ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
These accounts are from the Unseen, which We reveal to you, and you were not with them when they were casting lots [to see] which of them would take charge of Mary’s care, nor were you with them when they were contending.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:44
[Pooya/Ali Commentary 3:44] Ghayb means unseen, mystic, spiritual, unknown, or unknowable through the corrupted extracts of the books in the hands of the Jews and the Christians. The knowledge of all things and events the Holy Prophet had was revealed to him by Allah alone as has been said in al Najm: Nor he speaks of (his own) desire; it is naught save a revelation revealed (to him). There was no means of knowing the dispute among the priests of the sanctuary as to who should have Maryam in his charge (because the accurate records of these events have been obliterated altogether) except by revelation. The Holy Prophet knew about the casting of lots to select Zakariyya to take charge of Maryam, as if he was there when this event took place. Imam Muhammad bin Ali al Baqir has related that Abd al Muttalib, the grandfather of the Holy Prophet, had nine sons, and he had vowed that if a (tenth) son was born he would sacrifice him in the name of Allah. Then Abdullah, the father of the Holy Prophet, was born, and to fulfil his vow he made preparations to sacrifice him in the name of Allah, but his friends and relatives requested him to ascertain if camels could be sacrificed in Abdullah's place, by casting lots, as was done to select Zakariyya to take charge of Maryam. In the first casting of lots (ten camels against the life of Abdullah) the name of Abdullah appeared. The casting of lots was repeated eight times by adding 10 more camels every time, and on all occasions it was Abdullah who was selected, but at the tenth time, with 100 camels, the casting of lots chose the sacrifice of 100 camels in place of Abdullah. Abd al Muttalib repeated the casting of lots with 100 camels thrice and received the same answer. Then he was satisfied that Allah wanted to spare the life of Abdullah (the father of the Holy Prophet). The Holy Prophet used to say: "I am the sons of two sacrifices-Ismail and Abdullah." Aqa Mahdi Puya says: The prophets of Allah did not know the unseen, the unknown, or the unknowable through ordinary means, unless the knowledge of the ghayb (the knowledge of the past, right from the beginning of creation and the events of the future which would take place in this world and in the hereafter) was revealed to them as much as Allah wills; therefore it is stated in this verse that Allah informs the Holy Prophet about the ghayb through revelation to know not only that which was unknowable through ordinary means but also that which was knowable through regular media.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:44
سیح (ع) کی ولادت کا واقعہ
اس آیت میں حضرت مسیح (ع) کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ یہ واقعہ فرشتوں کی طرف سے جناب مریم (ع) کو بشارت دینے سے شروع ہوتا ہے ۔ فرشتے خدا کی طرف سے جناب مریم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ خدا انہیں ایک بچہ دے گاجس کانام مسیح عیسی بن مریم (ع) ہوگا ۔ وہ دنیا و آخرت میں مقام و عظمت کامالک ہوگا ۔ اور بار گاہ الہٰی کے مقربین میں سے ہوگا ( ” ” إِذْ قَالَتْ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَم“
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:44
اے مریم (ع) ! خدا پنی طرف سے تجھے ایک
زیر نظر آیت اور سورہ صافات میں حضرت یونس (ع) کے بارے میں موجود آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل حل کرنے کے لئے یا تنازعے میں معاملہ آخری حد تک پہنچ جانے پر جب جھگڑا ختم کرنے کا کوئی راستہ سجھائی نہ دے تو قرعہ اندازی سے مدد لی جاسکتی ہے ، ان آیات کے ساتھ ساتھ پیشوایان اسلام سے منقول روایات بھی اس سلسلے میں موجود ہیں ۔ انہی آیات و روایات کے باعث فقہی کتابوں میں ” قاعدہ قرعہ“ فقہی قواعد و اصول میں سے ایک کے طور پر زیر بحث آنے لگا ۔ لیکن جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے کہ قرعہ اندازی فقط بے بسی اور مسئلے کے حل کی کوئی دوسری صورت باقی نہ رہ جانے کی صورت میں ہی کی جاسکتی ہے ، اس لئے مسئلہ کے حل کے لئے اور راستہ نکل آنے کی صورت میں قرعہ سے مدد لی جاسکتی ۔ قرعہ نکالنے کے لئے اسلام میں کوئی خاص طریقہ معین نہیں ہے بلکہ تیر کی لکڑیوں ، سنگریزوں یا کاغذ کا اس طرح استعمال کی اجائے کہ کسی کے خلاف سازش یا کسی کو نقصان پہنچنے کا احتمال باقی نہ رہے ۔ واضح ہے کہ اسلام میں قرعہ اندازی کے ذریعے کا دوبار ، لین دین اور معاملہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ کام کوئی مشکل مسئلہ نہیں جسے حل کرنے کے لئے قرعہ کو ذریعہ بنایا جائے اور ایسی آمدنی جائز نہیں ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ قرعہ لوگو ں کے تنازعات اور اختلافات سے ہیں مخصوص نہیں بلکہ اس سے دیگر مشکلات کے حل میں بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔ مثلاً جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی کسی بھی سے بد فعلی کرے اور پھر اسے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دے ۔ اب اگر اسے پہچانا نہ جاسکے تو تو قرقہ اندازی کے ذریعے ان میں سے ایک بھیڑ نکال لی جائے اور اس کا گوشت کھانے سے پر ہیز کیا جائے کیونکہ سارے ریوڑ کو چھوڑ دینا تو بڑے نقصان کا باعث بنے گااور پھر ان سب کا گوشت کھا نا بھی جائز نہیں ۔ یہاں قرعہ اس مشکل کو حل کرتا ہے ۔ ۴۵۔ إِذْ قَالَتْ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیہًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمِنْ الْمُقَرَّبِینَ۔ ترجمہ ۴۵۔وہ وقت ( یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا : اے مریم (ع) ! خدا پنی طرف سے تجھے ایک کلمہ ( اور باعظمت شخصیت ) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے ، وہ دنیا و آخرت میں مقام و عظمت کا مالک ہو اور وہ مقربین میں سے ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:44
مریم (ع) کی سر پرستی کے تعین کے
جیسا کہ گزشتہ آیات کی تفسیر میں کہا جاچکا ہے جناب مریم کی والدہ پیدائش کے بعد اپنی نوزائیدہ بچی کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر عبادت خانے میں لے آئیں ۔ وہاں بنی اسرائیل کے علماء اور بزرگوں سے کہنے لگیں : یہ نو مولود بچی خانہٴ خدا کی خدمت کے لئے نذر کی گئی ہے اس کی سر پرستی اپنے ذمے لے لیں ۔ جناب مریم (ع) چونکہ حضرت عمران (ع) کے خاندان سے تھیں اور یہ ایک بزرگ خاندان تھا اس لئے بنی اسرائیل کے علماء اور عباد ان کی سر پرستی کا منصب حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے ۔ قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنے کا ان اتفاق ہوگیا ، وہ ایک نہ رکے کنارے گئے وہاں انھوں نے اپنی قرعی ڈالنے کی لکڑیاںپیش کیں ۔ ان میں سے ہر ایک لکڑی یا قلم پر ان میں سے ایک ایک کا نام لکھا گیا ۔ جوقلم پانی میں ڈوب جاتی اس کا قرعی نکلتا صرف جس کی قلم سطح آب پر رہتی اس کے نام قرعہ شمار ہوتا ، جس قلم پر حضرت زکریا (ع) کانام تھا پہلے پانی کی گہرائی میں چلی گئی اور پھر پانی پر ابھر آئی ۔ یوں حضرت مریم (ع) سر پرستی کا منصب حضرت زکریا (ع) کے حصّے آیا اور حقیقت میں بھی وہی اس کام کے لئے اہل تر تھے کیونکہ ایک تو وہ پیغمبر خدا تھے اور دوسرا ان کی بیوی حضرت مریم کی خالہ تھیں ۔ مندرجہ بالا آیت اس واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کررہی ہے فرمیا گیا ہے : مریم (ع) کی جو کچھ سر گذشت ہم نے تمہیں بیان کی ہے یہ غیب کی خبروں میں سے ہے کیونکہ یہ واقعہ اس طرح سے خرافات سے پاک گذشتہ تحریف شدہ کتب میں بھی کہیں موجود نہیں تھا اس لئے آسمانی وحی ہی اس کی سند بن سکتی تھی (” ذٰلک من انبآء ا لغیب نوحیہ الیک “۔) ۔ پھر اس واقعے کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : مریم (ع) کی سر پرستی کے تعین کے لئے جب وہ اپنی قلمیں پانی میں ڈال رہے تھے تم موجود نی تھے ( وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ یُلْقُونَ اٴَقْلاَمَهم اٴَیُّهم یَکْفُلُ مَرْیَم) یونہی جب وہ کفالتِ مریم پر جھگڑ رہے تھے تو تم پاس نہ تھے اور یہ سب کچھ تم پر صرف وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے ۔ اختلاف دور کرنے کا آخری طریقہ قرعہ اندازی ہے