وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
Among the people is he who buys diversionary talk that he may lead [people] astray from Allah’s way without any knowledge, and he takes it in derision. For such there is a humiliating punishment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 31:6
[Pooya/Ali Commentary 31:6] It is related that in the time of the Holy Prophet there was a pagan Nadhr ibn al Harith who went to Syria for trade and brought back stories of Persian heroes, with which he allured the crowds of the Quraysh and persuaded them to believe that his stories were preferable to the word of Allah. Aqa Mahdi Puya says: Lahw means idle or amusing discourse which disengages attention from meaningful thought, field of inquiry or argument. On this basis the Ahl ul Bayt have applied the term "lawh al hadith " to music.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
۱۔ غناکی حرمت
اس میں شک نہیں کہ غنا (گانا) مشہور شیعہ علماء کی نظر میں حرام ہے اور اجماع واتفاق کی حد تک شہرت رکھتا ہے ۔ بہت سے علماء اہل سنّت بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔اگر چہ کچھ کوگ استثناء کے بھی قائل ہوئے ہیں اور شاید ان میں سے بعض استثناء در حقیقت استثنا ء نہ ہوں بلکہ ان کا شمار غنا کے موضوع سے خارج ہو ۔(جیسے اصطلاح میں ”تخصص “کے لحاظ سے خارج کہا جاتا ہے) ۔ ”قربطی “زیر بحث آیات کے ذیل میں اس بارے میں یوں کہتے ہیں ”بعض لوگوں کے در میان جو غنا اور گانا معمول ہے وہ وہ ہے جب عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار ، ان کے حسن وجمال کی تعریف اور شراب وکباب اور دوسرے محرمات کا تذ کرہ ہو ۔تو ایسی صورت میں تمام علماء اس کی حر مت پر متفق ہیں ۔کیونکہ یہ لہود لعب اور غنائے مذ موم کا مصداق ہے ۔لیکن اگر ان امور سے خالی ہو تو اس کا کچھ حصہ عید اور شادی کے جشنوں میں جایز ہو تاہے ۔اور اسی طرح مشکل کا موں کے انجا م دینے کے وقت فرحت اور نشاط بخشنے کے لیے گاتے ہیں جیسا کے تاریخ اسلام میں خندق کھودنے کے سلسلہ میں ملتا ہے ، یا جو اشعار ”انجشہ “نے قافلوں کے مکہ کی طرف چلنے کہ وقت حجةالوداع کے موقعہ پر اونٹوں کے لیے پڑھے تھے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں جوکچھ ”صوفیا“کے درمیان معمول ہے کہ وہ اس سلسلہ میں انواع و اقسام کے آلات طرب اور نشاط استعمال کرتے ہیں ، حرام ہے(۱) ۔ قرطبی نے استثناء کی جو صورت بیان کی ہے مثلاً ”حدیث خوانی “ (مخصوص آواز میں گانا، جو اونٹو ں کے چلاتے وقت گایا جاتا ہے) یا وہ مخصوص اشعارجو مسلمان خندق کھودتے وقت خاص طرز پڑ تھے احتمال قوی یہ ہے کہ یہ نہ تو غنا کی جزء تھے اور نہ ہیں ۔ ایسی طرح وہ اشعار بھی غنا نہیں آواز میں مذ ہبی جلسوں ، جشنوں اور عزاداری کے موقع پر پڑھے جاتے ہیں ۔ اسلامی مصادر کے لحاظ سے غنا کی حر مت پر ہمارے پاس بہت سے دلائل موجو ہیں جن میں سے ایک تو وہی اوپر والی آیت ”ومن الناس من یشتری لہو الحدیث....“ہے نیز اور بھی قر آنی آیات میں جو کم از کم ان روایات کی روسے جوان آیات کی تفسیر میںوارد ہوئی ہیں غنا اور گانے کی حر مت پرد لالت کرتی ہیں ۔یا ان کی روسے غنا اور گانا حرام ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: <واجتنبوا قول الزور (حج ۳۰) والی آیت کی تفسیر فر مایا :”قول الزور ، الغنا“۔ باطل بات ،غناہی تو ہے (۲)۔ نیز آپ ہی نے آیہ <والذین لا یشھدون الزور ۔(فرقان ۔۷۲) کی تفسیر میں فرمایا : ”اس سے مراد غنا ہے “(۳) اور اسی زیر بحث آیت کی تفسیر میں متعد در روایات امام محمد باقرعلیہ السلام امام جعفرصادق علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ہیں کہ ”لھوالحدیث“ کے مصداقوں میں سے ایک مصداق جو ”عذاب مہین“ کا سبب ہے غنا اور راگ رنگ بتایا گیا ہے (۴) ۔ علاوہ ازیں، آیات کی تفسیر سے ہٹ کر اور بھی بہت سی روایات اسلامی کتابوں میں ملتی ہیں جو زورداراندز میں غنا کی حرمت کو بیان کرتی ہیں ۔ ایک حدیث جو جابربن عبداللہ انصاری نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے بیان کی ہے آپ فرماتے ہیں: ”کان ابلیس اول من تغنی ؛شیطان وہ پہلا شخص ہے جس نے گانا گایا“(۵) ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے: ”بیت الغناء لاتوٴ من فیہ الفجیعة، ولا تجاب فیہ الدعوة، و لایدخلہ الملک“ ”جس گھر میں گانا گایا جاتا ہو وہ موت اور مصائب و آلام سے محفوظ نہیں ہوتا اور نہ تو اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہی فرشتے داخل ہوتے ہیں“۔(۶) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں: ”بیت الغناء یورث النفاق ں یعقب الفقر“ ”غنا روح نفاق کو پروان چڑھاتا اور فقر و فاقہ اور بدبختی وجود میں لاتا ہے“(۷) امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ(علیهم السلام) نے گانے والی عورت اور جو شخص اسے اجرت دیتا ہے اور جو اس کی کمائی کھاتا ہے ان سب کو ملعون اور رحمت خدا سے دور لوگوں کے زمرے میں شمار فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”المغنیة ملعونة، ومن اداہا ملعون، واٰکل کسبہا ملعون“ (۸) اہلسنت کے مشہور منابع میں بھی اس بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ ان کے وہ روایت ہے جو ”در منثور“ میں محدّثین کی کثیر جماعت سے ابو امامہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: ”لا یحل تعلیم المغنیات ولا بیعہن و اثما نہن حرام“۔ ”گانے والی عورتوں کو تعلیم دینا حلال نہیں ہے اور اسی طرح ان کنیزوں کی خرید و فروخت اور وہ چیز جو اس کے مقابلے میں لی جائے نیز حرام ہے“(۹) اس سے ملتے جلتے معانی کو موٴلف ”التاج“نے ترمذی اور امام احمد سے نقل کیا ہے۔ ملاحضہ ہو، التاج جلد ۵ صفحہ ۲۸۷ ”ابن مسعود“نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا: ”الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل“ ”غنا اور اگ رنگ، روح نفاق کو دل میں اس طرح پروان چڑھاتا ہے جس طرح پانی سبزہ جات کو“۔(10) مجموعی طور پر جو روایات اس بارے میں نقل ہوئی ہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ تو اتر کی حد تک پہنچتی ہیں۔ اسی بنا پر اکثر علماء اسلام نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔ علاوہ شیعہ علماء کے جو تقریباً اس بارے میں متفق القول ہیں، اس کی حرمت ابوحنیفہ سے بھی منقول ہے۔ اور جس وقت اہلسنت کے مشہور امام، احمد سے غنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا: ”ینبت النفاق؛ انسان کے اندر روح نفاق کو اگاتا ہے۔“ اسی طرح اہل سنت کے ایک اور امام، مالک نے اسی سوال کے جواب میں فرمایا: ”یفعلہ الفساق ؛ فاسق لوگ ہی اس کے پیچھے جاتے ہیں“ اور امام ”شافعی“نے تو صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ: ”گانے والوں کی شہادت (وگواہی) قابل قبول نہیں ہے اور یہ خود ان کے فسق کی دلیل ہے۔“ شافعی کے اصحاب سے بھی نقل ہوا ہے کہ وہ اس بارے میں ان کا فتویٰ حرمت پر مبنی جانتے ہیں، برخلاف اس کے جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے۔(11) ۱۔ تفسیر قرطبی، ج۷، ص۱۳۶ ۲؛ ۳؛ ۴؛۵۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵تا۲۲۷ ۔ ۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنائ 6 و 7۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۲۲۵۔۲۳۰. 8۔ سفینہ البحار جلد ۲ صفحہ ۳۳۸. 9۔ در منشور ذیل آیہ زیر بحث۔ 10۔ تفسیر روح المعانی اسی آیہ کے ذیل میں۔ 11.تفسیر روح المعانی اسی آ یہ کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
غنا شیاطین کے بڑے جالوں میں سے ایک جال ہے
ان آیات میں گفتگو اس گروہ کے بارے میں ہے جو ”محسنین“ اور ”موٴمنین“ کے گروہ کے بالکل مد مقابل قرار دیئے گئے جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ یہاں پر گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے سرمائے کوبیہودہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے خرج کرتے ہیں اور اپنے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی مول لیتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: ”بعض لوگ وہ ہیں جو باطل اور بے ہودہ باتیں خرید کرتے ہیں تاکہ خلق خدا کو جہالت اور نادانی کی بناء پرراہ خدا سے گمراہ کردیں،، (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ) ۔ ”اور آیات خدا کا مذاق اڑاتے ہیں “(وَیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا) (۱) اور آیت کے آخرمیں ارشاد فرماتاہے: ”ایسے لوگوں کے لیے رسواکن عذاب ہے ،، (اٴُولَئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِینٌ) باطل اوربے ہودہ باتوں کی خریداری یاتو اس طرح ہے کہ وہ واقعاً باطل اور خرافات سے بھر پورداستانیں پیسے دے کر حاصل کرتے ہیں جیسا کہ”نضر بن حارث“ کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اور یا اس طرح سے ہے کہ لہو و لعب اور راگ ورنگ کی محفلیںگا نے والی کنیزیں خرید کرمنعقدکرتے ہیں جیساکہ اسی آیت کے شان نزول کے ضمن میں پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی حدیث بیان ہوچکی ہے۔ یاوہ مال ودولت کو اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے وہ اس غیرشرعی مقصدیعنی باطل اور بے ہو باتوں تک رسائی ضرورحاصل کرلیں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ دل کے اندھے باطل اور لغویات کو توگراں ترین قیمت اداکر کے بھی خریدلیتے ہیں لیکن آیات الٰہی اور حکمت سے بھر پوراقوال جو خدا دندعالم نے بلا قیمت انھیں دیئے ہیں ، اُن کی پرواہ تک نہیں کرتے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں پر (اشتراء) یعنی خریداری کو کنا یہ کے طورپر استعمال کیا گیا ہو جس سے مراداس مقصدتک پہنچنے کے لیے ہرقسم کی سعی وکوشش ہے۔ لیکن ”لھوالحدیث،، کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کی باتوں یا سرگرم رکھنے اور غافل کر نے والی راگ ورنگ کی سُروں اور آہنگوں کو بھی شامل ہے جو انسان کو بے ہودگی یا برائی کی طرف کھینچ کرلے جاتی ہیں .چائے وہ غناہو، گانا ہو، شہوت انگیزو ہوس آلود لحن اور آہنگیں ہوں یا ایسی تقریریں اور تحریریں آہنگ وطرزکے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے مفہوم ومطالب کے لحاظ سے انسان کو برائیوں کی طرف کھیچ کرلے جائیں ۔ یا دونوں طریقوں سے جیسا کہ عام گانے والوں کی تصنیفات اور عشقیہ اشعار ہوتے ہیں ۔اور ان کہ مضامین بھی گمراہ ہوتی ہیں اور آہنگین اور سریں بھی۔ یا وہ واہمات اور خرافات قصے کہانیوں اور داستانیں ہوتی ہیں جو لوگون خدا کے مقرر کردہ ”صرات مستقیم “سے انحراف کا سبب بنتی ہیں ۔ یا تمسخر آمیز اور ہنسی مذاق پر مبنی باتیں جو حق کا مٹانے اور ایمان کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ جیساکہ ابوجہل اور اس کے احباب کے بارے میں ابھی بیان کر چکے ہیں کہ وہ قریش کی طرف منہ کر کے کہتاتھا: ”آیا تم چاہتے ہو کہ تمھیں وہ ”زقوّم “کھلاؤں جس سے محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تمھیں ڈراتے ہیں ؟“ پھر وہ کسی کو بھیج کر”مگن اور خرما“منگوالیتا اور کہتا ”یہ وہی زقوّم ہے“ اور اس طرح سے وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑاتاتھا ۔ بہر حال ”لھوالحدیث“ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جوان تمام مذکورہ اشیاء اور امورکو شامل ہے ، اور اگر اسلامی روایات اور مفسرین کے اقوال میں ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جائے تو وہ ہر گز آیت کے مفہوم کے انحصارا ور محدودیت کی دلیل نہیں ہے۔ جواحادیث اہل بیت اطہار علیہ اسلام سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ایسی تعبیریں نظرآتی ہیں جو اس لفظ کے مفہوم کی وسعت کو بیان کرتی ہیں، منجملہ ان کے حضرات امام صادق علیہ اسلام کا ارشادہے: ”الغناء مجلس لاینظر الیٰ اٴھلہ، وھو مما قال الله عزّوجل ”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ“ غنا اور لہوولعب کی محفل ایسی محفل ہے ایسی محفل ہے جس کے اہل پر خدا (اپنے لطف و کرم کی نگاہ نہیں ڈالتا۔ اور یہ اسی آیہ کا مصداق ہے کہ خداوند عزوجل فرماتا ہے بعض لوگ ایسے ہیں جو بیہودہ باتوں کو خرید کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ خدا سے گمراہ کردیں۔(2) ”الْحَدِیث لَھْوَ“ کی بجائے ”لَھْوَالْحَدِیث“ کو بیان کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا اصل مقصد تو وہی لہو ولعب ہے بات یا گفتگو تو اس تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ”لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ“کا جملہ بھی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو اعتقادات کے گمراہ کرنے کو بھی شامل ہے جیسا کہ ابھی نضر بن حارث اور ابوجہل کی داستان میں بیان ہوچکا ہے۔ اور اخلاقی طور پر گمراہ کرنے کو بھی شامل ہے جیسا کہ کہ غنا کے بارے میں مذکور احادیث میں آیا ہے۔ ”بِغَیْرِ عِلْمٍ“ کی تعبیر اس باتن کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گمراہ اور منحرف گروہ اپنے باطل مذہب پر بھی ایمان نہیں رکھتا بلکہ صرف جہالت اور اندھی تقلید کی وجہ سے دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور ایسے جاہل ہیں کہ دوسروں کو بھی اپنی جہالت اور نادانی میں پھنساتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے اگر ہم ”بِغَیْرِ عِلْم“ کی تعبیر کو گمراہ کرنے والوں کی صفت قراردیں۔ لیکن بغض مفسرین کا یہ احتمال بھی ہے کہ شاید ”گمراہ ہونے والوں“ کی صفت ہے۔ یعنی وہ جاہل اور بے خبر لوگوں کا لاشعوری طور پر وادی انحراف و باطل کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ بے خبر لوگ کبھی اس سے بھی آگے چلے جاتے ہیں یعنی و ہ صرف ان سرگمیوں ، کھیل کو د ، اور غافل کرنے والی حرکتوں پر ہی قانع نہیں ہوتے بلکہ اپنی فضول ، لا یعنی اور بے ہودہ باتوں کو آیات الٰہی کے مذاق اور تمسخر کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف اُو پر والی آیت کے آخرین اشارہ کرتے ہوئے فر ماتاہے ” وَیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا“ باقی رہا ”عَذَابٌ“ کو ” مُھِین“ (خوار اور رسوا کرنے والا) کے ساتھ موصوف کرنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سزاکو جرم کے مانندہو جاناچاہیئے انھوں نے آیات الٰہی کے کی توہین کی تو خدانے بھی ان کے لیے وہی سزا متعین کی ہے جو دردناک ہونے کے علاوہ ذلّت آمیزبھی ہے ۔ بعد والی آیت ،آیات الٰہی کے مقابلہ میں اس گروہ کے ردعمل کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ درحقیقت لہوا لحدیث کے مقابلہ میں ان کے ردعمل کا ا ظہارکرتے ہوئے فرماتاہے ”جس وقت ان کے سامنے آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ متکبرانہ انداز میں منہ پھیرلیتا ہے گویا اس نے ہماری آیات کو سُناہی نہیں ، گویا اس کے کان بہرے ہیں“ اور وہ بالکل ہی کوئی بات نہیں سُنتا : (وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْہِ آیَاتُنَا وَلَّی مُسْتَکْبِرًا کَاٴَنْ لَمْ یَسْمَعْھَا کَاٴَنَّ فِی اٴُذُنَیْہِ وَقْرًا) اور آخرمیں اس شخص کی سزا اور دردناک عذاب کو اس طرح بیان کرتا ہے ”اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو“ (فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ) ۔ ”ولیّٰ مستکبرًا“ کی تعبیراس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کا روگردانی کرنا اس لیے نہیں ہو تا کہ اس کے دنیاوی مفادات اور ہوس رانی پر زدپڑرہی ہوتی ہے بلکہ معاملہ تو اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ یہ کہ خدا وآیات خدا کے مقابلہ میں استکبار وتکّبرجو عظیم ترین گناہ ہیں اس کے عمل میں موجود ہیں۔ تو جہ طلب بات یہ ہے کہ پہلے تو یہ کہا ہے کہ ”وہ اس طرح آیات الٰہی سے بے اعتنائی کرتے ہیں گویا انھیں سُنا ہی نہیں اور مکمل طور پر بے اعتنائی کے ساتھ ان کے قریب سے گزرجا تے ہیں “ پھرمزیدکہتا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ ان آیات کو سنتا ہی نہیں بلکہ گویا بالکل بہرہ ہے اور کوئی بات نہیں سن پاتا۔ اس قسم کے افراد کی سزا بھی ان کے اعمال سے مطابقت رکھتی ہے کہ جس طرح ان کا عمل اہل حق کے لیے دردناک تھا خدا نے اس کی سزابھی دردناک مقرر کی ہے کہ انھیں دردناک عذاب میں گرفتار کرے گا۔ اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ”بشر“(خوشخبری دیدو) کی تعبیر خداکے درد ناک عذاب کے سلسلہ میں ایسے مستکبرین کے کام کے شایان شان ہے جو آیات الٰہی کا مذاق اڑا تے اورابوجہل جیسے افراد جو ”زقوم جہنّم “ کی ”مکھن اور خرما “سے تفسیر کرتے تھے۔ بعد ولی آیات میں سچے مومنین کے حالات کی تفصیل وتشریح کی طرف ٹوتتا ہے کہ ابتداء میں جن کے ساتھ یہ تقابل شرو ع ہوا آخر میں اختتام بھی انھی پر کرتا ہے، فرماتا ہے: ”جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا تو نعمت سے بھر پور جنّت کے باغات ان کے لئے ہیں“ (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَھُمْ جَنَّاتُ النَّعِیم) ۔ جی ہاں !یہ گروہ مومناں، بے ایمان مستکبرین اور دل کے اندھوں کے بالکل بر عکس ہے جو نہ تو دنیا میں خدا کے آثار اور نشانیوں کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی خدا کے پیغمبروں کے ارشاد ات کو دل کے کانون سے سنتے ہیں بلکہ یہ مومن لوگ بیدار عقل و خرد اور چشم بینا ور گوش شنوا کے حکم جو خدانے انھیں عطا فر مائے ہیں آیات الٰہی پر ایمان بھی لاتے ہیں اور اپنے اعمال صالحہ میں انھیں استعمال بھی کرتے ہیں۔پھر مزے کی بات یہ ہے کہ وہ مستکبرین ”عَذَاب الیم“کے اور یہ مومنین ”جَنَّاتُ النَّعِیم“کے مستحق ہیں ۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جنت کے یہ نعمتوں بھرے باغات ان کے لیے جاودانہ اور ہمیشہ کے لیے ہیں ”ہمیشہ اسی میں رہیں گے“ (خَالِدِینَ فِیھَا) ۔ ”خدا کا اٹل اور مسلّم وعدہ ہے جس کی خلاف وزری ہرگز نہیں ہو سکتی “ (وَعْدَ اللهِ حَقًّا) خدا نہ تو جھوٹا وعدہ کرتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے وعدہ کی وفائی سے عاجزہے کیونکہ ”وہ عزیز، صاحب قدرت اور حکیم وآگاہ ہے“ (وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ) ۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ مستکبرین کے بارے میں ”عذاب “ بصورت مفردذکر ہواہے اور صالح العمل مومنین کے بارے میں ”جنات“کو جمع کی صورت میں بیان کیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے ۔ خلوداور خدا کے وعدہ حق پر تاکید کرنا بھی ”رحمت“ کے ”غضب“ پر زیادہ ہونے کی تاکید ہے ”نعیم “جو ”نعمت“ کے مادہ سے ہے ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کی مادی اور معنوی نعمتوں کو شامل ہے یہاں تک کہ ان نعمتوں کو بھی جو اس دنیا کے زندان بدن میں محبوس ومقیدلوگوں کے لیے قابل ادراک ہیں۔ ”راغب“ اپنی کتاب ”مفردات“ میں کہتے ہیں کہ ”نعیم“”بہت سی نعمتوں“ کے معنی میں ہے (النعیہ النعمةالکثیرة) ۔ ۱. ”یتخذھا“ کی ضمیر ”آیات الکتاب“ کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا گذشتہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے اور بعض مفسرین کا احتمال یہ ہے کہ یہ لفظ ”سبیل“ کی طرف لوٹتی ہے جو قرآن مجید میں کبھی مذکر اور کبھی موٴنث استعمال ہوا ہے۔ 2۔ وسائل الشیعہ، ج۱۲، ۲۲۸ن (باب تحریم الغناء) .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
۲۔ غنا کیا ہے؟
حرمت غنا کے بارے میں تو چنداں مشکل نہیں، مشکل امر تو غنا کے موضوع کی تشخیص ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر اچھی اور خوبصورت آواز غناء ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے! کیونکہ اسلامی روایات میں بھی ہے اور مسلمانوں کی سیرت بھی اسی بات کو بیان کرتی ہے کہ قرآن، اذان اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو اچھی اور زیبا آواز سے پڑھنا چاہیئے۔ کیا غنا ہر وہ آواز ہے جس میں ”ترجیع ہو“ (گلے میں آواز کی الٹ پھیر جسے اصطلاح میں آواز کا پھرنا یا گرگری مارنا کہا جاتا ہے) ۔ یہ بھی ثابت نہیں۔ اس بارے میں جو کچھ فقہا اور اہل لغت کے بیانات سے مجموعی طور پر استفادہ کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ غنا، طرب انگیز آہنگوں، سرُوں، لہو اور باطل کو کہتے ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں آہنگیں اور طرزیں ہیں جو فسق و فجور اور اہل گناہ و فساد کی محفلوں کے لائق اور شایان ہیں۔ غنا میں شامل ہیں۔ با الفاظ دیگر غنا اس آواز کو کہا جاتا ہے جو انسان کے اندر شہوانی طا قتوں کو ہیجان میں لائیں اور انسان اس حالت میں محسوس کرے کہ اگر اس آواز کے ساتھ ساتھ شراب اور جنسی لذات بھی ہو تو مکمل طور پر مناسب ہو گا ۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کے کبھی ایک ”آہنگ “و طرز خود بھی غنا ، لہو اور باطل ہے ، اور اس کے مشمولات اور مضامین بھی وہ اس لحاظ سے کہ عشقیہ اور فساد انگیز اشعار کو مطر بانہ آہنگوں اور طرزوں کے ساتھ پڑھا جائے ۔اور کبھی صرف آہنگ و طرز غنا ء ہوتی ہے اس طرح سے اچھے مطالب پر مبنی اشعار یا قر آنی آیات ، دُعا اور مناجات کو اس طرز کے ساتھ پڑھیں جو عیاش اور بد کار افراد کی محافل کے لایق ہوتی ہیں تو ان دونوں صورتوں میں حرام ہے ۔(غور کیجئے) اس نکتہ کا ذکر کر نا بھی ضروری ہے کے بعض اوقات غناء کے دو مینی کئے جاتے ہیں ”عام معنی “اور ”خاص معنی “خاص معنی تو وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں یعنی شہوت کوبھڑ کانے والی اور فسق وفجور کی محفلوں سے تعلق رکھنے والی آہنگیں ، طرزیں اور سریں ، لیکن اس کا عام معنی پر قسم کی اچھے آواز ہے ۔لہٰذا جن لوگوں نے غنا کی عام معنی سے تفسیر کی ہے اس کی دوقسمیں کی ہیں، ”حلال غنا “اور ”حرام غنا “۔ حرام غنا سے مراد وہی ہے جو ہم اُوپر بیان اور حلال غنا سے مراد زیبا اور اچھی آواز ہے جو فساد انگیز بھی ناہو اور فسق و فجور کی محفلوں سے بھی اس کا تعلق نہ ہو ۔ تو اس بناء پر تقریباً اصل تحریم غنا میں کوئی اختلاف نہیں ہے صرف اس کی تفسیری نو عیت میں اختلاف ہے۔ البتہ (دوسرے مفاہیم کی طرح) غنا کے مشکوک مصداق بھی ہیں جہاں انسان واقعاً نہیں جان سکتا کہ فلاں آوازفسق وفجور کی محافل سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں ؟ تو اس صورت میں اصل برائت کے حکم کے تحت اس پرحلال ہونے کا حکم لگایا جائے، (البتہ تعریف بالا کے مطابق غنا کے عرفی مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد) ۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حماسی(یعنی حربی آوازیں، طرزیں اور آہنگین جو جنگ یا ورزش و غیرہ کے میدان سے تعلق رکھتی ہیں) کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ البتہ غنا کے سلسلے میں کوئی ایک مباحث ہیں از قبیل ان چند مستثنیات کے جن کے بعض قائل نہیں ہیں، اسی طرح کئی اور مسائل جن کا تعلق فقہ سے ہے۔ آخری بات جس کا تذکرہ ہم یہاں پر ضروری سمھتے ہیں یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے اوپر لکھا ہے اس کا تعلق صرف اور صرف غنا اور کانے سے ہے، رہاموسیقیاور اس کے آیات کا استعال وہ ایک علیخدہ بحث ہے جو ہمارے اس موضوع سے باہر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
۴۔ غنا، استعمار کا ایک حربہ ہے
عاملی استعمار ہمیشہ سے عوام، خاص کر نوجوان نسل کی بیداری سے وحشت زدہ ہے، اس بناء پر وہ اپنے نا پاک عزائم کی تکمیل کے لیے اپنے وسیع پروگراموں میں معاشرے کو غفلت، لاعلمی اور نا آگاہی اور انواع و اقسام کی غلط سرگرمیوں کو شامل کئے ہوئے ہے تا کہ اس طرح سے وہ ان کا بیڑہ غرق کردے۔ چنانچہ موجودہ دور میں اشیاء منشیات صرف تجارتی اہمیت کی حامل ہی نہیں رہیں بلکہ استعمار کا ایک اہم سیاسی حربہ بھی ہیں۔ فحاشی کے مراکز کا قیام، جوئے اور قمار بازی کے کلبوںCLUBES کی وسعت اسی طرح کی دوسری غلط گرمیاں ہیں جن میں سے غنا اور موسیقی کو رواج عام دینا بھی شامل ہے اور وہ استعمار کے عظیم آلات میں سے ایک ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے افکار کو مفلوج کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی بناء پر دنیابھر کے ریڈیوز کے اوقات کا بیشتر حصّہ موسیقی پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے اور ذرائج ابلاغ عامہ کا ایک اہم اور عمدہ موضوع ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
۳۔ حرمت غنا کا فلسفہ
”غنا“ کے مفہوم میں ان شرائط کے ساتھ مکمل غور و خوض سے کہ جن کی تفصیل و نشریح بیان کر چکے ہیں، اس کی حرمت کا فلسفہ اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ اگر اس میں تھوڑا سابھی غور اور فکر سے کام کیا جائے تو اس کے مندر جہ ذیل مفاسد اور تباہکاروں کا پتہ چاتا ہے ۔ الف :اخلاقی تباہکاریوں کی رغبت : تجربہ بتا تا ہے اور تجربہ ہی بہترین شاہدہے کہ بہت سے افراد غنا اور راگ کی سروں اور طرز وں سے متاثر ہو کر تقویٰ اور پرہیرگاری کی راہ کو چھوڑکر خواہشات نفسانیہ کی تکمیل کا رخ کر چکے ہیں ۔ عام طور پر مجالس غنا انواع و اقسام کی خرابیوں کا مرکزہیں اور جو چیز ان خرابیوں کو وسعت بخشتی ہے وہ غنا ہی ہے ۔ بعض غیر ملکی اخبارات کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ راگ اور رنگ کی کسی محفل میں جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھا تھے وہاں پر غنا کی ایک ایسی طر ز لگائی گئی کہ اس سے ان کے جذبات اس قدر بھڑک اٹھے کہ وہ بے قابو ہو کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر جنسی برائیوں کا ارتکاب کیا کہ قلم ان کے ذکر سے شر ماتا ہے ۔ تفسیر ”روح المعانی “میں ”بنی امیہ “کے کسی سردار سے یہ بات نقل کی گئی ہے کے اس نے امویوں سے کہا راگ رنگ اور گانے بجانے سے پرہیز کر وکیونکہ یہ شرم و حیا کو کم ، شہوت میں اضافہ اور شخصیت کو بے آبرو کردیتے ہیں ، شرا ب کے جانشین ہیں اور وہی سب کچھ کر گزرتے ہیں جو مستی کرتی ہیں ۔(۱) اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ راگ رنگ اس قدربری چیزیں ہیں، انھیں یہ لوگ بھی سمجھ چکے تھے۔ اور اگر اسلامی روایات میں ہمیں بارہایہ چیز نظرآتی ہے کہ غنا اور راگ دل میں روح نفاق کی پرورش کرتا ہے تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روح نفاق وہی فساد سے آلودہ اور تقویٰ اور پرہیز گاری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی روح ہوتی ہے۔ نیزاگر روایات میں آیا ہے کہ جس گھرمیں گاناگایاجاتاہے فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے تو بھی اسی فساد کی آلودگی کی وجہ ہوتی ہے کیونکہ فرشتے خودپاک ہیں اور پاکیزہ چیزوں کے طالب ہوتے ہیں لہٰذا وہ اس قسم کے آلودہ ماحول سے بیزار ہوتے ہیں۔ ب۔ یادہ خدا سے غفلت : بعض اسلامی روایات میں غنا کی تفسیر میں اسے ”لہو“ بھی کہا گیا ہے ، تویہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ غنا انسان کو شہوات میں اس طرح مست کردیتا ہے کہ وہ یادہ خدا سے غافل ہو جاتاہے۔ اوپر والی روایات میں ابھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ ”لھوالحدیث “ ”سبیل اللّٰہ“ سے ”ضلالت“ گمراہی کا ایک عامل اور ”عذاب الیم “ کا موجب ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: ”کل ما الھی عن ذکر اللہ فھو من المیسر؛ ہر وہ چیز جو انسان کو یاد خدا سے غافل (اور شہوات نفسائیہ میں داخل) کر دے وہ قماریا جو ئے کے حکم میں ہے “(۲) ج۔ اعصاب پر اس کے مضراثرات : غنا اور موسیقی در حقیقت اعصابی نشے کے اہم عامل ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں منشیات کبھی تو منہ کے ذریعہ یا پینے کی وجہ سے انسان کے جسم میں داخل ہو تے ہیں (جیسے شراب ہے) ۔ کبھی سو نگھنے یا قوت شامّہ کے ذریعہ (جیسے ہیروئن ہے) ۔ کبھی قوت انجکشن (injecthon) کے ذریعہ (جیسے مار فین) ۔ اور کبھی قوت سامعہ (کانوں) کے ذریعہ (جیسے راگ ورنگ اور غنا وگانا ہے ) ۔ اسی بناء پر کبھی کبھی غنا اور اس کی مخصوص طرزیں انسان کو نشے میں اس قدرغرق کردیتی ہیں کہ اس میں مستی ایسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے البتہ بعض اوقات اس مرحلے تک نہیں پہنچتا لیکن پھر بھی معمولی سانشہ ضرورآہی جاتا ہے ۔ اسی بناء پر غنا میں منشیات کے بہت سے مفاسدپائے جاتے ہیں وہ خفیف ہوں یا شدید مشہور مو سیقی دانوں کے حالات زندگی کا اچھی طرح مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی عمر کے دوران تدریجاً ایسی روحانی تکالیف اور پریشانیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اپنے اعصاب کھوبیٹھتے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ اپنے عقل وشعور کو کھو بیٹھتے اور پھر دیار جنون کی طرف اس پار ہوجاتے ہیں۔ کچھ مفلوج، عاجز اور ناتواں ہو جاتے ہیں اور بعض تو موسیقی کے دوران ہی خون کے دباؤ (BLOOD PRESSURE) میں مبتلا ہو کر ناگہانی سکتے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ (۳) بعض کتب جو انسانی اعصاب پر موسیقی کے مضراثرات کے سلسلے میں لکھی گئی ہیں ، ان میں موسیقی دانوں اور گلوکا روں کی ایک جماعت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اپنا پروگرام پیش کر تے ہوٴے حرکت قلب بندہو جانے کی وجہ سے لقمہٴ اجل بن گئے ۔(۴) خلاصہ یہ کہ اعصاب پر غنا اور موسیقی کے مضراپرات ، جنون کی پیدائش ، خون کے دباؤ اور دوسری ناپندیدہ تحریکات اس کثرت سے ہیں کہ ان پر زیادہ بحث کر نے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ موجووہ دورمیں اس قسم کی اموات کے بارے میں جو اعددوشمار جمع کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہو تا ہے کہ گزشتہ دورکی نسبت اس زمانہ میں ناگہانی اموات کی تعدادزیادہ ہے اور اس اضافے کے متعددعوامل ہیں جن میں سے ایک عالمی سطح پر موسیقی اور غنا کی افزائش ہے۔ ۱۔تفسیر روح المعانی جلد ۲۱ صفحہ۶۰. ۲۔ وسائل الشیعہ، ج۱۲، ص۲۳۵. ۳۔ کتاب تاٴثیر موسیقی بر روان واعصاب، ص۲۶. ۴ تاٴثیر موسیقی بر روان واعصاب، ص۹۲ اور مابعد.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
شان نزول
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ زیر بحث پہلی آیات ”نضر بن حارث “کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، جو ایک تاجر شخص تھا اور تجارت کی عرض سے ایران کا سفر کیا کرتا تھا اور ساتھ ہی ایرانیوں کی داستانیں قریش کے سامنے بیان کیا کرتا تھا ۔اور کہتا تھا کہ اگر محمد (ص) تمھارے سامنے عاد وثمودکی داستانیں بیان کر تاہے تو میں تمھیں رستم اور اسفند یار کے قصے کہانیاں اور کسریٰ اور سلاطین عجم کی خبریں سناتا ہوں چنانچہ وہ اس کے گرد بیٹھ جاتے اور قرآن کو چھوڑ کر اس کی داستانوں کو خوب غور اور کان لگاکر سنتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حصّہ اس کے شخص کے بارے میں نازل ہوا ہے جس نے ایک گویّا لونڈی خرید رکھی تھی جو وہ دن رات گانے گاگاکر اسے یاد خدا سے غافل رکھتی تھی۔ عظیم مفسر طبرسی مرحوم اس شان نزول کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ حدیث جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہے وہ اس نظریے کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت فرماتے ہیں: ”لایحل تعلیم المغنیات ولابیعھن، واثمانھن حرام وقد نزل تصدیق ذلک فی کتاب الله <وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ .... گانے والی کنیزوں کو تعلیم دنیا اور ان کی خرید وفروخت کرنا اور اس طریقہ سے حاصل کی ہوئی آمدنی سب کچھ حرام ہے اور یہ آیت اسی مطلب پر شاہد ہے: <وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ ....
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:6-9
سوره لقمان / آیه 6 - 9
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِی لَھْوَ الْحَدِیثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اٴُولَئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِینٌ ۷ وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْہِ آیَاتُنَا وَلَّی مُسْتَکْبِرًا کَاٴَنْ لَمْ یَسْمَعْھَا کَاٴَنَّ فِی اٴُذُنَیْہِ وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ۸ إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَھُمْ جَنَّاتُ النَّعِیمِ ۹ خَالِدِینَ فِیھَا وَعْدَ اللهِ حَقًّا وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ تر جمہ ۶۔ بعض لوگ باطل اور بیہودہ باتیں (باقاعدہ) خرید تے ہیں تا کہ لوگوں کو جہالت ونادانی کی بناء پر گمراہ کریں اور آیات الٰہی کا استہزاء کریں اور مذاق اڑائیں ، ان کے لیے ذلیل اور خوار کرنے والا عذاب ہے ۔ ۷۔جس وقت اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبّر کی بناء پر ان سے منہ موڑ لیتا ہے گو یا اس نے سنا ہی نہیں۔ گویا اس کے کان باکل بہرے ہیں۔ اس درد ناک عذاب کی بشارت دے دو ۔ ۸۔(لیکن) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعما ل انجام دیئے ہیں نعمتوں سے بھرے ہوئے بہشت کے باغات ان کے لیے ہیں ۔ ۹۔وہ ہمیشہ ہمیشہ میں رہیں گے ، یہ خدا کا مسلم اور یقینی وعدہ ہے اور وہی عزیز اور حکیم (نا قابل شکست اور دانا) ہے۔