لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ
Never be misled by the bustle of the faithless in the towns.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:196
[Pooya/Ali Commentary 3:196] Do not think that Allah approves the acts of those who seek enjoyment and pleasures of this world by displaying ostentatiously glamour and pride. Their enjoyment is very brief and short-lived. Hell shall be their everlasting abode.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:196-198
ایک تکلیف دہ سوال
ایک تکلیف دہ سوال شان نزول میں جو سوال سامنے آتا ہے وہ زمانے پیغمبر کے مسلمانوں کے حسب حال ہے یہ در اصل ایک عمومی سوال ہے جو ہر دور میں اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ تر ظالموں ، سرکشوں ،فرعونوں کی خوشحالی اور ناز و نعمت سے معمور زندگی کا موازنہ ایسے اہل ایمان سے کرتے ہیں جن کی زندگی مشقت و زحمت ہی سے بھری ہوئی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ برے لوگ اپنی ظالمانہ اور گناہ آلود زندگی کے باوجود خوش حال کیوں ہیں لیکن اہل ایمان اپنے ایمان و تقویٰ کے باصفت سختی و تنگی کی زندگی کیوں گذارر ہے ہیں ۔ بعض اوقات یہ چیز کمزور ایمان والوں میں شک و شبہ پیدا کر دیتی ہے ۔ اس سوال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے اور اس کے دونوں پہلووٴں پر گہری نظر کی جائے تو واضح اور روشن جوابات سامنے آئیں گے ۔ جن میں سے بعض کی طرف آیہٴ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ مزید توجہ سے مطالعہ کیا جائے تو دوسرے جوابات بھی حاصل ہو جاتے ہیں ۔ آیت کہتی ہے : ”لا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذینَ کَفَرُوا فِی الْبِلادِ “ مختلف شہروں میں کافروں کی کامیابی سے آمد و رفت تجھے ہر گز دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ اگر چہ ظاہراً آیت میں رسول اللہ مخاطب ہیں لیکن واضح ہے کہ موصود تمام مسلمان ہیں ۔ اس کے بعد فرماتا ہے ” متاع قلیل “ یہ کامیابیاں اور یہ بلا شرط مادی فائدے جلد گزرجانے والے اور جا چیز ہیں ۔ ”ثُمَّ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہادُ“ ان کامیابیوں کے کے پیچھے ان کے لئے انجام بد اور ایسی ذمہ داریاں ہیں جو ان کا دامن پکڑے رہیں گی اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ کیسا برا ٹھکانہ ہے ۔ مندرجہ بالا آیت در حقیقت دو نکتوں کی طرف اشار کرتی ہے : پہلا یہ کہ سرکشوں اور ظالموں کی بہت سی کامیابیوں کا دائرہ محدود ہے ۔ جیسے بہت سے اہل ایمان کی محرومیاں اور تکلیفیں بھی محدود ہیں ۔ اس امر کا گواہ اسلام کا ابتدائی دور ہے ۔ اس میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی حالت ہم دیکھ دکتے ہیں ۔ اس وقت حکومت اسلامی بالکل نو ساختہ تھی ۔ طاقتور دشمنوں کی طرف سے ان پر طوفان آپڑے تھے ۔ انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا تھا ۔ اس لئے حکومت اسلامی کے پر و بال سمٹے ہوئے تھے ۔ خصوصا مکہ کے مسلمانوں کی ہجرت کی وجہ سے وہ مسلمان جو انتہائی کم تعداد میں تھے بالکل ساکت ہو رہ گئے تھے ۔ یہ کیفیت صرف انہی سے مخصوص نہ تھی بلکہ وہ تمام لوگ جو کسی ایک بنیادی اور روحانی انقلاب کے حامی ہوں اور ایک فاسد معاشرے میں رہتے ہوں انہیں محرومیت کے ایک شدید درد سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ کیفیت زیادہ دیر تک نہ رہی ۔ حکومت اسلامی کی جڑیں مضبوط ہو گئیں اور اس کی شاخیں قوی ہو گئیں ۔ اسلامی ملک میں دولت کا سیلاب امنڈ آیا اور عیش عشرت میں رہنے والے بد ترین دشمن خاک سیاہ پر جا بیٹھے ۔ آیت میں اسی صورت حال کو ” متاع قلیل “ کہا گیا ہے ۔ دوسرا یہ کہ بعض بے ایمانوں کی مادی ترقی اس لئے بھی ہے کہ وہ دولت سمیٹنے میں کسی اصول اور قانون کے قائل نہیں ہوتے اور جائز نا جائز ہر طریقہ سے ، یہاں تک کہ بے کسوں کا خون چوس کر بھی دولت سمیٹنے لگے رہتے ہیںجبکہ اہل ایمان حق و عدالت کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور اس لسلسے میں پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہیںاور نا جائز طریقوں سے دولت سمیٹنے پر پابندیاں ہونا بھی چاہئیں ۔ اس لئے دونوں کے حالات کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ اہل ایمان کو ذمہ دارویوں کا احساس ہوتا ہے جبکہ بے ایمانوں کی نظر میں کوئی ذمہ داری نہیں اور کیونکہ یہ دنیا ارادہ و اختیار کی آزادی کی دنیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے دونوں گروہوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہے تا کہ ہر ایک کا انجام اس کے عمل کی روشنی میں مرتب ہو سکے ۔ اس امر کی طرف آیہٴ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ ثُمَّ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہادُ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:196-198
قوت اور ضعف کے پہلو
قوت اور ضعف کے پہلو بعض بے ایمان افراد کی ترقی اور بعض ایمان والوں کی پسماندگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایمان نہ رکھنے کے باوجود پہلے گروہ میں قوت کے بعض پہلو موجود ہیں جو ان کی پسماندگی کا سبب ہیں ۔ مثلا ً ہم بعض ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو خدا سے بیگانہ ہیں لیکن امور زندگی میں جد و جہد اور استقامت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور حالات زمانہ سے آگاہی رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگ یقینا مادی زندگی میں کامیابیاں حاصل کریں گے ۔ در حقیقت یہ لوگ دین سے وابستہ ہوئے بغیر اس کے کچھ بنیادی اصولوں کو اپنائے یوئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو عقئد مذہبی کے تو پابند ہیں لیکن اس کے بہت سے عملی احکامات کو بھولے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ کم حوصلہ ، بے حال ، استقامت سے عاری ، بالکل منتشر اور ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لہذا مسلم ہے کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگی میں پے در پے شکستوں کا سامنا ہوگا ۔ ان کی یہ شکست ایمان کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کمزور پہلووٴں کی وجہ سے ہے جو ان میں موجود ہیں ۔ بعض اوقات وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فقط نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے سے انہیں تمام کاموںمیں کامیابی حاصل ہوجانا چاہیے ۔ جبکہ دین زندگی کی پیش رفت کے لئے عملی پروگرام لے کر آیا ہے ۔ جسے فراموش کر دینے سے شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ دونوں گروہوں کے کچھ قوی اور کچھ ضعیف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک کے اپنے اثرات ہیں البتہ کبھی کبھار محاسبہ کرتے وقت یہ اثرات ایک دوسرے سے مشتبہ ہو جاتے ہیں ۔ صفحہ ۱۷۰ نہیں ہے شان نزول بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیت اہل کتاب کے مومنین کے بارے میں ہے ، جنہوں نے ناروا تعصب سے کنارہ کشی اختیار کی ہے اورمسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک معقول تعداد پر مشتمل تھے ۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت حبشہ کے رعیت پر ور بادشاہ نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اگر چہ ا س کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ ماہ رجب ۹ ء ھ میں نجاشی کی وفات کی خبر ایک خدائی الہام کے ذریعے روز وفات ہی آنحضرت کع پہنچی ۔ رسول اللہ نے مسلمانوں سے فرمایا : تمہارا ایک بھائی سر زمین حجاز سے باہر دنیا سے چل بسا ہے ۔ تم جمع ہو جاوٴ تا کہ مسلمان کے حق میں اس نے جو خدمات سر انجام دی ہیں اس کے صلے میں اس کی نماز جنازہ پڑھیں ۔ بعض نے سوال کیا : وہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : نجاشی ۔ پھر آپ مسلمانوں کے ہمراہ قبرستان جنت البقیع میں آئے اور اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے لئے دعائے مغرفت کی ۔ آپ نے اپنے اصحاب کو بھی حکم دیا اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ۔ بعض منافقین کہنے لگے : محمد نے ایک ایسے کافر کی نماز جنازہ پڑھی ہے جسے کبھی نہیں دیکھا ، حالانکہ اس نے ان کا دین قبول نہیں کیا ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور نہیں جواب دیا گیا ۔ ۱ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجاشی نے مکمل طور پر اسلام قبول کر لیا تھا اگر چہ وہ اس کا اظہار نہیں کرتا تھا ۔ ۱ ۔ اسباب النزول از واحدی