يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّـٰكِعِينَ
O Mary, be obedient to your Lord and prostrate and bow down with those who bow [in worship].’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:42-43
خدا نے انہیں بر گزیدہ کیا
گذشتہ آیات میں جناب عمران (ع) اور ان کی بیوی کے متعلق بحث تھی ، اب حضرت مریم (ع) کا نام بھی لیا گیا ہے اور ان آیات میں ان کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے ۔ پہلے اس طرف اشارہ ہوا ہے کہ فرشتوں نے مریم سے باتیں کیں (” و اذقالت الملائکة یا مریم .......“)یہ آیت نشاندھی کرتی ہے کہ ممکن ہے فرشتے پیغمبروں کے علاوہ دوسرے انسانوں سے بھی گفتگو کریں نیز یہ جملہ حضرت مریم کے بلند مرتبے کی بھی حکایت کرتا ہے ۔ فرشتے حضرت مریم (ع) کو بشارت دیتے ہیں کہ خدا نے انہیں بر گزیدہ کیا اور چن لیا ہے اورانہیں پاک قرار دیا ہے یعنی تقویٰ ، پرہیزگاری ، ایمان اور عبادت کے نتیجے میں وہ خدا کے برگزیدہ اور پاک لوگوں میں سے ہوگئی ہیں اور انہیں حضرت عیسیٰ (ع) جیسے پیغمبر کی پیدائش کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ ” وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاءِ الْعَالَمِینَ “۔ ”وَاصْطَفَاکِ “کا تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا تجھے ہے : خدا نے تجھے جہاں کی عورتوں میں سے چن لیا ہے اور تجھے سب پر بر تری عطا کی ہے ۔ آیت کا پہلا حصہ جناب مریم کی اعلیٰ انسانی صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بر گزیرہ انسان کے طور پر آپ کا نام لیتا ہے اور دوسرے حصے میں ” وَاصْطَفَاکِ “ ان کے اپنے زمانے کی تمام برتری کی طرف اشارہ ہے ۔ (ص ۳۲۳ رہ گیا ہے ) نماز پڑھو ، وضو کرو اور پاک و کیزہ رہو ۔ یعنی ان تمام فرائض کو انجام دو کیونکہ واو سے جو عطف ہو وہ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا ۔ علاوہ از ایں رکوع و سجود و اصل میں عجز اور خضوع کے معنی میں ہے اور عام رکوع و سجود کے مصادیق میں سے ایک شمار ہوتے ہیں ۔ ۴۴۔ ذَلِکَ مِنْ اٴنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیہِ إِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ یُلْقُونَ اٴَقْلاَمَهم اٴَیُّهم یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ یَخْتَصِمُون۔ ترجمہ ۴۴۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتارہے ہیں اور جب وہ اپنی قلمیں ( قرعہ اندازی کے لئے پانی میں ) پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت اور سر پرستی کون کرے اور اس وقت (بھی)جب اس کی سر پرستی کا افتخار اور منصب حاصل کرنے کے لئے (علماء) آپس میں مصروف ِ کشمکش تھے ، تم موجود نہ تھے ( اور یہ سب باتیں تمہیں وحی کی معرفت بتائی گئی ہیں ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:42-43
اس جملے میں قرآن نے بتا یا ہے
اس جملے میں قرآن نے بتا یا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کو پروردگار کی تسبیح اور ذکر کاحکم دیا ۔ جب آپ کی زبان بند ہو چکی تھی ایسے میں یہ تسبیح اور ذکر اس بات کی بھی نشانی تھی کہ خدا تعالیٰ بند امور کو کھولنے کی قدرت رکھتا ہے نیز خدا کے عظیم عطیّے پر شکر گزاری کے حوالے سے یہ ایک ذمہ داری بھی تھی ۔ سورہٴ مریم کی ابتدائی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا (ع) نے خود ہی اس پروگرام پر عمل نہیں کیا بلکہ اشارے سے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی کیونکہ خدا تعالیٰ کی اس بخشش و عطا کا تعلق ان کے معاشرے سے تھا اور حضرت یحییٰ کی صورت میں انہیں ایک لائق قیادت نصیب ہورہی تھی ۔ اس لئے انہیں دعوت دی گئی کہ صبح اور عصر کے وقت پروردگار کی تسبیح اور ذکر میں مشغول رہیں ۔ در حقیقت یہ سب کے لئے شکر و تسبیح کے دن قرار پائے تھے ۔ ۴۲۔وَإِذْ قَالَتْ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللهَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاءِ الْعَالَمِینَ ۔ ۴۳۔ یَامَرْیَمُ اقْنُتِی لِرَبِّکِ وَاسْجُدِی وَارْکَعِی مَعَ الرَّاکِعِین۔َ ترجمہ ۴۲۔ اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم ! خدا نے تجھے چنا ، پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برتری اور فضیلت۔ ۴۳۔ اے مریم!( اس نعمت کے شکرانے کے طور پر ) اپنے پروردگار کے سامنے خضوع کرو ، سجدہ بجا لاوٴاور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:42-54
Jesus predicted his persecution by Jews and asked his companions who among them was ready to play his part and accept his contemplated crucification, in lieu of which, paradise was promised to him. On e3ntrance by persecutors, they could not detect who was Jesus, as all were transformed alike. But Titanus acknowledged he was Jesus and was crucified. Gabriel took away Jesus to Heaven. On his death, Titanus was reverted to original features. This created a suspicion, and has been an insoluble problem to date with Christians.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:43
[Pooya/Ali Commentary 3:43] Maryam is neither a goddess nor a mother-God. She is a created being and as such she has been asked to pray like all true and devout servants of Allah.