۞مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
—turning to Him in penitence, and be wary of Him, and maintain the prayer, and do not be one of the polytheists
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 30:28-40
All revealed religions, through their authorized Divine Lights, were in nature Islamic, i.e. resigning to Divine Will and true in their origin having come from the Truth from God, the Almighty, following of which assured salvation. When, however, they were tampered with or misconstrued by adversaries of the Divine Lights, to serve their worldly ends, they had to be amended by subsequent Divine Lights, sent by God alone, demanding their obedience and presaged by Divine Lights of their age, from successors or preceding generations, under Divine Command, hence any obstinacy to submission on the part of the latter, on plea of their faith had identical foundational tenets, proceeding from God is inadmissible and does not admit their claim to salvation, as the following the way of Divine Lights, of latest revealed cults in religion, having over-powered all preceding religious cults guaranteeing immunity from association and leading to salvation, although it is unwelcome to them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:30-32
1- توحید انسان کی داخلی قومی قوت جاذبہ ہے
چند نکات 1- توحید انسان کی داخلی قومی قوت جاذبہ ہے : جس طرح کے دلائل عقلی و منطقی انسان کے طرز عمل کو معین کرتے ہیں اسی طرح اس کے نفس میں ایسے جذبات اور تمائلات موجود ہیں کہ جو کبھی تو شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر اس کے طرز عمل کا تعین کرتے ہیں۔ نسل انسانی کے بقا کا راز ہی یہ ہے کہ انسان مسائل حیات میں ہمیشہ ہی دلائل عقلی و منطقی سے کام نہیں لیتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے لگے تو بہت سے مقاصد زندگی معطل ہوکے رہ جائیں ۔ مثلا اگر انسان غذا کھانے یا آمیزش جنسی کے لیے طبی اور منطقی دلائل دینےلگے ۔ یعنی غذا کھانے سے " بدل ما يتحلل" ہوتاہے اور توالد و تناسل بقائے نسل انسانی کا باعث ہے، تو اس کی نوع آب سے پہلے کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی۔ لیکن جنسی جذبہ و جبلت اور غذا کھانے کی خواہش خواہ نہ خواہ اس سے یہ اعمال سرزد کراتی ہے اور یہ مقاصد حس قدر بقائے حیات فرد اور بقائے نوع کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں یہ جذبات بھی اتنے ہی زیاده قوی ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ کشش اور میلان دو قسم کا ہے۔ کبھی تو غیر شعوری ہوتا ہے۔ جیسے کہ حیوانات عقل و فکر کے بغیر ہی غذا اور جنس مخالف کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ اور کبھی یہ میلان شعوری ہوتا ہے یعنی یہ جبلت عقل وشعور سے کام لے کر اپنا عمل کرتی ہے۔ قسم اول کے جذبات کو "جبلت" اور قسم دوم کو "فطرت" کہتے ہیں ۔ خدا پرستی اور اس کی ذات کی طرف میلان قلب ہر شخص کی فطرت اصلیہ ہے۔ ممکن ہے کہ بعض حضرات ہماری اس بات کو ایسا ادعا سمجھیں جو خدا پرست لوگوں کی طرف سے تراش لیا گیاہے۔ مگر ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے نہ صرف انسان کا میلان ذات الٰہی کی طرف فطری ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذہب اپنے تمام اصولوں کے ساتھ ایک فطری امر ہے، مثلًا: (1) انسان کی پر ہنگامہ طویل تاریخ میں ہمیشہ کسی نہ کسی کا مذہبی اعتقاد اور ماورائے فطرت طاقت پرایمان ضرور رہاہے ۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فطرت انسان ہے کیونکہ اگر اعتقاد و ایمان بااللہ صرف انفرادی رجحان اور عادت ہوتا اور یہ جذبہ عمومیت نہ رکھتا اور نہ دائمی اور ہمیشگی ہوتا تو یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ یہ عارضی واقع ہے مگر اس کی عمومیت اور دوام اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے۔ بڑے بڑے مورخین کی رائے ہے کہ انھوں نے جہاں تک انسانی تارین کا کھوج لگایا ہے اور زمانہ ماقبل تاریخ کا جس حد تک انکشاف ہوا ہے ، انھوں نے انسانی معاشرے میں "لإدینیت کا بجزاستثنائی صورت کے کہیں نشان نہیں پایا۔ عصرحاضر کا مشہور مورخ ویل ڈیورنٹ کہتا ہے: اگر ہم مذہب کی یہ تعریف کریں کہ وہ "مافوق الطبيعت قوتوں کی پرستش کا نام ہے۔ تو ابتدائے بحث ہی سے یہ نکتہ لحوظ رکھنا چاہیئے کہ بعض ابتدائی اقوام کے ظاہر کوئی مذہب نہ تھا۔ اس کے بعد وہ اس قسم کی اقوام کی مثالیں دے کر لکھتا ہے کہ یہ مثالیں نادرات میں سے ہیں۔ اور یہ قدیم اعتقاد مطابق حقیقت ہے کہ:- "دین ایک ایسا مظہر ہے جو ہر انسان کی فطرت سے ابھرتاہے "۔ اس کے بعد وہ یہ اضافہ کرتا ہے کہ ایک فلاسفرکی نظر میں مذہب کے وجود کا مسئلہ ، نفسیات اور تاریخ کے بنیادی مسائل میں سے ہے . وہ اس پہلوکی طرف توجہ نہیں کرتا کہ تمام ادیان میں لغور اورخلاف عقل عقائد موجود ہیں۔ بلکہ وہ اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ جب سے تاریخ انسانی شروع ہوتی ہے، اسی وقت سے "دین" بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے اختتام کلام پر وہ اپنی گفتگو کو اس پر معنٰی سوال ختم کردیتا ہے۔ "یہ تقویٰ جسے کسی طرح بھی انسان کے دل سے محو نہیں کیا جاسکتا اس کا منبع کہاں ہے؟"۔ ؎1 یہی مورخ اپنی ایک اور تحقیق میں ( جو اس نے ادیان ماقبل تاریخ کے متعلق کی ہے) یوں لکھتابے : اگر ہم ماقبل تاریخ میں وجود مذہب کا تصور پیش نظر نہ رکھیں تو ہم اس کے وجود کو موجودہ تاریخی دور میں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ ؎2 ماقبل تاریخ انسانوں کے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائی سے جوحالات معلوم ہوتے ہیں ، ان سے بھی اس امرکی تائیدہوتی ہے، چنانچہ مشہور عالم علم معاشرت sociologist سموایل کینگ اپنی کتاب بنام " جامعہ شناسی" میں لکھتا ہے: موجودہ نسل انسانی کے اسلاف بھی یقینًا کسی مذہب کے معتقد تھے۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں ان آثار کو پیش کرتا ہے جو آثار قدیمیہ کی کھدائی سے منکشف ہوئے ہیں کہ وہ :- اپنے مردوں کو ایک مخصوص وضع سے دفن کرتے تھے اور ان کے ساتھ ایسی اشیا بھی رکھتے تھے جو ان کے عقیدے کے مطابق بروز قیامت کام آئیں۔ ؎3 بہرحال کوئی محقق بھی مذہب کو انسان کی تاریخ حیات سے جدا کرنا قبول نہیں کرتا۔ (2) آج کی دنیا کے مشاہدے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے کی بعض مستبد طاقتوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کرکے لوگوں کے دلوں سے مذہب کو محو کرتا چاہا ۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ چنانچہ ہم خوب جانتے ہیں کہ روس کی برسر اقتدار پارٹی ، ساٹھ برس سے بغیر کسی وقفے کے مسلسل پروپیگنڈے اورمعاشرے ساتھ رابطہ پیدا کرنے کے جملہ وسائل سے کام لے کر یہ کوشش کررہی ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں سے مذہبی ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تاریخ تمدن ، جلد اول صفحہ 87 تا 89 ۔ ؎2 تاریخ تمدن جلد اول صفحہ 156۔ ؎3 جامعه شناسی ، صفحہ 192 ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اعتقادات کو بالکل ختم کر دے ۔ لیکن اس آہنی پردے سے کبھی کبھی جو خریں پھوٹ نکلتی ہیں ان سے معلوم ہوتا سے کہ تمام پروپیگنڈتے اور سخت گیری کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ حالیہ دنوں میں روس کی بعض ریاستوں میں مذہبی جوش وخروش زیادہ نظر آنے لگا ہے ۔ جس نے حکومت کے حکام بالا کو حیران کردیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی روز یہ سختی اور گلوگیری ختم ہوگئی تو مذہب پھر اپنی جگہ لے لے گا ۔ یہ امر اس بات کا شاہد ہے کہ مذہب ایک فطری چیز ہے۔ (3) اس علاوہ بریں ماہرین نفسیات اور ماہرین تجزیہ نفسی PHYCHO ANALYST نے ابعاد روح انسانی FRYCHO DIMINSIMS کے بارے میں جو انکشافات کیے ہیں وہ بھی مذہب کے فطری ہونے پر شاہد ہیں۔ وہ کہتے ہیں نفس انسانی سے مختلت العاد کے متعلق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ایک جوہر قدسی یا یزدانی بھی ہے جسے جبلت مذہبی کہنا چاہیئے بعض ماہرین نفسیات اس امر کے قائل ہیں کہ انسان میں "راستی ، علم ، نیکی اور زیبائی کے جذبات کا سرچشمہ یہی جوہرقدسی ہے۔ علمائے نفسیات کا قول ہے کہ نفس انسانی میں اصولی اور اساسی محرکات حسب ذیل ہیں: 1- حس راستی : انسان میں یہ حس ہر قسم کے علوم و فنون کا سرچشمہ ہے۔ یہی انسان کو رموز کائنات کی تحقیق اور انکشاف پر امادہ کرتی ہے۔ 2- حس نیکی ETHICAL INSTINCT یہ حس انسان کو فضائل اخلاقی مثلا عدالت ، شجاعت ، قربان اور ان جیسے دیگر امور کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر انسان میں بذات خود یہ صفات نہ ہوں تو وہ ایسے فضائل کے حاملین ہیرو سمجھنے لگتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان طینت میں نیکی کا میلان موجود ہے. 3- حس زیبائی (جبلت حسن) AESTHETIC INSTINCT جلبت انسان کو فنون لطیفے ، جمالیات ، ادبیات ذوقی اور وجدانی اشواق کی طرف مائل کرتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فرد اور معاشرے کو متغیر کر دیتی ہے ۔ 4- حس مذہبی RELIGIOUS INSTINCT یعنی یہ ایمان رکھنا کہ اس کائنات کا ایک خالق اور اس کی عبادت اور حمد وثنا کرنا ۔ اس موضوع پر کوون ٹایم نے جو مقالہ سپرد قلم کیا ہے اس میں وہ لکھتا ہے : سگمنڈ فرائڈ نے انسان کے لاشعور کے متعلق جو تحقیقات شروع کی تھیں (جسے الفرڈ ایڈالر اور جنگ نے ترقی دی) اس سے علم نفسیات کے دائرہ علم میں ایسی قوتیں آئی ہیں جو انسان کے نفس کی گہرائیوں میں مستور ہیں ، جبر ادراک حقائق کرتی اور ماوراء عقل رموز کی معرفت حاصل کرتی ہیں ۔ ممکن ہے کہ ان تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوجائے کہ انسان میں " حس دینی" موجود ہے اور اس کا راز کیا ہے. ہر چند کہ ابھی اس (حس دینی) کے متعلق ماہرین نفسیات می اتفاق نہیں ہے ، تاہم اس مسئلے پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف مکاتب فکر کے علمائے نفسیات میں " حس دینی" کی اس تعریف پر متفق ہیں جو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :- "حس دینی" نفس انسانی کے فطری اورمستقل عناصر اولیہ میں سے ہے۔ یہ احساس نفس کا حقیقی اور زیبا ترین حصہ ہے۔ نفس پر جو دوسری کیفبات طاری ہوتی ہیں یہ ان میں سے کسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس احساس کا چمشہ لاشعور کی گہرائی سے پھوٹتا ہے۔ انسان کے اندر جوذوق جمال ، نیکی اور راستی کا رجحان موجود ہے اس کی علت بھی یہی احساس ہے جسے مفہوم دینی یا زیادہ صحیح الفاظ میں مفہوم مقدس کہنا چاہیئے۔ اگر ان چاروں احساسات بالا کو "مقولات اربعہ" کہا جائے تو حس دینی ہی ایک ایسا مقولہ ہے ، جس میں باقی ہرسه احساسات مع اپنی خصوصیات کے شامل ہیں۔ ؎1 تانہ گی ۔ دو ۔ کینٹین کے محققانہ مقالہ کا جو تلخیص اور ترجمہ کیا گیا ہے ، اس میں مذکور ہے: جس طرح کہ عصرحاضر کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے کہ عالم مادی میں طول ، عرض و عمق کے علاوہ ایک چوتھا بعد "زمان" یا "مکان" به جای بیان کیا جا تا ہے ؟ ا رتشا کے ابعاد تلاش سے منفرد ہوتے ہوئے ان تین ایجاد کا جامع بھی ہے۔ اسی طرح اس زمانے کے ماہرین نفسیات نے نفس انسانی میں حس جمال ، حس خیر اور حس راستی کے علاوہ ایک حس قدسی یایزدانی (کہ جسے حقیقت میں نفس انسانی کا بعد چہارم کہنا چاہیئے) کو دوباره ثابت کیا ہے۔ ؎4 نفس کا بہ یہ چہارم (یعنی حس قدسی) باقی احساسات سے مفرد ہے۔ ممکن ہے احساسات سہ گانہ اسی سے پیدا ہوۓ ہوں۔ (4) انسان کی یہ جبلت بھی کہ وہ مصائب کے طوفان میں اپنی مشکلات کے حل اور شدائد زندگی سے نجات حاصل کرنے کےلیے کسی نادیدہ اور ماورائی طاقت سے لو لگتا ہے۔ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس کے اندر ایک اندرونی جذبہ اور فطری الہام موجود ہے، جو اسے وجود خدا کا یقین دلاتا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض حضرات انسان کے اس میلان کو اس مذہبی پروپیگنڈے کا ردعمل سمجھیں جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہم عمر بھر اس سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس جذبے کے مظاہر تمام انسانوں ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی موجود ہیں جو عام طور پر مذہبی ذوق نہیں رکھتے ۔ تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ شک و اعترض غلط ہے۔بلکہ کسی ماورائی طاقت پر اعتقاد رکھنا انسان کے نفس کی گہرائی میں موجود ہے ، جو کہ کسی پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں ہے۔ (5) انسان کی زندگی میں ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں جن کی حس مذہبی کے منہاج کے سوا اور کوئی تاویل و تفسیر نہیں ہوسکتی۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مقالہ کودل ٹائم ترجمہ مندس بیانی ور کتاب ۔ حس مذہبی یا بعد چہارم روح انسانی" ؎2 ایرانی اہل قلم انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن ناموں کے املا تو اس طرح بگاڑ دیتے ہیں کہ ان کی اصلیت کا پتا چلانا دشوار کیا امر محال ہوجاتا ہے مذکورہ نام کا آخری حصہ تو KANTAIN ہے۔ اول کے دولفظوں کی تحقیق نہ ہوسکی۔ ؎3 بعد چہارم کا محقق البرٹ آئن اسٹائن ہے 1955- 1879 یہ محقق ماہرریاضیات تھا ، اس کا نظریہ ہے کہ کسی اشے کی مکان و زمان میں پوزیشن چوتھا بعد ہے۔ POSITIONN IN SPACE AND TIME ؎4 مصنف نے جملے میں کلمہ دوبارہ اس لیے اضافہ کیا ہے رہبران دین تو نفس کی اس قوت کو پہلے ہی بتا چکے تھے جیسے کہ قرآن میں ہر مقام پر خطاب "نفس" سے ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- مثلًا ـــــــ ہم ایسے انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ جو نہایت جوش کے ساتھ اپنے تمام مالی وسائل کسی مذہبی مقصد نظریے پر قربان کر دیتے ہیں ۔ ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ بے نظیر طور پر مذہب پر نثار کر دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ وہ شہداء جنہوں نے مقاصد الٰہی کو پورا کرنے کے لیے میدان جنگ میں ذوق و شوق سے شربت شہادت نوش کیا ، صرف اسلامی تاریخ ہی میں ایسے افراد کی مثالیں بکثرت نہیں پائی جاتیں بلکہ دوسری اقوام اور ملتوں کی تاریخ میں بھی کم نہیں ہیں یہ مثالیں اس حقیقت لا واضح ثبوت ہیں کہ انسان کے نفس کی گہرائی حس مذہبی موجود ہے۔ ممکن ہے کہ اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا جاۓ کہ کمیونسٹ لوگ جو اپنے الحاد اور مذہبی مخالف کو چھپاتے تک نہیں ان میں بھی اپنے معتقدات اور افکار کے لیے ایسا ہی قربانی کا جذبہ موجودہے. لیکن اگر قدسرے غور کیا جاۓ تو یہ اعتراض پاور ہوا ثابت ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ کمیومسٹ حضرات جو مذہب کی کلیتہ نفی کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مذہب اساطیر الاولین میں سے ہے اور انسان کی ابتدائی سرگزشت کی یادگار ہے ، جب کہ وہ عالم طفلی تھا۔ اس لیے کمیونسٹ معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے لاشعوری طور پر اپنے اس عقیدے کو مذہب بنا لیا ہے ۔ وہ لوگ اپنے قومی رہنماؤں کواسی نظر عقیدت سے دیکھتے ہیں جیسا کہ مصرکے بت پرست اپنے بتوں کو دیکھتے تھے۔ چنانچہ لینن کی قبر کی زیارت کے آئے دن جو اوصاف وضع کیے جاتے ہیں وہ اس کا ثبوت ہیں۔ وہ لوگ "مارکس ازم" کے اصولوں کو مثل وحی آسمانی اور نقص سے پاک اور مقدس سمجھتے ہیں ۔ وہ مارکس اور لینن کو معصومین کی طرح منزه عن الخطا تصور کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان اصولوں میں اصلاح اور تجدید نظر ناقابل معافی گناہ سمجھتے ہیں۔ بن گئی ہے اور ان کے افکار ، مراسم اور اعتقادات مذہبی رنگ اختیار کرگئے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:30-32
سوره روم / آیه 30 - 32
(30) فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ فِطْرَتَ اللّـٰهِ الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْـهَا ۚ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَـيِّـمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (31) مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُـوْنُـوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (32) مِنَ الَّـذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَـهُـمْ وَكَانُـوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَـدَيْهِـمْ فَرِحُوْنَ ترجمہ (30) تو اپنا رخ پروردگار کے خالص دین کی طرف کرے کیونکہ یہ فطرت ہے کہ جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ خدا کی آفرنیش میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوتی اور یہی محکم و استوار دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ (31) تم اسکی خدا کی طرف رجوع کیے رہو ، اس سے ڈرتے رہو ، نماز قائم کرتے رہو اور مشرکین میں سے نہ ہو جانا۔ (32) (اور نہ ان لوگوں میں سے ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ (تعجب یہ ہے کہ) ہرگروہ اسی سے (وابستہ ہے اور) خوش ہےجو کچھ اس کے پاس ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:30-32
تفسیر
تفسیر اس مقام تک ، منشاهدہ کائنات سے توحید و خدا شناسی کا سبق حاصل کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس علم مادی کے مادرا ایک ایسی ذات ہے جو مبداء علم و قدرت ہے، بہت سی باتیں ہوئی ہیں اور اس صورت میں جو آیات توحید سے متعلق آئی ہیں ان سے بھی یہی سبق حاصل کیا ہے۔ اب جو نئی آیات زیر بحث ہیں ان میں سے پہلی آیت میں اس توحید کا ذکر ہے جو عالم فطرت میں موجود ہے۔ یعنی اسی مسئلہ توحید کو مشاهدہ علم انقلاب کے بجائے مشاہدہ نفس ، مشاهدہ باطن اور کیفیت عالم وجدان کے زاویہ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا کے پاک اور خالص دین کی طرف رخ کرو ( فاقم وجهك للدين حنيفًا)۔ کیونکہ یہی وہ فطرت ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ خدا کے عمل تخلیق میں تغیر نہیں ہوتا ( فطرت الله التي فطرالناس عليهاء لاتبديل لخلق الله)۔ اور یہی محکم و استوار دین و آئین ہے (ذالك الدين القيم)۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے (ولكن اكثر الناس لا يعلمون)۔ "وجه" کے لغوی معنٰی میں "صورت" مگر یہاں صورت ظاہری نہیں بلکہ صورت باطنی اور "روئی دل" مراد ہے۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ تم دین کی طرف اپنا منہ کرلو بلکہ قلبی توجہ مطلوب ہے. توجه قلبی کو بطور استمارة "وجه" کہاگیا ہے کیونکہ یہ جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔ "اقم" کا مادہ "اقامه" ہے جس کے معنی میں صاف اور مستقیم کرنا اور کھڑا کرنا۔ "حنيف " کا ماده "حنف" ہے جس کے معنی میں "باطل سے حق کی طرف میلان" یا "کجی سے راستی کی طرف" اس کی ضد "جنف" ہے یعنی راستی سے گمراہی کی طرف میلان - "دین حنیف" وہ دین ہے جو تمام انحرافات ، خرافات ، کجی اورگم راہیوں سے جدا ہوا اور ریاستی اور درستی کی طرف مائل ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ اپنی توجه دائمًا اس دین کی طرف رکھو جو ہر قسم کی کجی اور ناراستی سے پاک ہے وہی آئین اسلام اور وہی خدا کا پاک اور خالص آئین ۔ ؎1 اس آیت میں بطور تاکید یہ سمجھایا گیا ہے کہ "دین حنيف " جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے، وہ دین ہے جو خدانے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "الدین" میں الف و لام عمد کے معنی دیتا ہے. یعنی وبی دین و آئین جس کی تبلیغ پر پیمبراسلام مامور تھے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ تمام بنی نوع انسان کی سرشت میں ودیعت کیا ہے اور فطرت انسان جاودانی اور تغیرناپذیر ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس آیت میں اور بھی چند حقائق ہیں: 1- صرف خداشناسی ہی نہیں بلکہ دین و آئین بطور کلی تمام جہات سے ایک امر فطری ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے کیونکہ جب ہم حقیقت توحید پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امور تکوینی اور امور تشریعی کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیئے مراد یہ ہے کہ احکام شریعت فطرت انسانی کے مطابق ہوں اور انسان کی فطرت سے بھی شریعت کے قوانین کی تائید ہوتی ہو۔ اس مطالب کو بالفاظ دیگر یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ "تکوین"-( فطرت انسانی) اور "تنشریع"(امور شرعی) دونوں قوی بازوؤں کی مانند ہیں ، جو اعمال انسانی میں ہم آہنگی کے ساتھ شامل رہتے ہیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی امر شریعت ایسا ہو جو فطرت انسان کے خلاف ہو۔ بخلاف اس کے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ انسان کی فطرت سلیم میں کوئی میلان ہو اورسریعت اس کی مخالفت کرے۔ اس میں شک نہیں کہ "شریعت" فطرت انسان کی عناں گیر رہتی ہے اور اسے محنرف راستوں سے روکنے کے لیے اس پر حدود و قیود اور شرائط عائد کرتی رہتی ہے ۔ مگر سلامت رو فطری خواہشات کی ہرگز مخالفت نہیں کرتی بلکہ انہیں مشروع طریقوں سے پورا کرنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اگرایسا نہ ہوتو "تکوین " اور " تشریع" میں تضاد پیدا ہوجائے ، جو اساس توحید سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہنا چاہیئے کہ خدا ایسے کام نہیں کرتا جو ایک دوسرے کے ضد و نقیض ہوں ۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کا فرمان تکوینی تو یہ ہو کہ یہ کام کر اور فرمان تشریعی میں ہو کہ نہ کر ۔ 2- دین اپنی خالص اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک صورت میں انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے۔ انسان کا راہ مستقیم سے منحرف ہونا ایک عارضی امر ہے۔ اس بنا پر پیمبروں کا فرض یہ ہے کہ وہ انسان کو ان عارضی الخرافات سے روک دیں اور ان کی اصلی فطرت کو اظہار کا موقع فراہم کریں۔ 3- نیز جمله "لاتبديل لخلق الله" اور اس کے بعد جملہ " ذالك الدين القيم" مذہب اور دین کے فطری ہونے اور فطرت الٰہی کے عدم امکان تغیر پر تاکید ہے ۔ ہرچند کہ بہت سے لوگ کافی استعداد نہ ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازم ہے کہ کلمہ " فطرت" کا مادہ " فطر" ( بروزن بزر) ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے طول سے چیرنا۔ یہ کلمہ مجازی طور پر بمعنی خلقت استعمال ہوتا ہے۔ گویا کہ موجودات عالم کی آفرنیش کے وقت پرده عدم شگافتہ ہوا اور مخلوقات ظاہر ہوگئیں۔ بہرحال جب انسان روز اول عالم ہستی میں قدم رکھتا ہے تو اسی دن سے یہ نورالٰہی اس کے دل میں چمکنے لگتا ہے ہم نے جو کچھ سطور بالا میں کہا ہے اس کی وہ متعدد روایات تائید کرتی ہیں جو اس آیت کی تفسیر میں مذکور بوئی ہیں۔ ہم ان کا اس وقت ذکر کریں گے جب اس آیت کے نکات لکھیں گے ۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ "توحید" ایک فطری شے ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں یہ اضافہ ہے کہ دین حنیف یعنی خالص و قطری دین کی بات تمہاری توجہ اس حال میں ہے کہ تم خدا کی طرف لوٹوگے ( ميبين اليه)۔ تمہارے وجود کی اصل و اساس توحید پر ہے اور آخر کار تم اسی بنیاد کی طرف لوٹ جاؤ گے ۔ کلمه "منيبين " کا مادہ "انابه " ہے جس کے وضعی معنی ہیں "پھر لوٹ آنا" - اس مقام پر اس لفظ کا ،فہوم ہے "خدا کی طرف لوٹ آنا" یا " توحید کی فطرت کی طرف لوٹ آنا" یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہونے کا امکان ہے جو انسان کو عقیدہ و عمل کے لحاظ سے مرکز توحید سے منحرف کر دیں ۔ اس حالت میں انسان کو خدا کی طرف لوٹناچاہیئے اور جتنی مرتبہ بھی اس عمل کی تکرار ہوگی، فطرت توحید محکم و استوار ہوتی جائے گی اور اسباب انحراف کمزور اور ضعیف ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے انسان کا عقیدہ توحید کم ہوجائے گا اور وہ "فأقم وجھك للدين حنيفًا" کا مصداق ہوجائے گا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ "اقم و جھك" میں صیغہ واحد ہے اور " منيبين " میں صیغہ جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلا حکم اگرچہ مفرد صورت میں ہے اور اس کے مخاطب جناب رسالت مآبؐ ہیں ۔ لیکن حقیقت میں اس سے تمام مسلمان اور مومنین مراد ہیں۔ "انابت " اور "بازگشت" کے ذکر کے بعد "تقویٰ " کا حکم ہے کہ جو تمام اوامر و نواہی کا جامع ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے : خدا سے پرہیز کرو (وتقوه ) یعنی اس کے احکام کی مخالفت سے پرہیز کرو۔ اس کے بعد تمام اوامر میں سے سب سے زیادہ زور اور تاکید نماز پر ہے۔ فرمایا گیا ہے ، نمازقائم کرو ( واقيموا الصلوة )- کیونکہ نماز ہرجہت سے شرک کے ساتھ مبارزۃ کا بہترین لائحہ عمل ہے اور عقیدہ توحید اور ایمان باللہ کومستحکم کرنے کا بہترین وسیلہ ہے ۔ اس لیے ذکر صلوة کے بعد بھی شرک کے بارے میں فرمایا گیا ہے : مشرکین میں سے مت ہوجانا ( ولا تكونوا من المشركين) ۔ کیونکہ "شرک" عظیم ترین گناہ اور اکبر کبائر ہے۔ ممکن ہے روز حساب خدا برقسم کے گناہوں کوبخش دے مگر وہ گناہ مشرک کو کبھی نہ بخشے گا جیسا کہ سورہ نساء کی آیت 48 میں مذکور ہے : ان الله لا يغفرأن يشرك به ويغفر مادون ذلك لمن يشاء خدا گنام شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا ،لیکن اگر وہ چاہے گا تو اس سے کمتر گناہوں کو بخش دے گا۔ یہ واضح ہے کہ اس آیت میں چار احکام آئے ہیں (یعنی تو و بازگشت بسوی خدا ، تقویٰ ، اقامت نماز اور پرہیز از مشرک) یہ سب مسئلہ توحید اور اس کے آثار عملی پر تاکید کے لیے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں علامات ونتائج شرک میں سے ایک کو نہایت مختصر اور پر معنی عبارت میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تم مشرکین میں سے نہ ہو جانا ۔ وہی لوگ جنہوں نے اپنے دین کو پارہ پارہ کرلیا ہے اور مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوگئے ہیں: (من الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعًا) ۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ ان فرقوں میں باہم جو تضاد و اختلاف ہے ، اس کے باوجود ہر گروہ اپنے عقاید اور مسلمات سے خوش ہے : (كل حزب بمالدیھم فرحون) - یہ مسلم ہے کہ علامات شرک میں سے ایک پراگندگی اور باہمی تفرقہ بھی ہے کیونکہ مختلف معبودوں کی پرستش سے متفاوت عقاید اور منشتر روش فکر پیدا ہوتی ہے اور یہ چیزیں باہمی تفرقہ اور پراگندگی کا موجب ہوجاتی ہیں ۔ شرک کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہوائے نفس ، تعصب ، کبر ،خودخواہی اور خود پسندی اس کے سایہ بسایہ رہتی ہے۔ اس لیے کسی قوم میں اتحاد و حدت صرف خدا پرستی ، تواضع و ایثار اور عقلی روش ہی کے تحت باقی رہ سکتی ہے۔ منطق استخراجی کے اصول سے ہمیں جہاں بھی اختلاف اور پراگندگی نظر آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں کسی نہ کسی قسم کا شرک ضرور موجود ہے۔ اخذ نتائج کے اعتبار سے اس مضمون کو بصورت تکرار یوں کہا جاسکتا ہے کہ شرک کا نتیجہ کسی قوم میں تفرقہ تضاد زہنی توانائیوں کا ضیاع اور آخرکار اس قوم کا ضعف و ناتوانی اور تباہی ہے ۔ لیکن یہ کہ مشرکین اور منحرفین راه راست میں سے ہر گروہ نے اپنے لیے جو راه انتخاب کرلی وہ اسی کو حق سمجھتا ہے اور اور اسی سے خوش ہے۔ ان کی یہ روش کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے ۔ کیونکہ ہوا و ہوس انسان کی دلی خواہشات کو اس کی نظر میں مزین کر کے جلوہ گر کرتی ہے اور خواہشات کی اس جلوہ آرائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس طریق حیات سے جو اس نے اختیار کرلی ہے زیادہ دل بستگی اور راحت قلب محسوس ہونے لگتی ہے۔ خواہ وہ راہ عمل قطعی گمراہی ہی کیوں نہ ہو۔ جب انسان کی چشم بصیرت پر خواہشات نفس کا پردہ پڑجاتا ہے تو وہ چہرہ حقیقت کو اس کی اصل شکل میں نہیں دیکھ سکتا اور حب و بغض سے غیر جانبداری ہو کر کر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سورة فاطر آیت 8 میں یوں مذکور ہے : افمن زين له سوء عمله فراه حسنًا وہ شخص جس کی نظر میں اس کے اعمال قبیح مزین ہوگئے ہیں اور وہ اسے حسیں نظر آتے ہیں ، کیا وہ اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں قدم اٹھاتا ہے اور حقائق کو اصل سورت میں بے نقاب دیکھتا ہے؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:30-32
2- احادیث اسلامی میں فطرت خداشناسی کا ذکر
2- احادیث اسلامی میں فطرت خداشناسی کا ذکر : صرف قرآن ہی میں نہیں بلکہ احادیث اسلامی میں بھی "معرفت الٰہی" اور توحید کے ایک امر فطری ہونے کے بارے میں خوب بحث کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض احادیث میں "فطرت توحیدی" اور بعض میں عنوان "معرفت" کے تحت ، بعض میں " فطرت اسلامی" یہاں تک کہ بعض میں اس جذبے کو "ولایت " کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ محدث بزرگوار جناب کلینی نے " اصول کافی" میں ہشام ابن سالم کے واسطے سے ایک نہایت معتبر حدیث نقل کی ہے ۔ ہشام کا قول ہے کہ اس نے امام جعفرصادقؑ سے دریافت کیا کہ:- :-"فطرت اللہ الٰتی فطرالناس علیھا" میں فطرت سے کیا مراد ہے ؟ آپؐ فرمایا کہ "توحید" مراد ہے ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎ 1 اصول کافی جلد 2 صفحہ 10 (باب فطرة الخلق على التوحيد)۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ نیز اسی کتاب "کافی" میں امام جعفر صادق کے ایک صحابی سے ایک اور حدیث منقول ہے کہ اس صحابی نے جب آیت مذکور کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ " فطرت" سے مراد " اسلام" ہے۔ ؎1 امام باقر علیہ السلام سے ایک اور حدیث اسی کے مشابہ منقول ہے کہ آپؑ کے ایک صاحب علم صحابی زرارہ نے جب اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ:- قطرهم على المعرفة به خدا نے فطرت انسانی میں اپنی معرفت و شناخت کا جذبہ رکھا ہے۔ ؎2 جناب رسالت مآب صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث منقول ہے جو مشہور ہے : كل مولود يولد على الفطرة الاسلام حتى لیكون ابواہ هما اللذان يهودانه وینصرانه ہربچہ نوزاد فطرت اسلام اور شرک سے خالی دین پر پیدا ہوتا ہے.بعد میں اس کے ماں باپ اس پر یہودیت یا نصرانیت سے انحرافی عقائد کا رنگ چڑھا دیتے ہیں ۔ ؎3 اصول کافی میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث اسی آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپؑ سے جب آیت مذکور تفسیردریافت کی گئی تو جواب میں فرمایا کہ "فطرت" سے مراد ولایت اور اولیائے الٰہی کی رہبری کو قبول کرنا ہے ۔ ؎4 امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں (جو کہ نہج البلاغہ میں مندرج ہے) مختصر مگر بلیغ الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا ہے: فبعث فیهم رسله و واتراليهم انبيائه لیستا دوھم میثاق فطرته ويذكروهم مسنی نعمته ويحتجواعليهم بالتبلیغ ویثیرو الھم دفائن العقول خدا نے انسانوں کی طرف اپنے رسول بھیجے اور یکے بعد دیگرے انبیا کومامور کیا تاکہ وہ ان سے پیمان فطرت کے ایفا کا مطالبہ کریں اور انھیں خدا کی وہ نعمتیں یاد دلائیں جھنیں وہ بھول گئے ہیں اور بذریعہ تبلیغ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کے لیے عقل کے خزانوں کو فاش کر دیں۔ مذکورہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سرشت انسانی میں صرف "معرفت الٰہی" ہی نہیں بلکہ کل اسلام بصورت ایجازودیعت ان کیا گیا ہے۔ جس میں توحید سے لے کر پیشوایان الٰہی کی رہنمائی ، پیغمبر کے سپچے جانشین یہاں تک کہ فروعات دین سب کو شامل ہے ۔ نہج البلاغہ سے جناب امیر المومنین کا جو قول سطور بالا میں نقل کیا گیا ہے، اس کی اساس پر پیغمبروں کا فرض فطرت انسانی کی گره کشائی خدا کی فراموش کردہ نعمتوں کو یاد دلانا ، انسان کی فطرت توحیدی کو بیدار کرنا اور نفس انسانی کے لاشعور میں معرفت الٰہی کے جو خزینے مخفی ومستور ہیں ، انھیں واشگاف کرکے حالت شعو لانا ہے۔ یہ نکته مستحق توجہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں انسان کو جو مشکلات ، تکالیف اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں ، قرآن شریف ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 ، ؎ 2 کافی ص 10 ۔ ؎3 تفسیر جمع الجواسع از مرحوم طبرسی ذیل آیت مورد بحث - ؎ 4 تفسير نورالثقلين ، جلد 4 صفحہ 184 - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- میں ان امور کا اس پہلو سے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے اندر حس مذہبی کو بیدار کرنے کے وسائل ہیں ۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلمانجاهم إلى البراذا هم يشركون جس وقت وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سمندر میں خطرات میں گھر جاتے ہیں تو بڑے خلوص خدا کو پکارتے ہیں۔ مگر جب انھیں خدا سلامتی کے ساتھ خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو وہ پھر مشرک ہوجاتے ہیں۔ (جو کہ سورہ عنکوبت -65) اس مضمون کے متعلق اسی سورۃ کی (جو کہ سورہ عنکبوت سے مشابہ ہے) آیات مابعد کی تفسیر کرتے ہوئے اور باتوں کا بھی ذکر کیا جائے گا۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:31
[Pooya/Ali Commentary 30:31]