اور وہ یہ ہے : "لمبارزة على بن ابی طالب لعمرو بن عبدود یوم الخندق افضل من اعمال أقتى الى يوم القيامة " ؎2 "یعنی علی ابن ابی طالب کی خندق کے دن عمرو بن عبدود سے جنگ میری امت کے قیامت کے اعمال سے افضل ہے"۔ آپ کے اس ارشاد کا فلسفہ واضح ہے ، کیونکہ اس دن اسلام اور قرآن ظاہرًا نابودی کے کنارے پر پہنچ چکے تھے ، ان کے لیے زبردست بحرانی لمحات تھے۔ جس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فدا کاری کے بعد اس میدان میں سب سے زیادہ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا، اسلام کو اس خطرے سے محفوظ رکھا ، قیامت تک اس کے دوام کی ضمانت دے دی ، اس کی فدا کاری سے شجر اسلام کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور پھراسلام عالمین پر پھیل گیا لہذا سب لوگوں کی عبادتیں اس کی مرہون منت قرار پاگئیں۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ مشرکین نے کسی آدمی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ عمرو بن عبدود کے لاشے کو دس ہزار درم میں خرید لائے (شاید ان کا یہ خیال تھا کہ مسلمان عمرکے بدان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو سنگدل ظالموں نے حضرت حمزہ کے بدن کے ساتھ جنگ احد میں کیا تھا) لیکن رسول اکرمؐ نے فرمایا: اس کا لاشہ تمھاری ملکیت ہے۔ ہم مردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت عمرو کی بہن اپنے بھائی کے لاشے پر پہنچی اور اس کی قیمتی زرہ کو دیکھا کہ حضرت على علي السلام نے اس کے بدن سے نہیں اتاری تواس نے کہا : "ماقتله الاكفوكريم" "میں اعتراف کرتی ہوں کہ اس کا قاتل کریم اور بزرگوار شخص ہی تھا"۔ ؎ 3 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- - ؎1 بحارالانور جلد 20 ص 216 ؎2 مستدرک حاکم جلد 3 ص 32 ؎3 اس حصے میں "احقاق الحق" جلد 6 ، بحارالانوار جلد 20 ، تفسیر المیزان جلد 16 ۔" حبیب السیر" جلد اول اور فروغ ابدیت جلد 2 سے استفادہ کیا گیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:21-25
4- بہت بڑی آزمائش کا میدان
4- بہت بڑی آزمائش کا میدان: جنگ احزاب عام مسلمانوں اور ان لوگوں کے لیے جو اسلام کے دعوے دارتھے ، آزمائش کی عجیب کسوٹی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں کے لیے بھی جو کبھی کبھار دعوٰے تو غیر جانبدار ہونے کا کرتے تھے ، لیکن باطنی طور پر دشمنان اسلام سے ملے ہوئے تھے ۔ اس جنگ سے تینوں گروہ (سچے مومنین، ضيف الایمان اور منافقین) کا موقف ان کے اعمال و کردار کے ذریعے مکمل طور پرنمایاں ہوگیا اور اسلامی اقدار پورے طور پر آشکار ہوگئیں۔ ان تینوں نے جنگ احزاب کی گرم بھٹی میں اپنے مخلص ہو یا نہ ہونے کو ثابت کردیا۔ اس حادثے کا طوفان اس قدرتند اور تیز تھا کہ کوئی بھی شخص جو کچھ اس کے دل میں تھا چھپا نہ سکا اور جن مطالب کے ظاہر ہونے کے لیے معمولی حالات میں سالہا سال کی ضرورت تھی وہ ایک مہینہ سے بھی کم مدت میں الم نشرح ہو کہ سامنے آ گئے۔ یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ پیغمبرؐ نے ---- اپنے صبرواستقامت ، دلیرانہ مزاحمت ،حوصلے ، خدا پر توکل اور اپنے آپ پر اعتماد کا عظیم مظاہرہ کیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے خندق کھودنے میں ان کے ساتھ مواسات اور ہم کاری کرکے اور جنگ کے مشکلات برداشت کر کے آپؐ نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ جو کچھ آپ اس سے پہلے اپنی تعلیمات کی صورت میں لاچکے ہیں ، ان پرآپ کو صدق دل سے یقین ہے اور آپ ان کے وفادار ہیں اور جو کچھ آپ لوگوں سے کہتے ہیں ، اس پر پہلے خود عمل کرتے ہیں۔