وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
A group of the People of the Book say, ‘Believe in what has been sent down to the faithful at the beginning of the day, and disbelieve at its end, so that they may turn back [from their religion].’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:72
[Pooya/Ali Commentary 3:72] It was the policy of the Jews to make a show of belief for a short space of time and then in no time renounce their belief in it, so as to confuse the simple-minded people. Instances of such mendacious conduct are not unknown to Jewish history, but their intrigues to hoodwink the believers never succeeded. Aqa Mahdi Puya says: The books of traditions and theology written under the patronage of the Muslim rulers (usurpers of the rights of the Ahlul Bayt) also follow the above noted strategy to lower the glorious merits of the Ahl ul Bayt in the sight of unwary people. They narrate some sayings of the Holy Prophet praising the Ahl ul Bayt to first establish their impartiality, then immediately add spurious traditions to belittle the merit they had reported. Many a so-called impartial orientalist also praises Islam to conceal the venom which is injected shrewdly within the lines.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:72-74
پرانی سازشیں
مندرجہ بالاآیات دراصل قرآن کی پر اعجازآیات ہیں جو یہودیوں اور دشمنان اسلام کے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہیں اور ان کی صدر اوّل میں مسلمانوں متزلزل کرنے سازشوں کو فاش کرتی ہیں ۔ ان کی وجہ سے مسلمان بیدار ہو گئے اور دشمن کے تباہ کن وسوسوں سے بچ گئے ، اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ موجود ہ دور میں بھی اسلام کے خلاف ایسے منصوبہ بنے رہتے ہیں ، دشمن کے ذرائع ابلاغ جو پوری دنیا میں سب سے قوی ہیں اس سلسلے میں استعمال ہورہے ہیں ۔ دشمنوں کی کو شش ہے کہ اصل اسلام خصوصاً ان کی نوجوان نسل کے افکار کو اسلامی عقائد سے متزلزل کردیں وہ اس کے لئے عالم ، دانشور ، مورّخ، سائنسداں ، صحافی یہاں تک کہ فلمی ادار کا بھیس بھی استعما ل کرتے ہیں ۔ وہ یہ حقیقت نہیں چھپاتے کہ ان کے پراپیگنڈا کا مقصد مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانا نہیں بلکہ ان کا ہدف نوجوانوں کو اسلامی عقائد سے بر گشتہ کرنا ہے اور انہیں اپنے دین اور ثقافت کے مفاخر سے لاتعلق کرنا ہے ۔ قرآن آج مسلمانوں کو ان سازشوں سے ہوشیار رہنے کی دعوت دیتا ہے ۔ ۷۵۔وَمِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِنْ تَاٴْمَنْہُ بِقِنطَارٍ یُؤَدِّہِ إِلَیْکَ وَمِنْهم مَنْ إِنْ تَاٴْمَنْہُ بِدِینَارٍ لاَیُؤَدِّہِ إِلَیْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَائِمًا ذَلِکَ بِاٴَنَّهم قَالُوا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاٴُمِّیِّینَ سَبِیلٌ وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَهم یَعْلَمُونَ ۔ ۷۶۔ بَلَی مَنْ اٴَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ ۔ ترجمہ ۷۵۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر تم انہیں بہت سی دولت بطور امانت دو تو وہ تمہیں لوٹا دیں گے اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ایک دینار بھی سپرد کرو تو وہ تمہیں ہر گز واپس نہ کریں گے مگر اس وقت تک جب تک تم ان کے سر پر کھڑے رہو ( اور ان پر مسلط رہو)یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم امیین ( یہودیوں کے علاوہ کسی ) کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں اور خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں ۔ ۷۶۔ جی ہاں جو شخص اپنے عہد و پیمان پورے کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے( خدا اسے دوست رکھتا ہے کیونکہ ) خدا پر ہیز گاروں کو پسند کرتا ہے ۔ شان نزول یہ آیت دو یہودیوںکے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ان میں سے ایک امین اور صحیح آدمی تھا اور دوسرا خائن اور پست فطرت ۔ پہلا شخص عبد اللہ بن سلام تھا ۔ اس کے پاس ایک دولت مند ۱۲۰۰ وقیہ ۱ سونا بطور امانت رکھا ۔ عبد اللہ نے وہ سب معین موقع پر واپس کردیا ۔ دوسرا شخص ضحاص بن عاز ورا تھا ایک قریشی نے اس کے پاس ایک دینار بطور امانت رکھا ۔ضخاص نے اس میں خیانت کی ۔ اس کی خیانت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے زیر ِ نظر آیت میں اس کی مذمت کی ہے ۔ بعض کہتے ہیں پہلا جملہ نصاریٰ کی ایک جماعت کے بارے میں ہے اور خیانت کر نے والے یہودی تھے ۔ اگر آیت ان دونوں واقعات کے متعلق ہو تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر چہ زیادہ قرآنی آیات خاص مواقع پر نازل ہوئی ہیں لیکن وہ عمومی پہلو بھی رکھتیں ہیں اور اصطلاح کے مطابق موقع و محل سے مختص نہیں ہیں ۔