وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ
He will speak to the people in the cradle and in adulthood, and will be one of the righteous.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:46
[Pooya/Ali Commentary 3:46] This verse makes it clear that Isa shall speak to people from the cradle in the same style and manner, containing the same substance and content, which he will convey to them in his mature age. If it is wrongly presumed that as a child in the cradle he will speak to people like an ordinary child, not conveying the message of Allah, the information Allah gives to Maryam becomes unnecessary, because there is no sense in recording this fact, if it means nothing more than the "ordinary experience of every child who is not dumb". "And in maturity" confirms that what he will speak to people in maturity, which undoubtedly was the revealed message of Allah to be conveyed to mankind as a messenger of Allah, he will speak and make known even as a child in the cradle. It is a miracle. The Ahmadi commentator, avoiding deliberately with malafide the miraculous life of Isa, says that it was an ordinary child's talk, having no sense or meaning. It is clear that either the commentator had no literary education or he deliberately wanted to ridicule the Quran.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:46
میرے خدا: کیسے ہوسکتا ہے کہ مجھ سے بچہ پیدا ہو جب کہ
تفسیر ہم جانتے ہیں کہ یہ جہاں عالم اسباب ہے ۔ خدا تعالیٰ نے خلقت کے عمل کو اس طرح سے جار ی فرمایا ہے کہ ہر موجود عوامل کے ایک سلسلے کے بعد ہی دائرہ وجود میں قدم رکھتا ہے مثلاً ایک بچے کے پیدا ہونے کے لیے شادی بیاہ جنسی ملاپ اور ” اسپر“ اور ” اودل “ کا باہمی پیوند ضروری ہے ۔ اس لیے یہ باعث تعجب نہیں کہ بہت جلد صاحبِ فرزند ہونے کی بشارت پر مریم (ع) حیران و پریشان ہوگئیں ۔ انہوں نے سوال کیا : میرے خدا: کیسے ہوسکتا ہے کہ مجھ سے نچہ پیدا ہو جب کہ کسی بشر نے مجھے مس تک نہیں کیا ۔ ” قَالَتْ رَبِّ اٴَنَّی یَکُونُ لِی وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَر“۔ خدا نے فوراً فرشتوں کے ذریعے انہیں خبر دی : خدا جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یعنی جہاں طبیعت کا نظام خدا کا پیدا کردہ ہے ، اس کے تابع فرمان ہے ، وہ جب چاہے اسے دگر گوں کرسکتا ہے اور غیر ماد ی علل و عوامل سے سبھی موجودات کو پیدا کرسکتا ہے” و کذالک اللہ یخلق مایشآء۔ “اس کے بعد اس بات کی تکمیل کے لئے فرماتا ہے : جب وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ فوراً ہوجاتی ہے ” اذا امرا ً فانّما یقول لہ کن فیکون “۔ کن فیکون “۔ سرعت آفرینش کی طرف اشارہ ہے ۔ واضح ہے کہ لفظ ” کن “ در حقیقت خدا کے حتمی ارادے کا بیان ہے ورنہ اسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے یعنی کسی چیز کے بارے میں اس کا صرف ارادہ ہو اور فرمان ِ آفرینش صادر ہو تو اسے فوراً لباس وجود پہنادیتا ہے ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ (ع) کی خلقت کے بارے میں لفظ ” یخلق“ ( خلق کرتا ہے ) استعمال ہوا ہے جب کہ گذشتہ چند آیات میں حضرت یحییٰ (ع) کی آفرینش کے بارے میں لفظ ” یفعل “ ( انجام دیتا ہے ) استعمال کیا گیا ہے ۔ ہو سکتا ہے تعبیر کا یہ اختلاف ان دو پیغمبروں کی خلقت کے اختلاف کی طرف اشارہ ہو کہ ایک معمول کے مطابق اور دوسرا غیر معمولی طریقے سے عالم وجود میں آیا ہے ۔ ۴۸۔ وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ ۔ ۴۹۔ وَرَسُولًا إِلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ اٴَنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِآیَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ اٴَنِّی اٴَخْلُقُ لَکُمْ مِنْ الطِّینِ کَہَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاٴَنفُخُ فِیہِ فَیَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِ اللهِ وَاٴُبْرِءُ الْاٴَکْمَہَ وَالْاٴَبْرَصَ وَاٴُحْیِ الْمَوْتَی بِإِذْنِ اللهِ وَاٴُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاٴْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِی بُیُوتِکُمْ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ ۔ ترجمہ ۴۸۔ اور اسے کتاب و دانش اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا ۔ ۴۹۔ اور اسے رسول کی حیثیتسے بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا ( جو ان سے کہے گا ) میں پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایاہوں ۔ میں گیلی مٹی سے پرندے جیسی مورت بنا سکتا ہوں ۔ پھر اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ نیز مادر زاد اندھے کو اور برص میں مبتلا لوگوں کو شفا دیتا ہوں ، مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہواور اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہوں ، اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔