قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ
Say, ‘O People of the Book! Why do you deny the signs of Allah, while Allah is witness to what you do?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:98
[Pooya/Ali Commentary 3:98] The address is to the Jews and the Christians who, in spite of their knowledge about the truthfulness of the mission of the Holy Prophet, foretold in their books (see Baqarah: 40) disbelieved in the signs of Allah. Allah is the everliving and ever-present witness of all human actions, passions and motives. If not His love, then the consciousness of His omniscience should prompt man to believe in the truth of His signs. Aqa Mahdi Puya says: Whenever the Quran addresses the people of the book to reproach them for their mischievous deviation from the right path, shown by all the scriptures, it should not be confined to those Jews and Christians who opposed Islam and the Holy Prophet in his time, but as Imam Jafar al Sadiq has pointed out, it includes all the people of the book in post-Islamic era and also all those who claim their religions to be divinely revealed, in all ages, till the day of resurrection. The holy Ahl ul Bayt have said that the pagans of Arabia and the trans-caspian sea are excluded from the "people of the book", as their doctrines were not based upon the revealed word of Allah. At all events the Muslims are not kept out from the application of the censure wherever notified in the Quran. There are instances of mischievous deviation from the right path, denial of the divine signs, creation of obstacles in the path of Allah, and attempts to twist the words of Allah and His Holy Prophet to serve selfish ends, which gave rise to sectarianism in the early stages. The Holy Prophet has said: You will go back to infidelity after me when discord and strife, among you, will divide you.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:98-101
انہیں اپنے درمیان رخنہ اندازی کرنے کی اجازت
یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تُطِیعُوا فَرِیقًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ کَافِرِینَ ۔ اس کے بعد روئے سخن غافل مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے ان کو متبنہ کیا گیا کہ اگر وہ دشمن کی زہر آلود باتوں میں آگئے ، انہیں اپنے درمیان رخنہ اندازی کرنے کی اجازت دی اور ان کے وسوسوں سے متاثر ہوئے تو بعید نہیں کہ ان سے ایمان کا رشتہ ختم ہو جائے اور وہ کفر کی طرف پلٹ جائیں ۔ کیونکہ دشمن اول تو یہ کوشش کرتا ہے کہ ان کے درمیان دشمنی و عدالت کی آگ بھڑکائے اور انہیں ایک دوسرے سے لڑوادے۔لیکن یہ مسلم ہے کہ وہ صرف اسی پر اکتفانہیں کرتا بلکہ وہ اپنے وسوسوں کو جاری و ساری رکھتا ہے تاکہ انہیں اسلام سے مکمل طور پر بیگانہ کردے ۔ گذشتہ بیان سے عیاں ہو تا ہے کہ مذکورہ آیت میں کفرکی طرف پلٹ جانے سے مراد ” حقیقی کفر اور اسلام سے مطلق بیگانگی“ ہے اور ممکن ہے کہ کفر سے مراد زمانہ جاہلیت کی دشمنیاں اور عداوتیں ہوں جو کفر کا حصہ ہیں ۔ کیونکہ ایمان محبت اور اخوت کا سر چشمہ ہے اور کفر پراگندگیاور عداوت کامنبع ہے- و کیف تفکرون و انتم تتلیٰ علیکم اٰیات اللہ و فیکم رسولہ اس کے بعد مومنین سے ایک تعجب خیز سوال ہو تا ہے کہ کس طرح ممکن ہے کہ تم کفر کی راہ اختیار کرو حالانکہ پیغمبر بھی تمہارے درمیان موجود ہیں اور آیات خدا کی بھی مسلسل تلاوت ہوتی ہے اور باران ِ وحی کے حیات بخش قطرات تمہارے دلوں پر پڑتے ہیں ۔ حقیقت میں یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ گمراہ ہوں تو زیادہ تعجب نہیں ۔ باعث تعجب تو یہ ہے کہ جو افراد پیغمبر کی صحبت میں بیٹھتے ہیں اور ہمیشہ عالم وحی سے ان کا تعلق رہتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ گمراہ ہو جائیں اور اگر ایسے لوگ گمراہ ہو ں تو یہ خود ہی کوتا ہی کرنے والے ہیں اور اس کا عذاب بہت درد ناک ہوگا۔ ان آیات کے آخر میں مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے وسوسوں سے چھٹکارہ حاصل کریں اور صراطِ مستقیم کی ہدایت کے لئے پروردگار عالم کا دامن تھام لیں اور اس کی پاک ذات اور قرآن مجید کی مقدس آیات سے تمسک رکھیں اور انہیں صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ جو شخص خدا سے تمسک رکھے اسے راہ راست کی ہدایت حاصل ہوجائے گی۔ یہ آیات کئی لطیف نکات سے معمور ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ پہلی آیات جہاں روئے سخن یہودیوں کی طرف ہے میں بالواسطہ خطاب کیا گیا ہے کیونکہ پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان سے کہیں ، جس پر لفظ” قل “ ( کہہ دو ) دلالت کرتا ہے لیکن آخری دو آیات جہاں خطاب مومنین سے ہے ، میں خطاب بلا واسطہ ہے اسی وجہ سے اس کی ابتداء لفظ قل سے نہیں کی گئی اور اس سے صاحبِ ایمان لوگوں پر خدا کا لطف و کرم ظاہر ہوتا ہے ۔ ۱۰۲۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَتَمُوتُنَّ إِلاَّ وَاٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔ ۱۰۳۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اٴَعْدَاءً فَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاٴَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلَی شَفَا حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ فَاٴَنْقَذَکُمْ مِنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ۔ ص۴۰ نہیں لکھا گیاہے .........................