وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
When Allah made a covenant with those who were given the Book: ‘You shall explain it for the people, and you shall not conceal it,’ they cast it behind their backs and sold it for a paltry gain. How evil is what they buy!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:187
[Pooya/Ali Commentary 3:187] Please refer to al Baqarah: 40. The Jews and the Christians knew fully well that the Holy Prophet was the promised prophet clearly mentioned in their books, but not only did they suppress the information but also made changes in the revealed books so as to keep the people in darkness. They did not fulfil the covenant they made with Allah for the sake of the worldly gains. They bartered it for a small price. The followers of the Holy Prophet also failed to fulfil the covenant they made with Allah through the Holy Prophet at Ghadeer Khum. See commentary of al Ma-idah: 67. Imam Ali says that Allah takes a promise from the ignorant to learn from those who know the truth; and the knowing scholars undertake to teach those who know very little or do not know anything at all. Vile is the scholar who does not make known the truth, and lets the unknowing remain ignorant.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:187
علماء کی عظیم ذمہ داری
علماء کی عظیم ذمہ داری مندرجہ بالا آیت اگر چہ اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کے علماء کے بارے میں ہے لیکن حقیقت میں تمام مذہبی علماء کو اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ فرامین الہی اور معارف دینی واضح کرنے کی کوشش کریں اور خدا تعالیٰ نے ان سب سے اس سلسلے میں تاکیدی عہدو پیمان لیا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت میں لفظ تبین آیا ہے ۔ اس کے مادے کی طرف توجہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں مقصود صرف آیات خدا کی تلاوت اور کتب آسمانی کی نشر و اشاعت نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان کے حقائق کو واضح و آشکار کرکے لوگوں تک پہنچا جائے تاکہ ہر طرح کے لوگ پوری وضاحت سے ان سے آگاہ ہو سکیں اور ان کی روح اور حقیقت تک پہنچ جائیںاور جو تبین ، توضیح اور تفسیر نہ کریں گے اور مسلمانوں تک حقائق کی روشنی میں کوتاہی کریں گے وہ اسی انجام کے مستحق ہوں گے ، جس کا ذکر زیر نظر آیت میں اور دیگر آیات میں یہودی علماء کے لیئے بیان کیا گیا ہے ۔ اسلام کے پیغمبر گرامی سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا : من کتم علما عن اھل الجسم یوم القیٰمة بلجام من نار جو شخص علم و دانش کو اس کے اہل (اور ضرورت مند ) سے چھپائے گا ، قیامت کے دن خدا ان کے منہ میں (جہنم کی ) آگ کی لگام دے گا ۔ حسن بن عمار راوی ہے : ایک دن زہری کے پاس گیا جبکہ اس نے لوگوں کو احادیث پہنچانے کا سلسلہ ترک کر رکھا تھا ۔ میں نے اس سے کہا : جو احادیث تم نے سن رکھی ہیں وہ مجھ سے بیان کرو ۔ وہ بولا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ اب میں کسی سے حدیث نقل نہیں کرتا ۔ میں نے کہا : بہر حال تم مجھ سے حدیث بیان کرو یا پھر میں تمہیں حدیث سناوٴں کا ۔ اس نے کہا : تم حدیث بیان کرو َ اس پر میں نے حضرت علی (علیه السلام) کا یہ قول بیان کیا : ما اخذ اللہ علیٰ اھل الجھل ان یتعلموا حتی اخذ علیٰ اھل العلم ان یعلموا ۔ ( یعنی ۔اللہ تعالیٰ نے اہل جہالت سے علم و دانش کے حصول کا عہد لینے سے پہلے علماء سے عہد لیا کہ وہ انہیں علم سکھائیں) ۔ جب میں نے یہ ہلا دینے والی حدیث اس کے سامنے پڑھی تو اس نے اپنی مہر سکوت توڑتے ہوئے کہا : سنواب میں تمہارے سامنے بیان کروں گا ۔ پھر اس نے اس نشست میں چالیس احادیث مجھ سے بیان کیں ۔ ۱ ۱۸۸ ۔ لا تَحْسَبَنَّ الَّذینَ یَفْرَحُونَ بِما اٴَتَوْا وَ یُحِبُّونَ اٴَنْ یُحْمَدُوا بِما لَمْ یَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفازَةٍ مِنَ الْعَذابِ وَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیمٌ ۔ ۱۸۹ ۔ وَ لِلَّہِ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرٌ ۔ ترجمہ ۱۸۸ ۔ یہ گمان نہ کی جئے کہ جو لوگ اپنے (برے ) اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور (دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایسے ( نیک ) کام کے ضمن میں ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے سر انجام نہیں دیا ، وہ عذاب الہی سے امان میں ہیں ( ایسا نہیں ہے بلکہ ) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ ۱۸۹۔ ااور آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ کے لئے ہے اورخدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ شان نزول محدثین و مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کے بارے میں کئی ایک شان نزول نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے : جب بعض یہودی اپنی آسمانی کتب کی تحریف اور ان میں موجود چیزوں کو چھپانے میں لگے ہوئے تھے اور اپنے گمان میں اس سے کوئی نتیجہ حاصل کر رہے تھے تو وہ اپنے اس عمل پر بہت ہی شاد و مسرور تھے ۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ لوگ انہیں حامیٴ دین ، عالم اور ذمہ دار افراد سمجھیں ۔ بعض دوسر مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ جب بھی کوئی اسلامی جنگ در پیش ہوتی وہ طرح طرح کے بہانے کرکے جنگ میں شرکت نہ کرتے اور جب مجاہدین اسلام میدان جنگ میں سے واپس آتے تو یہ قسمیں کھاتے کہ اگر انہیں مجبوری نہ ہوتی تو وہ ہر گز جہاد ترک نہ کرتے اور وہ توقع رکھتے تھے کہ اپنے ”ان کے کاموں “ پر مجاہدین اور فدا کاروں کی طرح تحسین و آفرین حاصل کریں ، اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ۔ ۱ ۔ تفسیر ابو الفتوح رازی و تفسیر مجمع البیان ۔ زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔ حضرت علی (علیه السلام) سے مروی حدیث کا متن نہج البلاغہ میں موجود ہے ۔ علماء اہل کتاب کی خیانت کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے سورہ بقرہ آیات ۷۹ و ۱۷۴۔ اور سورہ آل عمران کی آیات ۷۱ تا ۷۷ ۔ کی طرف رجوع فر مائیں ۔