يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
‘O my son! Even if it should be the weight of a mustard seed, and [even though] it should be in a rock, or in the heavens, or in the earth, Allah will produce it. Indeed Allah is all-attentive, all-aware.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 31:16
[Pooya/Ali Commentary 31:16] Aqa Mahdi Puya says: This verse refers to total resurrection and to the fact that nothing will escape the attention of Allah. For "latif" refer to the commentary of Hajj: 63.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:16-19
۱۔ چلنے پھرنے کے آداب
یہ ٹھیک ہے کہ چلنا پھر نا ایک عام اور سادہ سامسئلہ لیکن یہی سادہ مسئلہ انسان کے اندرونی حالات اور اخلاق واطوار اور بسا اوقات اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے کیونکہ پہلے بھی ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کے عادت واطواراس کے اعمال کے اندرمنعکس ہوتے ہیں اور کبھی ایک چھوٹا سا معمولی عمل بھی اس کی گہری عادات کی غمازی کرتاہے۔ اور چونکہ اسلام زندگی کی تمام جہات کو توجہ کا مرکز قرار دیتا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں اس نے کسی بھی چیز کو فرو گزاشت نہیں کیا۔ ایک حدیث میں رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ سلّم سے مروی ہے: ”من مشی علی الا رض اختیالا لعنہ الارض، ومن تحتھا، ومن فوقھا!“ ”جوشخص عزوروتکبّر کے ساتھ زمین پر چلتاہے تو زمین اور زمین کے اندر کی اور اس کے اوپر کی چیزیں سب اس پر لعنت کرتی ہیں۔ “ (۱) پھر ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے روایت ہے: ”نھی ان خیتال الرجل فی مشیہ وقال من لبس ثوبًا فاختال فیہ خسف اللہ بہ من شفیرجھنم وکان قرین قارون لانّہ اوّل من اختال“۔ پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے مغرورانہ اور متکبرانہ انداز میں چلنے سے روکا ہے اور فرمایا جو شخص لباس پہنے اور اس کے ساتھ تکبر دکھائے تو خدا اوند عالم اسے جہنم کے کنارے سے زمین کی تہہ میں بھیجے گا اور وہ قارون کا مقرّب اور ساتھی ہوگا۔ کیونکہ قارون پہلا شخص تھا جس نے کبروغرور کی بنیاد رکھی (۲) نیز امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں آپ(علیهم السلام) نے فرمایا: خدا نے ایمان کو انسان کے اعضاء وجوارح پر واجب کیا اور ان کے درمیان اسے تقسیم کیا، منجملہ ان کے انسان کے پاؤں پر واجب کیا ہے کہ گناہ اور معصیّت کی طرف نہ جائیں بلکہ رضائے خدا کی راہ میں اٹھیں، اسی لیے قرآن فرماتاہے: ”زمین میں تکبرّ سے نہ چلو“ نیز فرماتاہے: ”چلنے میں اعتدال کی راہ کو پیش نظر رکھو“ ۔ (۳) ایک دوسری روایت میں یہ ماجراپیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوا ہے کہ آپ ایک کو چہ سے گزر فرمارہے تھے لوگوں کو دیکھاکہ ایک دیوانے کے گرد جمع ہیں اور اس کی طرف دیکھ رہے ہیں فرمایا: علی ما اجتمع ھٰوٴلآء ”یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ علی المجنون یصرع”ایک دیوانے کے لیے جو اعصابی حملہ کا شکار ہے!“ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”ماھٰذابمجنون الا اٴخبر کم بمجنون حق المجنون یہ تو دیوانہ نہیں ہے! تم چاہتے ہو کہ واقعی مجنوں کا تم سے تعارف کراؤں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ !!تو آپ نے فرمایا: ”انّ المجنون: المتبختر فی مشیہ، الناظر فی عطفیہ، المحرک جنبیہ بمنکبیہ فذالک المجنون وھٰذا المبتلی“ ”حقیقی مجنون تووہ ہے جو غرور سے شانے جھٹک کر چلتا ہے، ہمیشہ اپنے پہلوؤں کی طرف دیکھتا ہے، اپنے بازوؤں کو اپنے کندھوں کے ساتھ ہلاتا ہے۔ (اور کبروغرور اس کے سارے وجودسے ٹپکتا ہے) ایسا شخص واقعی دیوانہ ہے جسے تم دیکھ رہے ہو، یہ تو بیمار ہے۔ (4) ۱۔ ثواب الاعمال اور امالی (بحوالہ نور الثقلین، ج۴، ص۲۰۷) ۲۔ ثواب الاعمال وامالی صدوقۺ (بحوالہٴ تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص۲۰۷. ۳۔اصول کافی، ج۲، ص۲۸ (باب الایمان مبثوث لجوارح البدن کلھا) ۔ 4۔ بحارالانوار، ج۷۶، ص۵۷.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:16-19
سوره لقمان / آیه 16 - 19
۱۶ یَابُنَیَّ إِنَّھَا إِنْ تَکُن مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُن فِی صَخْرَةٍ اٴَوْ فِی السَّمَاوَاتِ اٴَوْ فِی الْاٴَرْضِ یَاٴْتِ بِھَا اللهُ إِنَّ اللهَ لَطِیفٌ خَبِیرٌ ۱۷ یَابُنَیَّ اٴَقِمْ الصَّلَاةَ وَاٴْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَ عَنْ الْمُنکَرِ وَاصْبِرْ عَلیٰ مَا اٴَصَابَکَ إِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ ۱۸ وَلَاتُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَاتَمْشِ فِی الْاٴَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ۱۹ وَاقْصِدْ فِی مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ إِنَّ اٴَنکَرَ الْاٴَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیرِ ترجمہ ۱۶۔بیٹا ! اگر رائی کے کے دانہ کے برابر (نیک یا بدعمل) ہو اور پھر کے دل میں آسمان اور زمین کے گوشہ میں قرار پائے خدا سے(قیامت میں حساب کے لیے) لے آئے گا اور خدائے نہایت ہی باریک بین و آگاہ ہے۔ ۱۷۔ بیٹا! نماز کو قائم کرو اور امر بالمعروف اور نہی از منکر کرو اور ان مصائب کے مقابلے میں جو تجھے پہنچیں با استقامت اور صابر بنو کیونکہ یہ ایسے کاموں میں سے ہیں جو اہم اور اساسی ہیں۔ ۱۸۔ بیٹا! بے اعتنائی کے ساتھ لوگوں سے روگردانی نہ کرو اور غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو کیونکہ خدا کسی متکبر اور مغرور کو دوست نہیں رکھتا۔ ۱۹۔ بیٹا چلنے میں اعتدال کو پیش نظر رکھو اپنی آواز کو دھیمار کھو(اور ہر گز اونچی آواز سے نہ بولو) بدترین آواز گدھوں کی آواز ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:16-19
پہاڑ کی طرح ڈٹ جاوٴ اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔
لقمان کی پہلی نصیحت مسئلہ توحید اور شرک سے نبرد آزمائی کے سلسلہ نصیحت حساب و کتاب اعمال و معاد کے بارے میں ہے” مبداء و معاد“ کے حلقہ کی تکمیل کرتا ہے۔ جناب لقمان کہتے ہیں ”بیٹھا! اگر نیک وبد اعمال یہاں تک کہ رائی کے دانے کے وزن کے برابرہوں پتھرکے اندریا آسمان کے گوشے میں یازمین کے اندر کسی جگہ بھی خدا ان کو دادگاہ قیامت میں حاضرکرے گا اور اس کا حساب وکتاب کرے گا۔ کیونکہ خدا لطیف، باریک بین اور آگاہ دخبردار ہے : (یَابُنَیَّ إِنَّھَا إِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُن فِی صَخْرَةٍ اٴَوْ فِی السَّمَاوَاتِ اٴَوْ فِی الْاٴَرْضِ یَاٴْتِ بِھَا اللهُ إِنَّ اللهَ لَطِیفٌ خَبِیرٌ) ۔ ”خردل “(رائی) ایک پوداہے جس کے بہت چھوٹے سیاہ دانے ہوتے ہیں جوچھوٹا ہونے کی وجہ سے کمی اور حقارت میں ضرب المثل ہے۔ اس طرف اشارہ ہے کہ نیک اور بدعمل جس قدر چھوٹے اور کم قیمت اور جس قدر مخفی وپنہاں ہیں مثل رائی کے دانے کے جو پتھر کے اندر زمین کی گہرائیو ںمیں یا آسمان کے گوشہ میں مخفی ہو خداوند لطیف وخبیر جو عالم ہستی کی تمام چھوٹی بڑی موجودات سے آگاہ اُسے حساب وکتاب اور سزاوجزا کے لیے حاضرکرے گا اور کوئی چیز اُس کے ہاں گم نہیں ہوتی ! ضمیر”انھا“ کی ”حسنات وسیّئات، اور نیک وبداعمال“ کی طرف لوٹتی ہے۔ (۱) انسا ن کے اعمال سے پروردگار کا آگاہ ہونا اور تمام نیکیوں اور بدیوں کا پروردگار عالم کی کتاب علم میں محفوظ ہونا اور اس کائنات میں کسی چیز کے نابودنہ ہونے کی طرف توجہ ، تمام انفرادی واجتماعی اصلاحات کی اصل وبنیاداور اچھائیوں کی طرف لے جانے کا طاقتور محرک ہے اور شروروبرائیوں سے روکنے کی بڑی طاقت۔ ”سماوات “و”ارض“ کا ذکر ”صخرہ “کے بعد در حقیقت خاص کے بعد عالم کے ذکر کرنے کے قبیل سے ہے ۔ ”اصول کافی “میں امام محمدباقر علیہ السلام سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے فرماتے ہیں: ”اتقوا المحقرات من الذنوب، فان لھاطاباً، یقول اٴحدکم اٴذنب واستغفر، ان اللّٰہ عزوجل یقول ”سنکتب ماقد مواواٰثا رھم وکل شئی احصیناہ فی امام مبین“، وقال عزوجل : ”إِنَّھَا إِنْ تَکُن مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُن فِی صَخْرَةٍ اٴَوْ فِی السَّمَاوَاتِ اٴَوْ فِی الْاٴَرْضِ یَاٴْتِ بِھَا اللهُ إِنَّ اللهَ لَطِیفٌ خَبِیرٌ“ چھوٹے گنا ہوں سے بھی پر ہیز کرو کیونکہ آخر کار کوئی اس کو بھی دریافت کرے گا۔ عزوجل فرماتاہے ہم اس کو جو انھوں نے آگے بھیجا ہے اور اسی طرح ان کے تمام آثار غرض کہ سب کچھ کو ہم نے لوحِ محفوظ میں محفوظ کردیا۔ نیز فرمایاہے: اگر اچھے اور برے اعمال حتّی کہ رائی کے دانہ کے برابر ہوں پتھر کے اندریا اسمان کے کسی گوشہ میں یازمین کے اندر خدا اُن کو حاضرکرے گا۔ کیونکہ خدا الطیف وخبیرہے۔ (2) مبداء ومعاد جو تمام مکتبی اعتقادات کی اسال ہے کی بنیادوں کو مکم طورپر بیان کرنے کے بعد اہم ترین عمل یعنی مسئلہ نماز کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ”بیٹا نماز کو قائم کرو، (یَابُنَیَّ اٴَقِمْ الصَّلَاةَ) ۔ کیونکہ نماز تمھارے خالق کے ساتھ تمھارا اہم ترین رابطہ ہے ۔ تمھارے دل کو بیدار اور روح کو صاف وشفاف اور زندگی کو منوّر کرتی ہے۔ تمھاری جان سے گناہوں کے آثار کو دھوڈالتی ہے ، تمھارے دل کے خانہ نور ایمان کی روشنی ڈالتی ہے اور تمھیں فحشاء ومنکرات سے روکتی ہے۔ نماز کے پروگرام کے بعد ایک اہم ترین اجتماعی فریضہ امربمعروف اور نہی از منکر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ”لوگوںکو نیکیوں اور معروف کی دعوت دو اور منکرات اور برئیوسے روکو“ (وَاٴْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَ عَنْ الْمُنکَرِ) . ان تین اہم عملی احکام کے بعد ایک ایسے اہم مسئلے کی طرف متوجہ کیا ہے جسے ایمان سے وہی نسبت ہے جو سرکو بدن سے ہوتی ہے ، اور وہ ہے صبرواستقامت فرمایا۔ ”مصائب ومشکلات کے مقابلے میں جو تم پر نازل ہوتے ہیں صابر وشکبیارہوکیونکہ یہ چیز ہرانسان کے حمتی فرائض اور بنیادی کاموں سے ہے‘ ‘۔ (وَاصْبِرْ عَلیٰ مَا اٴَصَابَکَ إِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ) مسلم ہے کہ تمام اجتماعی کاموں میں خصوصا امر المعروف اور نہی از منکر کے پروردگار میں بہت زیادہ مشکلات ہوتی اور مفاد پرست احکام گناہوں سے آلودہ اور متکبر وخود پسند لوگ آسانی کے ساتھ تسلیم نہیں کرتے بلکہ امر بمعروف اور نہی ازمنکر کرنے والوں کے درپے آزار ہو کر متہم کرنے پر اُتر آتے ہیں لہٰذا صبر و استقامت اور شکیبائی کے بغیر ان مشکلات پر کسی وقت بھی قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ ”عزم “محکم ارادے کے معنی میں ہے اور ”عزم الامور “کی تعبیر یہاں پر یا تو ان کاموں کے معنی میں ہے جن کے متعلق پر وردگار کی طرف سے تاکید ی حکم دیا گیا ہے اور یا ایسے کام جن کے بارے میں انسان کو عزم صمیم اور آہنی ارادہ رکھنا چاہیئے معنی خواہ کچھ ہو دونوں میں اہمیّت کی طرف اشارہ ہے یعنی انسان آہنی عزم اور صمیم راسخ رکھتاہو ۔ ”ذالک“کی تعبیر صبر وشکیبائی کی طرف اشارہ ہے ۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام امور کی طرف اشارہ ہو جو اُوپر والی آیت میں ذکر ہوئے ہیں ، منجملہ ان کے نماز ، امر بمعروف اور نہی ازمنکر ہے ۔لیکن قرآن کی بعض دوسری آیت میں یہ تعبیر صبر کے مسئلہ کے بعد بیان ہو ہے جوپہلے احتمال کو تقویت پہنچاتا ہے ۔ اس کے بعد لقمان اپنے اور دوسرے لوگوں سے متعلق اخلاقی مسائل کو بیان کرتے ہیں اور سب سے پہلے تواضع ، فروتنی اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں ”بے اعتنائی کے ساتھ لوگوں سے روگردانی نہ کرو“ (وَلَاتُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ) ۔”اور مغرورانہ اندزمیں روئے زمین پر نہ چلو“ (وَلَاتَمْشِ فِی الْاٴَرْضِ مَرَحًا) ۔ ”کیونکہ خدا کسی متکبر اور مغرور کو دوست نہیں رکھتا“ (إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ) ۔ ”تصعّر“”صعر“کے مادہ سے ہے جو دراصل قسم کی بیماری ہے جواونٹ کو لاحق ہوتی ہے جس سے وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرتا ہے ۔ ”مرح“ (بروزن فَرَح) نعمت سے پیدا ہونے والے غروراور مستی کے معنی میں ہے۔ ”مختال “”خیال“ اور ”خیلاء“ کے مادہ سے ہے۔ ایسے شخص کے معنی میں ہے جودرسروں پر اپنی بڑائی جتائے ۔فخور، فخرکے مادہ سے اس معنی میں ہے کہ جو شخص دوسرے کے مقابل فخر کرتا ہے(”مختال“ اور ”فخور“ میں فرق یہ ہے کہ پہلے کا تعلق ذہن میں پیدا ہونے والے متکبرانہ خیالات سے ہوتا ہے اور دوسرے کا تعلق تکبر آمیزا عمال سے ہے) ۔ اور اس طرح لقمان حکیم یہاں دوبری اور ناپسندیدہ صفات کی طرف جو معاشرہ کے صمیمانہ روابط کے منقطع ہونے کا سبب ہیں ‘اشارہ کرتے ہیں ‘ ایک توتکبر اور بے اعتنائی اور دوسری غرور اور ناپسندی ہے ۔اور اس سلسلہ میں دونوں مشترک ہیں جو انسان کو توہم ، خیال اور اپنے آپ کو برتر سمجھنے کی دنیا میں غلطاں کردیتی ہیں اور دوسروں سے اس کے روابطہ کو منقطع کرنے کا باعث بنتی ہیں ۔ خصوصاً ”صعر“ کے اصلی اور لغوی مادہ کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح ہو جاتاہے کہ اس طرح کے ناپسند یدہ صفات ایک قسم کی نفسیاتی اور اخلاقی بیماری اور تشخیص وتفکر میں ایک قسم کی بے راہروی ہے۔ ورنہ روح اور نفس کے لحاظ سے ایک صحیح اور اور سالم انسان کبھی بھی اس قسم کے تصورات اورخیالات میں گرفتار نہیں ہوتا۔ کہے بغیر واضح ہے کہ ”لقمان “ کی مراد صرف لوگوں سے روگردانی کرنا یا مغرورانہ اندز میں مٹک مٹک کر چلنا ہی نہیں بلکہ تکبر اور غرورکے تمام مصادیق کے ساتھ نبردآزمائی بھی ہے۔ لیکن چونکہ اس قسم کی صفات سب سے پہلے اپنے آپ کے عادی اور روزانہ کی حرکات کی نشان دہی کرتی ہیں لہٰذان مخصوص مظاہر کو ہی بیان فرمایاہے ۔ بعد والی آیت میں فرمایاہے : ”بیٹا! چلنے پھر نے میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو“ (وَاقْصِدْ فِی مَشْیِکَ) ۔ ”اور بات کرنے میں بھی اعتدال کو مدنظر رکھو اور آوازدینے میں بھی آہستگی اختیار کرو، اور شور مچاکر بلند آواز سے نہ پکارو“ (واغضض من صوتک) ۔ ”کیونکہ بدترین آوازگدھوں کی ہے“ (إِنَّ اٴَنکَرَ الْاٴَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیرِ) ۔ (3) (4) در حقیقت ان دوآیات میں دوصفات سے نہی اور صفات کے بارے میں امر ہوا ہے۔ ”نہی“” اپنے آپ کی برتری “اور ”خودپسندی“ سے کہ جن میں سے ایک تو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان خدا کی مخلوق کے ساتھ تکبرکرے اور دوسری سبب بنتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو حدکمال میں تصّور کرے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو تاہے کہ انسان اپنے لیے تدریجی کمال اور تقاء کے دروازے بند کرودیتا ہے۔ اگر چہ وہ اپنا دوسروں سے موازنہ نہ کرے۔ اگر چہ یہ دونوں صفات عام طورپر جڑواں ہوتی ہیں اور ان کی اصل (جڑ) مشترک ہے لیکن کبھی ایک دوسرے سے جدا بھی ہو جاتی ہیں۔ اور ”امر“ ”عمل“ اور ”گفتگو“ میں اعتدال کی رعایت کا ، چونکہ چلنے پھر نے اور گفتگو کرنے میں اعتدال در حقیقت مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور جس شخص میں واقعاً یہ چار صفات پائی جاتی ہوں وہ موفق، خوش قسمت اور کا میاب انسان ہوتا ہے جو لوگوں میں محبوب اور بارگاہ خدا میں معزز ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ممکن ہے کہ ہماری زندگی کے ماحول میں گدھے کی آداز سے بھی زیادہ تکلیف دہ آوازیں ہوں (مثلاً جب دہا توں کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کے بدن کا گوشت گررہاہے) لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ آوازیں نہ تو عمومی ہوتی ہیں اور نہ ہی ہر موقع ومحل پر رونماہوتی ہیں ۔ علادہ ازیں تکلیف دہ ہونے اور زیادہ قبیح ہونے میں بھی فرق ہے۔ اور سچ مچ عالم آوازوں سے جنیں انسان سنتا ہے سب سے زیادہ قبیح اور بری گدھے کی آواز ہی ہوتی ہے۔ اور مغروراربے وقوف لوگوں کے نعرے اور بے وقوف لوگوں کے نعرے اور شور وغوغا اسی آواز سے مشابہت رکھتے ہیں۔ نہ صرف اونچا اور بے ہنگم ہونے کے لحاظ سے قبیح نہیں بلکہ کبھی بلاوجہ ہونے کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ بعض مفسرین کے بقول دوسرے جانوروں کی آواز عام طورپر بوقت ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ جانور کبھی بلاوجہ، بغیر کسی کی ضرورت اور کسی تمہیدومقدمہ کے وقت، بے وقت ہینگنا شروع کردیتاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ذکر ہواہے کہ جب گدھے کی آواز بلند ہوتی ہے اس وقت وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ بعض نے کہاہے کہ ہرجانور کی آواز تسبیح ہوتی ہے سوائے گدھے کی آواز کے۔ بہر حال ان تمام باتوں سے ہٹ کر جو بات مسلّم ہے وہ یہ کہ تمام آواز وں میں اس کی آوازہی قبیح ہے ، اور یہ بات کسی بحث وگفتگو کی محتاج نہیں۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہوا ہے کہ یہ آیت بلند آوازکے ساتھ چھینکنے یا بولتے وقت شور مچانے سے تفسیر ہوئی ہے تو در حقیقت اس کے روشن مصداق کا بیان ہے۔ (5) ۱۔ بعض نے احتمال دیا ہے کہ اوپر والی صمیر یا تو ضمیر شان ہے اور یا مفہوم شرک کی طرف لوٹتی ہے اور دونوں احتمال بعید ہیں۔ 2۔ نور الثقلین جلد ۴ ص۲۰۴ . ۳۔ ”حمیر“ ”حمار“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گدھا ۔ 4۔ ”انکر“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے، اگرچہ یہ صیغہ عام طور پر مفعول کے معنی میں آتا ہے لیکن عیوب کے باب میں یہ صیغہ شاذ ئنادر آہی جا تاہے (”انکر“ ”منکر“ کا افعل تفضیل ہے) ۔ 5 .مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:16-19
۲۔ گفتگو کے آداب
لقمان کے پندونصائح میں بات کرنے کے آداب کے ضمن میں اشارہ کیا گیا تھا، اور اسلام میں اس مسئلہ کے لیے ایک وسیع باب کھولا گیا ہے۔ منجملہ اس کے یہ ہے کہ جب تک بات کرنا ضروری نہ ہو تو سکوت بہتر ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفرصا دق علیہ السلام سے منقول ہے: ”السکوت راحة للعقل “ ”سکوت ، فکرکے آرام اور راحت کا باعث ہے“۔(1) ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ : ”من علا مات الفقہ العلم والحلم والصمت، ان الصمت باب من اٴبواب الحکمة۔ ”عقل وفہم کی نشانیوں میں سے آگاہی، بردباری اور خاموشی ہے۔ سکوت اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے (2) لیکن دوسری روایات میں یہ بات بھی زوردے کر کہی گئی ہے کہ : ”جن مو قعوں پر گفتگو کرنا ضروری ہے موٴ من کو کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔“ ”پیغمبروں کو بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے نا کہ سکوت کی۔“ ”جنّت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ بر محل بات کرنا ہے“۔(3) 1۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲. 2۔وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲. 3۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 31:16-19
3۔ معاشرتی آداب
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے ذریعہ اسلامی روایات میں جس قدر تواضع، حسن خلق اور بوقت ملاقات نرمی کا مظاہرہ اور رہن سہن میں سختی نہ بر تنے کے مسئلے کو اہمیّت دی گئی ہے، اتنی بہت کم چیزوں کو اہمیّت دی گئی ہے۔ بہترین اور نا طق دلیل اس سلسلے میں خوداسلامی روایات ہیں جن کا ایک نمونہ ہم یہاں پر نظرنواز کرتے ہیں: ایک شخص پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: ”یا رسول اللّٰہ اٴوصنی فکان فیما اٴوصاہ ان قال الق اخاک بوجہ منبسط“”مجھے نصیحت کیجئے ! تو آپ نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی سے کشادہ روئی کے ساتھ ملاقات کرو۔“ (۱) ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے: ”ما یوضع فی میزان امرء یوم القیا مة اٴفضل من حسن الخلق“ ”قیامت کے دن کوئی چیز کسی کے ترازوئے عمل میں حسن خلق سے برتروبالاتر نہیں رکھی جائے گی۔ (۲) ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے ندکور ہے: ”البروحسن الخلق یعمران الدیار ویزیدان فی الا عمار“ ”نیکو کاری اور حسن خلق گھروں کو آباد اور عمروں کو زیادہ کرتے ہیں۔ (۳) نیز رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے: ”اکثرما تلج بہ امتی الجنة تقوی اللّٰہ وحسن الخلق“ ”جو چیز میری امت کے زیادہ سے زیادہ بہشت میں داخل ہو نے کا سبب بنے گی وہ خدا کا تقویٰ اور حسن خلق ہے“۔ (۴) تو اضع اور فردتنی کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: ”زینة الشریف التواضع “ ” شرافت مآب انسانوں کی زینت فروتنی اور تواضع ہے“۔(۵) آخر میں ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: ”التواضع اصل کل خیر نفیس، ومرتبة رفیعة، ولوکان للتواضع لغة یفھمھا الخطق عن حقائق مافی مخفیات العواقب.... ومن تواضع للّٰہ شرفہ اللّٰہ علی کثیر من عبادہ ..... ولیس لِلّٰہ عزّ وجل عبادة یقبلھا ویرضا ھا الا وبا بھا التواضع. ”فردتنی اور تو اضع ہر خیر وسعادت کی جڑہے، تو اضع ایک بلند مقام ومرتبہ ہے اور اگر تواضع کی کوئی زبان ہو تی کہ جسے لوگ سمجھتے تو بہت سے اسرار نہانی اور کاموں کی عاقبت کو بیان کرتی ..... جو شخص خدا کے لیے فروتنی کرے خدا اس کو اپنے بہت سے بندوں پر برتری بخشے گ....کوئی ایسی عبادت نہیں جو مقبول بار گاہ خدا اور اس کی رضا کا موجب ہو مگر یہ کہ وہ فروتنی کی راہ ہی سے داخل ہو تی ہے“۔ (۶) ۱۔ بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۷۱. ۲، ۳، ۴۔ اصول کافی، ج۲، باب حُسن الخلق ۸۱ و۸۲. ۵۔ بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰. ۶۔ بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰.