وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
Indeed among the People of the Book there are some who have faith in Allah and in what has been sent down to you, and in what has been sent down to them. Humble toward Allah, they do not sell the signs of Allah for a paltry gain. They shall have their reward near their Lord; indeed Allah is swift at reckoning.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:199
[Pooya/Ali Commentary 3:199] There are some among the people of the book who are not like the people mentioned in verses 187, 196 and 197 of this surah. They believe in Allah and the Holy Prophet as the promised prophet mentioned in their book (see al Baqrah: 40).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:199
سب اہل کتاب ایک جیسے نہیں
سب اہل کتاب ایک جیسے نہیں وان من اھل الکتاب لمن یوٴمن باللہ یہ بات کہی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں جو گفتگو ہے اس میں کبھی بھی سب کو ایک جیسا قرار نہیں دیا گیا ۔ قرآن یہ طریق کار ہے کہ وہ کسی قوم یا جماعت کے بارے میں ضد اور تعصب کا رنگ اختیار نہیں کرتا بلکہ اس کا فیصلہ اس کے لائحہ عمل کی بنیاد پر کرتا ہے ۔ لہذا وہ اس اقلیت کو فراموش نہیں کرتا جو ایمان اور عمل صالح کی حامل ہو اور گمراہ اکثریت کے درمیان زندگی گزار رہی ہو ۔ یہاں بھی اہل کتاب کو بہت زیادہ سرزنش کی گئی کیونکہ وہ آیات خدا کو چھپاتے تھے اور سرکشی اختیار کرتے اور پھر ان میں اس اقلیت کا تذکرہ ہے جس نے پیغمبر اکرم کی دعوت کو قبول کر لیا تھا ۔ ان لوگوں کی پانچ ممتاز صفات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ ۱ ۔یوٴمن باللہ وہ ایسے لوگ ہیں جو دل و جان سے خدا پر ایمان لے آتے ہیں ۔ ۲ ۔ و ما انزل الیکم اور قرآن پر اور جو کچھ تم مسلمانوں پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ ۳ ۔ ما انزل الیھم در حقیقت پیغمبر اسلام پر ان کے ایمان لانے کی وجہ اپنی آسمانی کتاب پر ان کا حقیقی ایمان ہے جس میں پیغمبر اسلام کے بارے میں بشارتیں موجود ہیں ۔ ۴ ۔ خاشعین للہ فرمان خدا کے سامنے وہ سر تسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور یہ ان کا خشوع و خضوع ہی ہے جس نے حقیقی ایمان اور جاہلانہ تعصبات میں حد فاصل کھینچی ہے ۔ ۵ ۔ لا یشترون بآیت اللہ ثمنا قلیلا وہ آیات الہی کو کبی کم قیمت پر فروخت نہیں کرتے اور وہ ایسے علماء یہودی کی طرح نہیں جو اپنے منصب کے تحفظ کے لئے لوگوں پر اپنے اقتدار کی بقاء کے لئے اور رشوت لے کر آیات خدا میں تحریف کر دیتے ہیں ۔ یہ واضح ہے کہ مطلب یہ نہیں ہے کہ کم قیمت پر