وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
And of His signs is that He sends the winds as bearers of good news and to let you taste of His mercy, and that the ships may sail by His command, and that you may seek of His bounty, and so that you may give [Him] thanks.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:46
[Pooya/Ali Commentary 30:46]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:46-50
سوره روم / آیه 46 - 50
(46) وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَّّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْـمَتِهٖ وَلِتَجْرِىَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (47) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِـمْ فَجَآءُوْهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّـذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ (48) اَللَّـهُ الَّـذِىْ يُـرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيْـرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٝ فِى السَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُـهٝ كِسَفًا فَتَـرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِـهٖ ۖ فَاِذَآ اَصَابَ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٓ ٖ اِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ (49) وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ قَبْلِـهٖ لَمُبْلِسِيْنَ (50) فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثَارِ رَحْـمَتِ اللّـٰهِ كَيْفَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ ترجمہ (46) اس کی (عظمت و قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بشارت دہندہ بنا کر بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کے لطف سے آشنا کرے (اور سیراب کرے) اور اسی کے حکم سے کشتیاں چلیں ۔ تم اس کے فضل سے استفادہ کروممکن ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو ۔ (47) ہم نے تم سے پہلے ان کی قوم کی طرف رسول بھیجے ۔ وہ ان کے پاس ہماری روشن دلیلیں لے کرگئے (مگر جب پندونصائی نے کوئی فائدہ نہ بخشاتو) ہم نے مجرمین سے انتقام لیا (اور ہم نے مومنین کی مدد کی) اور مومنین کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ فرض ہے۔ (48) وہ خدا ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ بادلوں کو حرکت میں لے آئیں یا نہیں ک آسمان کی وسعت میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور پھر انہیں تہ در تہ کرديتا ، پھرتم دیکھتے ہو کہ ان بادلوں کے بیچ میں سے بارش کے قطرے گرنے لگتے ہیں جب خدا ( اس حیات بخش بارش کو) اپنے بندوں میں جنہیں وہ چاہتا ہے ، ان پر برساتاہےتو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ (49) ہر چند کہ وہ اس سے قبل کہ ان پر بارش نازل ہو، مایوس تھے۔ (50) رحمت الہی کے آثار دیکھ کر وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کس طرح زندہ کر دیتا ہے اور وہی ذات (جس نے مردہ زمین کو زندہ کیا ، بروز قیامت) مردوں کو زندہ کرے گی اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔