ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
Corruption has appeared in land and sea because of the doings of the people’s hands, that He may make them taste something of what they have done, so that they may come back.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:41
[Pooya/Ali Commentary 30:41] Corruption prevalent before the advent of Islam is now a matter of history. All kinds of vices were freely practiced in the name of religious order of the ages. No doubt, there is corruption in the world even today, but it is condemned, not sanctified as the sacred principles of any religion or creed. Islam came with the knowledge and learning to enlighten mankind. Aqa Mahdi Puya says: The setbacks man experiences in this world is the consequence of his misdeed. It must serve him as a warning because the sins he commits will land him in the abode of eternal punishment in the hereafter.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 30:41-53
Lightening, floods, earthquakes, landslips, cyclones, typhoons, are all Divine warnings, and not casual catastrophes to which man is subject, as usually interpreted by men who are desirous of making headway in the world with creative mind.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
سوره روم / آیه 41 - 45
(41) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيْقَهُـمْ بَعْضَ الَّـذِىْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُـمْ يَرْجِعُوْنَ (42) قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّشْرِكِيْنَ (43) فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلـدِّيْنِ الْقَيِّـمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِـىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَـهٝ مِنَ اللّـٰهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ (44) مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٝ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِـمْ يَمْهَدُوْنَ (45) لِيَجْزِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّهٝ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ ترجمہ (41) لوگوں کے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھاۓ۔ شاید کہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں۔ (42) ان سے کہہ دو : زمین میں چل پھر کر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو تم سے پہلے تھے۔ ان میں سے اکثر مشریک تھے۔ (43) تم اس دن سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور اسے کوئی روک نہیں سکتا اپنا رخ مستقیم اور پائیدار دین کی طرف کیے رہو ۔ اور اس روز لوگ مختلف جماعتوں میں بٹ جائیں گے۔ (44) جس شخص نے کفر کیا اس کا کفر اسی کے لیے زیاں رساں ہے اور جو لوگ کہ اعمال صالح انجام دیتے ہیں وہ ( خدا کے اجر و ثواب کو) اپنے ہی فائدے کے لیے مہیا کرتے ہیں۔ (45) یہ اس لیے ہے تاکہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دینے ہیں ، اپنے فضل سے جزادے ۔ یقینًا وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
4- روز قیامت ٹل نہیں سکتا
4- روز قیامت ٹل نہیں سکتا : آیات مذکورہ بالا میں روز قیامت کے متعلق یہ ذکر آیا ہے کہ " يوم لا مرد له من الله" وہ ایسا دن ہے کہ خدا کو اس کے برپا کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ اس کے عمل وقوع میں کوئی حائل ہوسکتا ہے ۔ اور نہ کسی میں یہ قدرت ہوگی کہ اس روز کے محاسبے سے فرار ہو کر پھر دنیا میں آجائے۔ قران کی دوسری آیت میں بھی روز قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے ، چناچہ سوره شوریٰ آیت 44 مذکور ہے کہ: جب ظالم خدا کے دردناک عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے: هل الى مرۃ من سبیل کیا کوئی ایسی راہ ہے کہ ہم پر دنیا کی طرف لوٹ جائیں ؟ اسی طرح سورہ شوریٰ کی آیت 47 میں قیامت کی تعریف میں " يوم لامرد له من الله" كہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم ہستی میں انسان متعدد مراحل سے گزرتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مرحله مابعد سے مرحلہ ماقبل کی طرف عود کر جائے ، نہ صرف انسان بلکہ جملہ کائنات کے لیے یہ خدا کی تخلف ناپذیر کی سنت ہے۔ مثلًا : ایک بچہ جو شکم مادر سے عالم وجود میں آیا ہے خواہ وہ باعتبار ترکیب جسمانی کامل ہو یا ناقص ، کیا یہ ممکن ہے. کہ وہ پھر بصورت جنین واپس لوٹ جائے ؟ یا وہ میوہ جو شاخ درخت سے ٹوٹ کر گرگیا ہے ، خواہ پختہ ہو یا خام ، کیا دہ پھر واپس ہوکراسی شاخ سے متوصل ہوسکتا ہے؟ انسان کا اس جہان فانی سے اس جہان فانی کی طرف منتقل ہونا بھی ایسا ہی ہے۔ یعنی یہاں سے انتقال کے بعد پھر کسی طرح بھی اس کی بازگشت نہیں ہوسکتی اوریہی وہ حقیقت ہے کہ انسان اس پر غور کرے تو وہ لرزہ براندام ہوجاتا اور یہی حقیقت سے خواب غفلت سے بیدار کرتی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
3- دین قیم اور آئین محکم
3- دین قیم اور آئین محکم : زیر بحث آیات میں پیغمبراکرامؐ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنن کلی توجہ اس آئین کی طرف رکھیں جو مستقیم ، محکم اور استوار ہے ۔ اور جس میں کسی قسم کج روی اور راہ راست سے منحرف ہونے کا احتمال نہیں ہے۔ نیزاس کی بنیادیں غیرمتزلزل ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیات میں "دین" کے اور اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں مثلا : سورہ یونس کی آیہ 105 میں دین کو کلمہ "حنیف" سے متصف کیاگیا ہے ۔ (یعنی وہ دین جس میں کسی قسم کی کج روی نہیں ہے)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البحرین تحت ماده سیح۔ رسول اللہؐ سے ایک اور حدیث منقول ہے: سياحة امتي الغزو والجهاد یعنی اگر میری امت مادی زندگی سے منہ موڑنا چاہتی ہے تو پھر کیوں جہاد کی طرف نہ جائے اور کیوں بیابانوں میں فضول مرتی پھرے۔ سوره زمر کی آیت 3 میں اسے "خالص" کہا گیا ہے۔ الا الله الدين الخالص سورہ نحل کی آیت 52 میں کلمہ "واصب" استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں وہ آئین بر تغیر ناپذیر اور فناوزوال سے بری ہے۔ (وله الدين واصبًا سورہ کی آیت 78 میں اسلام کو ایسا آئین بتایا گیا ہے . جس میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں ہے: وما جعل عليكم في الدين من حرج إن صفات مذکورہ میں سے ہرصفت جسم اسلام کا ایک پہلو ہے. یہ تمام پہلو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ اس لیے تتبع کے لیے ایسے ہی دین کو منتخب کرنا چاہیے اور اس کی تعلیمات کی تحصیل میں سعی کرنی چاہیئے اور اس کے تحفظ میں جان لڑا دینی چاہیئے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
2- زمین پر سیاحت میں پوشیدہ حکمتیں
2- زمین پر سیاحت میں پوشیدہ حکمتیں : قرآن مجید میں زمین پر سیاحت کا چھ مقام پر ذکر ہے اور وہ ہے سوره آل عمران ، انعام ، نحل ، نمل ، عنکبوت اور سورہ روم میں۔ ان میں ایک مقام پریعنی سورہ عنکبوت کی آیہ بیسں میں تو انسانوں کو سیاحت کا اس لیے حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ أن اسرار و رموز کا مشاہدہ کریں جو اللہ کی مخلوقات میں پنہاں ہیں۔ او ــــــــــ دیگر پانچ مقامات پر یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے تاکہ لوگ دنیا کی جابر ، ستم شعار اور عصیاں کوش اقوام کے دردناک اور بلازده انجام کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ انسانوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے قرآن میں خصوصیت سے کائنات کی محسوسات ملوسات کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو خصوصًا یہ حکم دیتا ہے کہ اپنی زندگی کے محدود دائرے سے باہر نکل کے اس وسیع دنیا کی سیروسیاحت کریں ۔ وہ دوسری قوموں کے اعمال ، اسلوب حیات اور رفتار زندگی کو دیکھیں اور اس پر بھی غور کرکے عبرت حاصل کریں کہ اقوام و ملل کی کج رفتاری اور عصیاں کوشی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ عصر حاضر میں شیطانی طاقتوں (طاقتور اقوام) نے اپنے نفع اندوزی کے دامن حرص کو پھیلانے کے لیے دنیا کی تمام اقوام ، تمام مالک اور زمین کے ہرحصے کی تحقیق کی ہے اور ان کی تہذیب وتمدان ، مادی ذرائع ، صنعت و حرفت اور عسکری صنعت و قوت غرض ہر پہلو سے تفتیش کی ہے اور پھر ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایاہے۔ قرآن یہ درس دیتا ہے کہ ان جبار اور خون آشام قوموں کے بجائے (اے مسلمانو!) تم زمین پر پھیل جاؤ اور ان کے شیطانی منصوبوں کے بجائے رحمانی درس حاصل کرو۔ دوسروں کی زندگی سے عبرت حاصل کرنا شخصی تجربے سے زیادہ اہم اور زیادہ قدر رکھتا ہے ۔ کیونکہ شخصی تجربہ تو نقصان اٹھا کرہی حاصل ہوتا ہے مگر دوسروں کی زندگی سے زبان و نقصان برداشت کیے بغیر عبرت حاصل ہوتی ہے۔ زمین پر سیاحت کے بارے میں قرآن کا حکم عین ان اصولوں کے مطابق ہے جو آج کل علمائے علم الانسان نے اختیار کیے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کتاب میں اصولی مسائل پڑھانے کے بعد طلبا کو سیاحت کے لیے سے جاتے ہیں تاکہ وہ بچشم خود مطالعہ کریں۔ البتہ آج کل ایک اور قسم کی سیاحت کا رواج ہوا ہے ۔ اس کا نام ٹورزم TOURISM رکھا ہے ۔ اس سیاحت کا ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 آفريد گار جہان - بحث آفات بلاہا۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- رواج شیطانی تہذیب کی مالک قوموں کی طرف سے کسب دولت اور ثروت حرام کمانے کے لیے ہوا ہے۔ ان کے زیادہ ترمقاصد غیراخلاقی ہوتے ہیں۔ مثلًا نازیبا و ناشائستہ ثقافت کی ترویج ، عیاشی ، ہوس رانی ، عادات کی بے لگامی اور دوسرے ناشائستہ مشاغل ۔ اس قسم کی سیاحت تباہ کن ہے. اس کے برخلاف اسلام اس قسم کی سیاحت کا حامی ہے جس کا مقصد صحت مند تہذیب کی اشاعت ، تجربات سے باہمی استفاده ، جہان انسانیت میں اسرار تخلیق کی جستجو، عالم طبیعی کی تحقیق اور فاسد و ستمگر اقوام کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کرنا ہو۔ اس مقام پر اس نکتے کا ذکر ہے محمل نہیں ہے کہ اسلام میں ایک اور قسم کی "سیاحت" اور جہاں گردی کی ممانعت ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے : لا سیاحۃ فی الاسلام اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔ ؎1 اس حدیث کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو تمام عمر یا زندگی کے ایک حصے کے لیے معاشرتی زندگی سے منقطع ہوجاتے تھے اور کوئی حاصل خیز مشغلہ اختیار نہ کرتے تھے ۔ بلکہ شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ مارے مارے پھرتے تھے ، رہبانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور معاشرے پربوجھ بنے رہتے تھے۔ بہ الفاظ دیگر یہ لوگ "را ہبان سیار" تھے۔ ان راہبوں کے بالعکس جو گرجوں میں مقیم رہ کر معاشرتی تعلقات ترک کرکے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتے تھے ، جنہیں "راہیان ثابت" کہا جاسکتا ہے ۔ مگر اسلام ایک عملی دین ہے وہ رہبانیت اور ترک دنیا کا مخالف ہے ۔ اس لیے وہ اس قسم کی سیاحت کی اجازت بھی نہیں دیتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
1- گناه و فساد کا باہمی ربط
چند اہم نکات 1- گناه و فساد کا باہمی ربط : انسان سے جو بداخلاقی یا بداعمالی بھی سرزد ہوتی ہے اس کا معاشرے کی حالت پر اور اس ذریعے سے افراد کی حالت پر اثر پڑتاہے اور بے اثر معاشرے کے اجتماعی نظام میں فساد کا باعث ہوتا ہے۔ اخلاقی گناه ، بد اعمالی اور قانون شکنی غیر صحت بخش اور مسموم غذا کی مانند ہے جس کا انسان کے نظام جسمانی پر مضراثر پڑتا ہے اور اس کے رد عمل سے کسالت صحت میں مبتلا ہوجاتا ہے. مثلًا : دروغ گوئی سے انسان کا اعتماد جاتا رہتا ہے۔ امانت میں خیانت سے معاشرتی تعلقات خراب ہوجاتے ہیں ۔ آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھانا اس سے انسان میں استبداد اور خودسری کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے جو آخر کاررنگ لاتا ہے۔ انسان اپنے فرض کو فراموش کر دیتاہے اور کمزوروں اور قریبی دوستوں کے حقوق سلب کرتا ہے۔ اس کے میں لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف کینہ اور عداوت کے جذبات ابھرتے ہیں اور جس معاشرے میں ہر طرف کینہ اور عداوت مسلط ہو اس کی بنیاد متزلزل ہوجاتی ہے۔ خلاصہ تحریر ہے کہ : ہر بدعملی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، أس کا رد عمل معاشرہ اور فرد دونوں کے حق میں مضر ہوتا ہے ۔ اسی لیے آیت " ظهرالفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس" کی ایک تفسیریہ بھی کی گئی بے ("گناہ اور فساد میں یہی فطری ربط ہے)۔ لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو مذکورہ بالا مضرتوں کے علاوہ ایسے زیاں آور اثرات کا سلسلہ بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں کہ نگاہ ظاہر میں یہ پہنچان بھی نہیں ہوسکتی کہ ان اثرات کا گناہوں سے کیا ربط ہے۔ مثلًا : روایات میں مذکور ہے کہ " قطع رحم" عمر کو کوتاہ کر دیتا ہے۔ مال حرام کھانا قلب کو سیاہ اور زنا کاری اور فحاشی کا چلن انسانوں کی فنا کا باعث ہوتا ہے اور روزی کو کم کر دیتاہے ۔ ؎1 اس سلسلے میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : من يموت بالذنوب اكثر ممن يموت بالاجال جو لوگ بسب گناہ مرتے ہیں ان کا شمار ان سے زیادہ ہے جو طبعی موت سے مرتے ہیں۔ ؎2 قران شریف میں ایک اور مقام ہے اس مضمون کو ایک اور پہلوسے بیان کیا گیا ہے : ولو ان اهل القرى أمنوا واتقوا لفتحنا عليهم بركات من السماء والارض ولكن كذبوا فاخذنا هو بما كانوا يكسبون اگر وہ لوگ جو شہروں اور آبادیوں میں بستے ہیں ایمان لاتے اور تقوی اختیارکرتے تو ہم ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی برکات کھول دیتے لیکن انھوں نے تو ہماری آیات کی تکذیب کی تو ہم نے بھی انھیں ان کے اعمال کی سزا دی۔ ( اعراف --96) زیر بحث آیت میں "کلمہ" "فساد" میں مفاسد اجتماعی ، بلائیں اور سلب برکات ، تمام چیزیں شامل ہیں ۔ اس مقام پرایک اور نکته قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زیر بحث آیت سے ضمنًا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آفات اور بلاؤں کے نزول سے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 رسول اللہ سے ایک حدیث منقول ہے کہ :- زنا کی چھ سزائیں ہیں جن میں سے تین دنیا میں ملتی ہیں اور تین آخرت میں۔ دنیاوی سزائیں یہ ہیں کہ انسان سے نورانیت سلب ہوجاتی ہے ،اسے موت جلد آجاتی ہے نیز اس کی روزی منقطع ہوجاتی ہے اور آخرت کی سزا میں سے ہیں کہ اس سے حساب میں سختی ہوگی ، اس پر خدا کا غضب نازل ہوگا اور وہ ہمیشہ سے دوزخ میں رہے گا (سفینۃ البحار مادہ زنی) ؎2 سفینۃ البحار (ماده ذنب) ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- انسانوں کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اس طرح کہ وہ جب اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں گے تو خواب غفلت سے بیدار ہوں گئے اور تقوٰی و طہارت اختیار کریں گے۔ ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ جملہ آفات و مصائب اسی قسم کے ہیں ۔ لیکن ان میں کچھ اس قسم کے فلسفے کے حامل ہے۔ البتہ ان کے دیگر پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں ہم نے متعلقہ مقام پر بحث کی ہے۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:41-45
لوگوں کے اعمال ہی سرچشمہ فساد ہیں
تفسیر لوگوں کے اعمال ہی سرچشمہ فساد ہیں : گزشتہ آیات میں شرک کا ذکر تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ مفاسد کی جڑ توحید کو فراموش کر دینا اور شرک اختیار کرنا ہے۔ اس لیے زیر نظر آیات میں اول یہ کہا گیا ہے کہ لوگوں کے اعمال کے نتیجے میں خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے۔ (ظھرالفساد في البر والبحربماكسبت أيدي الناس )۔ خدا چاہتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کا ردعمل دیکھیں اور جو کام انھوں نے کیے ہیں ان میں سے بعض کا نتیجہ چکھیں۔ (اس طرح) شاید ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کی طرف رجوع ہوں: (ليذيقھم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون)۔ یہ آیت فساد اور گناہ کے باہمی رابط کے متعلق ایک وسیع معنی کی حامل ہے۔ انسانوں کے گناہ اور بد اعمالیوں کا یہ نتیجہ نہ تو سرزمین مکہ و حجاز کے لیے مخصوص اور نہ عصر پیغمبرؐ کے لیے بلکہ منطقی اصطلاح میں " قضیہ حقیقیہ" ہے جس میں محمول کا موضوع سے رابط و تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر زمین پر جہاں بھی فساد ظاہر ہوتا ہے ، وہ لوگوں کی بداعمالیوں کا ردعمل ہوتا ہے ۔ اگر انسان غور کرے تو اس نتیجے میں بھی تربیت کا ایک پہلو ہے تاکہ لوگ اپنی بداعمالیوں کا نتیجہ دیکھ کر ہوش میں آئیں اور خدا کی طرف رجوع کریں ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت کا پس منظر وہ قحط اور خشک سالی ہے جو پانی کی بد دعا کے نتیجے میں مشرکین مکہ کو پیش آئی تھی۔ اس وقت بارش ہونا بند ہوگئی تھی ، بیابان خشک سے خشک ترہوگئے تھے یہاں تک کہ انھیں بحیره احمر میں مچھلی کا شکار بھی نہیں ملتا تھا۔ بالفرض اگر یہ واقعہ تاریخی طور پر صحیح بھی ہو، تب بھی ایک جزوی واقعہ ہے جس پر آیت صادق آتی ہے اور یہ واقعہ اس آیت کو کسی مخصوص قوم یا جماعت کے فساد و گناہ تک محدود نہیں کرتا ، نہ اس کا مصداق کسی خاص زمان و مکان تک ہے اور نہ امساک باران اور خشک سالی محدود ہے۔ اس آیت کے متعلق جو نقطہ نگاہ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس سے آشکار ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت اہل قلم نے جن محدود اور مقامی واقعات کو اس کا مصداق قرار دیا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ مثلًا یہ کہ بعض مفسرین نے زمین پر فساد ("فساد في البر) سے مراد قابیل کے ہاتھوں کا ہابیل کا قتل مراد لیا ہے اور سمندر میں فساد (فساد فی البحر) سے وہ واقعہ مراد لیا ہے جو حضرت موسٰیؑ اور خضرؑ میں ہوا کہ ایک بادشاہ نے ملاحوں کی کشتیاں ضبط کرلی تھیں۔ دیا یہ کہ بعض مفسران نے " فساد في الارض وفساد في البحر" کے معنی لکھتے ہوئے بانیان فساد کا ذکر کر دیا ہے اور ایسے نگران مراد لیے ہیں جو اپنی اغراض کے لیے زمین اور سمندر کو فساد سے بھرديتے ہیں۔ اس مقام پر یہ امکان ہے کہ اس قسم کے افراد موجب فساد ہوں ، جو دنیا پرست اور خوشامد پسند ہوں اور ان کے زور کی وجہ سے لوگ ان کی اطاعت اور فرماں برداری کی ذلت کو قبول کرلیں۔ لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ آیت کا احاطہ مصداق اتنا محدود نہیں ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے "فساد في البحر" کے معنی میں بھی اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ بحر سے مراد وہ شہر ہیں۔ جو سمندر کے کنارے واقع ہیں ۔ اور بعض کا خیال ہے کہ "بحر" سے مراد حاصل خیز پر باغ و زراعت کے علاقے ہیں ۔ ہمارے نزدیک کلمہ "بحر" کے معنی میں یہ تکلفات بلا دلیل ہیں کیونکہ اس کلمہ کے معنی مشہور ہیں۔ "بحر" سمندر کو کہتے ہیں سمندروں میں کئی طرح سے فساد رونما ہوسکتا ہے۔ اول یہ کہ سمندرسے جو فوائد پہنچتے ہیں وہ کم ہوجائیں ، دوم یہ کہ اس کے طوفان و تلاطم سے نقصان پہنچے ۔ سوم یہ کہ سمندر لڑائیاں ہوں جیسا کے آج کل جنگی بحری بیڑے لڑتے ہیں۔ آبدوزیں ہیں جو تباہی لاتی ہیں۔ جناب امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے: حیات دواب البحر بالمطرفاذاكف المطر ظهر الفساد في الجر والبروذالك اذا كثرت الذنوب والمعاصي ۔ سمندر میں رہنے والی مخلوق کی زندگی کا مدار بارش پر ہے ، جب بارش نہیں ہوتي سمندر اور خشکی دونوں میں فساد برپا ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کے گناہ کثیر ہوجاتے ہیں ۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قمی طبق نقل تفسیر المیزان ، جلد 16 ص 210 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ حدیث مذکورہ بالا میں سمندری حیوانات کی زندگی کا جو ربط نزول باراں سے بیان کیا گیا ہے وہ تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ جب بارش کم ہوتی ہے تو سمندر میں مچھلیوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے بعض ساحل نشینوں کہتے سنا ہے کہ :- سمندر کو بارش کا فائده صحرا زیاده پہنچتا ہے۔ یہ امر کہ برو بحر میں فساد رونما ہونے کا انسانوں کے گناہوں سے کیا ربط ہے ، ہمارے پاس اس کی اور توجہیات بھی ہیں ۔ جن کا ان شاءاللہ نکات کی بحث میں ذکر آئے گا۔ آیت مابعد میں زمین پر سیر کا حکم بایں مصلحت دیا گیا ہے کہ قوموں کے ارتکاب گناہ کی وجہ سے زمین پر ظہور فساد سے جو نتائج رونما ہوئے اس کے شواہد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔ اس ضمن میں پیغمبراکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو : تم زمین میں سفر کرو اور گزشتہ امتوں کے حالات کی تحقیق کرو اور ان کے اعمال اور ان کے نتائج کی تفتیش کروتو تمہیں معلوم ہوگا کہ تم سے پہلے جو قومیں ان مقامات میں آباد تھیں اور شرک و انکار مصر تھیں ان کا انجام کیا ہوا: (قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثرهم مشركين )۔ ان کے ویران شده قصر و محلات کو بہ نظر عبرت دیکھو اور دیکھو کہ انھوں نے جو خدا خزانے جمع کیے تھے وہ لٹ چکے ہیں ۔ مشاہدہ کرو کہ ان کی وہ جماعت جسے اپنی قوت اور توانائی پرناز تھا پراگندہ ہوگئی ہے اور دیکھو کہ ان کی قبر ٹوٹ پھوٹ کر ویران ہو گئی ہیں اور ان کی ہڈیاں گل سڑگئی ہیں ۔ ذرا دیکھو اور غور کرو کہ ان قوموں کے شرک اور ظلم وستم کا انجام کیا ہوا۔ جائے عبرت ہے کہ اگر وہ پرندوں کے آشیانے جلاتے تھے تو إن صیادوں کے گھر بھی کیسے برباد ہوئے ہیں۔ البتہ ان میں سے اکثر افراد مشرک تھے: (كان ا كثرهم مشرکین) اور شرک ام الفساد اور ان کی تباہی کا باعث ہوا۔ اس مقام پر یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیات ماقبل میں جہاں خدا کی نعمتوں کا ذکر تھا اس وقت ترتیب یہ تھی کہ پہلے انسان کی تخلیق کو بیان کیا ، پھر اسے روزی دینے کا ذکر کیا (الله الذي خلقكم ثم رزقكم) مگر آیات زیر نظر میں جب خدا کے عذاب و سزا کا ذکر ہو رہاہے تو پہلی تنبیہ یہ ہے کہ خدا قوموں کے گناہوں کی سزا میں پہلے تو ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے. اس کے بعد ان کے شرک کی وجہ سے انھیں بلاک اور نابود کردیتا ہے۔ یہ ترتیب بایں معنی ہے کہ نعمت الہی کی پہلی منزل تخلیق ہے۔ اس کے بعد اپنے بندوں کو روزی رسانی ہے مگر جب وه اپنی بخشش کو واپس لیتا ہے تو پہلے ان سے وہ نعمات جو وجہ حیات ہیں سلب کرلیتا ہے۔ اس کے بعد ان سرکش اور گمراہ اقوام کو بلاک کر دیتا ہے۔ اس آیت میں " اكثرهم مشركين " کہا گیا ہے۔ ان الفاظ کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور اس زمانے میں مسلمان بحیثیت تعداد و شمار اقلیت میں تھے۔ اس لیے اكثرهم مشرکین کہہ کرمسلمانوں میں اطمینان و قلب پیدا کرنا مقصود تھا کہ مشرکین کی کثرت سے ہراساں نہ ہوں ۔ کیونکہ خدا نے گزشتہ زمانوں میں ان جیسے مشرکین کی بڑی بڑی جماعتوں کو تباہ و نابود کر دیا ہے ۔ نیز ان الفاظ میں اس عہد کے اہل طغیان کے لیے تنبیہ بھی ہے کہ جاؤ زمین میں چل کر دیکھو کہ تمہاری ہم مسلک ما قبل قوموں کا کیا انجام ہوا۔ چونکہ نصیحت حاصل کرنا ، خواب غفلت سے بیدار ہونا اور پھر خدا کی طرف رجوع کرنا ہی کافی نہیں ہوتا. اس لیے آیت مابعد میں خدا پیمغبراکرمؐ کی طرف روئے سخن کرکے یہ فرماتا ہے :تم اپنا رخ مستقیم اور پائیدار دین (وہ دین جو توحید خالص کی تعلیم دیتا ہے) کی طرف کیے رہو ، اس دن کے آنے سے قبل جسے ارادہ الہی سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ خدا کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔ اس روز لوگ پراگندہ اورگرده در گردہ ہوجائیں گے۔ ایک گروہ بہشت میں اور دوسرا گروه دوزخ میں جائے گا : ( فاقم وحجك للدين القيم من قبل أن يأتي يوم لامرد له من الله يومئذ یصدعون)۔ ؎1 اس آیت میں دین کی صفت "قیم" بیان کی گئی ہے۔" قیم" کے معنی ثابت اور استوار کے ہیں۔ لہذا "فاقم وجهك للدين القيم " جملۂ تاکیدی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ آئین اسلام اہل عالم کے نظام حیات کو استوار اور ان کی مادی اور روحانی حوائج کو پورا کرنے والا ہے۔ لہذا اس سے منحرف نہ ہونا۔ نیز یہ کہ آیت کے مخاطب جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پیغمبرؐ کو یہ تاکید ہے تو دوسرے سمجھ لیں کہ پھران کی کیا حیثیت ہے۔ نیز یہ کہ آیت فوق میں کلمه "يصتعون" استعمال ہوا ہے۔ یہ فعل مضارع ہے جس کا مادہ "صدع" ہے جس کے وضعی معنی برتن کو توڑنے اور پھاڑنے کے ہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ یہ کلمہ ہر قسم کی پراگندگی اور تفرقہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اس آیت میں اس کلمہ کا مفہوم یہ ہے کہ بروز قیامت اہل بہشت اورمستحق النار لوگوں کے گروہ الگ الگ ہوجائیں گے۔ پھر ان دونوں جماعتوں کی بھی بہشت کے اور دوزخ کے درجات کے لحاظ سے درجہ بندی ہو جائے گی۔ اس کے بعد آنے والی آیت میں اس امر کی تشریح ہے کہ بروز قیامت لوگ کس طرح جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: جس نے کفر کیا اس کا نقصان کود اسی کوپہنچے گا: (من كفر فعليه كفرہ)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس آیت کے جز " لامرد له من الله " میں کلمہ "مرد" مصدر میمی ہے مگراس جگہ معنی اسم فاعل استعمال ہوا ہے اس لیے کا اس کے یہ معنی ہوں گے " لا راد له من الله" اس مقام پر ضمیر "له" کا مرجع "یوم" ہے لہذا اجمالًا جملے کا مفہوم ہے کوئی شخص بھی اگر اس دن کے برپا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یعنی خدا کو بروز قیامت کوئی بھی دادرسی اعمال کی جزا و سزا دینے سے روک نہیں سکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو خدا ہی اپنے وعدہ سے پھرنے والا ہے کہ اس روز حساب کو موقوف کردے اور نہ کسی غیر ہی میں یہ طاقت ۔ پس اس روز کا آنا حتمی ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن وہ لوگ جو اعمال صالح انجام دیتے ہیں ، وہ ان اعمال کے ذریے اجرالٰہی کو اپنے لیے مہیا کرتے ہیں: (ومن عمل صالحًا فلا نفسهم يمهدون) ۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ " يمهدون" کا مادہ "مھد" (بروزن "عہد") ہے ۔ یہ اسم ہے ، گہوارہ اور جھولے کو یا شیر خوار بچے کے سلانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ بعد ازاں اس کے معنی وسیع ہوگئے اور مھد و مھاد بر آرام دہ اور آسائش بخش جگہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی جہت سے مومنین صالح اور اہل بہشت کے لیے یہ کلمہ استعمال کیا گیا ہے۔ خلاصہ گفتگویہ ہے کہ انسان یہ گمان نہ کرے کہ اس کے ایمان و کفر یا اعمال زشت و زیبا کا خدا پر کچھ اثر ہوتا ہے۔ بلکہ وہ خود ہی اپنے اعمال صالح سے شاد و خوشنود اور اعمال سیہ غمگین ہوتا اور تکلیف اٹھاتا ہے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ جہاں کفار کا ذکر ہے، جملہ " من كفر فعليه كفرہ" پر ہی اکتفا کی گئی ہے لیکن جب اہل ایمان کا ذکر آتا ہے تو آیت ما بعد میں بالوضاحت یہ بیان ہے کہ انھیں صرف بوزن اعمال ہی جزا نہیں ملے گی بلکہ خدا نہیں ایسی نعمات کثیر عطا فرمائے گا جو اس کے فضل و کرم کے شایان شان ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اپنے فضل و کرم سے جزائے خیر دے گا: ( ليجزى الذين آمنوا وعملوالصالحات من فضله )- یہ امر مسلم ہے کہ خدا کے اس فضل سے کفارمستفید نہ ہوسکیں گے ۔ کیونکہ خدا کفارکو دوست نہیں رکھتا :(اته لا يحب الكافرين)۔ بہرکیف یہ امر بدیہی ہے کہ خدا عادل ہے اس لیے وہ کفار اور مشرکین کے ساتھ بھی عدل کے ساتھ سلوک کرےگا۔ اور انھیں اتنی ہی سزا ملے گی جتنی کے کے وہ مستحق ہیں مگر وہ خدا کے فضل اور اس کی نعمات سے محروم رہیں گے۔