إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
Indeed the first house to be set up for mankind is the one at Bakkah, blessed and a guidance for all nations.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:96
[Pooya/Ali Commentary 3:96] See commentary of al Ahzab: 33 for the first house (awwala baytin). Also refer to Baqrah: 125, 127 and al Hajj: 29, 33. Bakka is a variant for Makka, either derived from tabakk i.e. press one another in a crowd, or bakk i.e. break one's neck, because whenever it was attacked by an invader his neck had been broken-defeated and crushed. Another version is that Bakka means the holy house of Kabah, a guidance unto the worlds. Mubarakan means rich in blessings; abounding in good. Aqa Mahdi Puya says: The great antiquity of this house is undisputed. It had been throughout the ages, even before Ibrahim, the object of the greatest veneration It is reported on the authority of the Ahl ul Bayt that the valley of Makka was the first part of the earth which emerged above the surface of the water and cooled down when the heavens and the earth (an integrated mass) were split by Allah's command (Anbiya: 30, 31), in support of which there are a number of geological evidences. Many a non-Muslim scholar agrees that this holy place, dedicated to the worship of the Lord of the lords, was not only known to the people of Semitic origin but also to the ancient inhabitants of India according to the references available in pre-Sanskrit literature. Ibrahim's prayer in Ibrahim : 37 confirms its antiquity. In Baqarah: 125 and 129, it is implied that Allah commanded Ibrahim to renew its foundations, purify it and establish it as a place of worship of the almighty Lord, and settle down there along with his family. The family of Ismail was chosen as the first human family to inhabit this land with the sole purpose of dedicating themselves wholly to the worship and the service of the Lord of the worlds. The family of Ismail was the first to be called "the people of the house" (Ahl ul Bayt), then Is-haq and his mother (Hud: 73) and after that Musa and his mother (Qasas: 12) were referred to as Ahl ul Bayt. The term Ahl ul Bayt has been used for the descendants of Ibrahim (the lineage of Ibrahim through Is-haq was cut off after Isa). Actually al-bayt (the house) refers to the house of Allah, and the descendants of Isma-il have been referred to as Ahl ul Bayt because they had devoted themselves, without any deviation, gap or drift, to the service of Allah and His house. They were the founders and the protectors of the house of Allah, and it is to their lineage references have been made in verses 36 and 37 of al Nur. The place they founded and established for the remembrance of Allah has been described as a blessed, sacred sanctuary, and a guidance unto the worlds, because they devoted their lives to its service and attracted mankind to its ultimate purpose through their ideal virtues and righteousness. The house and the people of the house are inseparable. Their house, wherever it may be, is the house of Allah. As they cannot be separated from the Quran (hadith al thaqalayn) the house of Allah can never be without their presence. The house is a guidance if the people of the house are identified and kept in view. The house is a sanctuary and a blessing if one enters it by the permission and pleasure of the Ahl ul Bayt, described as safinatul Nuh.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:96-97
خانہ کعبہ کی خوصوصیات
ان دو آیات میں پہلی عبادت گاہ ہونے کے علاوہ خانہ کعبہ کی چار اور خصوصیات بیان ہوئی ہیں : مبارکاً مبارک کا معنی بابر کت اورفائدہ مند ہے ۔ کعبہ اس لحاظ سے مبارک ہے کہ وہ مادی اور روحانی دونوں طرح سے بہت ہی بر کت والی زمین پر واقع ہے ۔ اس مقدس سر زمین کی رو حانی بر کتیں ،خدا نی جذبات حرکت و جنبش اور خصوصاً حج کے موقع پر وحدت و اتحاد کی فضا کے آثار کسی سے پوشیدہ نہیں اور اگر صرف حج کی ظاہری رسومات اور شکل و صورت کے پہلو پر اکتفاء نہ کی جائے بلکہ اس کی روح اور فلسفہ زندہ ہو تو اس کی حقیقی برکت مزید واضح اور روشن ہو گی ۔ اگر چہ یہ سر زمین مادی لحاظ سے خشک اور بے آب و گیاہ ہے اور طبعی طور پر وہ کسی طرح بھی کوائف زندگی سے مناسبت نہیں رکھتی پھر بھی طویل عرصے سے یہ ایک آباد اور متحرک شہر رہا ہے ۔ خصوصاً تجارت کے لئے شروع سے اس کی مرکزیت قائم ہے ۔ ھدی للعالمین کعبہ عالمین کے لئے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے اور لوگ دور افتادہ علاقوں سے خشکی کے اور در یائی راستوں کے روندتے ہوئے اس عظیم عبادت گاہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور شان و شوکت سے ان مراسم حج میں شریک ہوتے ہیں جو حضرت ابراہیم (ع) کے زمانے سے مروّج ہیں ۔ حتی کے زمانہ جاہلیت کے عرب بھی خانہ کعبہ کا احترام کرتے تھے اور مراسم حج کو دین ابراہیم (ع) سمجھ کر بجالاتے تھے اگر چہ اس میں انہوں نے اپنی کچھ خرافات بھی کرلی تھیں اور اپنے ان ناقص مراسم کے با وجود کافی حد تک اپنے غلط کاموں سے وقتی طور پر ہاتھ کھینچ لیتے تھے ۔ اس طرح سب لوگ حتی بت پرست بھی اس عظیم گھر کی ہدیات سے بہرہ ور ہوتے تھے ۔ اس مقدس گھر کی روحانی اور معنوی کشش سب کو مجبوراً متاٴثر کرلیتی ہے ۔ فِیہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاہِیمَ اس گھر میں خدا ہرستی ۔ توحید اور روحانیت و معنویت کی واضح نشانیاں نظر آتی ہیں ان میں ایک اس کا دوام اور بقا ء ہے ان طاقتور دشمنوں کے مقابلہ میں جو اس کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ دوسری نشانی حضرت ابراہیم (ع) جیسے عظیم المرتبت پیغمبر کے وہ آثارہیں جو اس کے قرب و جوار میں باقی رہ گئے ہیں ۔ مثال کے طور پر زمزم ، صفا و مروہ ، رکن(کعبہ کے چاروں کونوں کو رکن کہتے ہیں )، حطیم ( حجر اسود اور خانہ کعبہ کے در وازے کے درمیان کی جگہ کو حطیم کہتے ہیں ، حطیم اس لئے کہتے ہیں کہ یہاں اژدہام بہت ہوتا ہے اور یہ حضرت آدم (ع) کی توبہ کی جگہ بھی ہے )،حجر اسود اور حجر اسماعیل ( حجر اسماعیل ایک محصوص جگہ ہے جو شمال مغرب میں قوس کی شکل میں ہے ۔)، ان میں سے ہر ایک گذشتہ زمانوں کی ایک مجسم تاریخ ہے جو ان کی عظیم اور دائمی یادوں کو زندہ رکھتی ہے ۔ ان نشانیوں میں سے ایک مقام ابراہیم (ع)کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ایسی جگہ جہاں حضرت ابراہیم (ع) کی تعمیرکعبہ اور مراسم حج کی انجام دہی یا عام لوگوں کو ان عظیم مراسم کے پورا ہونے کی دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ۔ بہر حا ل یہ ان اہم ترین قدیم نشانیوں میں سے ہے جو بے نظیر قربانیوں کی یادوں اور ان کے اخلاص و جامعیت کو زندہ کرتی ہےں ۔ مقام ابراہیم سے مراد خاص وہی جگہ ہے جہاں اس وقت وہ مخصوص پتھر ہے جس میں حضرت ابراہیم (ع) کے قدم کا نقش ِ مبارک ہے یا اس سے تمام حرم مکہ مراد ہے اور یا تمام موا قف حج ہیں ۔ اس سلسلہ میں مفسرین حضرات کے نظرات مختلف ہیں ۔ لیکن اصول کافی میں امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت منقول ہے جو پہلے احتمال کی تائید کرتی ہے ۔ ومن دخلہ کان امن- حضرت ابراہیم (ع) نے تعمیر کعبہ کے بعد شہر مکہ کے لئے جائے امن ہونے کی خدا وند عالم سے در خواست کی تھی اور یہ دعا مانگی تھی: خدا یا !اس زمین کو جائے امن و امان قرار دے( براہیم ْ ۳۵) خدا وند عالم نے حضرت ابراہیم (ع) کی دعا کو مستجاب کیا اور اسے ایک مرکز ِ امن قرار دیا ۔ یہ جگہ روح کے آرام و اطمنان اور ان لوگوںکے امن و امان کا سبب ہے جو وہاں آتے ہیں اور اس سے روحانی تقویت حاصل کرتے ہیں اور مذہبی قوانین کے لحاظ سے اس کی امنیت اس طرح محّرم شمار ہوتی ہے کہ وہاں ہر قسم کی جنگ و جدال اور مقابلہ و مبارزہ ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ بالخصوص اسلامی نقطہٴ نظر سے کعبہ ایک جائے امن اور پناہ گاہ کے حوالہ سے پہچانا جاتا ہے یہاں تک حکم ہے کہ اس خطہٴ ارض میں رہنے والے جانور بھی امن امان میں ہونے چاہئیں اور کسی کو ان سے سروکار نہیں ہونا چاہئیے اور جو انسان اس میں جاکر پناہ گاہ حاصل کریں وہ بھی امن و امان میں ہیں ۔ حتی کہ قاتل اور جارح ہی کیوں نہ ہوں ان سے بھی یہاں تعرض نہیں کیا جاسکتا ، مگر خانہ کعبہ کے احترام سے غلط فائدہ نہ اٹھا یا جائے اور مظلوم لوگوں کے حقوق پامال نہ ہوں ۔ اگر مجرم افراد وہاں جاکر پناہ لیں تو حکم یہ دیا گیا ہے کہ ان پر کھانے پینے میں سختی کی جائے تاکہ وہ مجبور ہو کر وہاں سے باہر نکلیں ااور انہیں حدود حرم سے باہر کیفر کردار تک پہنچا یا جائے۔ وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا اس جملے میں تمام لوگو ں کو حج کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اور اسے لوگوں کے ذمہ خدا ئی قرض قرار دیا گیا ہے ، چنانچہ وَلِلَّہِ عَلَی النَّاس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لئے لوگوں کے ذمہ ہے ۔ لفظ ”حج“کے لغوی معنی ”قصد و ارادہ “ہیں اسی مناسبت سے کو ” محجة “ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ انسان کو اپنے مقصد تک پہنچا دیتا ہے اور دلیل و بر ہان کو حجت اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ مقصود کو روشن کردیتی ہے ۔ باقی یہ بات کہ ان مخصوص رسومات کو حج سے کیوں تعبیر کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں مراسم میں شرکت کے لئے چلتے وقت خانہ خدا کی زیارت کا قصدکیا جاتاس ہے ۔ اسی بناء پر آیتِ مذکورہ میں حج کی اضافت بیت کی طرف ہے ۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی اس بات کی طرف اشاہ کی اگیا ہے کہ حج کے مراسم پہلی دفعہ حضرت ابراہیم (ع) کے دور میں رائج ہوئے اور اس کے بعد ایک سنت کی شکل اختیار کی ۔ یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کا سلسلہ جاری و ساری رہا ۔ بعد ازاں اسلام نے اس سے جاہلیت کے خرافات کو دور کرکے اسے خالص اور مکمل حج کی شکل دی۔ ۱# البتہ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ اور دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے ہے کہ فریضہٴ حج حضرت آدم (ع) کے زمانے سے شروع ہوا تھا لیکن اس نے حضرت ابراہیم (ع) کے زمانے میں مزید دستوری شکل اختیار کی ہے ۔ ہر وہ شخص جو استطاعت حاصل کرلیتا ہے اس پر زند گی بھر میں صرف ایک مرتبہ حج واجب ہوتا ہے اور مندرجہ بالا آیت بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اس میں حکم مطلق ہے اور اس سے ایک دفعہ کی انجام دہی سے اطاعت ہوجاتی ہے ۔ حج کے وجوب کے لئے صرف ایک شرط لگائی گئی ہے اور وہ ہے استطاعت و قدرت ۔ جیسا کہ اشارہ ہورہا ہے : من استطاع الیہ سبیلاًجو خانہ کعبہ کی طرف جانے کی قدرت رکھتا ہو۔ البتہ اسلامی روایات اور فقہی کتب میں استطاعت کی تفسیر میں یہ چیزیں شامل کی گئی ہیں زاد راہ، سواری ، جسمانی توانائی راستے میں امن اور حج سے واپسی کے بعد گزر اوقات کی طاقت، لیکن دراصل یہ سب چیزیں اس آیت میں مندرج ہیں کیونکہ اصل میں اتطاعت کے معنی ہیں توانائی اور قدرت اور اس میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ قانون دیگر اسلامی قوانین کی طرح صرف مسلمانوں کے لئے مختص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اسے انجام دیں اور مشہوراصول ” الکفار مکلفون بالفروع کما انھم مکفون بالاصول(کفار فروعات کے بھی اسی طرح مکلف ہیں جس طرح اصول کے ) کی تائید مذکورہ آیت اور دیگر دلیلوں سے بھی ہوتی ہے ۔ اگر چہ ان اعمال و عبادات کی صحت کی شرط یہ ہے کہ پہلے وہ اسلام قبو ل کریں اور اس کے بعد انہیں انجام دیں لیکن یہ مخفی نہ رہے کہ اسلام قبول نہ کرنا ان ذمہ داریوں کی جوابدہی کو نہیں روکتا۔ ان عظیم مراسم کی اہمیت ، فلسفہ حج اور اس کے انفرادی و اجتماعی آثار پر سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۴ سے لے ۲۰۳ تک تفصلی گفتگو ہو چکی ہے ۔ ۲# ۱#بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حج پہلی دفعہ دس ہجری میں فرض ہوا ۔ اسی سال پیغمبر اکرم (ص) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ تمام جگہ کے لوگوں کو اطلاع دیں اور انہیں خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے آمادہ کریں ۔ مراسم ِ عمرہ اس سے پہلے بھی پیغمبر اکرم اور کچھ مسلمان ادا کر چکے تھے ۔ ۲#متعلقہ آیات کے ضمن میں تفسیر نمونہ کی دوسری اور پہلی جلد کا مطالعہ فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:96-97
حج کی اہمیت
و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین آیت کے آخری حصہ میں حج کی تاکید و اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد ہورہا ہے کہ جو لوگ کفر اختیار کرکے اس خدا ئی حکم کی پرواہ نہ کریں اور اس کی مخالفت کریں تو وہ خود اپنے تئیں نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ خدا تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔ لفظ کفر کے اصلی معنیٰ چھپانے کے ہیں اور دینی اصطلاح میں اس کا ایک وسیع معنیٰ ہے کیونکہ حق سے ہر طرح کی مخالفت اس میں شامل ہے چاہے مرحلہٴ اصول میں ہوں یا فروعی احکام میں ۔ اب اگر چہ اس کا استعمال اصول کی مخالفت میں ہونے لگا ہے مگر یہ اس بات کی دلیل نہیںکہ یہ اسی میں منحصر ہے چنانچہ آیت مذخورہ میں ترک حج کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اسی بنا پر حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں اس آیت میں کفر کا مفہوم ترکِ حج بیان فرمایا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایمان کی طرح کفر کے بھی کئی مدارج و مراحل ہوتے ہیں جن میں ہر ایک مخصوص احکام کا حامل ہے ۔ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونے سے کفر و ایمان سے مربوط آیات و روایات کے بہت سے اشتباہات دور ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا اگر سود کھانے والوں کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۵ میں اور جادو گروں کے متعلق سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں کفر کالفظ آیاہے تو اس سے بھی یہی مقصود ہے ۔ بہر صورت اس آیت سے دو مطلب نکل سکتے ہیں : پہلا یہ کہ حج زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کے ترک کو کفر سے تعبیر کیاگیا ہے ۔ مر حوم صدوقۺ نے کتاب من لایحضر ہ الفقیہ میں رسالمآب سے رویات بیان کی ہے کہ آپ سے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا : یاعلی تارک الحج وھو مستطیع کافر یقول اللہ تبارک و تعالیٰ و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین یا علی! من سوف الحج حتی یموت بعثہ اللہ یوم القیامة یہودیا او نصرانیا۔ یاعلی (ع) جو حض کو ترک کرے باوجودیکہ وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ کا فر شمار ہوگا ۔ کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ استطاعت رکھنے والے لوگوں پر خدا کے گھر کی طرف حج بجالانے کے لئے جانا لازمی اور ضروری ہے اور جو کفر اختیار کرے ( یعنی اسے چھوڑ دے) تو اس نے اپنا نقصان کیا ہے اور خدا سے بے نیاز ہے ۔ اے علی(ع) ! جو حج میں تاخیر کرے یہاں تک کہ دنیا سے چل بسے تو خدا اسے قیامت کے دن یہودی یا نصرانی محشور کرے گا ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس اہم فریضہ کی انجام دہی تمام دینی پروگراموں کی طرح لوگوں کی تر بیت اور نفع کے لئے ہے اور خدا جو تمام سے بے نیاز ہے یہ اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہے ۔ ۹۸۔قُلْ یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللهِ وَاللهُ شَہِیدٌ عَلَی مَا تَعْمَلُونَ ۔ ۹۹۔ قُلْ یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَہَا عِوَجًا وَاٴَنْتُمْ شُہَدَاءُ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۔ ۱۰۰ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تُطِیعُوا فَرِیقًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ کَافِرِینَ ۔ ۱۰۱۔ وَکَیْفَ تَکْفُرُونَ وَاٴَنْتُمْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ آیَاتُ اللهِ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ وَمَنْ یَعْتَصِمْ بِاللهِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔ ترجمہ ۹۸۔ ( اے پیغمبر ! ان سے کہو: اے اہل کتاب ! تم کیوں ( دیدہٴ و دانستہ ) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کا شاہد حال ہے ۔ ۹۹۔ کہو: اے اہل کتاب ! یہ کیا ہے کہ جو کوئی اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے تم اسے اللہ کی راہ سے روکتے ہواور اسے ٹیڑھی چال چلا نا چاہتے ہو۔ حالانکہ تم حقیقت ِ حال سے بے خبر نہیں ہو ۔ یاد رکھو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔ ۱۰۰۔ ایماندارو! اگر تم اہل کتاب میں کسی گروہ ( کہ جن کا کام نفاق اور تمہارے درمیان کنیہ و عدالت کی آگ بھڑکانا ہے )کی باتوں پر کار بند ہوگئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ تمہیں ایمان سے کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔ ۱۰۱۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم ( اب پھر ) کفر کی راہ اختیار کرو ۔ جب کہ تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جارہی ہیں اور اس کا رسول ( تعلیم و رہنما ئی ) کے لئے تم میں موجود ہے ۔ ( لہٰذا خدا سے تمسک رکھو) اور یاد رکھو کہ جو کوئی مضبوطی سے اللہ کا ہو رہا تو بلاشبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی ( نہ تو اس کے لئے لغزش ہے اور نہ کشتگی کا اندیشہ)۔ شان نزول ان آیات کے شا ن نزول کے سلسلے میں جو کچھ شیعہ اور سنی تصنیفات میں نقل ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ شامی بن قیس ایک یہودی تھا ۔ وہ ضعیف العمر، تاریک دل اور کفر و عناد میں کم نظیر تھا ایک دن وہ مسلمانوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا تا اس نے دیکھا کہ اوس و خزرج جو سالہا سال ایک دوسرے کے خالف نبرد آزما رہے ان کے بعض افراد انتہائی صلح و آشتی اور محبت و خلوص سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں ۔ مجلس کی فضا انس و محبت سے معطر ہے اور شدید اختلافات کی جو آگ زمانہ جاہلیت میں ان میں شعلہ زن تھی وہ یکسر بجھ چکی ہے ۔ یہ حالت دیکھکر وہ حسد کے مارے جل اٹھا اور اپنے دل میں کہنے لگا کہ اگر یہ لوگ حضرت محمد کی پیروی کر کے اتنے آگے بڑھتے رہے تو یہودیت کے لئے بڑا خطرہ ہے ۔ اسی دوران اس کے ذہن میں ایک سازش آئی اور اس نے ایک یہودی نوجواب کو حکم دیا کہ وہ ان کے ایک گروہ سے میل جول رکھے اور اوس و خزرج کے درمیان خونیں واقعات کی یاد تازہ کرے اور ان کی نظروں کے سامنے ان واقعات کی تصور کشی کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:96-97
لوگوں کے لئے پہلا گھر
لوگوں کے لئے پہلا گھر ”إِنَّ اٴَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا “۔ جیساکہ گذشتہ آیات کے ضمن میں کہا جا چکا ہے کہ یہودیوں کو پیغمبر اسلام پر دو اعتراض تھے جن میں سے پہلے کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے ۔ دوسرا اعتراض ان کو یہ تھا کہ بیت المقدس کو خانہ کعبہ پر بر تری حاصل ہے ۔ اس کا جواب مندرجہ بالا آیات میں دیا جارہاہے ۔ آیت بتلا رہی ہے کہ اگر کعبہ کو مسلمانوں کے قبلہ کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ چونکہ روئے زمین پر وجود میں آنے والا یہ خدا کا پہلا گھر اور سب سے پہلی عبادت گاہ ہے ۔ اس سے قبل دعا اور پر ور دگار ِ عالم کی عبادت کا کوئی مر کز نہیں تھا ۔ صرف یہی ایسا گھر ہے جو انسانی معاشرہ کے لئے ایسے نقطہ پر وجود میں لایا گیا ہے جو اجتماعیت کا مرکز ہے اور پر بر کت مقام ہے ۔ اسلامی تاریخ کے مصادر بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خانہ کعبہ حضرت آدم (ع) کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے ۔ جب طوفان نوح (ع) میں اسے نقصان پہنچا تو حضرت ابراہیم (ع) نے اسے از سر نو تعمیر کیا۔ بنابر ایں قبلہ کی حیثیت سے اس پہلے خانہ ٴ توحید کا انتخاب دوسرے ہر مقام سے زیادہ مناسب ہے ۔ البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں خانہ کعبہ جس کا دوسرا نام بیت اللہ ہے کا تعارف لوگوں کے گھر کے طور پر کرایا گیا ہے ۔ اس تعبیر سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ جو کچھ خدا کے نام پر ہے اور اس کے لئے ہے اسے لوگوں اور اس کے بندوں کی خدمت کے لئے استعمال کرنا چاہتے اور جو کچھ بند گان ِ خدا کی خدمت کے لئے وہ خدا کے لئے ہے ۔ اس آیت سے ضمنی طور پر خدا کے اصلاحی پروگراموں میں سبقت کرنے کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے ۔ اسی لئے تو آیت بالا میں خانہ کعبہ کی پہلی فضیلت اس کا سب سے پہلا ہونے کو قرار دیا گیا ہے ۔ یہیں سے حجر اسود کے احترام کے بارے میں ہونے والے اعتراض کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے کیونکہ ایک گروہ کا خیال ہے کہاس پتھر کے ٹکڑے کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے کہ سارا سال کئی لاکھ انسان ان کا بوسہ لینے اور اسے مس کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کام کو ایک تاکیدی مستحب کے طور پر کیوں خانہ کعبہ کی زیارت کے پروگرام میں شامل کیا گیا ؟ لیکن اس پتھر کی مختصر تاریخ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس میں ایک ایسی خصوصیت ہے جو پوری دنیا کے کسی پتھر میں پیدا نہیں ہو سکتی اور وہ یہ کہ یہ ایک انتہائی سابق ترین چیز ہے جو عمارتی مصالح کے طو پر مرکز عبادت میں نصب کی گئی ہے ۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ صفحہ ٴ ہستی کی تمام عبادت گاہوں تک کہ خانہ کعبہ کی بھی بار ہا نو تعمیرہوئی ہے اور جو مصالح ان کی تعمیر میں لگائیں گئے ہیں وہ تبدیل ہو گئے صرف یہی پتھر کا ٹکڑا ہے جو ہزار ہا سالوں کے گزرنے کے باوجود ابھی تک اس قدیم ترین عبادت گاہ میں اپنی جگہ قائم ہے ۔اس لئے دراصل اس کی اہمیت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ خدا کی راہ میں اور لوگوں کی خدمت میں سب سے قدیم ہے ۔ علاوہ از ایں یہ پھر مختلف زبانوں کے مومنین کی بے شمار نسلوں کی ایک خاموش تاریخ ہے ۔ یہ پتھر عظیم انبیاء ٴ اور خدا کے خاص بندوں سے وابستگی کی یاد کو زندہ کرتا ہے جنہوں نے اس کے پاس کھڑے ہو کر خدا کی بار گاہ میں دعا اور تضرع و زاری کی ..... اس مقام پرایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ گذشتہ آیت یہ بتلارہی ہے کہ یہ سب سے پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے ۔ یہ واضح ہے کہ اس سے مقصود عبادت و پرستش کا پہلا گھر ہے ۔ لہٰذا اس آیت سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ اس سے پہلے رہاہش کے کچھ گھر زمین میں موجود ہوں اور یہ تعبیر ان لوگوں کا واضح جواب ہے جو( تفسیر النساء کے موٴلف کی طرح ) یہ کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (ع) کے ہاتھوں سے بنا ہے اور وہ حضرت آدم (ع) کے ہاتھ سے بننے کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ مسلم ہے کہ ابراہیم (ع) سے قبل بھی عبادت گاہ اور پرستش کی جگہ موجود تھی اور ان سے پہلے حضرت نوح(ع) کی طرح دیگر انبیاء اس سے استفادہ کرتے تھے ۔ اس بنا پر یہ کیسے ممکن ہے کہ خانہ کعبہ جو کہ دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ ہے حضرت ابراہیم (ع) کے ہاتھوں سب سے پہلے بناہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:96-97
”بکّہ“ سے کیا مراد ہے ؟
” بکّہ “ اصل میں” بک“( بر وزن ”فک “ ) مادہ سے اژدھام اور اجتماع کے معنیٰ میں ہے اور خانہ کعبہ یا وہ زمین جس میں خانہ کعبہ موجود ہے اسے ” بکہ“ یہاں لوگوں کے اژدھام اور اجتماع کی وجہ سے کہا جاتا ہے یہ بھی بعید نہیں کہ پہلے اس کا یہ نام نہ ہو لیکن جب یہ عبادت کے لئے قائم ہوچکا ہو اسے یہ نام دیا گیا ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں منقول ہے کہ مکہ پورے شہر کا نام ہے اور بکہ اس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں کعبہ بنا ہوا ہے بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ بکہ دراصل مکہ ہی ہے اور اس کی ”میم “ یہاں ”باء“ سے بدل گئی ہے جیسے ” لازم “ اور ” لازب“ دونوں عربی زبان میں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ خانہ کعبہ اور اس کی زمین کو بکہ کے ساتھ موسوم کرنے کے سلسلہ میں ایک اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس لفظ کا معنیٰ ہے نخوتو غرور کو دور کرنا ۔ چونکہ اس عظیم مرکز میں ہر قسم کے امتیازات یکسر ختم ہو جاتے ہیں اور سر کش و مغرور لوگوں کو بھی یہاں عام لوگوں کی طرح تضرع و زاری کے لئے کھڑا ہونا چاہئیے اس طرح ان تکبر و غرور ٹو ٹ جاتا ہے ۔ اس لئے اس مقام کو بکہ کہا جا تا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:96-97
مسجد الحرام کی توسیع
پیغمبر اسلام کے زمانے سے لے کر جس قدر مسلمان بڑھتے گئے تو فطری طور پر خانہ کعبہ کے زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔ لہٰذا حکام ِ وقت کی طرف سے مسجد الحرام کی بھی توسیع ہو تی رہی۔ تفسیر عیاشی میں منقول ہے کہ عباسی خلیفہ منصور کے زمانے میں حجاج کی کثرت کی بناء پر پروگرام بنا یا گیا ہے کہ ایک دفعہ پھر مسجد الحرام کو وسیع کیا جائے ۔ خلیفہ نے ان لوگوں کو بلا یا جن کے گھر مسجد کے ارد گرد تھے تاکہ ان کے گھر خرید لئے جائیں لیکن وہ کسی قیمت پر بھی انہیں بیچنے کے لئے تیار نہ ہوئے ، منصور بڑی مشکل میں گرفتار ہوا کیونکہ ایک طرف وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ طاقت کے ذور سے ان کے گھر خراب کرے کیونکہ اس کا اچھا اثر نہ ہوتا اور دوسری طرف وہ لوگ اپنے گھر دینے کے لئے تیار بھی نہ تھے ۔ اس سلسلے میں اس نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے استفسار کیا۔ آپ (ع) نے فرمایا کہ اس بارے چنداں فکر کی ضرورت نہیں اس ضمن میں واضح دلیل موجود ہے جس سے تم استدلال کرسکتے ہو۔ اس نے پوچھا وہ کونسی دلیل ہے ۔ فرمایا کلام ِ خدا ۔ پوچھنے لگا کلامِ الہٰی میں کہا سے استدل لایا جاسکتا ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا کہ آیت: ”ان اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکاً “ سے استدلال کیا جاسکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ خانہ کعبہ ہے ۔ اس لئے کہ اگر خانہ کعبہ سے پہلے ان کے گھر یہاں موجود ہوتے تو خانہ کعبہ کے اطراف ان کی ملکیت میں ہوتے لیکن خانہ کعبہ ان سے پہلے ہے تو یہ حریم ( جہاں تک خانہ کعبہ کے زائرین کی ضرورت ہے ) کعبہ سے تعلق رکھتا ہے۔ منصور نے ان لوگوں کو بلواکر ان کے سامنے اسی انداز سے استدلال کیا وہ یہ سن کر لاجواب ہو گئے اور کہنے لگے جس طرح آپ کی مرضی ہو ہم آپ کی موافقت کریں گے ۔ اسی تفسیر میں یہ بھی منقول ہے کہ اس قسم کا واقعہ مہدی عباسی کے دورمیں پیش آیا۔ اس نے اس دور کے فقہاء سے رجوع کیا ۔ ان سب نے کہا کہ اگر گھروں کے مالک اس پر راضی نہ ہوں توغصب شدہ جگہ کو مسجد الحرام میں داخل کرنا مناسب نہیں ۔ علی بن یقطین نےاس مسئلہ کو حضرت امام موسیٰ بن جعفر(ع) سے حل کرانے کے لئے اجازت چاہی ۔ مہدی نے والی مدینہ کو لکھا کہ وہ اس مشکل کاحل امام موسیٰ کاظم (ع) سے طلب کرے ۔ حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا لکھو ۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم اگر خانہ کعبہ پہلے بنا ہے اور لوگ بعد میں اس کے اطراف وکنار میں سکونت پذیر ہوئے ہیں تو اس کے اطراف کی فضا کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے اور اگر لوگوں کی سکونت وہاں خانہ کعبہ سے پہلے تھی تو وہ اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔“ جب یہ جواب مہدی عباسی کو موصول ہوا تو اس کو اتنی مسرّت ہوئی کہ اس نے وہ پروانہ لے کر اسے بوسہ دیا اور حکم دیا کہ ان کے گھروں کو مسمار کیا جائے ۔ گھروں کے مالک برافرختہ ہو کر موسیٰ بن جعفر (ع) کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو ئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ مہدی کو خط لکھیں کہ وہ گھرو ں کی قیمت انہیں واپس کردے ۔ حضرت (ع) نے اس کی خواہش پوری کردی اور مہدی نے بھی انہیں راضی کیا ۔ یہ دو آیات ایک بار یک استدلال پر مشتمل ہیں جوحقوق کے بارے میں مروجہ قوانین سے بھی مطابقت رکھتا ہے البتہ جب تک یہ احتیاج ضرورت کا پہلو پیدا نہیں کرتی دوسرے لو گ بھی اس کے جوار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ لیکن جب ضرورت ہو تو اس کے حق اولویت سے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے ۔