لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
The faithful should not take the faithless for allies instead of the faithful, and Allah will have nothing to do with those who do that, except when you are wary of them, out of caution. Allah warns you to beware of [disobeying] Him, and toward Allah is the return.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:28
[Pooya/Ali Commentary 3:28] The polytheists who worship false deities stand opposite to those who believe in one true God. There cannot be any friendship between them because friendship is built upon the foundation of mutual love. Love is a very active force. Love between two individuals, more often than not, exercises impending influence upon each other's habits, thoughts and feelings. Due to this active phenomenon in human nature, tawallah, love of the Ahl ul Bayt (Shura: 23), has been prescribed as one of the fundamentals of original Islam- Shi-aism, because he who loves the Ahl ul Bayt will accept their teachings, follow their guidance, and reflect their qualities in his character. In the case of friendship between a monotheist and a polytheist, the strict monotheist, under a state of attachment and love, may lose his sense of reasoning and begin to like idolatry, and in the end become a practising idol-worshipper. Therefore the believers have been warned not to take the unbelievers as friends. Awliya is the plural of wali which implies nearness, proximity, contiguity, therefore, it can be used for any of the following: friend, beloved, helper, protector, patron, administrator and master. In a multilateral political and economic structure the believers are allowed to deal with them as human beings and live in harmony with them in day to day life. Only love or attachment has been prohibited. The provision of "except when, fearing a danger from them, you (have to) guard yourselves against them" is a very important guideline in this verse. If there is a genuine danger to life, permission is given to make a show of friendship with the adversary, remaining faithful to the true faith at heart. To guard oneself against an unprovoked danger to life in a helpless situation, or to avoid dishonour and ostracism, is known as taqiyah in the Shi-a school of thought, prescribed strictly in the light of this verse, because Allah does not want to make less the number of His true believers if there is no occasion or need of their lives to be sacrificed to further His cause and mission. They are allowed to live and serve Him in secret. Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq (according to a Sunni tradition) is reported to have said that "Allah warns you to beware of Him" implies "Allah knows all that which is in the heart, and He wants to see only His love in the hearts, therefore, He warns the people not to allow anything except His love to take possession of their hearts." Heart is given to man to fill it with the love of God. If love of anything or any person, except love of those enjoined by Allah (Shura: 23), is lodged therein it would be judged as a misappropriation on the day of reckoning. See Aqa Mahdi Puya's note in verse 31 of this surah. Aqa Mahdi Puya says: According to the doctrine of taqiyah under certain circumstances a faithful can make friends with his adversary to save his life and property, otherwise friendship between a believer and an unbeliever is prohibited because it would make the believer drift in the direction of unbelief. Taqiyah means to hide one's faith to protect one's life and property in the interest of the faith, permissible according to this verse (see books of fiqh). Nifaq means to pretend to believe what one actually does not believe for worldly gains (Nahl: 106), condemned in the Holy Quran again and again. Allah's pleasure should be the object of hiding or making known that which is in one's heart.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:28
آیه 28 سوره عمران
(28) لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُـوْنَ الْكَافِـرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۖ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّـٰهِ فِىْ شَىْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْـهُـمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّـٰهُ نَفْسَهٝ ۗ وَاِلَى اللّـٰهِ الْمَصِيْـرُ ترجمہ (28) اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ اور جو شخص ایسا کرے گا اس کا کسی چیز میں اللہ سے کوئی ربط نہیں ہے (یعنی اس کا رابطہ پروردگار سے بالکل ٹوٹ چکا ہے) مگر یہ کہ ان سے اور اہم تر مقاصد کے لیے) تقیہ کرو اور خدا ہمیں (اپنی نافرمانی سے) ڈراتا ہے اور (تمہاری) بازگشت خدا کی طرف ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:28
"تقیہ" ایک حفاظتی ڈھال ہے
"تقیہ" ایک حفاظتی ڈھال ہے یہ صحیح ہے کہ کبھی انسان اعلی ترین مقاصد مثلًا حفظ شرافت ، تقویت حق اور باطل کی کمر توڑنے کے لیے اپنی جان عزیز تک فدا کر نے کو تیار ہوتا ہے لیکن کیا کوئی عقلمند بغیر کسی اہم مقصد کے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو جائز کہہ سکتا ہے اسلام نے صراحت سے اجازت دی ہے کہ جب انسان کی جان و مال اور عزت و آبرو خطرے میں ہو اور اظہار حق سے کوئی اہم نتیجہ اور فائدہ بھی حاصل نہ ہوتا ہو تو وقتی طور پر اظہار حق نہ کیا جائے اور اپنے فرائض مخفی طور ادا کرلیے جائیں جیساکہ مندرہ بالا آیت میں قران نے یاد دلایا ہے ایک اور تعبیر کے ذریعے سورہ نحل آیه 106 میں ہے: "الا من أكره وقلبہ مطمئن بالإيمان"۔ مگر جو شخص مجبور ہوجائے (اور اپنے ایمان کے خلاف کسی چیز کا اظہار کردے) جب کہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ تاریخ اور حدیث کی اسلامی کتابوں نے عمار ، ان کے والد اور والدہ کی سرگذشت کو فراموش نہیں کیا کہ وہ بت پرستوں کے چنگل میں پھنس گئے تھے۔ انہوں نے انہیں سخت اذیت میں مبتلا کردیا اور کہتے تھے کہ اسلام سے بیزاری کا اظہار کریں - عمارکے مال باپ نہ مانے اور مشرکین کے ہاتھوں قتل ہوگئے لیکن عمار نے ان کے کہنے کے مطابق اظہار کردیا بعد میں خدائے بزرگوار کے خوف سے روتے ہوئے پیغمبراکرامؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔آپؐ نے ان سے فرمایا : "ان عادوا لك فعدلهم"۔ اگر پھر پکڑے جاؤ تو وہ جو کہیں کہہ دینا یوں آپؐ نے عمار کے اضطراب اور گریہ کو سکون بخشا۔ جس نکتے کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے یہ ہے کہ تمام مقامات پر "تقیه" کاحکم ایک جیسا نہیں بلکہ وہ کبھی واجب ہے ، کبھی حرام ہے اور کبھی مباح ہے۔ "تقیه" اس حالت میں واجب ہوتا ہے جب بغیر کسی اہم فائدے کے انسان کی جان خطرے سے دوچار ہو لیکن جهاں "تقيه" باطل کی ترویج ، لوگوں کی گمراہی اور ظلم وستم کی تقویت کا باعث ہو وہاں حرام اور منوع ہے۔ اسی بنیاد پر اس سلسلے میں کیے گئے تمام اعتراضات کا جواب دیا جائے گا۔ حقیقت میں اعتراض کرنے دیے تحقیق کرتے تو انہیں پہ پتا چلتا کہ یہ شیعوں کا ہی عقیدہ نہیں بلکہ مسئلہ "تقیه" اپنی جگہ پرایک قطعی حکم عقل ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ ؎1 دنیا کے تمام عقلمند جب کبھی اپنے آپ کو اسی دوراہے پر پاتے ہیں جہاں یا تو انہیں اپنے عقیدے کو چھپانا پڑتا ہے یا عقیدے کا اظہار کرکے اپنی جان، مال اور عزت کو خطرے سے دوچار کرنا پڑتا ہے تو اگر عقیدے کا اظہار کرتا جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی کی قیمت رکھتا ہو تو وه فداکاری کی راہ کو درست سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کا واضح فائدہ نظرنہ آئے تو پھر عقیدے کو چھپانا بہتر سمجھتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:28
غیروں سے رشتہ
غیروں سے رشتہ " اولیاء" "ولی" کی جمع ہے . یہاں اس کا معنی ہے حامی، مددگار ہم پیمان ، یار اور یادر۔ یہ آیت فی الواقع مسلمانوں کو ایک اہم سیاسی ، اجتماعی اور معاشرتی درس دیتی ہے کہ وہ غیروں سے دوست ، حامی و مددگار یا کسی اور حوالے سے کوئی ربط نہ رکھیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں ، دلکش تقریروں ، بظاہر گہری او مخلصانہ محبت سے دھوکا نہ کھائیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اہل ایمان اور با مقصد زندگی گزارنے والوں نے اس طرح سے بہت دکھ اٹھائے ہیں ۔ استعمار اور سامراج کی تاریخ کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں کی نظر میں دوستی غم گساری اور انسان دوستی کے لباس میں اثر ونفوز پیدا کیا ہے ۔ یہاں تک کہ لفظ "استعمار" جس کا معنی ہے "آبادی کی کوشش کرنا" اسی مفہوم کی نشاندہی کیا ہے کہ استعمارگر ہمیشہ استعمار شدہ معاشرے کی خبروں میں اپنے پنجے مضبوط کرنے کے بعد وہاں کے عوام پر بے دری سے ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان کا سب کچھ لوٹ لے جاتے ہیں۔ اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر آیت میں شدید تہدید اور دھمکی آئی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص اپنے تئیں غیروں کے سپرد کردے گا وہ خدا سے ہر قسم کا رابط منقطع کرے گا۔ " من دون المؤمنين" اس طرف اشارہ ہے کہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی میں ہر شخص مجبور ہے کہ اس کے کچھ دوست احباب ہوں لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دوستی اور سرپرستی کے لیے ایمان والوں کا ہی انتخاب کریں اور ان کی جگہ کافروں سے رشتے استوار نہ کریں۔ " فليس من الله في شي ءٍ" اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو افراد دشمنان خدا سے دوستی اور ہم کاری کرتے ہیں وہ کسی چیز میں خدا سے مربوط نہیں ہیں یعنی وہ فرمان الٰہی ، خدا پرستوں اور فرمان خدا کے پیرو کاروں سے بیگانے ہیں اور ان سے ہر لحاظ سے ان کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ "إلا أن تتقتوا منهم تقتة"۔ اس جملے کے ذریعے مندرجہ بالا حکم میں استثناء کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ تقیہ کے موقع پر درج نہیں کہ مسلمان اپنی جان کی حفاظت کے لیے یا ایسے اور امور میں بے ایمان افراد سے دوستی کا اظهار کریں اور آخر میں دو مزید جملوں سے مندرجہ بالا حکم کی تاکید کی گئی ہے:- "ویحذركم الله نفسه"۔ یعنی خدا تمہیں اپنی سزا اورغضب سے ڈراتا ہے۔ " والى الله المصير" یعنی - تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور اگر تم نے دشمنوں سے دوستی کرلی تو اپنے اعمال کا نتیجہ بہت جلد دیکھ لوگے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:28
"تقیه" مقابلے کی دوسری صورت
"تقیه" مقابلے کی دوسری صورت مذہبی ، اجتماعی اور سیاسی مقابلوں کی تاریخ میں ایسے واقعات درپیش آتے ہیں کہ جب ایک حقیقت کا دفاع کرنیوالے کھلم کھلا مقابلہ کریں تو وہ خود ، ان کا نظریہ ، مکتب اور مذہب نابودی کا شکار ہوجائے یا کم ازکم خطرے میں پڑجائے۔ اس کی مثال بنی امیہ کی غاصب حکومت کے زمانے میں شیعیان علیؑ کی حالت ہے ۔ ایسے موقع پر صحیح اور عاقلانه راه یہ ہے کہ اپنی توانائیاں ضائع نہ کی جائیں اور اپنے مقدس مقاصد و اہداف کے لیے غیر واضح اور مخفی طور پر مقابلہ جاری رکھا جائے ۔ "تقيه" درحقیقت ایسے مکاتب فکر اور ان کے پیروکاروں کے لیے ایسے لمحات میں مقابلے کی ایک تبدیل شده شکل کا نام ہے ۔ یہ طریقہ انہیں تباہی سے بچا سکتا ہے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ جو لوگ بے سوچے سمجھے "تقیه" پر قلم بطلان پھیردیتے ہیں نجانے ایسے مواقع کے لیے ان کے پاس کیا طریق کار ہے ۔ کیا نابود اور ختم ہوجانا اچھا ہے یا مقابلے کو صحیح اور منطقی سورت میں باقی رکھنا ۔ دوسری راہ کو "تقیه" کہتے ہیں اور پہلی صورت کو کوئی شخص میں تجویز نہیں کرسکتا۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اقتباس از کتاب آئین ما ص 364