قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Say, ‘Whether you hide what is in your hearts or disclose it, Allah knows it, and He knows whatever there is in the heavens and whatever there is in the earth; and Allah has power over all things.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:21-30
God as perfect creator and is “Perfectly good” brought into existence humans and jinn in body and soul with material and spiritual worlds. If they had reserved (a) Takvini and (b) Taklifi Former He reserved for self and latter left to creatures yet because “good” is over-powering, total power He did not leave with them else they would have revolutionized His design to His only choice was to grant limited power (under Taklif) to creation wherein His bounty supersedes evil arising from creation, pointing out the issue of following good and avoiding evil leading to paradise and hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:29
آیه 29 سوره عمران
(29) قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِىْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّـٰهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ ترجمہ (29) کہیے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اسے چھپائے رکھو یا آشکار کردو ، خدا (بہرحال) اسے جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ۔ وہ اس سے آگاہ ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:29
تفسیر
تفسیر گذشتہ آیت میں کفارسے تعاون و دوستی کرنے اور ان پر اعتمار وبروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے. ہاں البته "تقیه" کے مقام کے لیے اس حکم میں استثناءء رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ بعض مواقع پر تقینہ کا نام لے کر غلط طور پر کفار سے دوستی کرلیں یا اس میں اپنا سرپرست بنالیں دوسرے لفظوں میں تنقید کے مفہوم سے غلط فائدہ اٹھائیں اور اس کا نام لے کر دشمنان اسلام سے تعلقات استوار کرلیں اس لیے محل بحث آیت میں ایسے افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خدا تعالٰی کے لامتناہی علم کو فراموش نہ کریں کیونکہ خدا تعالٰی تو سینوں میں چھپے ہوئے اسرار سے ظاہری امور کی طرح واقف ہے ۔ درحقیقت یہ آیت لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے کہ خدا تعالٰی دلوں کے رازوں کو جانتا ہے، یہ اشاره کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اسرار سے آگاہ ہے بلکہ یہ تو اس کے علم بے پایاں کا ایک مختصرسا گوشہ ہے اس کا علم تو زمین اور آسمانوں کی وسعتوں پر محیط ہے اور اس کے علاوہ وہ توانا بھی ہے اور گناہگاروں کو سزا دینے کی قدرت رکھتا پے " والله على كل شيء قدير"۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:29
[Pooya/Ali Commentary 3:29] After giving permission of taqiyah in the previous verse it is stated in this verse that nothing is hidden from the all-knowing Lord. He knows that which is in the heavens and in the earth, therefore, He is aware of what we hide and what we disclose.