يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
O People of the Book! Why do you deny Allah’s signs while you testify [to their truth]?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:70
[Pooya/Ali Commentary 3:70] Islam awakens conscience and invites man to use reason for believing in the signs of Allah so that he finds out the truth.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:70-71
کیوں حق و باطل کو ایک دوسرے سے ملادیتے ہیں
تفسیر : ” یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللهِ وَاٴَنْتُمْ تَشْہَدُونَ ۔“ یہاں بھی روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے کہ وہ اپنی دشمنی اور ہٹ دھرمی سے کیوں دست کش نہیں ہوتے اور توریت و انجیل میں پیغمبر اسلام کی نشانیاں پڑھنے اور ان سے علم و آگاہی رکھنے کے باوجود انکار کی راہ کیوں اختیار کرتے ہیں ” یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ“۔ دوبارہ اہل کتاب کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ کیوں حق و باطل کو ایک دوسرے سے ملادیتے ہیں اور علم رکھنے کے باوجود حقیقت کو کیوں چھپاتے ہیں اور توریت و انجیل کی وہ آیات جن میں پیغمبر اسلام کا تعارف کروایا گیا ہے اور جو ان کی حقانیت کی نشانیاں ہیں انہیں کیوں چھپاتے ہیں ۔ در حقیقت پہلی آیت میں علم و آگاہی کے باوجود راہ حق سے خود ان کے انحراف پر مواخدہ کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں دوسرے لوگوں کو منحرف کرنے پر ۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۴۲ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلے میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ وہ آیت مندرجہ بالا آیت کے مشابہ ہے : ۷۲۔ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِی اٴُنْزِلَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوا آخِرَہُ لَعَلَّهم یَرْجِعُونَ۔ ۷۳۔ وَلاَتُؤْمِنُوا إِلاَّ لِمَنْ تَبِعَ دِینَکُمْ قُلْ إِنَّ الْہُدَی ہُدَی اللهِ قُلْ إِنَّ الْہُدَی ہُدَی اللهِ اٴَنْ یُؤْتَی اٴَحَدٌ مِثْلَ مَا اٴُوتِیتُمْ اٴَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔ ۷۴) یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ۔ ترجمہ ۷۲۔اہل کتاب ( یہود)کی ایک جماعت نے کہا( جاوٴ اور ) جو کچھ مومنین پر نازل ہوا ہے ( ظاہراً) دن کی ابتداء میں اس پر ایمان لے آوٴاور دن کے آخر میں کافر ہو جاوٴ ( اور لوٹ آوٴ) شاید وہ (تمہارے اس عمل سے اپنے دین سے ) بر گشتہ ہو جائیں ( کیونکہ وہ تمہیں اہل کتاب اور گذشتہ آسمانی بشارتوں سے آگاہ سمجھتے ہیں اور یہ سازش انہیں متزلزل کرنے کے لئے کافی ہے) ۔ ۷۳ ۔ اور سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتا ہے اور کسی پر ایمان نہ رکھو ، کہو کہ ہدایت تو وہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے ہو ( اور تمہاری یہ سازش اس کے مقابلے میں بے اثر ہے ) ( پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مزید کہنے لگے کہ یہ نہ سمجھنا کہ ) کسی کو تمہاری طرح ( آسمانی کتاب) دی جائے گی یا یہ کہ تمہارے پروردگار کے دربار میں کوئی تم سے بحث کرسکے گا ( بلکہ نبوت اور منطق، یہ دونوں چیزیں صرف تمہاری قوم اور نسل میں ہیں ) کہہ دو کہ فضل ( نبوت، عقل اور منطق کی عطا کسی میں منحصر نہیں ہے بلکہ وہ ) خدا کے ہاتھ میں ہے اور جسے چاہتا ہے ( اور اس کا اہل سمجھتا ہے ) عطا کرتا ہے اور خدا واسع ( وسیع عطیات و عنایات کا مالک ) اور ( ان کے مناسب مواقع سے ) آگاہ ہے ۔ ۷۴۔ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے اور اللہ عظیم عنایات و فضل کا مالک ہے ۔ شان نزول ; بعض گذشتہ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ خیبر اور دیگر مقامات کے بارہ یہودی علماء نے مل کر بعض مومنین کا ایمان متزلزل کرنے کے لئے ایک سازش بنائی ۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ ایک صبح پیغمبر اسلام کی خدمت میں جائیں اور ظاہرا ً ایمان لے آئیں ، اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہرکریں لیکن دن کے آخر میں اس دین سے پلٹ آئیں اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے تو کہیں کہ ہم نے محمد کی صفات کو قریب سے دیکھا ہے لیکن جب اپنی دینی کتب کی طرف رجوع کیا ہے یا اپنے علماء سے مشورہ کیا ہے تو دیکھا ہے کہ ان کی صفات اور طورطریقے اس سے مطابقت نہیں رکھتے جو کچھ ہماری کتب میں ہے لہٰذا ہم اپنے دین کی طرف پلٹ آئے ہیں ۔ یہو دی علماء کا خیال تھا کہ اس طرح بعض مسلمان کہیں گے کہ چونکہ یہ لوگ ہماری نسبت اذٓسمانی کتب کا زیادہ علم رکھتے ہیں اس لیے جو کچھ یہ کہتے ہیں یقینا سچ اور حق ہے اور یوں وہ متزلزل ہو جائیں گے ۔ آیت کے متعلق ایک اور شانِ نزول بھی مذکور ہے ۔ لیکن درج بالا شان نزول آیت کے معنی سے زیادہ نزدیک ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:70-71
ایک اور تباہ کن سازش
مندرجہ بالا آیت یہود یوں کی ایک اور تباہ کن سازش سے پردہ آٹھاتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا ایمان متزلزل کرنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرتے تھے ۔ ایک گروہ کے اراکین ، جنہیں قرآن نے ” طآئفةٌ مّن اہل الکتاب “کہا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے : آوٴ اور جو کچھ مسلمانوں پر نازل ہوا ہے دن کے آغاز میں اس پر ایمان لے آئیں اور دن کےآخر میں اس سے پلٹ آئیں ۔ بعید نہیں کہ دن کے آغاز و اختتام سے مراد اتنی کم مدت ہ وکہ لوگ کہہ سکیں کہ وہ اسلام کو دور سے کچھ اور سمجھتے تھے لیکن نزدیک سے کچھ اور پایا ہے ۔ اس لئے بہت ہی جلد پلٹ آئے ہیں ان کا خیال تھا کہ یہ سازش یقینی طور پر ضعیف الاعتقاد لوگوں پ رکافی اثر کرے گی خصوصاً اس لحاظ سے کہ وہ لوگ علماء یہود میں سے ہیں اور سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ آسمانی کتابوں اور آخری پیغمبر کی نشانیوں سے پوری واقفیت رکھتے ہیں ان کا خیال تھا کہ ایمان و کفر کم از کم نئے مسلمانوں کے اعتقاد کی بنیادیں تو ضرور ہلادے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنی ماہرانہ سازش کی کامیابی کی بہت امید تھی اور ” لعلھم یر جعون “ ان کی اسی امید کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ ” ولا یوٴ منوآ الاّ لمن تبع دینکم ۔“ انہوں تاکید کی ہے تمہارا ایمان فقط ظاہری ہونا چاہئیے اور تمہارا رشتہ صرف اپنے دین کے پیرو کاروں سے ہونا چاہئیے ۔ بعض تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کے یہودیوں نے مدینہ کے یہودیوں کو وصیت کی تھی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ تم ان لوگوں کے زیر اثر آجاوٴ جو پیغمبر اسلام کے زیادہ قریب ہیں اور ان پر ایمان لے آوٴ کیونکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ تھا کہ نبوت صرف نسل یہود میں رہے گی اور کوئی پیغمبر ظہور کرے تو اسے یہودیوں میں سے ہونا چاہئیے ۔ بعض مفسرین نے ” لاتوٴ منوا“ کو ” ایمان “ کے مادہ سے اعتماد و اطمنان “ کے معنی میں لیا ہے ، کیونکہ لغوی طور بھی اس کا یہی معنی ہے ۔ اس بناء پر مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ سازش بالکل مخفی ہونا چاہئیے اسے سوائے یہودیوں کے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بیان نہ کرو تاکہ راز فاش نہ ہوجائے اور یہ پروگرام نقش بر آب ہوکر نہ رہ جائے ۔ مندرجہ بالا آیت کے ذریعے خدا تعالیٰ نے یہودیوں کی اس خفیہ سازش سے پردہ اٹھا کر انہیں رسوا کیا تاکہ مومنین کے لئے بھی یہ درس عبرت ہو اور مخالفین کے لئے بھی ذریعہ ہدایت بنے ۔ ” قل انّ الھدیٰ ھدی اللہ “ یہ جملہ اصطلاح میں ایک جملہٴ معترضہ ہے جو پروردگار کی طرف سے ہے جب کہ اس سے پہلے اور بعد والے جملے میں یہودیوں کی گفتگو نقل کی گئی ہے یہودیوں کی گفتگو کے درمیان زیر نظر جملے میں خدا تعالیٰ نے انہیں ایک مختصر اورجامع جواب دیا ہے کہ ہدایت تو خدا کی طرف سے ہے اور وہ کسی خاص نسل اور قوم میں منحصر نہیں ہے اور کوئی ضروری نہیں کہ پیغمبر صرف یہود میں سے ہو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جنہیں پروردگار کی ہر قسم کی ہدایت میسر ہے وہ ان سازشوں سے متزلزل نہیں ہوں گے اور یہ تخریبی منصوبے ان پر انداز نہیں ہوسکتے ۔ ”اٴَنْ یُؤْتَی اٴَحَدٌ مِثْلَ مَا اٴُوتِیتُمْ اٴَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ“ یہ یہودیوں کی گفتگو کا آخری حصہ ہے ۔ اس جملے کی ابتدء میں ولاتصدقوا( اعتراف اور اعتماد نہ کر) مقدر ہے ۔ ۱ ۱اگر گذشتہ حصے میں ” لاتوٴمنوا“ ( اطمنان نہ کرو ) کے معنی میں ہو تو ” ”اٴَنْ یُؤْتَی اٴَحَدٌ مِثْلَ مَا اٴُوتِیتُمْ اٴَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ“کے دونوں ہوسکتا ہے اس پر معطوف ہوں ۔ اس بناء پر اس جملے کا معنی یہ ہوگا کہ کبھی یہ باور نہ کرو ساری دنیا کے لوگوں میں سے کوئی شخص وہ افتخار اور امتیاز اور آسمانی کتب جو تمہیں نصیب ہیں ، لے سکے گا اور یہ بھی باور نہ کرو کہ کوئی شخص روز قیامت در گاہ ِ خدا وندی میں تم سے مباحثہ اور گفتگو کرکے تمہیں مغلوب کرسکے گا کیونکہ تم دنیا کی بہترین قوم اور خاندان ہو نیز نبوت، عقل ، درایت ، منطق اور استدلال صرف تمہارے پاس ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہودی اس فضول منطق کے ذریعے خدا سے اپنا رتباط ظاہر کرتے اور تمام قوموں سے اپنے تئیں بر تر سمجھتے تھے اسی لئے بعد والے جملے میں خدا تعالیٰ نے انہیں صراحت سے جواب دیا ہے ۔ ” قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔“ کیئے کہ مقام نبوت ہو ، عقلی و منطقی استدلال ہو کا کوئی اور امتیاز ، سب فضل و عطا کی طرف سے ہے وہ جسے چاہتا ہے اور اہل سمجھتا ہے است نوازتا ہے ۔ کسی نے اس سے عہد و پیمان نہیں لے رکھا اور نہ ہی اس سے کوئی قرابت یا رشتہ داری رکھتا ہے اس کا جود و عطا واسع ہے اور استحقاق کے مواقع سے وہ علیم و آگاہ ہے ۔ ”یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ “َ اس آیت میں بھی گذشتہ بحث کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا جسے چاہتا ہے اور اہل سمجھتا ہے اپنی مخصوص رحمتوں سے نوازتا ہے ( اور مقام نبوت و منصب رہبری بھی اس کی رحمتوں میں سے ہیں ) اور کوئی شخص انہیں محدود نہیں کرسکتا اور ہر حالت میں عنایات ، عطیات اور فضل عظیم اسی کی طرف سے ہے ۔