وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ بَلْ هُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ
They say, ‘When we have been lost in the dust, shall we be indeed created anew?’ Indeed, they disbelieve in the encounter with their Lord.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 32:10
[Pooya/Ali Commentary 32:10] Refer to Rad: 5; Bani Israil: 49 and Maryam: 66. Aqa Mahdi Puya says: In view of this verse the Holy Prophet said: "Man has been created to live for ever, not to vanish into nothingness. He is transported from the place where he acts as he chooses to the place where he shall live for ever, happy or miserable, according to the deeds he has chosen to do."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:10-14
2- موت کا فرشتہ (ملک الموت)
2- موت کا فرشتہ (ملک الموت) : قرآن مجید کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند عالم فرشتوں کے ایک گروہ کے ذریعہ اس جہان کے امور کی تدبیر کرتا ہے جیساکہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "خلود اور عذاب جاودانی کے فلسفہ" کے بارے میں جلد 9 میں ۔۔۔۔۔۔۔ سورہ ہود آیت 107 کے ذیل میں ہم ایک تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- سوره نازعات کی آیت 5 میں فرماتا ہے (فالمدبرات امرًا) قسم ہے ان فرشتوں کی جوحکم خدا سے تدبیر پر امور کرتے ہیں"۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سنت الٰہی اس پرہے کہ وہ اپنی مشیت کو اسباب کے ذریعے سے عملی شکل دیتا ہے، اور ان فرشتوں میں سے ایک گروه قبض ارواح کرنے والاہے جن کی طرف سورہ نحل کی آیت 28 اور 33 میں قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے اور ان سب میں سرفہرست "ملک الموت" قرارپاتاہے۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں ، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ ضروری نظر آتا ہے۔ ا- ایک حدیث میں پیغمبرسلام منقول ہے۔ آپؐ نے فرمایا: الامراض والأوجاع كلها بريد الموت ورسل الموت ! فاذا حان الأجل الی ملك الموت بنفسانه فقال يا ايها العبد كم خبر بعد خبر ؟وكم رسول بعد رسول ؟ وكم برید بعد برید ؟ انا الخبر الذي ليس بعدی خبر:- "بیماریاں اور درد و تکالیف سب موت کے قاصد اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں ، جس وقت انسان کی زندگی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور موت کا فرشتہ آجاتا ہے (تو وه) اس فرشتہ کو دیکھ کر وحشت کرتاہے اور اسے کسی پیشگی اطلاع دیئے بغیر خیال کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے اے بندہ خدا کس قدر متواتر خبریں پے در پے قاصد اور مسلسل پیغام رساں تیری طرف بھیجے ہیں ۔ اب میں آخری خبر ہوں اور میرے بعد کوئی خبر نہیں ہے"۔ پھروہ کہتاہے "اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کرتے ۔ چاہے رضا و رغبت کے ساتھ یاجبر واکراہ کے ساتھ"۔ اور جس وقت موت کا فرشتہ اسکی روح قبض کرتا ہے اور اس کے عزیز واقارب ناله وشیون بلند کرتے ہیں تو وہ پکار کے کہتا ہے: وعلى من تبکون: فواللہ ما ظلت له اجلًا ولا اكلت له رزقًابل دماہ ربہ"۔ کس پرتم چیخ پکار کر رہے ہو؟ اور کسی کے لیے آنسو بہا رہے ہو ؟ خدا کی قسم اس کا وقت آن پہنچا ہے اور وہ ساری روزی نہیں کھا چکا ہے۔ اس کے پروردگار نے اس دعوت دی ہے ، اور اس نے اس کی دعوت کو قبول کیا ہے"۔ " فلیبک البا کی على نفسه، وان لي فيكم عودات وعودات حتى لا ابقی فيكم احدًا۔ "اگر رونا چاہتے ہو تو اپنے آپ پر گریہ کرو ، میں پھر بھی بارہا تمھارے پاس آؤں گا یہاں تک کہ تم میں سے ایک شخص کو بھی باقی نہیں جوڑوں گا"۔ ؎1 2- ایک اور حدیث میں امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ پیغمبراسلام ایک انصاری شخص کی عبادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ موت کے فرشتے کو اس کے سرہانے نے دیکھ کرفرمایا میرے اس دوست سے نرمی کا سلوک کرو ، کیونکہ یہ ایک باایمان شخص ہے ۔ ملک الموت نے عرض کی آپ کو بشارت ہوکہ میں تمام مومنین کے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔ اورآپ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 مجمع البیان ذیل آیت زیربحث و تفسیر نورالثقلین ج 4 ص 225 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ جان لیجئے کہ جس وقت میں بعض اولاد آدم کی روح قبض کرتا ہوں تو اس کے گھر والے آہ و فریاد کرتے ہیں تو میں گھر کے پاس کھڑا ہوجاتا ہوں اور کہتا ہوں ، اس میں میرا تو کوئی گناہ نہیں، بلکہ اس کا اپنی زندگی ختم ہوگئی ہے ، بارہا تمہاری طرف لوٹ کرآؤں گا خبردار ، ہوشیار" پھر کہتا ہے (ما خلق الله من اهل بیت مدر ولاشعر ولا وبر ، فی ولابحرالا و انا اتصفحھم فی كل یوم ولیلة خمس مرات حتی انى لا عرف بصغیرهم وكبیرهم منھم با نفسهم " خدا نےکسی بھی شہرو بیایان ، گھر، درخیمہ ، خشکی اور دریا میں رہنے والے انسان کو پیدا نہیں کیا ، مگر یہ کہ میں ہر شبانہ روز میں پانچ مرتبہ بڑے غور کے ساتھ ان کی طرف نگاہ کرتا ہوں ، یہاں تک کہ میں ان کے تمام چھوٹے بڑوں کو خود ان سے بہتر پہنچاتا ہوں، ؎1 اس مضمون کی دوسری روایات بھی مختلف اسلامی مآخذ میں موجود ہیں کہ جن کا مطالعہ تمام انسانوں کوتنبیہ اور خبردار کرتا ہے ، تاکہ وہ جان لیں کہ ان کے اور موت کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے ، بلکہ ممکن ہے کہ ایک مختصر سے لمحے میں تمام چیزیں ختم ہوجائیں۔ کیا ان حالات کے باوجود اس بات کا موقع ہے کہ انسان اس دنیا کی چمک دمک پر فریفیتہ اور طرح طرح کے ظلم و گناہ سے آلودہ ہوکرعاقبت کارسے غافل ہوجاۓ؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر "درمنشور" بحوالہ المیزان جلد 16 ص 678۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:10-14
سوره الم سجده / آیه 10 - 14
(10) وَقَالُوٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِى الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ۚ بَلْ هُـمْ بِلِقَـآءِ رَبِّـهِـمْ كَافِرُوْنَ (11) قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّـذِىْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُـمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ (12) وَلَوْ تَـرٰٓى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِـمْ عِنْدَ رَبِّهِـمْۚ رَبَّنَـآ اَبْصَرْنَا وَسَـمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُـوْنَ (13) وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّىْ لَاَمْلَاَنَّ جَهَنَّـمَ مِنَ الْجِنَّـةِ وَالنَّاسِ اَجْـمَعِيْنَ (14) فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُـمْ لِقَـآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَاۚ اِنَّا نَسِيْنَاكُمْ ۖ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ ترجمہ (10) انھوں نے کہا کیا جس وقت ہم مرجائیں گے اور زمین میں گم ہوجائیں گے تو نئی زندگی پالیں گے لیکن وہ تو اپنے پروردگار کی ملاقات کاانکار کرتے ہیں (اور چاہتے ہیں کہ معاد کے انکار سے آزاد ہوجائیں اور اپنی ہوس رانی کو جاری و ساری رکھیں)۔ (11) کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مامور ہوا ہے، تمھاری (روح) کو قبص کرلے گا، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جاؤگے۔ (12) اور اگر تم ان لوگوں کو دیکھو ، جس وقت کہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سر نیچے کیے ہوئے کہیں گے ، پروردگار ! جو کچھ تونے وعدہ کیا تھا، ہم نے اسے دیکھا اور سنا ہے ، ہمیں واپس پلٹا دے ،تاکہ ہم عمل صالح بجالائیں ، ہم قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ (13) اگر ہم چاہتے تو ہر انسان کو (جبری طور پر اور) لازمی ہدایت دیتے ۔ لیکن ہم نے (انھیں آزاد چھوڑ رکھا ہے اور) مقرر کیا ہے کہ دوزخ کو (بے ایمان اور گناہگار) جن و انس سے بھر دیں۔ (14) (اور ان سے کہو کہ غذاب جہنم کو) چکھو۔ اس لیے کہ آج کی ملاقات کو تم نے فراموش کر دیا تھا، ہم نے بھی تمھیں فراموش کیا ہے اور ہمیشہ کے عذاب کو ان اعمال کی وجہ سے چکھو جو تم نے انجام دیئے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:10-14
ندامت اور بازگشت کا تقاضا
تفسیر ندامت اور بازگشت کا تقاضا: یہ آیات معاد کے بارے میں ایک بولتی ہوئی ناطق بحث کے ساتھ شرو ع ہورہی ہیں۔ اس کے دوسرے جہان میں "مجرمین" کی حالت کو بیان کرتا ہے اور مجموعی طور گذشتہ بحثوں کی تکمیل ہے جو "مبداء" کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ " مبداء و معاد" کی بحث قران مجید میں عام طورپرایک دوسرے سے ملی ہوئی بے ۔ پہلے کہتا ہے "انہوں نے کہا کیا جس وقت ہم مرگئے اور مٹی ہو گئے اور زمین میں گم ہو گئے تونئی پیدائش پائیں گے"۔ (وقالوا اذا ضللنا في الارض وانا نفي خلق جدید)۔ "زمین میں گم ہوجانے" کی تعبیر (ضللنافی الارض) اس طرف اشارہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد پانی مٹی طرح خاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہر ذرہ عوامل طبیعی اور غیرطبیعی کی بناء پرایک گوشہ میں جاپہنچتا ہے اور پھر اس کی کوئی چیز بھی باقی نظر نہیں آتی تاکہ اسے قیامت میں دوبارہ پلٹانے کا یقین دلائے۔ لیکن حقیقت میں وہ اپنے اس کام سے قدرت خدا کے منکر نہیں ہیں ۔" بلکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکارکرتے ہیں"۔ (ابل هم بلقاء ربھم کافرون)۔ وہ چابتے ہیں کہ پروردگار کی ملاقات کے ہمرحلہ کا انکار کریں جو حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کا مرحلہ ہے اوراس کے بعد عمل میں آزادی حاصل کریں تاکہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں انجام دیں۔ درحقیقت یہ آیت سورہ قیامت کی پہلی آیات سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے جہاں قرآن نے کہا ہے : "ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامه بلٰی القادرين علٰى ان نسری بنانه بل يريد الانسان لیفجر امامہ، یسئل ایان يوم القيامة" " کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اس کی پراگندہ اور بکھری ہوئی ہڈیوں کو ہم جمع نہیں کر سکیں گے؟ ہم تو یہاں تک قادر ہیں کہ تمھاری انگلیوں کے پوروں (کے خطوط) پہلے نظام کی طرف پلٹا دیں، ، لکین انسان کا بدف و مقصد یہ ہے کہ وہ دن جو اس میں اس کے سامنے ہے (انکارِ قیامت کرکے) فسق و فجور اور گناہ کےساتھ گزار دے ۔ اس لیے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی"۔ (سورہ قیامت 3تا 6) اس بناء پر وہ استدلال کے لحاظ سے لالہے لنگڑے نہیں بلکہ ان کی تن آسانی نے ان کے دل پر حجاب ڈال رکھا ہے اوران کی بری نیتیں مسئلہ معاد کے قبول کرنے سے مانع ہیں۔ ورنہ وہی خدا جس نے مقناطیس کو بے اثر بخشا ہے کہ لوہے کے بہت ہی چھوٹے ذرات کوجومنوں مٹی کے اندر چھپے ہوتے ہیں، انہیں ایک گروش سے اپنی طرف جذب کرکے آسانی کے ساتھ انھیں جمع کرلیتا ہے ، کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ انسان کے جسم کے ذرات کے درمیان بھی اس قسم کی کشش پیدا کردے ؟ کون شخص انکارکرسکتا ہے کہ ایک انسان کے جسم میں موجود مختلف پانی (اور جسم انسانی کا اکثر حصہ پانی پرہی مشتمل ہے) اوراسی طرح اس کے غذائی مواد میں سے ہرایک مثلًا ایک ہزار سال قبل ان کی ہر ہر جز اس عالم کے کسی گوشہ میں بکھری پڑی تھی ۔ ہرقطرہ ایک سمندر میں اور ہر ذره ایک اقلیم اور براعظم میں ، لیکن وہ بادل و بارش اور دوسرے قدرتی عوامل کے ذریعے جمع ہوئے اور آخرکار وجود انسان کو تشکیل دیا تو کونسا مقام تعجب ہے کہ پراگنده اور منتشر ہونے کے بعد دوبارہ پہلی حالت کو طرف پلٹ آئیں اور ایک دوسرے سے آملیں ؟ بعد والی آیت ان کا جواب ایک دوسرے طریقے سے دیتی ہے ۔ کہتی ہے۔ یہ ٓتصور نہ کرو کہ تمھاری شخصیت تمھارے شخصیت اسی جسمانی بدن کے ساتھ ہے بلکہ تمھاری شخصیت کی اساس و بنیاد کو تمہاری روح تشکیل دیتی ہے اور وہ محفوظ ہے "کہہ دے کہ موت کا فرشتہ جو تم سب پر مقرر کیا ہے تمہاری (ورح) قبض کرتا ہے ، پھرتم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جاتےہو": (قال یتوفاكم ملک الموت الذى وكل بكم ثم الٰي ربكم ترجعون)۔ "یوفاکم" کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو مادہ "توفی" بروزن تصدی" میں ہے واپس لینے کے معنی میں ہے ۔ موت فنا اور نابودی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ فرشتے کے ایک طرح سے آدمی کی روح کو قبضے میں لے لینے کے معنی میں ہے وہ روح جو وجود انسان کے اہم اور بنیادی حصہ کو تشکیل دیتی۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن معاد جسمانی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور روح اور مادی جسم کی بازگشت کو قیامت میں قطعی اور یقینی سمجھتا ہے ۔ لیکن اوپر والی آیت سے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسانی شخصیت کی اساس یہ مادی اجزاء نہیں ہیں جنہوں نے تمہاری تمام فکر کو اپنی مشغول کررکھا ہے بلکہ وہ روحانی جوہر ہے، جو خدا کی طرف سے آیا ہے اور اسی کی طرف لوٹ جاۓ گا۔ اور خلاصہ کے طور پر اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اوپر والی یہ آیت معاد اور قیامت کے منکرین کو اس طرح جواب دیتی ہے کہ اگر تمھاری مشکل جسمانی اجزاء کامنتشر اور پراگندہ ہونا ہے تو تم خود و قدرت خدا کو قبول کرتے ہو اور اس کے منکر نہیں ہوا اور اگر اس پراگندگی کی وجہ سے انسان کی شخصیت کے اضمحلال اور نابوی والی مشکل ہے تو وہ بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ انسانی شخصیت کی بنیاد روح پراستوار ہے۔ یہ اعتراض مشہورشبۂ" أكل ومأكول" سے ملتا جلتا ہے اور اس کا جواب میں دو مقامات پر ایک دوسرے سے شباہت رکھتا ہے۔ ؎1 ضمنًا اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ چند ایک قرآنی آیات میں "توفی" اور " قبض ارواح " کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے: " الله يتوفى الانفس حین موتها"۔ ( زمر ۔۔۔۔۔۔۔ 42)۔ "خدا جانوں اور نفسوں کو موت کے وقت لے لیتا ہے"۔ اور بعض آیات میں فرشتوں کی ایک جماعت کی طرف نسبت : "الذين تـتوفاهم الملائكة ظالمي انفسهم"۔ (نحل ۔۔۔۔۔ 28 ) وہ کہ فرشتے جن کی ارواح کو قبض کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ ظالم وستمگر لوگ ہیں" ....) ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 شبه "اكل ومأ كول" کے سلسلہ میں مزید پروضاحت اور اس کے تفصیلی جواب کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد 2 سوره بقرہ کی آیت 260 ذیل میں ملاخطہ فرمائیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اور زیر بحث آیات میں قبض ارواح کی نسبت "ملک الموت" (موت کے فرشتہ کی طرف دی گئی ہے۔ اگر غور سے دیکھا جاۓ توان تعبیروں کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ "ملک الموت" جنس کا معنی رکھتاہے اور ان تمام فرشتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور یا پھران کے رئیس اور سب سے بڑے فرشتے کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ تمام فرشتے حکم خدا سے قبض روح کرتے ہیں ، بعد خدا کی طرف بھی نسبت دی جاسکتی ہے . اس کے بعد ان کافر مجرم اور معاد کے منکرین کی کیفیت جو قیامت میں اس کے مختلف مناظر کو مشاہدہ کرنے سے ہوگی۔ اپنے کیے پرسخت اور اور پشیمان ہوں گے۔ اس طرح جسم اور ان کی تصویر کشی کرتے بوئے کہتا ہے۔ اگر تو دیکھے مجرمین کو جس وقت کہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے سر نیچے کیے توۓ کہیں گے ۔ پروردگارجو کچھ تونے وعدہ کیا تھا، اس کو ہم نے دیکھا اور سنا ، ہم اپنے کیے پر نادم ہیں۔ ہمیں واپس پلٹادے تاکہ ہم عمل صالح انجام دیں . ہم اس جہان قیامت پریقین رکھتے ہیں"۔ (توتم تعجب میں ڈوب جاؤگے)۔ (ولوتری اذ المجرمون ناكسوا رءوسھم عندربھم ربنا البصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحًا انا مرقنون)۔ ؎1 یقینًا آپ تعجب کریں گے کہ کیا یہ سر نیچے کئے ہوئے نادم اور پشیمان افراد وہی مغرور، سرکش اور منہ زور لوگ ہیں جو دنیامیں کسی حقیقت کے مقابلہ میں سر نہیں جھکاتےتھے؟ لیکن اب جبکہ قیامت کے مناظر کو دیکھیں گے اور مقام شہود پر پہنچ جائیں گے.تو کلی طور پر تغیر ہوکر بدل جائیں گے ۔ لیکن بغیر اور بیداری جلدی گزر جانے والی ہے اور قران کی دوسری آیات کے مطابق اگر اس جہان کی طرف آئیں تو اپنی اسی روش و طریقہ کو جاری رکھیں گے۔ (انعام ۔۔۔۔ 28 ). "ناكس" "نكس" (بروزن عکس) کے مادہ سے کسی چیز کا اوندھے منہ ہونے کے معنی میں ہے۔ لیکن یہاں سر نیچے کرنے کے معنی میں ہے. "ابصرنا" (ہم نے دیکھا ہے) کو "سمعنا" (ہم نے سنا ہے) پر مقدم رکھنا اس بناء پر ہے کہ قیامت میں پہلے انسان اس کے مناظر سے رو بروہوگا اور پھر اس کے بعدخدا اور اس کے فرشتوں کی باز پرس کوسنے گا۔ ضمنا جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "مجرمین" سے مراد یہاں کفار اور خصوصیت سے قیامت کے بہرحال یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم آیات قرآنی میں اس مسئلہ سے روبرو ہوتے ہیں کہ مجرمین نتائج اعمال کے اور عذاب الٰہی کے آثارکے مشاہدے سے سخت پریشان ہوں گے اور دنیا کی طرف بازگشت کا تقاضا کریں گے ۔ حالانکہ سنت الٰہی کی لحاظ سے اس قسم کی بازگشت امکان نہیں رکھتی ، جس طرح کہ نوزاد بچے کی بازگشت رحم مادر کی طرف اور درخت سے ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس آیہ شریفہ "لو" شرطیہ ہے اور "ترٰی" کا جملہ اس کی شرط ہے اور اس جزا محذوف ہے اور تقدیری طور پراس طرح ہے۔ ولو تري اذ المجرمون ...... لرأيت عجبا - ربنا ابصرنا کے جملہ کا بھی ایک محزوف ہے اور وہ دراصل " یفولون ربنا ابصرنا" ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- جدا شدہ پھل کی بازگشت درخت کی طرف ممکن نہیں ہوتی۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مجرمین کا دنیا کی طرف بازگشت کا تقاضا صرف عمل صالح انجام دینے کے لیے ہے ، اوراس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ قیامت میں سرمایہ نجات صرف اعمال صالح ہی ہیں۔ ایسے اعمال جو پاک اور ایمان لبریزاورخالص نیت سے انجام پائیں۔ اور چونکہ ایمان کو قبول کرنے کے لئے آیت کا سارا اصرار اور زیادہ زور ممکن ہے ، یہ تو ہم پیدا کرے کہ کیا خدا اس قدر قدرت و توانانی نہیں رکھتا کہ نورایمان کا پرتو ان کے دل میں ڈال دے ؟ تو بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے۔ "اگر ہم چاہتے تو ہر انسان کو(جبری طور پر) ضروری ہدایت دے دیتے": (ولو تینا كل نفس هداها) - یقینًا ہم ایسی قدرت رکھتے ہیں لیکن ایسا ایمان جو ہمارے جبری طریقے سے وجود میں آ ئے تو ایسا ایمان کی چنداں قمیت نہیں ہے ، لہذا میں نے ارادہ کرلیا کہ بنی نوع انسان کو یہ اعزاز اور افتخار بخشیش کہ وه "مختار" ہو اور ارتقائی مراحل اپنے قدموں سے طے کرے۔ لہذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے ۔" میں نے انھیں آزاد چھوڑ دیا ، لیکن مقرر کردیا کہ دوزخ کوبے ایمان اور گناہگار جن و انس کے تمام افراد سے بھردوں": (ولكن حق انقرل منی لا لملئن جهنم من الجنة والناس اجمعین) ۔ جی ہاں انھوں نے اپنے غلط اختیار سے اس راہ کوطے کیا ہے لہذا وہ سزا اور عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اور ہم نے بھی قطعی ارادہ کرلیا ہے کہ دوزخ کو ان سے بھردیں ۔ اگر اس بات کو مدنظر رکھاجائے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے ، اسی طرح قرآن مجید کی سینکڑوں آیات کو دیکھا جائے جوانسان کو مختار ، وصاحب اراده مکلف بتکالیف شرعیہ اپنے اعمال کا جواب ده ، انبیاء ، تہذیب نفس اور خود سازی کے ذریعہ قابل ہدایت و اصلاح سمجھتی ہیں تو اوپر والی آیت کے بارے میں ہر قسم کا تو ہم دور ہوجاتا ہے کہ یہ جبر کی دلیل ہے جیسا کہ فخررازی وغیرہ نے خیال کیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اوپر والا دو ٹوک فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کہیں یہ تصورنہ کرنا کہ خدا کی رحمانیت ورحمیت گناہوں سے آلودہ اورستم گرمجرموں کی سزا اور عذاب سے مانع ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ آیات رحمت سے مغرور ہوجاؤ اور اپنے آپ کو خدا کی سزا اور عذاب سے معاف تصور کرو۔ کیونکہ اس کی رحمت کا اپنا مقام ہے اور غضب کا اپنا مقام۔ "لاملئن" کے جملہ کے اول میں لام قسم اور اخر میں نون تاکید کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے اس وعدہ کو پورا کرےگا اور دوزخ کو ان دوزخیوں سے بھر دے گا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو حکمت کے خلاف ہے۔ اس لیے بعد کی آیت میں کہتا ہے ، ہم ان دوزخیوں سے کہیں گے کہ جہنم کا عذاب اس بناء پر چکھو کہ آج کی ملاقات کوتم بھول گئے تھے ۔ اور ہم نے بھی تمھیں فراموشی کے حوالے کردیا"۔ (فذرقم ا بما نسيتم لقاء يومك هذا الادنينا كم )۔ "اورنیز ہمیشگی کے عذاب کو ان اعمال کی وجہ سے چکھو ، جنہیں تم انجام دیتے تھے"۔ (وذوقم اعذاب الخلد بما کنتم تعملون) - اس آیت سے ایک بار پھر معلوم ہوتا ہے ، قیامت کی دادگاہ اور علامت کو بھول جانا ہی انسان کی بدابختی کا اصل سر چشمہ ہے اور یہی وہ صورت ہے کہ جس میں وہ اپنے آپ کو قانون شکنی اور مظالم کے سلسلہ میں آزاد سمجھتا ہے ، نیز اس آیت سے یہ بات کا بھی اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ابدی اور ہمیشہ کی سزا و عذاب ان اعمال کی وجہ سے ہی ہے جنہیں انسان خود انجام دیتا ہے۔ نہ کوئی اور چیز! ؎1 ضمنًا: بندوں کے بارے میں پروردگار کی خاموشی سے مراد یہاں خدا کی بے اعتنائی ، ترک حمایت اور فریاد رسی نہ کرنا ہے۔ ورنہ سارا جہان ہمیشہ پروردگار کے سامنے ہے ، اور اس کے بارے میں فراموش ایک بے معنی سی بات ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 32:10-14
1- روح کاستقلال اوراس کی اصلیت
چند اہم نکات 1- روح کاستقلال اوراس کی اصلیت: اوپر والی آیات میں سے پہلی آیت جوموت کے فرشتہ کے ذریعے قبض ارواح پر دلالت کرتی ہے، انسان کی روح کے استقلال کی دلیل ہے۔ کیونکہ "توفي" سے تعبیر جوحاصل کرنا اور قبض کرنا کے معنی میں ہے ، ا س بات کی دلیل ہے کہ بدن سے جدائی کے بعد روح نابود نہیں ہوتی بلکہ باقی رہ جاتی ہے اور اصولًا اوپر والی آیت میں انسان کو روح یا نفس سے تعبیر کرنا اس معنی پر ایک اور گواہ ہے کیونکہ مادہ پرستوں کے عقیدے کے مطابق روح سالموں کے "فزیکل اور کمیکل" خواص کے علاوہ کچھ نہیں جو بدن کے فناہوئے کے ساتھ نابود ہوجاتے ہیں جیسے گھڑی کے نابود ہونے کے ساتھ ہی اس کی سوئی کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق روح کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو انسانی شخصیت کی محافظ ہو بلکہ اس کے جسم کے خواص کی ایک جزء ہے ، جسم کے ختم ہوجانے سے ختم ہوجاتی ہے۔ روح کی اصلیت اور استقلال کے سلسلے میں ہمارے پاس متعدد فلسفی دلائل موجود ہیں۔ ان کا ایک گوشہ سورة و بنی اسرائیل کی آیت 85 کے ذیل میں جلد 12 میں اہم بیان کرچکے ہیں ، یہاں پر مقصود صرف اس موضوع پرنقلی دلیل کو بیان کرنا تھا اور اوپر والی آیت کا شمار اس معنی پر دلالت کرنے والی آیات میں ہوتا ہے۔