إِذۡ جَآءُوكُم مِّن فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ أَسۡفَلَ مِنكُمۡ وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠
When they came at you from above and below you, and when the eyes rolled [with fear] and the hearts leapt to the throats, and you entertained misgivings about Allah,
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:9-11
چند قابل غورمطلب
چند قابل غورمطلب 1- " اذكروا" کی تعبیر بتاتی ہے کہ یہ آیات جنگ کے اور کچھ وقت گزر جانے کے بعد نازل ہوئیں یعنی اب مسلمانوں کے لیے موقع تھا کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا تھا، اس کا اپنی فکر و نظر کے مطابق تجزیه و تحلیل کریں تاکہ اس کا گہرا اثر ہو۔ 2- "جنود" کی تعبیر زمانۂ جاہلیت کے مختلف گردہ اور قبائل کی طرف اشارہ ہے (مثلا قریش ، عظفان ، بنی سلیم ،بنی اسد، بنی فرازہ ، بنی اشجع اور بنی مرہ) جن میں مدینہ کے اندر والا یہودیوں کا قبیلہ بھی ہے . 3- "جنودا لم تروها" سے مراد جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے آئے تھے ، وہی وہ فرشتے تھے جن کا مومنین کی جنگ بدر میں مدد کرنا بھی صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ سورة انفال ان کی آیہ 9 کے ذیل میں ہم بیان کرچکے ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ نظر آنے والا فرشتوں کا خدائی لشکر باقاعدہ طور پر میدان میں داخل ہوا اور وہ جنگ میں بھی مصروف ہوا ہو بلکہ ایسے قرائن موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ وہ صرف مومنین کے حوصلے بلند کرنے اور ان کا دل گرمانے کے لیے نازل ہونے تھے ۔ ؎1 بعد والی آیت جو جنگ احزاب کی بحرانی کیفیت ، دشمنوں کی عظیم طاقت اور بہت سے مسلمانوں کی شدید پریشانی کی تصویرکشی کرتے ہوئے یوں کہتی ہے ۔ "اس وقت کو یاد کرو جب وہ تمھارے شہر کے اوپر اور نیچے سے داخل ہوگئے۔ (اور مدینہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا) اور اس وقت کو جب آنکھیں شدت وحشت سے پتھراگئی تھیں اور جان لبوں تک آئی ہوئی تھی اور خدا کے بارے میں طرح طرح کی بد گمانیاں کرتے تھے "۔ (اذجاء وكم من فوقكم ومن اسفل منكم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجروتظنون بالله الظنونا)۔ بہت سے مفسرين اس آیت میں لفظ "فوق" کو مدینہ کی مشرقی جانب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ "قبیلہ غطفان" ادھرسے وارد ہواتھا۔اور "اسفل" (نیچے) کو مغرب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ "قریش اور ان کے ساتھی وہیں سے داخل ہوئے تھے۔ البتہ اس طرف تو کرتے ہوے کہ مکہ ٹھیک مدینہ کی جنوبی سمت میں واقع ہے لہذامشرکین مکہ کے قبائل کو جنوب سے آنا چاہیئے ۔ لیکن شاید شہر مدینہ میں داخل ہونے کے راستے کی کیفیت کچھ اس طرح تھی کہ انھوں نے شہر کا تھوڑا سا چکر لگایا اور مغرب کی طرف سے شہر کے اندر آ گئے صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، اوپروالا جملہ اسلام کے مختلف دشمنوں کی طرف سے اس شہر کے محاصرہ کی طرف اشارہ ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے تفسیرنموںہ کی جلد 7 ص مذکورہ آیت کے ذیل میں رجوع کریں ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "زاغت الابصار" کے جملہ میں "لفظ " "زاغت" "زیغ" کے مادہ سے ایک طرف جھکاؤ کے معنی میں ہے جو ایسی حالت کی طرف اشارہ ہے جو زبردست خوف اور وحشت کی صورت میں انسان پر طاری ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی آنکھیں ہرطرف سے ہٹ کر ایک معین نقطہ پر ٹھرجاتی ہیں اور خیرہ ہوجاتی ہیں۔ "بلغت القلوب الحناجر" (دل حلق تک پہنچ چکے تھے) کا جملہ ایک عمدہ جملہ ہے ۔ جس طرح فارسی زبان میں بھی ہے کہ (اس کی جان لبوں تک پہنچ گئی) ورنہ دل جس کا ایک مخصوص معنی ہے یعنی جو خون کی تقسیم کا مرکز ہے کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہیں ہٹتا اور نہ ہی کبھی حلق تک پہنچتاہے۔ اور " تظنون باللہ الظنونا " کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کیفیت سے مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیے غلط قسم کے گمان پیدا ہوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی تک ایمانی قوت کے لحاظ سے کمال کے مرحلہ تک نہیں ، پہنچ پائے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ وہ شدت سے متزلزل ہوئے ۔ شاید ان میں سے کچھ لوگ گمان کرتے تھے کہ آخر کار ہم شکست کھا جائیں گے اور اس قدرت و قوت کے ساتھ دشمن کا لشکر کامیاب ہوجائے گا ، اسلام کے زندگی کے آخری دن آ پہنچے ہیں اور پیغمبر کا کامیابی کا وعدہ کبھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ یہ افکار ونظریات ایک عقیدہ کی صورت میں نہیں بلکہ ایک وسوسہ کی شکل میں بعض لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں پیدا ہو گئے تھے بالکل ویسے ہی جیسے جنگی احد کے سلسلہ میں قران مجید ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے :" وطافۃ قد اهمتهم انفسهم يظنون بالله غيرالحق ظن الجاهلية"۔ یعنی تم میں سے ایک گروہ جنگ کے ان بحرانی لمحات میں صرف اپنی جان کی فکرمیں تھا اور جاہلیت کے دور کے گمانوں کی مانند خدا کے بارے میں غلط گمان رکھتے تھے۔ (آل عمران ۔۔۔۔۔۔۔۔ آیہ 154)۔ البتہ محل بحث آیت میں مخاطب یقینًا مسلمان ہیں اور" یاایها الذین امنوا" کا جملہ جواس سے قبل کی آیت میں ہے اس معنی کی دلیل ہے اور جنھوں نے اس کے مخاطب منافقین کو سمجھا ہے گویا انھوں نے یاتواس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی یا پھر خیال کیا کہ اس قسم کی بدگمانی ایمان اور اسلام کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ حالانکہ اس قسم کے انکار کا وسوسہ کی حد اور تک ظاہرہونا اور وہ بھی سخت بحرانی حالات میں ایک فطری اور معمول کے مطابق بات ہے ۔ ؎1 یہی وہ منزل تھی کہ خدائی امتحان کی بھٹی سخت گرم تھی جیساکہ بعد والی آیت کہتی ہے کہ "وہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ سخت بل گئے تھے" (هنالك ابتلى المؤمنون وزلزلوا زلزالًا شديدًا)۔ فطری امر ہے کہ جب انسان فکری طوفانوں میں گھر جاتا ہے تو اس کا جسم بھی ان طوفانوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، بلکہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "ظمنون" کا عمومی معنی اچھے اور برے گمان لیا ہے ، لیکن اس آیت میں اور اس سے بعد والی آیت میں موجود قرائن بتاتے ہیں کہ مراد برے گمان ہیں ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وہ بھی اضطراب اور تزلزل کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب لوگ ذہنی طور پر پریشان ہوتے ہیں تو جہاں بھی بیٹھے ہوتے ہیں اکثر بے چین رہتے ہیں، ہاتھ ملتے رہتے ہیں اور اپنے اضطراب اور پریشانیوں کو اپنی حرکات سے ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اس شدید پریشانی کے شواہد میں سے ایک یہ بھی تھا جسے مورخین نے بھی نقل کیا ہے کہ عرب کے پانچ مشہور جنگجو پہلوان جن کا سرخیل عمرو بن عبد ود تھا ، جنگ کا لباس پہن کر اورخصوص غرور اور تکبر کے ساتھ میدان میں آئے اور "هل من مبارز" رہے کوئی مقابلہ کرنے ولا؟ کی آواز لگانے لگے ، خاص کرعمروبن عبدود رجز پڑھ پڑھ کرجنت اور آخرت کا مذاق آڑارہاتھا، وہ کہہ رہاتھا کہ" کیا تم نہیں کہتے ہو کہ تمھارے مقتول جنت میں جائیں گے ؟ تو کیا تم میں سے کوئی بھی جنت کے دیدار کا شوقین نہیں ہے ؟ لیکن اس کے ان نعروں کے مقابلہ میں لشکرپر بری طرح خاموشی طاری تھی اور کوئی بھی مقابلے کی جرات نہیں رکھتا تھا سوائے علی بن ابی طالب کے جو مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے اورمسلمانوں کو عظیم کامیابی سے ہم کنار کر دیا۔ اس کی تفصیل نکات کی بحث میں آئے گی۔ جی ہاں! اس طرح فولاد کو گرم بھٹی میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ نکھر جائے اسی طرح اوائل کے مسلمان بھی جنگ احزاب جیسے معرکوں کی بھٹی میں سے گزریں تاکہ کندن بن کرنکلیں اور حوادثات کے مقابل میں جراءت اور پامردی کا مظاہرہ کرسکیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:9-11
میدان احزاب میں کڑی آزمائش
تفسیر میدان احزاب میں کڑی آزمائش : یہ اوربعد والی آیات جو مجموعی طور پر سترہ آیات بنتی ہیں اور "مومنن" اور "منافقین" کے بارے میں خدا کی کڑی آمازئیش اور عمل کے سلسلہ میں ان کے صدق گفتار کے امتحان کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ، جس کے متعلق گذشتہ آیات میں بحث ہوچکی ہے۔ یہ آیات تاریخ اسلام کے ایک اہم ترین حادثے یعنی جنگ احزاب کے متعلق گفتگو کرتی ہیں ، ایسی جنگ جو تاریخ اسلام میں ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوئی اور اسلام و کفر کے درمیان طاقت کے موازنے کے پلڑے کو مسلمانوں کے حق میں جھکادیا اور اس کی کامیابی آیندہ کی عظیم کامیابیوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی اوراس کے بعد وہ کوئی خاص قابل ذکر کارنامہ انجام دینے کے قابل نہ رہ سکے۔ "یہ جنگ احزاب" جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گروہوں کی طرف سے ہرطرح کا مقابلہ تھاکہ اس دن کی پیش رفت سے ان لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑ گئے تھے۔ جنگ کی آگ کی چنگاری" بنو نضیر" یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف سے بھڑکی جو مکہ میں آئے اور قبیلہ "قریش" کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے پر اکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے ۔پھر قبیلہ "غطفان" کے پاس گئے اورانھیں بھی کارزار کے لیے آمادہ کیا۔ ان قبائل نے اپنے ہم پیمان اور حلیفوں مثلًا قبیلہ "بنی اسد" اور بنی سلیل" کو بھی دعوت دی اور چونکہ یہ سب قبائل خطرہ محسوس کیے ہوئے تھے ، لہندا اسلام کا کام ہمیشہ کے لئے تمام کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا تاکہ وہ اس طرح سے پیغمبر کو شہید ، مسلمانوں کو سرکوب ، مدینہ کو غارت اور اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کردیں۔ مسلمانوں نے جب اپنے آپ کو ایک عظیم گروہ کے مقابل میں دیکھا تو حکم رسالت پناهؐ سے مشورہ کرنے بیٹھ گئے اور سب سے پہلے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پیش کش پر مدنیہ کے اطراف میں خندق کھودی گئی تاکہ دشمن اسے آسانی کے ساتھ عبور نہ کرسکے اور شہر لوٹ مار سے بچ جائے (اسی بناء پر اس جنگ کا ایک نام" جنگ خندق" بھی ہے)۔ مسلمانوں پر بہت سخت اور خطرناک لمحات گزر رہے تھے ۔ جانیں لبوں تک آئی ہوئی تھیں ، منافقین لشکراسلام کے درمیان زبردست تگ دو میں پڑے ہوئے تھے ۔ دشمن کا انبوہ کثیر اور اس کے مقابلہ میں لشکر اسلام کی کمی (لشکر کفر کی تعداد دس ہزار اور لشکر اسلام کی تین ہزار لکھی ہے) دشمن کی تیاری جنگی سازوسامان اور ضروری وسائل کی فراہمی ایک سخت اور درناک مستقبل کومسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے مجسم کررہے تھے۔ لیکن خدا چاہتا تھا کہ یہاں پیکر کفر پرآخری ضرب پڑے اور منافقین کو مسلمانوں کی صفوں سے جدا کردے ، سازشی عناصر کا بھانڈا پھوڑ دے اور سچے مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹی میں ڈالے۔ اخرکار یہ جنگ جیسا کہ اس کی تفصیل آگے آئے گی ، مسلمانوں کی کامیابی پرمنتج ہوئی ، حکم خداسے سخت آندھی چلی جس نے کفار کے خیمے ، تمبو اور تمام بساط زندگی کو لپیٹ کر رکھ دیا، ان کے دلوں میں زبردست رعب و وحشت ڈال دی اور فرشتوں کی غیبی طاقتیں مسلمانوں کی مد د کےلیے بھیجیں ۔ عمروبن عبدو کے مقابلہ میں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ کی قدرت نمائی بھی عجیب وغریب خدائی طاقتوں کے مظاہرے کہ اضافہ ہوا اور مشرکین کوئی کارنامہ سرانجام دیئے بغیر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اوپر والی سات آیات میں مشرکین کی سرکوبی کرنے والا تجزیہ و تحلیل پیش کیا گیا ہے اور اسلام کی فیصلہ کن کامیابی اور منافقین کی سرکوبی کو احسن انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ یہ تھی جنگ احزاب کی ایک جھلک جو ہجرت کے پانچویں سال واقع ہوئی ۔ ؎1 یہاں سے ہم آیات کی تفسیر کی طرف جاتے ہیں اور اس جنگ کی دیگرتفصیلات اور نکات کو بحث کے لیے اٹھاۓ رکھتے ہیں۔ قران اس ماجرا کو پہلے تو ایک ہی آیت میں خلاصہ کرتا ہے. پھر دوسری 12 آیات میں اس کی خصو صیات کو بیان کرتے ہوئے کہتاہے" اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو اپنے اوپر خدا کی عظیم نعمت کویاد کرو ، اس موقع پر جب کہ (عظیم) لشکر تمھاری طرف آۓ (یاایها الذین آمنوا اذكروا نعمة الله عليكم اذجاء تکم جنم )۔ لیکن ہم نے ان پر آندھی اور طوفان بھیجے اور ایسے لشکر جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اوراس ذرایعہ سے ہم نے ان کی سرکوبی کی اور انہیں تر بتر کردیا:: (فارسلنا علیھم ریحًا وجنم دً الم تروها)۔ " اور خدا ان تمام کاموں کو جنہیں تم انجام دیتے ہو دیکھ رہا ہے (اور وہ کام بھی جو ہر گروہ نے اس عظیم میدان میں انجام دیئے) بصیر اور بیناہے"۔ (وكان الله بما تعملون بصیرًا) - ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس تفصیل کا ایک اجمالی خاکہ بے جسے اسلامی مورخین نے منجلہ " ابن اثیر" " کامل" میں درج کیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:9-11
سوره احزاب / آیه 9 -11
(9) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُـوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ رِيْحًا وَّجُنُـوْدًا لَّمْ تَـرَوْهَا ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرًا (10) اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّـٰهِ الظُّنُـوْنَا (11) هُنَالِكَ ابْتُلِـىَ الْمُؤْمِنُـوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا ترجمہ (9) اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو ، اس وقت کہ جب (عظیم) لشکر تمھاری طرف آئے۔ لیکن ہم نے سخت آندھی اور طوفان ان پر بھیجا اور ایسے لشکر جنہیں تم نہیں دیکھ سکے (اور اس طرح سے انہیں درہم برہم کردیا) اور جسے تم انجام دیتے ہو ، خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ (10) اس وقت کو یاد کرو ، جب وہ تمھارے (شہرکے) اوپر اور نیچے سے وارد ہوئے (اور مدینہ کا محاصرہ کرلیا) اور اس وقت کو جب کہ آنکھیں شدت وحشت سے خیرہ ہوگئیں تھیں اورلبوں تک پہنچ چکی تھی اور تم خدا کے بارے میں طرح طرح کی بد گمانیاں کررہے تھے۔ (11) وہاں مومنین کی آزمائش کی گئی اور وہ سختی سے ہل گئے۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:9-20
Like an engine, the human body derives energy from carbon of food and oxygen is breathed in from outside air, through the nose and larynx of the lungs, and the left side of the heart below the lungs circulates blood through arteries and to the right of which, through veins is transmitted for purification to the lungs which return it to the left side of the heart in turn. Couplet 17 was revealed on utterance of Khalifa 2 when he saw Omer ibn Abdewad challenging them. Temperament of the faith of the Prophet’s companions (hypocritical mostly) be compared with those Hussain at Karbala. Their rewards shall be likewise. On Shawwal 5th Hijra, Quraish infidels travelled all over Arabia to collect an army, as also from various Jewish tribes until their forces numbered 10,000. The Prophet had been driven out of Medina to Khaibre on breach of covenant. Bani Nazeer, a Jewish tribe of descent of Aaron. Hai ibn Akhtab, their leader, in conspiracy with the infidel Quraish said, “The Prophet has driven out Bani Kaiaka out of their houses and Bani Kariza, 700 strong, men of whom lived two miles away from Medina had a pact with the Prophet to assist him in the time of need. Hai succeeded in getting the pact breached, the result was the infidel Quraish attacked from higher plateau and they (Jews) from a lower plateau. To meet 10,000strong, the Prophet, on the advice of Sulman the Persian, dug a trench to safeguard the Medinites near Uhud. The infidel Quraish besieged the Muslim army and Umar ibn Abdawad crossed the trench on horseback and offer to fight out the contest. The Prophet’s companions got nervous and the 17th Couplet was revealed. The Prophet asked three times his companions to respond to the call and none would come forward each time except Ali, who ultimately was selected with prayers to God. Ali offered three alternatives to the adversary, viz. to embrace Islam, to go back taking is army, to come down for his horse, as Ali was also on foot. Rejecting the first offers he accepted the third and was beheaded by Ali. This created a panic. Ali, without removing his (enemy’s) most precious armour, took his head to the Prophet upon which the prophet said Ali’s single stroke of his sword of the was more than joint prayers of man and spirit until the Day of Judgment. Omar ibn Abdawad’s sister, when she approached to mourn her brother’s death, seeing his body, was surprised at Ali’s having left her brother’s most precious armour untouched, and said, “Verily he (Ali) was chivalrous.” And God had declared, through Gabriel, previously on the battlefield of Uhud in which Ali was the only warrior. Thus is established Ali as a hero of the Text (i.e. in the Glorious Qur’an), for God is Pure and Truth and loves truth, and Ali has been personified as Truth in the words of the Prophet. Therefore, cursed be his enemy as they are enemies of Truth (i.e. God the Almighty). It is indisputably affirmed under the Prophet’s confirmation, Ali’s sword established Islam.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:10
[Pooya/Ali Commentary 33:10] The sight of the enemy who surrounded the city round the trench was frightful. All the Muslims save the Holy Prophet, his Ahl ul Bayt and their followers feared that they might not be able to stand the trial and would be slaughtered and destroyed. "The hearts jumped to the throats" is expressive of cowardice. "They came on you from above you" refers to the heathens and "from below you" refers to the hypocrites and the weak-hearted wavering converts. The word muminin in verse 11 refers to those who posed themselves as believers but were not in fact true faithfuls. Their insincerity and false guise became known when Amr threw an open challenge but none of the companions came forward to meet him in single combat because they were shaken by a frightening terror. As stated in the commentary of verse 9 the Holy Prophet had seen clear signs of victory, but the hypocrites and the insincere believers accused him and the true believers of keeping the Muslims in delusive hopes. Yathrib is the ancient name of Madina. The disaffected hypocrites and the insincere spread defeatist rumours and persuaded the Muslims to leave the scene of the impending battle and withdraw for the defence of their homes, although their homes were not exposed to enemy attack. So prone and ever-ready were they to every act of hostility against Islam that if the enemy had been able to penetrate into the city, they, sitting on the fence, would have joined the forces of the invaders at once, although, after the battle of Uhad, certain men who had deserted the Holy Prophet, made a covenant with Allah and His Prophet that they would behave better next time. See commentary of Ali Imran: 121, 122, 128, 140 to 142, 144, 151 to 156, 159, 166 to 168 and Anfal: 16. Imam Ali said: "On which day (can) I run away from death? The day which is decreed (or) the day which is not decreed!". Most of the companions of the Holy Prophet who were weak in faith fell easy prey to the machination of the clever hypocrites, as they did in the battles of Badr and Uhad (see verses of Ali Imran and Anfal noted above) and afterwards in Hunayn (see commentary of Bara-at: 25 to 27). In times of danger they would look to the Holy Prophet and Ali for protection, and keep themselves snugly away from the fight. When the danger is past, they would come and brag and wrangle and show their covetousness and greed for gains. Even any good they might have done was obliterated because there was no sincere motive behind it except envy, greed and cowardice. Verse 20 gives a vivid picture of the psychology of the most of the companions of the Holy Prophet. Even when the enemy had gone they were so much confused in their minds that they secretly decided to run away from the city and take refuge in the desert if the enemy made another attack. Aqa Mahdi Puya says: "They would fight but little" shows that the companions made almost no contribution to the mission of the Holy Prophet. Even a commentator like Allama Yusuf Ali (who has not mentioned the Ahl ul Bayt at all in his entire commentary) admits in his note (3685) that "Ali particularly distinguished himself in many fights, wearing the prophet's own sword and armour."