وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
There is a group of them who alter their voice while reading out a text [that they have themselves authored], so that you may suppose it to be from the Book, though it is not from the Book, and they say, ‘It is from Allah,’ though it is not from Allah, and they attribute lies to Allah, and they know [it].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:78
[Pooya/Ali Commentary 3:78] Yalwuna alsinatahum-corrupting the correct recital of the book by tongue twisting (with an evil motive to distort the true meanings of the words) was resorted to by the Jews and the Christians to pervert and mutilate the Tawrat and the Injil. When the half-hearted believers and the hypocrites began to write the Quran, they relied upon the seven different types of recitations which were in vogue in those days, but only Ali and the Ahl ul Bayt knew the correct pronunciation of each word of the book of Allah. It was Ali who was with the Holy Prophet from the beginning of the revelation of the book, and therefore rightly claimed that he alone knew why, when and for whom every verse of the book was revealed. In view of the sayings of the Holy Prophet, mentioned on pages 5 and 6, Ali's claim has never been challenged by any companion of the Holy Prophet, or any of the scholars who follow them as their leaders. Ali and the Ahlul Bayt made it certain that none should distort the true meaning of any verse of the Quran, since the people of the book had bartered Allah's covenant and their oaths at a small price for limited interests, and, after making additions and omissions of their own, falsely claimed that they were from Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:78
”یلون “ ”لیّ“ ( بروزن ” حیّ“ )سے ہے ۔
تفسیر; ”یلون “ ”لیّ“ ( بروزن ” حیّ“ )سے ہے ۔ اس کا معنی ہے پیچ و خم،کھانا ۔ یہ آیت در حقیقت گذشتہ آیات کی تاکید کے طور پر آئی ہے ۔ اس کی شان نزول بھی گذشتہ آیات کے شان نزول کے مشابہ ہے ۔ یہود یوں کا ایک گروہ کتاب خدا پرھتے وقت اپنی زبان کو پیچ و خم دیتا ہے اور ٹیڑھا کرتا ہے ۔ یہ تعبیر کلام خدا میں تحریف کرنے سے خوبصورت کنایہ ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : وہ یہ کام ایسے ماہرانہ طریقے سے انجام دیتے ہیں کہ تمہیں گمان ہوگا کہ جوکچھ وہ کہہ رہے ہیں خدا کی طرف سے نازل شدہ آیات ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ (” وَیَقُولُونَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ الله“) ۔ قرآن دوبارہ کہتا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں اشتباہ نہیں ہوا بلکہ وہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اورجانتے بوجھتے ہوئے وہ یہ بہتان باندھتے ہیں (” وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَهم یَعْلَمُونَ “) ۔ ۷۹۔ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اٴَنْ یُؤْتِیَہُ اللهُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُوا عِبَادًا لِی مِنْ دُونِ اللهِ وَلَکِنْ کُونُوا رَبَّانِیِّینَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُونَ۔ ۸۰۔وَلاَیَاٴْمُرَکُمْ اٴَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلاَئِکَةَ وَالنَّبِیِّینَ اٴَرْبَابًا اٴَیَاٴْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۔ ترجمہ کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ خدا آسمانی کتاب ، حکم اور نبوت اسے دے اور پھر وہ لوگوں سے کہتا پھر ے کہ خدا کو چھوڑ کر میری عبادت کرو( بلکہ اس کے شایان شان یہ ہے کہ وہ کہے ) خدا والے بنو جیسا کہ کتابِ خدا کی تعلیم ہے اور جیسے تم نے درس بڑھا ہے ( اور خدا کہ علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو ) ۔ ۸۰۔ اور نہ یہ کہ تمہیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیاء کو اپنا پروردگار بنالو ۔ تو کیا وہ تمہیں کفر کی طرف دعوت دیتا ہے جب کہ تم مسلمان ہو چکے ہو ۔ شان نزول : ان دو آیا ت کے بارے میں دو شان نزول مذکور ہیں پہلی ۔ ایک شخص پیغمبر اسلام کے پاس آیا اور کہنے لگا : ہم دوسروں کی طرح آپ پر سلام کرتے ہیں حالانکہ ہماری نظر میں ایسا احترام کافی نہیں ۔ ہم تقاضا کرتے ہیں کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ آپ کا امتیاز ملحوظ رکھیں اور آپ کو سجدہ کرلیا کریں ۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا : سجدہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں ۔ اپنے پیغمبر کا ایک بشر کے طور پر احترام کرو لیکن ان ( انبیاء ) کا حق پہچانو اور ان کی پیروی کرو ۔ دوسری ۔ ابو رافع ایک یہودی تھا ۔ ایک مرتبہ وہ نجران کے عیسائیوں کی طرف سے وفد لے قائد اور سر پرست کے ساتھ خدمت پیغمبر میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اورکو مقام الو ہیت پر فائز سمجھیں ۔ شاید ان کا خیال تھا کہ پیغمبر حضرت عیسیٰ کی الہیت کی مخالفت اس بناء پر کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ان کا کوئی حصہ نہیں لہٰذا اھر حضرت عیسی کی طرح ان کے لئے بھی مقام الوہیت کو تسلیم کرلیا جائے تو وہ خود بخود مخالفت چھوڑ دیں گے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تجویز پیغمبر اکرم کو بد نام کرنے اور عوام کو منحر ف کرنے کے لئے پیش کی گئی ہے ۔ بہر حال پیغمبر اکرم نے فرمایا: معاذ اللہ کیسے ممکن ہے کہ میں اجازت دوں کہ کوئی شخص ربّ واحد کے علاوہ کسی کی عبادت کرے خدا نے ہر گز مجھے ایسے معاملے کے لئے مبعوث نہیں کیا ۔