إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
There shall be no share in the Hereafter for those who sell Allah’s covenant and their oaths for a paltry gain, and on the Day of Resurrection Allah will not speak to them nor will He [so much as] look at them, nor will He purify them, and there is a painful punishment for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:77
[Pooya/Ali Commentary 3:77] Those who break the covenant made with Allah and His Holy Prophet will have no share in the rewards to be given on the day of judgement; nor will Allah speak to them or look at them (pay attention to their repentance), nor will He purify them-a grievous punishment awaits them which will torment them for ever. Please refer to the commentary of al Baqarah: 174.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:77
حقیقت کو چهپانے والے
اس آیت میں یہود اور اہل کتاب کی بعض غلط کاریوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ البتہ آیت چونکہ عمومی صورت میں ہے اس لئے ان سب کے بارے میں ہے جن میں یہ صفات موجود ہیں ۔ آیت کہتی ہے :۔ جو لوگ خدا سے باندھے ہوئے عہد و پیمان اور اس کے مقدس نام کی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں وہ متعدد سزاوٴں میں گرفتار ہوں گے: پہلی یہ کہ وہ عالم آخرت کی بے شمار نعمتوں سے قابل ملاحظہ فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے ۔ ”اُولٰٓئِکَ لاخلاقَ لھمّ ۔ “ دوسری یہ کہ خدا تعالیٰ روز قیامت صاحبان ایمان سے گفتگو کرے گا لیکن ایسے افراد سے کوئی کلام نہیں کرے گا ۔ ” وَ لا ینظرُ اِلَیھِم یَوم القَیَامَةِ“َ چوتھی چیز یہ کہ اس طرح انہیں گناہوں کی آلودگیوں سے پاک نہیں کرے گا ” ولا یزکیھم “ ۔ پانچویں چیز یہ کہ اسی بناء پر ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا ” ولھم عذاٌ الیم “۔ ” ثمناً قلیلاً“۔ ( کم قیمت ) سے مراد یہ ہے کہ انہیں عظیم گناہوں کے بدلے جو بھی مادی قیمت حاصل ہوجائے کم اور ناچیز ہے اگر چہ وہ وسیع حکومت ہی کیوں نہ ہو ۔ واضح ہے کہ خدا کی گفتگو سے مراد زبان سے مراد گفتگو نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ جسم و جسمانیت سے منزہ و مبرّاہے بلکہ اس سے مراد دل میں الہام کے ذریعے گفتگو ہے یا فضا میں صوتی موجوں کو ایجاد کرناہے جسیے حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے شجر ِ ِ طور سے گفتگو سنی تھی ۔ جس نکتے کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ عہد شکنی اور جھوٹی قسموں سے پیدا ہونے والے نتائج جن کا آیت میں ذکر ہے خدا قرب و بعد کے تدریجی مراحل ہیں ۔ جو شخص خدا کے قریب ہوجاتا ہے اور اس کے قرب کی بساط پر قدم رکھتا ہے پہلے تو معنی عنایات کا ایک سلسلہ اس کے شامل حال ہوتا ہے اور جب زیادہ نزدیک ہوجاتا ہے تو خدا اس سے گفتگو کرتا ہے ۔ جب اور زیادہ قریب ہوتا ہے تو خدا اس پر نظر رحمت کرتا ہے اس کے نتیجے میں وہ دردناک عذاب سے نجات پاتا ہے اور ا س کی نعمتوں میں مستغرق ہوجات اہے لیکن جو لوگ عہد شکنی کرتے یں اور پروردگار کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں وہ ان تمام نعمات و بر کات سے محروم ہوجاتے ہیں اور مرحلہ بمرحلہ دور ہوتے جاتے ہیں ۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۷۴ بھی زیر نظر آیت سے کئی لحاظ سے مشابہ ہے اس کے ذیل میں اس آیت کے مفہوم کے بارے میں کئی ایک وضاحتیں آچکی ہیں ۔ ۷۸۔ وَإِنَّ مِنْهم لَفَرِیقًا یَلْوُونَ اٴَلْسِنَتَهم بِالْکِتَابِ لِتَحْسَبُوہُ مِنْ الْکِتَابِ وَمَا ہُوَ مِنْ الْکِتَابِ وَیَقُولُونَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَهم یَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ ۷۸۔ ان ( یہود) میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ( خدا کی ) کتاب کی تلاوت کے وقت اپنی زبان یوں پھیرتے ہیں کہ تم گمان کرنے لگوکہ ( جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں ) کتاب خدا میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب خدا میں سے نہیں ہوتا ( یہاں تک کہ وہ صراحت سے ) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے ۔ جب کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حالانکہ جانتے ہیں ۔