فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
Then their Lord answered them, ‘I do not waste the work of any worker among you, whether male or female; you are all on the same footing. So those who migrated and were expelled from their homes, and were tormented in My way, and those who fought and were killed—I will surely absolve them of their misdeeds and I will admit them into gardens with streams running in them, as a reward from Allah, and Allah—with Him is the best of rewards.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:195
[Pooya/Ali Commentary 3:195] A sub-human status was allotted to women in almost all philosophies and religions, before Islam. In this verse it is stated that man and woman are counter parts to each other ("one of you from the other") and of the same human status. This truth was proclaimed to mankind not in the twentieth but in the sixth century of the Christian era. Islam recognises perfect equality of both sexes (in their responsibility to be good), according to their natural assignments and native endowments.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:195
مرد اور عورتوں کی روحانی قدر و قیمت
مرد اور عورتوں کی روحانی قدر و قیمت آیہ مذکورہ بھی قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح عورت اور مرد کو خدا کی درگاہ کے باطنی اور روحانی مقامات تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے کے برابر قرار دیتی ہے ۔ آیت کی نظر میں جنس کا اختلاف ، جسمانی ساخت کا فرق اور ان کے لئے بعض اجتماعی ذمہ داریوں کا فرق ، مرد اور عورت دونوں کے لئے کمال انسان کے حصول میں کسی فرق کی دلیل نہیں ۔ بلکہ آیت اس حیثیت سے دونوں کو مکمل طور پر ایک ہی سطح پر رکھتی ہے ۔ اسی لئے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک ادارے کے انتظام کے کے لئے ایک شخص کو رئیس ادارہ بنا لیتے ہیں اور دوسرے کو معاسن یا رکن ۔ رئیس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام میں زیادہ تجربہ اور اطلاعات وغیرہ رکھتا ہو ، لیکن یہ فرق مراتب ہر گز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ رئیس ادارہ انسانی شخصیت اور قدر و قیمت میں اپنے ما تحتوں سے زیادہ ہے ۔ قرآن مجید وضاحت کے ساتھ فرماتا ہے : ومن عمل صالحا ًمن ذکراو انثی و ھو مومن فاولئک یدخلون الجنة یرزقون فیھا بغیر حساب ۔ (سورہ المومن آیت ۴۰ ) مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک عمل کرے اور ایماندار ہو وہ بہشت میں داخل ہوگا اور اسے بے حساب روزی دی جائے گی ( اور وہ اس جہان کی روحانی اور جسمانی نعمتوں سے فیض یاب ہو گا ) ۔ اسی طرح دوسری آیت میں ہے : ومن عمل صالحا ًمن ذکراو انثی و ھو مومنفلنحیینہ حیوة طیبة ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون ۔ ( سورہ نحل آیت ۹۷ ) مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک عمل کرے اور ایماندار ہو ، ہم اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور بہت اچھی جگہ دیں گے ۔ یہ آیت اور اسی قسم کی دوسری متعدد آیتیں اس زمانے میں نازل ہوئی جب دنیا کی تمام قومیں عورت کے انسانی نوع اور جنس بشر ہونے کے متعلق ڈانواں ڈول تھیں اور اسے حقیر و ذلیل مخلوق اور گناہ اور موت کا سر چشمہ سمجھتی تھیں ۔ بہت سی گذشتہ قومیں یہ اعتقاد بھی رکھتی تھیں کہ عورت کی عبادت درگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتی ۔ بہت سے اہل یونان تو عورت کو گندی مخلوق اور شیطانی عمل جانتے تھے ۔ رومی اور بعض یونانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اصولی طور پر عورت میں انسانی روح کا ر فرما نہیں ہے ۔ روح انسانی تو صرف مردوں کو دی گئی ہے سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ماضی قریب میں ہسپانیہ کے عیسائی عالم اس بارے میں بحث کر رہے تھے کہ کیا عورت مرد کی طرح روح انسانی رکھتی ہے اور کیا اس کی روح موت کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔ آخر وہ بہت سی بحث اور تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ چونکہ عورت کی روح انسان اور حیوان کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے سوائے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی روح کے کسی عورت کی روح ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ ۱ مندرجہ بالا آیت سے یہ امر بخوبی روشن ہو جاتا ہے کہ بعض جاہل اور بے خبر لوگ جو کبھی کبھی اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ تو مردوں کا دین ہے نہ کہ عورتوں کا ، وہ حقیقت سے کس قدر دور ہیں ۔ اگر اسلام کے کچھ قانون عورت اور مرد کے جسمانی اور نفسانی فرق کی وجہ سے معاشرے کی ذمہ داریوں کے حوالے کس قدر مختلف ہیں تو وہ کسی صورت میں بھی عورت کی حقیقی اور باطنی قدر و منزلت کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔ اس لئے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں بلکہ دونوں کے لئے نیک بختی اور سعادت کے دروازے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ ہم اس آیت کی بحث میں پڑ ھ چکے ہیں ” بعضکم من بعض “ ( تم سب کے سب ایک ہی جنس اور ایک ہی معاشرے کے فرد ہو ) ۔ ۱۹۶ ۔ لا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذینَ کَفَرُوا فِی الْبِلادِ ۔ ۱۹۷ ۔ مَتاعٌ قَلیلٌ ثُمَّ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہادُ۔ ۱۹۸ ۔ لکِنِ الَّذینَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ جَنَّاتٌ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ خالِدینَ فیہا نُزُلاً مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَ ما عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ لِلْاٴَبْرار۔ ترجمہ ۱۹۶ ۔ کافروں کا شہروں میں ( کامیابی سے ) آنا جانا تمہیں دھوکا نہ دے ۔ ۱۹۷ ۔ یہ متاع ناچیز ہے پھر ان کے لئے رہنے کی جگہ دوزخ ہے اور (دوزخ ) کتنی بری جگہ ہے ۔ ۱۹۸ ۔ لیکن وہ لوگ ( جو ایمان لے آئے ہیں اور ) اپنے پرور دگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے باغات بہشت ہیں کہ جن کے درختوں تلے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ان کے لئے خدا کی طرف سے پہلی پذیرائی ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہتر ہے ۔ شان نزول بہت سے مشرکین مکہ تجارت پیشہ کرتے تھے ۔ اس تجارت سے انہیں بہت سی دولت میسر آئی اور وہ نازو نعمت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ مدینہ کے یہودی بھی تجارت میں مہارت رکھتے تھے ۔ تجارتی سفروں سے اکثر وہ بھرے ہاتھوں واپس لوٹتے تھے ۔ مسلمان ان دنوں مخصوص حالات کی وجہ سے مادی طور پر بڑی زحمتوں اور مشکلوں میں گرفتا تھے ۔ ان مشکلات کی وجوہ میں مکہ سے مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت اور طاقتور دشمن کی طرف سے اقتصادی محاصرہ اور بائیکاٹ شامل ہیں مسلمان عشرت کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ بعض لوگ جب یہ دو مختلف حالتوں کی طرف دیکھتے تو سوچتے کہ بے ایمانوں کے لیے یہ ناز و نعمت اور اہل ایمان کے لئے یہ رنج و الم آخر کیوں ہے ، مسلمان کیوں فقر و پریشانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیات اسی سوال کا جواب ہیں ۔ ۱ ۔ درد سڑک مارک ، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد ، حقوق زن در اسلام اور سلسلے کی دیگر کتب ملاحظہ فرمائیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:195
اہل خرد کے اعمال کا نتیجہ
اہل خرد کے اعمال کا نتیجہ گذشتہ آیات میں اہل خرد کے ایمان ، اعما ل ، دعاوٴں اور تفرع زاری کا ذکر تھا ۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے : فا ستجاب لھم ربھم۔ یعنی ان کے پروردگار نے ان درخواستوں کو فورا قبول کر لیا ۔ ربھم (ان کا پروردگار ) ۔یہ تعبیر ان کے پروردگار کے انتہائی لطف و کرم کی حکایت کرتی ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے : ”اٴَنِّی لا اٴُضیعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْکُمْ “ اس بناء پر کہ کہیں اشتباہ نہ ہو اور نجات و کامرانی کو انسان کے اعمال و کردار سے الگ نہ سمجھ لیا جائے فرمایا گیا : تم میں سے عمل کرنے والے کے کسی عمل کو میں ہر گز ضایع نہیں کروں گا ۔ اس میں عمل کا ذکر بھی ہے اور عامل کا بھی تا کہ یہ واضح ہوجائے کہ قبولیت دعا کا محور اصلی وہ اعمال صالح ہیں جو ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسی درخواستیں فورا ً قبول ہو جاتی ہیں جن دھال عمل صالح ہو ۔ مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ اس بنا پر کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ خدا کا یہ وعدہ کسی خاص گروہ سے مخصوص ہے ، فرمایا گیا ہے کہ یہ عمل کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت اس میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ تم سب خلقت میں ایک دوسرے سے وابستہ ہو تم میں سے بعض ، بعض دوسروں سے پیدا ہوتے ہیں ، عورتیں مردوں سے اور مرد عورتوں سے ۔ بعضکم من بعض ۔ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہوکہ تم سب کے سب ایک دین کے پیرو اور ایک ہی حقیقت کے طرفدار ہو اور ایک دوسرے سے ہم کا ری رکھتے ہو لہذا کوئی وجہ نہیں کہ خدا تمہارے درمیان تبعیض روا رکھے ۔ فَالَّذینَ ہاجَرُوا وَ اٴُخْرِجُوا مِنْ دِیارِہِمْ وَ اٴُوذُوا فی سَبیلی وَ قاتَلُوا وَ قُتِلُوا لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ ۔ اس سے پھر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس بناء پر وہ تمام لوگ جنہوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی ہے اور اپنے گھر اور وطن سے نکالے گئے ہیں انہوں نے راہ خدا میں تکلیفیں اٹھائی ہیں ، جہاد کیا ہے اور جانیں دی ہیں ۔ پہلا احسان جو خدا وند عالم کی طرف سے ان پر ہوگا وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تکلیف اور شدائد کو گناہوں کا کفارہ قرار دے گا تا کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک ہو جائیں ۔ وَ لَاٴُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ ۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ میں گناہوں کو بخشنے کے علاوہ یقینا انہیں ایسی جنت میں جگہ دوں گا جس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں جو گونا گوں نعمتوں سے بھری پڑی ہیں ۔ ثَواباً مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَ اللَّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الثَّوابِ یہ وہ جزا و ثواب ہے جو ان کی جا نثاری کی وجہ سے خدا وند عالم ان کو مرحمت فرمائے گا ، بے شک بہترین ثواب اور اجر اسی کے پاس ہے ۔ یہ اشارہ اس طرف ہے کہ دنیا والوں کے لئے خدا کے اجر و ثواب کی تعریف و توصیف مکمل طور پر نہیں کی جا سکتی ۔ بس یہ سمجھ لیں کہ اس کی ذات والا صفات ہر ثواب اور جزا سے بالا تر ہے ۔ آیت مندرجہ بالا سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو اعمال صالح کے سائے میں گناہوں سے پاک ہونا چاہیے اس کے بعد قرب خدا اور بہشت اور اس کی نعمتوں کی طرف رخ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ ابتداء میں فرماتا ہے : لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ ۔ اور اس کے بعد ۔ وَ لَاٴُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ یعنی بہشت پاک لوگوں کا مقام ہے اور جب تک انسان پاک نہ ہو وہ جنت کے قریب نہیں پھٹک سکتا ۔